Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 17

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 17

–**–**–

ایلاف کافی عرصے بعد جاگیر لوٹی تھی سو سارا دن نہایت مصروف گزرتا تھا
ملنے ملانے میں ،پھر ثنا سکندر جو اس کے ساتھ تھی اپنے کام کے لئے اس سے متعلق بھی ایلاف اس کے ساتھ کافی مصروف رہتی تھی۔
جاگیر میں کالج اب ڈگری کالج بن چکا تھا۔جدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال،
معیاری اسکول اور کالج انڈسٹریل ہوم،
ثنا کو ویل پلینڈ سٹی کی مانند یہ جاگیر لگی تھی۔اندر ہی اندر وہ کافی حیران ہوئی تھی۔یہ جاگیر پاکستان کا ہی حصہ ہے۔
شاہ بی بی کافی ضعیف ہوچکی تھیں۔پیر اعظم شاہ کا انتقال ہوچکا تھا۔تانیہ شاہ اور احمد شاہ چھوٹی حویلی شفٹ ہوچکے تھے خدیجہ بی بی کے پاس اور گوہر شاہ اور اکبر شاہ عرصہ گزرا وہ امریکہ شفٹ ہوچکے تھےپیر خرم شاہ کو لے کر اولاد کے کارناموں نے ان کا سر جھکا دیا تھا۔
اور پیر خرم شاہ!
ایلاف اس نام پہ اب آگ بگولہ نہیں ہوتی تھی۔وقت کے پل کے نیچے سالوں کا بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ایلاف کو وہ دن روز روشن کی طرح یاد تھا جب پیر خرم شاہ سے ایک بار پھر اس کا سامنا ہوا تھا۔
ایک وقت تھا!
وہ فرعون بنا ہوا تھا،تکبر سے اکڑی ہوئی گردن۔
اور اب یہ وقت تھا!
شرمسار سا خرم شاہ،جھکی ہوئی گردن کے ساتھ اس کے سارے کس بل خاندانی بائیکاٹ نے نکال دئیے تھے۔یہاں تک کے اس کی بہن بھی،اس نے پیر خرم شاہ سے صرف ایک جملہ کہا تھا۔
” تمہاری ایک بہن بھی تو ہے بھائی۔تمہارے کرموں کا بھگتان اگر مجھے بھرنا پڑا تو؟”خرم شاہ ہل کے ہی رہ گیا تھا۔
وہ یہ کیوں بھول گیا تھا؟
“ایلا!” اذلان شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے ہلایا تھا۔
“جی!کیا ہوگیا ہے؟” ایلاف غنودگی میں تھی۔
” ایلا آپ سے کوئی ملنے آیا ہے؟اگر آپ ملیں گی اس سے تو مہربانی ہوگی۔” اذلان شاہ اسے اٹھنے میں مدد دیتے ہوئے بولا تھا۔
“کون ہےاذلان؟پلیز! میں پہیلیاں بوجھنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔” ایلاف کچی نیند سے اٹھی تھی تو کچھ چڑچڑی تھی اوپر سے اس کی کنڈیشن بھی ایسی تھی۔
“ایلا!خرم شاہ ہے وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے،اب یہ آپ پہ ہے کہ جو آپ کی مرضی۔” اذلان نے سب اس کی مرضی پہ چھوڑ دیا تھا۔
ایلاف کو جیسے مرچیں لگ گئی تھیں مگر اس نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں کہا تھا۔
” اب کس لئے ملنا چاہتا ہے وہ؟”
“ایلا یہ ہمیں معلوم نہیں مگر ہم اتنا جانتے ہیں کہ اگر کوئی شرمندہ ہے تو اسے معاف کردینا چاہئے۔بے شک یہ امر رب کے نزدیک سب سے پسندیدہ ہے۔ہم آپ کو نہ حکم دے رہے ہیں نا مشورہ دے رہے ہیں بس ایک بات کر رہے ہیں۔ ” اذلان شاہ نے کہا تھا۔
” ٹھیک ہے!میں ملنے کو تیار ہوں۔” ایلاف نے دوپٹہ سے ہی نقاب کیا تھا اور باہر چلی گئی تھی۔
پیر خرم شاہ اسے دیکھ کے کھڑا ہوگیا تھا۔سلام کیا تھا ہلکی آواز میں،ایلاف نے سر ہلا کے سلام کا جواب دیا تھا۔
” کیسی ہیں آپ؟” خرم کی آواز بے حد دھیمی تھی
” ٹھیک ہیں ہم۔کیوں ملنا چاہتے تھے آپ؟” ایلاف صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔
“میں نے جو کیا وہ قابل معافی تو نہیں مگر آپ سے پھر بھی درخواست ہے میری خطا بخش دیں۔مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے۔” خرم شاہ واقعی شرمندہ تھا۔
“اور یہ کمال کب ہوا؟” ایلاف کا لہجہ طنزیہ تھا۔
“ہماری پستیوں کی گہرائی سے آپ واقف ہی ہیں۔خدا نے اگر مجھے سدھرنے کا ایک موقع دیا ہے تو مجھے اسے حاصل کرنے دیجئے۔یہ آپ کی معافی سے مشروط ہے۔” خرم شاہ نے ہاتھ جوڑ دئیے تھے
“گدی تو تمہیں کبھی نہیں مل سکتی چاہے اب جو بھی کرو تم،اگر یہ ناٹک اس کیلئے ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” ایلاف نے واضح کیا۔
“مجھے اب کسی گدی کی چاہ ہی نہیں بی بی۔میں ملک سے باہر جا رہا ہوں کبھی نا لوٹنے کیلئے اب میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔” خرم شاہ کی رسی کھینچی جا چکی تھی۔
اس کے سارے کس بل نکل چکے تھے۔
” کیا گارنٹی ہے اس بات کی تم دوبارہ یہ سب نہیں کروگے؟ ” ایلاف نے پوچھا تھا
“کوئی گارنٹی نہیں،بس اتنا کہوں گا کہ میں نیک نام ہونے کا دعوی تو نہیں کرتا مگر اب تائب ہوچکا ہوں۔آپ اپنا فیصلہ سنائیے؟” خرم شاہ نے اس سے پوچھا تھا۔
” تمہیں پتہ ہےخرم شاہ۔تمہارے ایک عمل نے میری زندگی کا دھارا ہی بدل گیا۔ وہ تو میرا نصیب کہ مجھے اذلان جیسے شخص کا ساتھ مل گیا مگر ہر اس ایلاف محبوب کی قسمت میں جسے تم نے اپنی انا کے زعم میں کچلا،ان کی قسمت میں پیر اذلان شاہ نہیں ہوتا ان کا کیا کروگے؟” ایلاف کا سوال بہت چبھتا ہوا تھا۔
“اس رات میں واقعی بھٹک گیا تھا بی بی۔ہزار راتوں کی عبادت بھی اس رات کے گناہ کا مداوا نہیں کرسکتی۔میرا خدا گواہ ہے کہ اب میں تائب ہوچکا ہوں۔اس رات کے بعد میں نے کسی کی طرف آنکھ بھی نہیں اٹھا کے دیکھا۔ ” خرم شاہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
“خرم شاہ اگر میں پہلی والی ایلاف ہوتی تو تمہارا منہ نوچ لیتی مگر خیر،پیر خرم شاہ اگر تم واقعی تائب ہوچکے ہو تو میں نے تمہیں اپنے اللہ کیلئے اور ان کے حبیب کے صدقے معاف کیا۔” نہ نہ کرتے ہوئے بھی ایلاف کی آنکھیں بھیگ سی گئی تھیں۔
” آپ واقعی بہت عظیم ہیں بڑے دل والی،میرے لئے دعا کرتی رہئے گا۔” خرم شاہ ممنون ہوتے ہوئے بولا تھا
” آپ نے آج واقعی ایک عظیم عمل کیا ہے،ایلا واقعی خدا کے حکم پہ آپ نے عمل کیا ہے۔” اذلان شاہ کو فخر ہوا تھا ایلاف پہ۔
“اسے معاف کرنا آسان نہیں تھا اذلان لیکن میں نے اسے معاف کیا۔ اس لئے نہیں کہ یہ خدا کو یہ عمل محبوب ہے بلکہ اس لئے کہ وہ میری آزمائش تھی اور اسے نہ معاف کر کے میں اپنی ریاضت پہ پانی نہیں پھیرنا چاہتی تھی۔خدا اسے ثابت قدم رکھے۔” ایلاف نے اذلان کو اصل وجہ بتا دی تھی۔
” آپ واقعی کمال ہیں ایلا۔آپ کا ہر رنگ انوکھا ہےاور ہر روپ نرالا ہے۔ہر نکلتا سورج اور ابھرتا چاند ہمیں آپ کے عشق کے دائرے میں اور کھینچ لیتا ہے۔یہ کونسی طاقت ہے کیسا عمل ہے یہ ایلاف شاہ کہ پیر اذلان کو ہر رنگ میں آپ کا رنگ اور ہر روپ میں آپ کا عکس دکھائی دیتا ہے۔” اذلان شاہ نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“یوں تو مت دیکھیں پلیز!” ایلاف کا چہرہ گلنار سا ہوگیا تھا۔
” آپ کو ہی تو ایسے دیکھ سکتے ہیں ایلا۔ یہ عشق کی آنکھ ہے جو آپ کو ہی ڈھونڈتی ہے چاہے آپ دور ہوں یا پاس،ان آنکھوں میں ایک ہی عکس مستقل ہے۔ان دھڑکنوں نے دھڑکنا ہی آپ کے نام پہ شروع کیا ہے۔” اسے اپنی پناہوں میں لیتے ہوئے اذلان شاہ نے اس کہ سماعتوں میں پیار بھر اقرار کیا تھا۔
” توبہ کریں پیر سائیں۔آپ تو شاعر ہی بنتے جا رہے ہیں۔” ایلاف اس کی چادر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھی۔
” آپ کا کمال ہے ایلا شاہ۔یہ بندہ کیا کرے۔” اذلان شاہ نے بے بسی سے اقرار کیا تھا۔
” یہ بندہ جو کر رہا ہے وہی بہت ہے،اس سے زیادہ نہیں۔” ایلاف نے وارننگ دی تھی۔
” بچنا ممکن نہیں۔ ” اذلان نے واضح کیا۔
” بچنا چاہتا بھی کون ہے پیر سائیں اپنے سائبان سے” ایلاف نے بھی اقرار کیا تھا۔
______________________________
ثنا واپس پہنچ چکی تھی اور اگلے دن وہ آفس میں موجود تھی۔ تین گھنٹے ایڈیٹنگ روم میں گزارنے کے بعد اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
ڈیزی نے اس کیلئے کافی منگوائی تھی اور اس سے اشتیاق سے پاکستان کی باتیں پوچھ رہی تھی۔
” سو سب سے بڑی خبر کیا ہے ثنا؟” ڈیزی نے گھونٹ بھرتے ہوئے ثنا سے پوچھا تھا۔
“اس کیلئے تھوڑا صبر کرو۔یقین کرو بہت بڑا دھماکہ ہونے جا رہا ہے۔” ثنا کی آنکھوں میں شاطر لومڑی کی مانند چمک لہرائی تھی۔
” تمہاری فیملی بھی تو پاکستان میں ہوتی ہے۔تم ان سے بھی ملی ہوگی نا؟” ڈیزی نے پوچھا تھا۔
اور ثنا کے اندر جیسے آگ ہی لگ گئی تھی۔بمشکل اس نے اپنے آپ پہ قابو کیا تھا۔
“اونہہ فیملی!مائی فٹ۔”ہر چیز کو نیگیٹو لینا اس کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔
” میں اب چلتی ہوں ڈیزی کافی وقت ہوچکا ہے اور میں تھک بھی چکی ہوں۔” ثنا اٹھتے ہوئے بولی تھی۔
” سنو ثنا کیا اپنے بندر باس کا حال نہیں پوچھو گی؟” ڈیزی حیران تھی کہ آج سارا دن اس نے سفیان شاہ کی برائی نہیں کی تھی۔
“اس کے سارے حالوں سے تو واقف ہوں میں۔” ثنا نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔
” مجھے دیر ہورہی ہے ڈیزی۔ “
” لک ثنا!سر شاہ از رئیلی نائس مین۔ان کے ساتھ میرا ایکسپیرینس بہت فیبلس تھا اور ان کا اسٹائل آؤٹ کلاس،بٹ وہ بندہ بہت شارپ ہے۔تم اس سے بچ کے رہناکچھ بھی اوٹ پٹانگ کہنے سے پہلے سوچ لینا۔” ڈیزی نے وارن کیا تھا۔
“بچنا تو اسے مجھ سے چاہئے کیونکہ اب میرے ہاتھ میں ترپ کا وہ پتہ ہے جس پہ اسے شہہ مات ہوسکتی ہے۔” ثنا کا حسد انگڑائی لے چکا تھا۔
اور
حسد کی آگ میں تو گھر کے گھر،خاندان کے خاندان راکھ ہوجاتے ہیں وہ تو پھر
صرف ایک بندہ تھا۔
سفیان شاہ!
_____________________________
ثنا اپنی دھن میں موبائل پہ گم تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی جا رہی تھی۔
” ہے یو ایشین!گیو می سیل فون کم آن۔ ” وہ سیاہ فاموں کی ایک ٹولی تھی۔
” تمہارے دادا نے دیا تھا لے کے جو مفت میں تمہیں دے دوں۔گدھے کہیں کے!” ثنا موبائل والا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بڑبڑائی اور نفی میں سر ہلایا۔
ان سیاہ فاموں نے ایک دوسرے کی سمت دیکھا اور ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔دو ثنا کی طرف بڑھے تھے اور ایک نے چمکتا ہوا چاقو نکالا تھا۔
” اب تمہیں کوئی پہچان بھی نہیں سکے گا۔” اس سیاہ فام کا لہجہ بہت سفاک تھا۔
وحشی پن سے اس نے ثنا کی کلائی کھینچی تھی۔ ثنا کا پرس اور موبائل نیچے گر چکا تھذ۔
” ہیلپ،پلیز ہیلپ!” ثنا کا چہرہ خوف سے پیلا پڑگیا تھا۔
ایسا تو آج تک نہ ہوا تھا۔
یہ لندن کا معمولی درجے کا علاقہ تھا۔ایسی وارداتیں یہاں روز کا معمول تھیں تو ثنا کی کون سنتا۔درد کی شدید لہر اسے اپنے وجود میں محسوس ہوئی تھی۔
چاقو سے اس وحشی نے کلائی کی اوپری طرف کٹ لگایا تھا۔اسی پل گاڑی کے ہیڈ لائٹ چمکے تھے اور کوئی گاڑی سے نکل کے ان کے پاس آیا تھا۔
” کیا مسئلہ ہے؟کیوں اس لڑکی کو تنگ کر رہے ہو۔” وہ سفیان شاہ تھا۔
اس کی نظر ابھی تک ثنا کے چہرے پہ نہیں پڑی تھی۔
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے کہیں یہ غنڈے اسی کے تو نہیں؟”ثنا نے سفیان کو دیکھ کے سوچا تھا۔
سفیان ثنا کو دیکھ کے حیران ہوا تھا،پھر اسی چاقو والے کی طرف مڑ کے اس نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے ہوئے جو زبان بولی تھی کم از کم ثنا اس سے انجان ہی تھی۔
اس نے جھٹکے سے چاقو اس آدمی سے کھینچ لیا تھا۔
” ناؤ گیم از اوور،گیٹ آؤٹ!” سفیان نے اسے ایک پنچ لگاتے ہوئے کہا تھا۔
وہ لوگ آسانی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔
“کیا کہا تھا اس بندر نے ان سے؟” ثنا نے سوچا تھا۔
” بیوقوف تو بہت دیکھے ہیں پر آپ جیسا کوئی نہیں۔جب انہوں نے آپ سے کچھ مانگا تو چپ چاپ دے دیتیں اور یہ موبائل یہ میرے خیال سے آپ کے کسی کام کا نہیں اب،کیا فائدہ ہوا؟” سفیان اس کا پرس اٹھا کے دیتے ہوئے بولا تھا۔
“اور یہ خون بھی بہہ رہا ہے دکھائیں ادھر۔” سفیان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔
” آپ کہاں کے ڈاکٹر لگے ہوئے ہیں میں بینڈیج کر لوں گی۔” ثنا نے ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔
سفیان نے لب بھینچ لئے پھر کوٹ کی جیب سے رومال نکال کے اس کی سمت بڑھاتے ہوئے بولا تھا۔
“فی الحال یہ لے لیں اور چلیں یہاں سے کب تک کھڑی رہیں گی۔اب کیا کوئی اور کارنامہ کرنا ہے۔”
” چلی جاؤں گی۔آپ یہاں کیا کر رہے تھے؟گھی کے چراغ تو جلا نہیں رہے ہوں گے یقینا۔” ثنا کو کھد بد لگی تھی۔
” لفنگا! چانس مار رہا ہے۔”
“کچھ کام تھا یہاں، اب چلیں۔” سفیان واقعی یہاں شیلٹر ہوم سے ریلیٹید کام سے آیا تھا۔
” آپ کے ساتھ،نیور!” ثنا پیچھے ہوئی۔
“جیسے مجھے پتہ نہیں یہ یہاں کیا کر رہا ہوگا۔تمہاری اصلیت جان چکی ہوں۔بس تھوڑا صبر کرو۔ ” ثنا رومال پہ نظریں گاڑے سوچ رہی تھی جو تیزی سے سرخ ہورہا تھا۔
” پرنس چارلس تو آنے نہیں لگا آپ کو لینے،اسلئے اب چلیں۔” سفیان اکتا کے بولا تھا۔
“واقعی کونسا پرنس آنے والاہے چلو چلتے ہیں اسی لسوڑے کے ساتھ۔” ثنا نے سوچا۔
اس بندے کے سامنے وہ بولنے کی غلطی نہیں کرسکتی تھی۔
راستے میں ایک جگہ سفیان نے گاڑی روک کے بینڈیج کا سامان لیا تھا اور ثنا کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تھا۔
” بینڈیج کرلیں!”
ثنا نے چپ چاپ بینڈیج لے لی تھی۔ تبھی اسکی نظر اس کے انگوٹھے کے پاس موجود سیاہ تل پہ پڑی تھی۔
کچھ جانا پہچانا احساس ابھرا تھا۔
کیا؟ثنا کو سمجھ نہیں آیا تھا۔
ثنا بینڈیج کرنے لگی تھی، ایک ہاتھ سے اسے کافی مشکل پیش آرہی تھی۔سفیان نے اسے دیکھا پھر گاڑی سائیڈ پہ روک کے چپ چاپ اس کی بینڈیج کرنے لگا تھا۔
ثنا چپ چاپ اس کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیکھتی رہی۔نہ جانے کیوں اس کا دل چاہا ایسے اپنائیت کے پل اس کی زندگی میں سدا رہیں۔گاڑی دوبارہ چلنی شروع ہوگئی تھی۔
” آپ یہاں رہتیں ہیں؟” سفیان کے انداز میں ہلکی سی ناگواری تھی۔
“نہیں بکھنگم پیلس میں،ظاہر ہے یہیں رہتی ہوں۔” ثنا نے ذرا بھی مروت نہیں دکھائی تھی۔
اس خستہ حال عمارت میں اسکا ایک کمرے کا فلیٹ تھا۔سفیان کی پیشانی پہ بل سے پڑ گئے تھے۔
” اینی ویز،تھینکس!” ثنا نے کہا تھا۔
” نو نیڈ ٹو تھینکس آپ ہماری ایمپلائی ہیں اور پھر میری ہم وطن بھی یو ور ان ٹربل۔آپ کی مدد کرنا میرا فرض تھا،گڈ نائٹ!”سفیان گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا تھا۔
” یہ واقعی اتنا اچھا ہے لیڈی اذلان کے ساتھ رہ کے یا پوز کر رہا تھا۔” ثنا نے دور جاتی گاڑی پہ نظر جماتے ہوئے سوچا۔
” پرائی اولاد اور یہ ٹھاٹ!”
______________________________
بیل کب سے ہو رہی تھی ڈیزی تقریبا کچن سے دوڑتی ہوئی آئی تھی۔دروازے پہ سفیان شاہ کو دیکھ کے اسے سو والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔
“آپ کو مجھے دیکھ کے خوشی نہیں ہوئی مس ڈیزی۔” سفیان نے جیسے اس کی حیرت کا مزہ لیا تھا۔
” نو سر،پلیز کم!” ڈیزی نے اسے اندر آنے کی دعوت دی تھی۔
“آپ کی ایک فیور چاہئے۔آپ کو روم میٹ کی ضرورت ہے نا؟” سفیان ڈائریکٹ مدعے پہ آیا تھا۔
” یس!بٹ سر۔۔۔۔” ڈیزی نے الجھ کے بات چھوڑی تھی۔
” ثنا کو کیوں نہیں رکھ لیتیں آپ اپنے ساتھ۔ ” سفیان کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اس کیلئے کیوں کر رہا تھا یہ سب۔
بس ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی۔
ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں کی جان پہچان ہو۔
” سر! ثنا تو۔۔۔۔اس نے کہا تھا وہ افورڈ نہیں کرسکتی فی الحال کسے اچھے علاقے میں رہنا۔” ڈیزی نے بتایا تھا۔
” آپ اس کی فکر نہ کریں وہ بیوقوف ہے بس کسی بھی طرح آپ اسے یہاں لے آئیں۔وہ پاگل کسی دن بچت کے چکر میں اپنی جان سے جائے گی۔” سفیان نے کہا تھا۔
” سر!وہ ایک سیلف میڈ لڑکی ہے۔ اتنی اسٹرگل کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔”ڈیزی تعریفی انداز میں بولی تھی۔
” بٹ یہ تو آپ مانیں گی ہی وہ کچھ جذباتی اور کافی حد تک بیوقوف بھی ہے۔” سفیان نے اسے صحیح جج کیا تھا۔
” یس سر! میں اسے اپنے ساتھ رکھ لوں گی۔” ڈیزی نے کنفرم کر دیا تھا۔
اور صبح آفس جانے سے پہلے وہ ثنا کے پاس پہنچ چکی تھی۔
” تم!یہاں کیا کر رہی ہو؟” ثنا نے آنکھیں مسلتے ہوئے پوچھا تھا۔
” ناشتہ کا پوچھنے کے بجائے تم مجھ سے کیا پوچھ رہی ہو۔ چلو!جلدی سے ناشتہ کرواؤ اور پھر پیکنگ شروع کرواؤ۔ تم اب میرے ساتھ رہو گی۔” ڈیزی نے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔
” کس خوشی میں رہوں تمہارے ساتھ؟” ثنا نے اسے گھورا تھا۔
” یہاں سے جب تم آفس آتی ہو کتنا دور پڑتا ہے اور پھر میں اکیلی ہوتی ہوں چلو بس جلدی کرو۔” ڈیزی نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا تھا۔
” اور وہ جب تمہارا منگیتر آئے گا پھر میں کہاں جاؤں گی؟” ثنا نے پوچھا تھا۔
” اوہ ہو! بھئی جب تک وہ آئے گا تب تک تم ڈسکوری کی ٹاپ کلاس ایمپلائی بن جاؤگی۔تمہاری ڈاکومنٹری میں اتنا دم ہے کہ تم یہاں پکی ہوجاؤ۔ ” ڈیزی نے اسے مستقبل کا سنہرا سا عکس دکھایا تھا۔
اور!
یہ عکس کتنا دھندلہ تھا۔یہ ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
______________________________
“مام!مام ڈیڈ آگئے جلدی آئیں۔” ماہ نور آ کے ایلاف کے کان میں چیخی تھی جو جلدی جلدی کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔
” کم ان ماہ نور!تھوڑا صبر کرو آ رہی ہوں۔” ایلاف نے آخری لائن لکھ کے کاغذ ترتیب سے فائل میں لگانے شروع کئے تھے۔
” لیں! ڈیڈ خود آگئے۔” ماہ نور نے اعلان کیا تھا۔
ایلاف نے سیدھے ہوتے ہوئے سلام کیا۔اذلان شاہ نے بھی جواب میں سلامتی بھیجی تھی۔
ایلاف نے آگے بڑھ کے اذلان شاہ کا کوٹ لیا تھا۔
” ڈیڈ میں جاؤں،ڈنر پہ ملتے ہیں۔” ماہ نور نے پوچھا تھا۔
” پرنسز سمجھدار ہیں تو جائیں۔” اذلان شاہ نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا۔
“اوکے! ڈیڈ میں جارہی ہوں پڑھنے۔” ماہ نور نے یہ جملہ ایلاف کے گھورنے پہ کہا تھا۔
” مجال ہے کہ یہ اولاد مجھ پہ پڑی ہو۔” ایلاف ان سب کی باتوں پہ ناک تک بھر جاتی تھی۔
” شکر ہے کہ نہیں گئی بلکہ وہ آپ کا لاڈلا ہے نا آپ پہ گیا ہے۔اب یہ نوکری کا کونسا بھوت سوار ہوا ہے؟گدی کب سنبھالنی ہے آخر اس نے۔” اذلان شاہ کو پتہ چل چکا تھا۔
“ایک وہی تو ڈھنگ کا ہے، یہ دونوں تو باتوں کی دکان ہیں۔وہ کونسا ہمیشہ کیلئے کر رہا ہے بس تجربہ ہوجائے گا اور رہا سوال گدی کا تو خیر سے آپ ابھی گدی کی ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں۔” ایلاف نے الماری کھول کر اذلان کے کپڑے نکالتے ہوئے کہا۔
اور جو تجربہ سفیان کو حاصل ہونے والا تھا وہ ایلاف کی پوری ہستی ہلانے والا تھا۔
______________________________
” اب دیکھنا تم مسٹر سفیان شاہ۔تمہارا بھانڈا کیسے بیچ چوراہے میں پھوٹے گا۔” ثنا نے ایک نظر لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھا اور اوکے پہ کلک کردیا تھا۔
” واقعی یہاں سے لندن کا نظارا کتنا حسین ہے؟ یہ ڈیزی کے بھی مزے ہیں۔” ثنا کو ڈیزی کے گھر رہتے ہوئے مہینہ ہوچلا تھا۔
اس کی ڈاکومنٹری تقریبا مکمل ہی تھی کچھ ایڈیٹنگ باقی تھی۔ آج ثنا کو کچھ فرصت ملی تھی تو اس نے کسی کی زندگی میں زہر گھول دیا تھا۔
” مس ثنا آئی ہیں؟” سفیان نے سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے اپنی پی اے سے پوچھا۔
” نو سر!”
” اوکے!جب آئیں تو انہیں بھیج دیجئے گا۔” سفیان نے کہا تھا۔
آج ثنا کا برتھ ڈے تھا سو سفیان اسے وش کرنا چاہتا تھا سرپرائزلی۔
وہ پاگل سی لڑکی اسے اچھی لگنے لگی تھی مگر سفیان نہیں جانتا تھا کہ ثنا خود اسے بہت بڑا سرپرائز دے چکی تھی۔
“اس ویب سائٹ کو چیک کرو۔” سفیان کے دوست نے میسج کیا تھا۔
اور ویب چیک کرنے کے بعد سفیان کے زمین آسمان ہی ہل چکے تھے۔
“کیا بکواس ہے یہ؟” سن دماغ کے ساتھ سفیان نے سوچا تھا۔
______________________________
ثنا اطمینان سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھی جبکہ ڈیزی جلدی جلدی کافی کے گھونٹ بھر رہی تھی۔
” اتنی لیٹ ہوگئی ہوں سر شاہ تو جان عذاب کردیں گے ۔ہی از ویری پنکچوئل!” ڈیزی پہ خوف طاری تھا۔
” ریلیکس!کچھ نہیں ہوگا آج تو خود سر شاہ کی دھرتی ہی بین کر رہی ہوگی۔” ثنا کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔
” کیا مطلب؟ ” ڈیزی الجھی تھی۔
” تم نے مجھ سے کہا تھا نا کہ پاکستان سے کونسی بڑی خبر لائی ہو،آؤ میں تمہیں دکھاؤں۔” ثنا نے اپنا لیپ ٹاپ اس کے آگے کیا تھا۔
ڈیزی نے ایک نظر ڈالی۔
” یہ کیا بکواس ہے ثنا؟جانتی بھی ہو کس کے بارے میں ہے۔” ڈیزی پریشانی سے بولی تھی۔
” جانتی ہوں مگر یہی سچ ہے،سفیان شاہ پیروں کی اولاد نہیں ہے۔وہ ایلاف اور اذلان کی اولاد نہیں ہے۔ہوں! شرفا کے نام پہ اکڑتا ہے۔پہلے اپنی پہچان تو ڈھونڈے۔” ثنا تنفر سے بولی تھی۔
نظریں سامنے اسکرین پہ تھیں جہاں سفیان شاہ کی تصویر پہ بڑا سا who کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔
” اوہ! ثنا کیا کر رہی ہو؟ وہ جو بھی ہے تمہیں اس سے کیا فائدہ ہے۔” ڈیزی کو ثنا کی نفسیات سمجھ ہی نہیں آئی تھی۔
” کچھ نہیں!بس میرے دل میں ٹھنڈ پڑگئی ہے،کس منہ سے سامنا کرے گا اب۔” ثنا کو سوچ کے ہی مزا آرہا تھا۔
ڈیزی افسوس سے سر ہلاتے ہوئے آفس چلی گئی تھی۔آفس میں سب ایک ہی موضوع پہ ہی بات کر رہے تھے۔
اور سفیان شاہ وہ آفس سے جاچکا تھا۔
ڈیزی اس کے آفس میں گئی تھی مگر سوائے وہاں ایک آدمی کے اور کوئی بھی نہ تھا۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے سفیان شاہ کو جس میڈیا نے آسمان پہ بٹھایا تھا اب
اسی میڈیا نے سفیان شاہ کے پیروں سے زمین کھینچ لی تھی۔
” آپ کون ہیں؟” ڈیزی نے پوچھا تھا۔
” میں سفیان کا بچپن کا دوست ہوں۔”
” بچپن کا دوست!” ڈیزی نے سر جھٹکا پھر کچھ سوچ کے بولی۔
” پھر تو آپ جانتے ہوں گے کہ آج کی خبر کتنی سچ ہے؟”
اور اس آدمی نے جو انکشاف کیا تھا
ڈیزی کا دماغ ہی گھوم گیا تھا۔
” اف ثنا!خدا تمہیں سمجھے، اپنی آگ میں کسے جلا دیا۔” ڈیزی کا دماغ سن ہورہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: