Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 16

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 16

–**–**–

“توبہ واقعی بندر ہے!کتناتیز ہے،بالکل بندر کی طرح ہے۔” ثنا باہر نکلتے ہوئے بولی تھی۔
” اس بندر کو دیکھ کے لگتا ہی نہیں کہ وہ ڈھنگ سے انگلش بول سکتا ہے۔ کجا کہ جرمن،مائی فٹ!”
“ثنا!ثنا کتنی بار کہوں تم سے،بی پروفیشنل پر نہیں،تمہارا ایٹیٹیوڈ اتنا خراب تھا جس کی حد نہیں۔ اگر وہ سن ہی چکا تھا تو تم نے سوری کیوں نہیں کیا اس سے۔” ڈیزی چڑ گئی تھی ثنا کی ہر وقت کی چک’چک سے۔
” سوری میری جوتی سے لاکھ بار سنے وہ بندر،آپ چڑیا گھر ضرور جائیے گا جیسے وہاں کا اونر لگا ہوا ہے۔لسوڑا کہیں کا!” ثنا کواس کی بات یاد آئی تو نئے سرے سے آگ لگ گئی۔
” سب چھوڑو!نہ تم کیمرہ غلط اینگل پہ فوکس کرتیں نا،وہ کچھ کہتا اور نہ ہم شرمندہ ہوتے۔” ڈیزی نے چن کے ثنا کی غلطی نکالی تھی۔
” شرمندہ اور میں نہ بابا نہ مجھے کوئی شرمندگی نہیں اور کیمرہ تو میں ابھی سیٹ کر رہی تھی،بس اس چوہے کو ہی جلدی تھی۔” ثنا کی ڈھٹائی قابل تعریف تھی۔
” کچھ شرم کرلو لڑکی۔کبھی بندر،کبھی چوہا!کسی انسان کو ایسے کہتے ہیں اور میرا مشورہ ہے، یہ اپنی جلن اپنے اندر رکھو اور جسٹ فوکس آن یور ورک کائنڈلی۔” ڈیزی اکتاتے ہوئے انداز میں بولی تھی۔
” اوکے!بٹ پہلے کافی پئیں گے اس بندر کی وجہ سے ساری کافی کا مزہ کر کرا ہوگیا۔” ثنا نے مزے سے کہا اور ڈیزی افسوس سے سر ہلا نے لگی تھی ۔
______________________________
“کیا بات کر رہے تھے سفی ان لڑکیوں سے؟” ایلاف نے اندر آتے سفی سےپوچھا تھا۔
” مام!جیلس،وہ ایکچوئلی ان میں سے ایک چڑیا گھر کا ایڈریس پوچھ رہی تھی،وہی بتا رہا تھا۔” سفی ایلاف کے پاس صوفے پہ ہی نیم دراز ہوگیا تھا۔
“وہی تو نہیں تھی جس نے تمہیں بندر کہا تھا۔” ایلاف اس کے بال سہلاتے ہوئے بولی تھی مزے سے۔
“کیا مام!ناٹ فئیر آپ نے بھی سن لیا۔”سفیان اٹھ کے بیٹھ ہی گیا۔
اتنے ہینڈسم بندے کی اتنی توہین۔
چہ،چہ!،سفیان شاہ!
“چندا!یہ دیکھو کان ہیں میرے پاس۔” ایلاف نے باقاعدہ اسے اپنے کان دکھاتے ہوئے کہا۔
” میرا چھوڑیں مام،یہ بتائیں آپ رات کو یونہی صوفے پہ ہی سو گئی تھیں۔ “سفیان نے بات ہی گھما دی تھی۔
ایلاف اب کیا بتاتی کہ رات وہ ماضی کے سفر پہ چلتے چلتے کب نیند کی وادی میں پہنچ گئی تھی۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔
” بس شاید تھک گئی تھی۔یونہی ریلکس ہونے لیٹی تو سو گئی۔” ایلاف نے کچھ تو کہنا ہی تھا۔
” نو مام!اٹس ناٹ آ ٹرتھ۔میں بتاؤں رئیلیٹی،ڈیڈ کے بغیر آپ کو سب سونا سونا،ویران لگ رہا ہوگا نا۔اپنا کمرہ،ان کی باتیں۔آآ۔۔۔ہم کچھ،کچھ ہوتا ہے والی باتیں۔” سفی لہک،لہک کے بولا۔
” سفی کے بچے!ماں سے ایسی باتیں کرتے ہیں،شرم نہیں آرہی۔” ایلاف بلش ہوتے ہوئے بولی تھی۔
” کم ان!مام بس کر دیں۔آپ ڈیڈ سے اب بھی شرماتی ہیں۔امیزنگ! ایسے ہی تو ڈیڈ آپ کے دیوانے نہیں۔” سفیان مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
” میری چھوڑو!تم اب آگے کا پلان بتاؤ کب تک گوروں کے دیس میں ڈیرا ڈال کے رکھنا ہے؟” ایلاف اب سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی تھی۔
اتنے عرصے سے وہ دونوں یہاں تھے سو اب ایلاف واپس جانا چاہتی تھی۔
” وہ ایسا ہے مام میں نے اپلائی کیا تھا ڈسکوری کیلئے،سو اب میں سلیکٹ ہوچکا ہوں تو۔۔۔” سفیان نے بات ادھوری چھوڑی تھی۔
” تمہارے ڈیڈ ٹھیک کہتے ہیں۔میں نے تمہیں ڈھیل دے کے اچھا نہیں کیا۔اب یہ ڈسکوری والوں کی چاکری کس خوشی میں؟” ایلاف کو غصہ ہی آگیا تھا۔
سفیان نے اسی کی ہی حمایت پہ فلم اور ڈاکومنٹری میکنگ کے کورس کئے تھے۔ اس کی ڈاکومنٹریز ڈسکوری اور نیشنل جیوگرافک دونوں پہ ہی آچکی تھیں۔وائلڈ لائف پہ بنائی گئی اس کی ڈاکومنٹری کو ایوارڈ بھی ملا تھا۔
” مام!چاکری نہیں،بڑا مزے کا کام ہے۔ ایمپلائز کی بنائی ہوئی ڈاکومنٹریز میں سے کیڑے نکالنے۔واؤ!ان پہ آرڈر پاس کرنا۔مام!پلیز آئی ول گیٹ ایکسپیرینس۔” سفیان ایلاف کی ناراضگی افورڈ کر ہی نہیں سکتا تھا، اس لئے ایلاف کو مناتے ہوئے بولا۔
” کیسا ایکسپیرینس؟بھلا کیڑے نکالنے کا فن سیکھ کر تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو۔” ایلاف کو اس کی منطق نرالی لگی تھی۔
” سوچیں مام!جب آپ کی بہو آئے گی تو جب میں اس کے ہر کام میں کیڑے نکالوں گا تو وہ ہمیشہ کاموں میں ہی لگی رہے گی اور۔۔۔۔” سفیان نے بات ادھوری چھوڑی تھی لا ابالی پن سے،
کوئی اسے دیکھ کے کہہ ہی نہیں سکتاتھا کہ یہ بندہ پی ایچ ڈی ہے۔
” اور جلد ہی تم پہ چار حرف بھیج کے چلی جائے گی۔” ایلاف اس کے سر پہ چت لگاتے ہوئے بولی تھی۔
“اب سدھر جاؤ،سنجیدہ ہوجاؤ۔گدی سنبھالنے کی تیاری کرو۔”
” اوکے مام ایک بات بتائیں سیریسلی،آپ ڈیڈ کو اتنی ساری انگلش چھپکلیوں کے بیچ میں چھوڑ کیسے دیتی ہیں؟مینز! آپ کبھی تو جیلس ہوئی ہوں گی؟”سفیان صاحب سنجیدہ ہوئے بھی تو کس بات پہ۔
کرلو سارے گل ہن!
ایلاف کو اس کے سوال پہ ایک واقعی یاد آیا تھا۔
______________________________
یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب ایلاف عساف اور ماہ نور کے پیدا ہونے کے بعد اذلان شاہ کے ساتھ پہلی بار آوٹ آف کنٹری آئی تھی۔
لندن!سرد موسموں جیسا شہر۔
وقت نے اس پرانے شہر پہ کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔دن بدن جوان ہی ہوتا جا رہا تھا۔
ایلاف اور اذلان واک پہ نکلے تھے۔ایک ساتھ یوں اذلان شاہ کے ہمراہ چلنا ایلاف کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
” کافی پئیں گی ایلا؟” اذلان نے اس کے چہرے پہ نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
“کیوں نہیں!میں یہاں کھڑی ہوں۔آپ لے آئیں۔” ایلاف نے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا اور سائیڈ پہ ہوگئی۔دوسری طرف خاصا رش تھا۔
اذلان شاہ آگے بڑھ گیا تھا۔
ایلاف یونہی چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھنے لگی تھی۔اذلان شاہ کافی شاپ پہ جا چکا تھا۔تبھی ایلاف کی نظر سامنے اٹھی تھی۔وہ ایک درمیانی عمر کی لڑکی تھی،درمیانی یوں کہ اس نے اپنے آپ کو مین ٹین کر رکھا تھا اور عورت سےلڑکی بنی ہوئی تھی۔
وہ اذلان شاہ سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کوٹ پہ یوں ہاتھ پھیرتی اور شانے پہ یوں ہاتھ رکھتی کہ ایلاف کو آگ ہی لگ جاتی۔
بھاڑ میں گیا رش!
تیز قدموں سے چلتے ہوئے ایلاف بی بی ان دونوں کے پاس پہنچی تھیں۔
“شاہ!تم نے سیکنڈ میرج کرلی پھر بھی تم نے نہ پہلی بار میرا سوچا نہ دوسری بار۔مجھے دیکھو آج بھی میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں؟مارگریٹ کا دل تمہارے لئے ہی دھڑکتا ہے۔” مارگریٹ نے ایک حجابی لڑکی کو آتے دیکھ کے زبان ضرور بدلی تھی مگر انداز نہیں۔
ایلاف تپ ہی گئی تھی۔وہ تو اس نے ابھی نئی نئی جرمن سیکھی تھی تو سمجھ میں آگیا تھا ورنہ یہ چھپکلی تو!
“اگر اذلان شاہ کیلئے تمہارا دل اتنا ہی دھڑکتا ہے تو۔۔۔اب تو وہ تمہارے پاس نہیں ہیں تو بند کیوں نہیں ہوئی تمہارے دل کی دھڑکن؟” ایلاف نے اس کے چودہ طبق روشن کردئیے تھے جرمن میں ہی
اور اذلان شاہ اس کی جرمن سن کے حیران ہی رہ گیا تھا۔
ایلاف نے عربی اور فرنچ سیکھی اسے یہ تومعلوم تھا یہ جرمن کب سیکھی اس نے۔یہ اذلان کو خبر نہ تھی۔
مارگریٹ کی ساری طراری ہوا ہو گئی تھی،ایلاف کی زبان کے جوہر دیکھ کے۔
” شاہ!سی یو آگین۔” مارگریٹ نے الوداعی کلمات کہے تھے۔
“سوچنا بھی مت۔دوبارہ اذلان شاہ کے گرد بھی نظر آئیں تو اچھا نہیں ہوگا۔بگ بینگ ٹاور کے ساتھ آپ دونوں کو ٹانگ دوں گی۔” ایلاف نے دھمکی دی تھی۔
” کون تھی یہ؟”مارگریٹ کے بعد اب اذلان شاہ کی باری آئی تھی۔
” ارے بھئی یہ ہمارے ساتھ ایک زمانے میں پڑھتی تھیں۔قسمت کہ جب بھی لندن آؤ اس سے ملاقات ہوجاتی ہے۔” اذلان شاہ اس کے ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑاتے ہوئے بولا۔
“اور وہ جو آپ کے کندھے کو ہاتھ لگا رہی تھی۔۔۔وہ بھی ایک زمانے سے کیا؟” ایلاف کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔
“ایلا!کم ان آپ جانتیں ہیں ہمیں،وہ کچھ سنکی ہوئی ہے۔ابھی اسے کچھ کہتے تو اس نے یہاں تماشہ لگانا تھا۔ویسے آپ نے اس کی طبیعت خوب صاف کی اور یہ جرمن کہاں سے سیکھ لی آپ نے؟” اذلان نے بتانے کے ساتھ پوچھ بھی لیا۔
“کچھ لینگویج سینٹر اور کچھ سفی سے۔” ایلاف نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا اور کچھ یاد آنےپہ بولی۔
“بات سنیں!آج میں نے برداشت کرلیا ہے۔آئندہ اگر کسی نے آپ سے بات بھی کی تومیں اس کا گلا دبادوں گی۔” ایلاف نے فیصلہ سنادیا تھا۔
اتنی پوزیسو،اتنی محبت!
“یہ لڑکی ہم سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہتی ہے۔محبت میں،شدت میں اور اعتبار میں۔”
” اوہ مائی گڈنیس!کم ان،ہم آپ کے ہیں اور آپ کے ہی رہیں گے۔” اذلان نے محبت سے اسکے سرد ہاتھوں کو اپنے پر حدت محبت بھرے لمس سے مہکتے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا تھا۔
اور
یہ راز تو ایلاف بھی جانتی تھی
پیر اذلان شاہ ازل سے ایلاف محبوب کے نصیب میں تھا،ہے اور رہے گا۔
______________________________
” مام!جلدی سے مجھے اچھا سا ناشتہ بنا دیں۔آئی ایم گیٹینگ لیٹ۔” سفیان ایک ساتھ دو سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے بولا۔
” سفی آرام سے کیا بچپنا ہے یہ۔” ایلاف اس کی جلدی پہ بولی تھی۔
وہ ناشتہ بنانے کے ساتھ اسکائپ پہ ماہ نور اور عساف سےباتیں بھی کر رہی تھی۔
” اچھا! ان جاپانی کھلونوں کی وجہ سے میرا ناشتہ لیٹ ہورہا ہے۔مام میرا آملیٹ مزے کا بنائیے گا،ڈھیر سارے چیز کے ساتھ۔” سفی، ماہ نور کو چڑاتے ہوئے بولا۔
” بھائی کتنے خراب ہو آپ؟مام کو بلیم کر رہے ہو جب کہ اٹھے خود لیٹ ہو اور مینڈک کی طرح پھدک رہے ہو۔” ماہ نور تپ کے بولی تھی۔
“اور مام کوئی ضرورت نہیں انہیں چیز آملیٹ دینے کی،فضول کی گیند بنیں گے۔”ماہ نور نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
“واٹ! ماہ نور یو کالڈ می مینڈک؟قصور تمہارا نہیں ہے اور پڑھو بایو۔تم ڈاکٹرز کو بس مینڈکوں کے خواب ہی آ سکتے ہیں۔خدا تمہیں ایک مینڈک دے،اور یہ کیا تم لوگ شاہ پور کب آئے؟پیپرز کون دے گا؟” سفی بنین شاہ کو دیکھ کے بولا۔
” اوہ بگ بی!ہم جاگیر نہیں آئے۔ بنین چچی ہمارے پاس آئی ہیں دادو نے بھیجا ہے۔” عساف نے اسے تفصیل بتائی تھی۔
وہ دونوں میٹرک کے اسٹوڈنٹ تھے۔
” چچی!میں آج چیز آملیٹ کھاؤں گی۔” ماہ نور ہمیشہ سفیان کی برابری کرتی تھی۔
” توبہ! توبہ کتنے چیٹر ہیں لوگ آج پتہ چلا۔یہ تمہارے اچھے گریڈز بھی نا نقل کی وجہ سے ہی آتے ہیں۔” سفی کی بات پہ ماہ نور روہانسی ہوگئی تھی۔
“ایسے مت بولو سفی،بہن ہے اتنا تو پڑھتی ہے۔” بنین شاہ نے ماہ نور کی سائیڈ لی تھی۔
“اور بھائی تم اپنی خیر مناؤ جب ڈیڈ کو تمہاری جاب کا پتہ چلے گا۔” ماہ نور نے اسے دھمکی لگائی تھی۔
” اوہ! میں تو ڈر گیا۔مام! کمبل میں چھپ جاؤں۔” سفی نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی تھی۔
ماہ نور اسکے ڈرامے پہ ہنسی۔
” بچو! میرے پاس ایلا جی ہیں نا ہر پریشانی کا علاج۔تم اپنی فکر کرو جب رزلٹ خراب آئے گا تو مام تو مام ڈیڈ بھی۔۔۔آگے سمجھدار ہو۔” سفیان نے ماہ نور کو ڈرایا تھا۔
” چلیں مانتے تو ہیں نا کہ سمجھداد ہیں۔” ماہ نور نے اس کے آخری الفاظ پکڑ لئے تھے۔
” چلو سفی بس کرو ناشتہ کرو اور تم دونوں اپنی اسٹڈی کرو۔دو گھنٹے سے دماغ کھا رہے ہو۔وہاں پتہ نہیں کیا وقت ہو رہا ہے۔” ایلاف نے آ کے سیز فائر کرایا تھا۔
” مام پلیز تھوڑی دیر اور۔” ماہ نور نے کہا تھا۔
” دیکھنے دیں! بے چاری کو کہ کہیں مام میرے منہ میں نوالے تو نہیں ڈال رہیں۔” سفی کی بات پہ ماہ نور تپ ہی گئی تھی اور واک آؤٹ کر گئی تھی۔
” اوہ شٹ!عساف ذرا دیکھنا لٹل پرنسز کو،اب یونہی منہ لٹکا کے گھومے گی۔”سفی کو اس کی فکر ہوئی تھی۔
ماہ نور ان سب کو عزیز تھی۔
” ڈونٹ وری بگ بی!عساف شاہ ہے نا۔” عساف سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسٹائل سے جھکا تھا۔واقعی ماہ نور اس کی بات جلدی مان لیتی تھی۔
______________________________
” ڈیزی!مونیکا کی جگہ ہماری ٹیم کا نیو ہیڈ کون آیا ہے؟” ثنا ابھی ابھی آفس پہنچی تھی اور آتے ساتھ ہی ڈیزی سے پوچھا تھا۔
نیو باس دیکھنے کی اسے بہت جلدی تھی۔مونیکا کو جانا پڑا تھا اپنی کسی اسائنمنٹ کےسلسلے پہ دو ماہ کیلئے تب تک ان کا نیا ہیڈ آیا تھا۔ثنا،مونیکا کے ساتھ کمفرٹیبل تھی اور اس کے جانے پہ وہ تھوڑا مایوس تھی کیونکہ مونیکا اسے کافی ریلیف دیتی تھی۔
اب نیا ہیڈ کیساہونا تھا؟یہ تو دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلتا۔
” میرے خیال سے تم خود ہی جا کے مل لو،اب میں کیا بتاؤں۔” ڈیزی کھٹ کھٹ کرتی ٹائپنگ کر رہی تھی۔
“آپ دونوں کو سر نے کال کیا ہے quite colour of ladies of the east کی اسائنمنٹ آپ دونوں کے پاس ہے،اس پہ ڈسکشن کرنے کیلئے۔”
ثنا فورا اٹینشن ہوگئی تھی ان کاکافی کام ہوچکا تھا۔اب ایلاف کے پاکستان جانے پہ انہوں نے بھی پاکستان جانا تھا پھر بنگلہ دیش اور سری لنکا دو خواتین انہوں نے وہاں سے سلیکٹ کی تھیں۔
” باس لگتا ہے بہت ولنگ ہیں کام کے معاملے میں فورا کال کرلیا۔دیکھو ذرا!” ثنا لیپ ٹاپ اٹھاتے ہوئے بولی تھی۔
“ہاں واقعی بہت!” ڈیزی ایک ایک لفظ کھینچ’کھینچ کے بولی تھی۔
” تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے مل چکی ہو ان سے۔ ” ثنا لیپ ٹاپ پہ جھکے جھکے بول رہی تھی۔
“ہاں!” ڈیزی نے ہلکی سی آواز میں کہا تھا۔وہ دونوں باس کے کمرے میں پہنچ چکی تھیں۔
ڈیزی نے ناک کیا تھا۔ثنا کا سر ہنوز جھکا ہوا تھا لیپ ٹاپ پہ ڈیزی نے اسے کہنی ماری تھی ثنا نے سر اٹھایا اورباس کو دیکھ کے اسے چکر ہی آگئے تھے۔
” یہ شخص میرا باس نہیں ہوسکتذ،یہ بندر بالکل نہیں۔” ثنا ہر بندے کو سوچ سکتی تھی کہ یہ اس کا باس ہوسکتا ہے سوائے سامنے بیٹھے شخص کے
جو وائٹ پینٹ کوٹ میں اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ،بھوری آنکھوں سے ان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
ثنا نے آج احتیاطا عربی کا سہارا لیا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ سامنے بیٹھا شخص پانچ زبانیں جانتا ہے۔اس لئے اس نے ڈیزی سے عربی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
” مجھے عربی بھی آتی ہے مس ثنا سکندر۔ ” یہ انکشاف ثنا کو کسی بم کی طرح لگا تھا۔
______________________________
ثنا آج صحیح معنوں میں شرمندہ ہوئی تھیاور ساتھ میں اس کی گردن کا سریا بھی نکل گیا تھا۔وہ جو اکڑتی تھی کہ اسے تین زبانیں آتی ہیں۔
سامنے بیٹھا شخص پانچ زبانیں جانتا تھا اور ساتھ کھڑی ڈیزی چار زبانوں پہ عبور رکھتی تھی۔
” میرے خیال سے بندہ کو اپنے اوپر اتنا غرور نہیں کرنا چاہئے۔ذرا دوسروں کی بھی خبر رکھتے ہیں کیوں مس ڈیزی۔ ” سفیان شاہ نے ڈیزی سے پوچھا تھا
” یو آر رائٹ سر!” ڈیزی نے اس کا ساتھ دیا تھا۔
ثنا اسے گھور کے رہ گئی تھی۔
” لوگ بھی ایک ہی بار کیوں نہیں بتا دیتے۔پتہ نہیں کس لئے قسطوں میں اپنا تعارف کراتے ہیں۔” ثنا چئیر کھینچ کے بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔
“اصل میں کچھ لوگوں کو بات ہی قسطوں میں سمجھ آتی ہے۔ اس لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔اینی ہاؤ!شو می یور ورک، میں آپ لوگوں کی پروگریس چیک کرنا چاہتا ہوں۔” سفیان شاہ کونسا کم تھا۔آخر کو پیر اذلان شاہ کی اولاد تھا۔
ڈیزی کو تو اس نے دو تین مشورے دینے کے بعد بھیج دیا تھا اور ثنا کی باری میں اس نے ثنا کے ہر کام میں اتنے کیڑے نکالے تھے کہ ثنا کی ناک میں دم کر دیا تھا۔
” یہ یہاں زوم کیوں نہیں کیا؟”
“اتنا ڈارک کلر پہنا ہے ان خاتون نے اوپر سے رات کا وقت۔یہ تصویر بالکل ٹھیک نہیں ہے۔” بنگلہ دیشی خاتون پہ اس کے کمنٹ تھے۔
” اب کیا میں ایک تصویر کیلئے دوبارہ بنگلہ دیش جاؤں؟” ثنا چڑتے ہوئے بولی۔
“کچھ عقل استعمال کریں گی تو دوسرے راستے بھی مل جائیں گے۔” سفیان نے جیسے اس کی عقل پہ ماتم کیا تھا۔
سفیان شاہ کے انداز ثنا کے اندر آگ لگاتے تھے۔وہ کینہ پرور لڑکی اگر پازیٹو ہو کے سوچتی تو اسے پتہ چلتا کہ سفیان اس کے ساتھ بھلائی ہی کر رہا ہے۔وہ اسے سکھا رہا تھا مگر ثنا کو اپنے اندر کا حسد کچھ دیکھنے ہی نہیں دیتا تھا۔
اور!
جب ثنا پاکستان آئی تھی کچھ حصہ پاکستان میں بھی کرنا تھا انہیں ڈاکومنٹری کا، وہ ڈھلتی شام میں ڈوبتے سورج کا ایک حسین منظر تھا۔جسے ثنا کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہی تھی۔
” تم ٹی وی والی ہو نا۔وہی جو سفیان شاہ کے ساتھ کام کرتی ہو۔” وہ ایک بوڑھی سی عورت تھی۔
” ایلاف بی بی کی فلم بنا رہی ہو۔”اس کی بات پہ ثنا ہنس پڑی تھی۔
” ایسا ہی سمجھ لیں آپ جانتی ہیں ایلاف بی بی اور ان کے بچوں کو۔” وہ بیوقوف تھی جو ان کی جاگیر میں کھڑے ہو کے یہ سوال پوچھ رہی تھی۔
“سب کو جانتی ہوں۔وہ ایلاف بی بی فرشتہ ہے وہ فرشتہ۔سفیان شاہ کو سگی اولاد سے زیادہ چاہتی ہے۔بھلا کون دوسروں کی اولاد کو یوں چاہتا اور پالتا ہے۔” اس عورت نے جو بات کی تھی ثنا کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔
اتنے کام کی بات وہ بھی جاتے ہوئے پتہ چل رہی ہے۔آج رات اس کی فلائٹ تھی۔
اس انکشاف پہ ثنا حیران ہوگئی تھی
تبھی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری تھی۔
“اب تم دیکھنا مسٹر سفیان،جس طرح تم نے میری جان عذاب میں ڈالی تھی الٹے سیدھے کاموں میں،میں تمہاری ذات کو ہی عذاب کردوں گی۔دو کوڑی کی عزت بھی نہیں ہوگی تمہاری۔کسی اور کے نام پہ اتنا اکڑتے ہو۔” ثنا جو سوچ رہی تھی اس نے سفیان کی زندگی کا دھارا ہی بدل دینا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: