Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 18

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 18

–**–**–

گو کہ رات ہوچکی تھی مگر لندن میں ابھی دن جوان تھا۔رونقیں وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھیں۔
ثنا آج آفس نہیں گئی تھی وہ ویسے بھی ریگولرلی آفس نہیں جاتی تھی سوائے کام کے دنوں میں،ثنا نے گھڑی دیکھی وقت کافی سے زیادہ ہوچلا تھا۔
” ڈیزی اب تک کیوں نہیں آئی؟ اتنی دیر تو کبھی نہیں کی اس نے۔” ثنا نے سوچا۔
آج اس نے اپنے دن بھر کے کام نپٹائے تھے گو کہ آج اس کی زندگی کا ایک اہم دن تھا۔اس کا جنم دن مگراس کیلئے یہ عام ہی دن ہوتا تھا۔
ڈیزی دیر سے سہی لوٹ چکی تھی
“ڈیزی اتنا لیٹ!خیر تو ہے۔” ثنا نے اس سے پوچھا۔
” جہاں تم ہو وہاں خیریت کیسے ہوسکتی ہے ثنا سکندر؟” ڈیزی کا لہجہ چبھتا ہوا تھا۔
“مطلب کیا ہے تمہارا؟اگر میرے سچ بولنے پہ تمہیں اتنی ہی تکلیف ہورہی ہے تو اب میں کیا کروں۔” ثنا کندھے اچکاتے ہوئے بولی تھی۔
” سارا مسئلہ یہی تو ہے مس ثنا کہ سچ ہی تو نہیں ہے یہ۔تمہاری بکواس نے کسی کی زندگی کی بنیادیں ہلادی ہیں اور تم یہاں ڈھٹائی کے ریکارڈ توڑ رہی ہو۔” ڈیزی کا لہجہ طنزیہ تھا۔
“وہ سچ ہے اور وہ سچ کسی اور سے نہیں اسکی سو کالڈ جاگیر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے بتایا ہے۔ ” ثنا بیزاری سے بولی تھی۔
“ثنا!بیوقوفی کی بھی حد ہوتی ہے کوئی بھی تمہیں آکے کہے کہ فلاں اس کی اولاد نہیں ہے تو تم یقین کرلوگی۔ارے کم عقل لڑکی! یہ تو سوچا ہوتا جس پیشے سے ہم تعلق رکھتے ہیں،وہاں ہر بات کو ہر زاویے سے پرکھا جاتا ہےاور تم نے جو حرکت کی ہے وہ یلو جرنلزم کے زمرے میں آتی ہے۔انتہائی غیر ذمہ دار اور نان پروفیشنل۔شیم آن یو!” ڈیزی غصے سے چٹخ کے بولی تھی۔
” تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ سفیان واقعی پیروں کی اولاد ہے؟” ثنا دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے طنزیہ بولی تھی۔
“دماغ خراب ہے اسکا!”
” تم نے ٹھیک کہا تھا سفیان شاہ،ایلاف شاہ کی اولاد نہیں ہے۔” ڈیزی سانس لینے کو رک۔
ثنا فورا بولی تھی۔
” تو پھر فضول بحث کیوں کر رہی ہو؟”
” پوری بات سنو،ثنا سکندر! ” ڈیزی سرد مہری سے بولی تھی۔
“وہ پیر اذلان شاہ کی اولاد ہے۔پیروں کا خون، اس کی ماں بھی شاہوں کے خاندان سے تھی۔” ڈیزی کے انکشاف پہ ثنا تھوڑا سا ہل گئی تھی۔
” تو پھر سفیان شاہ کی ماں کون ہے اور ایلاف شاہ۔اس نے بھی تو نہیں بتایا تھا مجھے،غلطی تو ان کی ہے نا۔” ثنا اب بھی اکڑی ہوئی تھی۔
“ہر کوئی تمہاری طرح کم ظرف نہیں ہوتا ثنا۔ایلاف شاہ اسے اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر چاہتی ہے اور یہ سگا سوتیلا کیا ہوتا ہے؟یہ تو بس سوچ کا فرق ہوتا ہے۔ماں تو بس ماں ہوتی ہے،ثنا وہ رشتوں سے جڑے احساس کو اہمیت دیتی ہے۔تم نے اپنی انا کی تسکین کیلئے اپنے حسد میں راکھ ہو کر کسی اور کو بھی راکھ کر دیا احسان فراموش لڑکی۔” ڈیزی کا ایک ایک لفظ ثنا کو کوڑے کی مانند لگ رہا تھا۔
” احسان فراموش!کونسا احسان کر ڈالا سفیان شاہ نے مجھ پہ؟” ثنا نے پوچھا تھا۔
“اس ہاتھ سے ہی تم نے سفیان شاہ کی بربادی کی داستان لکھی تھی نا۔” ڈیزی نے ثنا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا تھا۔
” کاش اس دن یہ ہاتھ کٹ ہی جاتا۔کاش اس دن سفیان شاہ تمہاری مدد کو نہ آتا تو آج کم ازکم اس کی زندگی میں یوں آگ تو نہ لگتی نا۔اس منحوس واقعے کے بعد وہ میرے پاس آیا تھا۔اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی ہم وطن کو یوں مصیبت میں تنہا چھوڑے۔سفیان شاہ کے کہنے پہ ہی میں تمہیں اس جگہ سے یہاں لائی تھی باوجود اس کے کہ تم اس آدمی کو اتنا کچھ کہہ چکی تھیں۔اس نے ہر موڑ پہ تمہارے ساتھ بھلائی کی مگر تم ثنا تم نے کیا کیا؟بولو! اگر ہم کسی کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کرسکتے تو برا بھی تو نہ کریں۔اچھائی ہمارے ہاتھ میں نہیں تو برائی نہ کرنا بھی تو ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔” ڈیزی کے الفاظ نہیں آئینہ تھا حقیقت کا جس میں ثنا کی شکل بہت کریہہ تھی۔
“ثنا!وہ تو تمہیں پسند کرتا تھا۔یہاں تک کہ آج اس نے تمہارے لئے سرپرائز بھی پلان کیا تھا مگر تم نے تو خود اس بے چارے کو سرپرائز کر ڈالا۔ثنا تم تو مسلمان ہو نا،کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی پہ تہمت لگانا کی کتنی بڑی سزا ہے؟کتنا بڑا جرم ہے۔افسوس تم نے سب تباہ کر ڈالا اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی جنت کو انگارہ کر ڈالا۔سفیان شاہ کی محبت کو نفرت میں بدل ڈالا۔” ڈیزی کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
اور ثنا دنگ ہی رہ گئی تھی۔
پہلی بار کسی نے اسے آئینہ دکھایا تھا وہ بھی اتنی کریہہ صورت والا،اسے چاہا گیا تھا۔اتنی عزت دی گئی تھی۔
مگر ثنا تم نے یہ کیاکیا؟
” اور اگر مزید ثبوت چاہئے تو یہ سب دیکھ لینا۔سفیان شاہ مزید تمہاری کسی بکواس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔” ڈیزی نے ثنا کے منہ پہ کچھ کاغذ مارے تھے
اور دھپ دھپ کر کے چلی گئی تھی۔
ثنا نے کاغذ ہاتھ میں لئے تھے بے جان ڈھیلے ہاتھوں سے،سچائی کتنی تلخ ہوتی ہے۔
اپنی کریہہ صورت کا عکس خود ہی دیکھنا کتنا کٹھن ہوتا ہے۔ثنا کو واقعی بہت مشکل پیش آرہی تھی۔ کاغذات دیکھتے ہوئے ثنا کے قدموں سے مزید جان نکل گئی تھی۔
” سیف شاہ!تم اس موڑ پہ،یہ تم ہو یا خدایا میرے حسد نے مجھے واقعی کہیں کا نہیں رکھا۔” ثنا دونوں ہاتھوں سے سر تھام کے بیٹھ گئی تھی۔
______________________________
ماہ نور جلے پیر کی بلی کی مانند چکر لگا رہی تھی جبکہ عساف ایک کونے پہ بیٹھا سکون سے کتاب پڑھ رہا تھا۔
” کیا بات ہے پرنسز؟یوں اس چہل قدمی کا مقصد۔” اذلان شاہ اسٹڈی روم کی طرف جا رہے تھے اور ماہ نور لاؤنج میں تھی۔
” ڈیڈ میری فرینڈ نے مجھے کچھ نوٹس سینٹ کئے ہیں ای میل۔” ماہ نور نے بتایا تھا۔
” تو کیا مسئلہ ہے؟نیٹ کام نہیں کر رہا۔” اذلان کو یہی لگا تھا۔
“نہیں وہ بات نہیں ہے اصل میں۔۔۔۔” ماہ نور نے بات ادھوری چھوڑی تھی۔
“ڈیڈ!مام نے نیٹ یوز کروانا بند کروا دیا ہے۔” ماہ نور نے کہا تھا
” کیوں؟جب کہ پیپرز میں تو ضرورت پڑہی جاتی ہے،انفارمیشن کیلئے۔” اذلان شاہ کو ایلاف کی یہ پابندی کچھ عجیب لگی تھی۔
“ڈیڈ یہ انفارمیشن سے زیادہ سوشل میڈیا میں گھسی رہتی ہے۔ہر وقت چیٹینگ،فیس بک اسلئے مام نے اسے روکا ہے پھر یہ پیپرز پہ دھیان نہیں دیتی۔” عساف نے اسکا بھونڈا پھوڑا تھا۔
” ماہ نور!” اذلان نے تنبیہہ کی تھی۔
“ڈیڈ!وہ نوٹس مجھ سے مس ہوگئے ہیں،آئی نیڈ اٹ!” ماہ نور نے معصوم بلی بن کے اذلان سے کہا تھا۔
” اوکے!کرلو بٹ صرف کام کیلئے۔” اذلان نے اسے اجازت دی تھی۔
” تھینکس ڈیڈ!بٹ تھوڑا سا ریلکس کرنے کیلئے نا مجھے بونس تو ملنا چاہئیے۔” ماہ نور نے مکھن لگایا تھا۔
” اوکے صرف پندرہ منٹ،ورنہ پھر اپنی مام سے خود ہی بچنا تم۔” اذلان نے وارننگ دی تھی۔
“تھینکس ڈیڈ!یو آر دا ورلڈ بیسٹ ڈیڈ۔” ماہ نور نے اچک کے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا تھا۔
” اچھا! جاؤ بھی اس سے پہلے مام آجائیں۔” عساف نے اسے ڈرایا تھا۔
” ڈرامہ کوئین!” سفیان اور عساف نے مل کے ماہ نور کا یہ نام رکھا تھا۔
ماہ نور اسے گھورتی ہوئی چلی گئی تھی۔
” اور ینگ بوائے واٹس اپ؟” اذلان شاہ عساف کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولے تھے۔
انکی ساری اولادوں میں سنجیدہ اور بردبار سا تھا عساف مگر سفیان کے ساتھ مل کے وہ دونوں اتنا ادھم مچاتے تھے کہ ایلاف ناک تک عاجز آجاتی تھی۔
“کیا کر رہی ہو تم؟منع کیا تھا نا کہ پھٹکنا بھی نہیں پی سی کے پاس پھر کس سے پوچھ کے یہاں آئی ہو؟” ایلاف کو بہت غصہ آیا تھا۔
“ڈیڈ سے پوچھا تھا۔” ماہ نور منمنائی تھی۔
“ایک تو یہ ان کے ڈیڈ۔” ایلاف کو تپ چڑھ گئی تھی۔
اب وہ ماہ نور کے سامنے کیا کہتی۔اس نے ہمیشہ یہ اصول رکھا تھاکہ ماں باپ کی برائی نہیں کرنی۔
” مام صرف پندرہ منٹ کیلئے! ” ماہ نور چوری چوری اس کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔
“اوکے! پانچ منٹ ہیں جلدی سے وائنڈپ کرو۔” ایلاف مڑ گئی تھی۔
ماہ نور شکر ادا کرتے ہوئے دوبارہ پی سی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
” بھائی کہاں ہیں؟ دو دن سے آن لائن نہیں ہوئے۔” ماہ نور اس کی آئی ڈی پہ ایکٹیویشن ٹائم دیکھتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔
” مام!کم ہئیر،جلدی آئیں۔” ماہ نور اتنی زور سے چیخی تھی کہ ایلاف الٹے قدموں مڑی تھی۔
ماہ نور نے منہ پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا۔آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے تھے۔
ماہ نور کے چیخنے پہ عساف اور اذلان بھی آگئے تھے۔
” کیا بات ہے ماہ نور کیوں چلا رہی ہو .اور یہ رو کیوں رہی ہو میری چندا کیا بات ہے؟” ایلاف بے چین سی ہو کے بولی تھی۔
ماں جو تھی!
” مام یہ دیکھیں!بھائی کے ساتھ یہ کیا ہوا ہے۔” ماہ نور کی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئے محسوس ہوئی تھی۔
اس کا پیارا بھائی ،اس پہ جان چھڑکنے والا بھائی۔کس نے اس کے ساتھ یہ کیا تھا اور ایلاف کی سبز آنکھیں آج کتنے عرصے بعد سرخ ہوئی تھیں۔
اذلان شاہ کی شہد رنگ آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا۔
ان کے خاندان کو گالی بنا ڈالا تھا۔
______________________________
ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ وہی بنتا ہے جو اسے بنایا جاتا ہے،جو اسے سکھایا جاتا ہے۔
ماحول کا بہت اثر ہوتا ہے۔اسی لئے سیانے کہہ گئے ہیں کہ بچے کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کرو کہ کل کو وہ تمہارے ہی منہ میں ہاتھ دے۔
بچے پھول ہوتے ہیں اور پھولوں کو نرمی سے سینچا جاتا ہے۔ان کی بنیاد میں نرمی اور توجہ کی کھاد ڈالی جاتی ہے مگر ہر جگہ یہ اصول لاگو نہیں کیا جاتا۔
بچہ کچھ بھی اوپر سے سیکھ کے نہیں آتا۔وہ وہی کرتا ہے اور سیکھتا ہے جو اسے سکھایا جائے۔
ثنا سکندر اگر حاسدی تھی،منتفر مزاج تھی تو اس میں قصور اسکے علاوہ اسکے ماحول اور بڑوں کا بھی تھا۔
ثنا سکندر کا بچپن ماں باپ کی شفقت سے محروم ہی گزرا تھا۔اس کے والد سفارت خانے کے ایک مصروف ملازم اور ماں دیہاتی پس منظر رکھنے والی عورت۔
حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو یہ ایک قطعی بے جوڑ رشتہ تھا مگر ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اولاد پیدا ہونے کے بعد انہیں یاد آتا ہے کہ ہمارا رشتہ بے جوڑ ہے۔
ثنا کے پیدا ہونے کے بعد ثنا کے باپ نے اپنے ساتھ کام کرنے والی سے ہی شادی کرلی تھی۔ ثنا کی ماں نے صرف ایک شرط رکھی تھی اس پرائی عورت کو قبول کرنے کی وہ ثنا کو اس ماحول میں بڑا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اسلئے اس نے سکندر سے ڈیمانڈ کی تھی کہ وہ ثنا کو یہاں سے دور پڑھنے بھیج دے۔سکندر نے اس کی بات مان لی تھی،
اسے شہر تو کیا ملک سے ہی باہر بھیج دیا تھا۔
“واہ!تو صحیح جا رہی ہے اس ناگن کو گھر میں گھسانے کیلئے اپنی ہی بیٹی کو خود سے دور کر رہی ہے نکال رہی ہے اسے۔” یہ الفاظ ثنا کی نانی کے تھے۔
“مجھے گھر میں کوئی نہیں رکھنا چاہتا۔ ” یہ وہ پہلی منفی سوچ تھی جو ثنا کے اندر پروان چڑھی تھی۔
ثنا بورڈنگ اسکول شفٹ ہوچکی تھی۔
آج اس کا اسکول میں پہلا دن تھا،رات بھی اس نے آنسو بہاتے ہوئے گزاری تھی۔ اس وقت بھی وہ جھولے پہ بیٹھی سر جھکائے آنسو بہارہی تھی۔
” ہےلٹل گرل!تم کیوں رو رہی ہو؟کیا سنڈریلا کی طرح تمہارا جوتا کھو گیا ہے۔” وہ اس سے سینئر اسٹوڈنٹ تھا۔
سرخ گالوں اور بھوری آنکھوں والا!
“یو مس ہوم۔” اس نے پوچھا تھا۔
” ہوں!” ثنا نے ایک ہاتھ سے آنسو صاف کئے۔
“یہ بھی تو ہمارا گھر ہے۔ہمارا سیکنڈ ہوم اگر ہمارا یہاں بی ہیویر اچھا نہیح ہوگی تو ہمارے ٹیچرز جو ہمارے پیرنٹس کی طرح ہیں،انہیں بھی اچھا نہیں لگے گا۔” وہ بچہ چھوٹا تھا مگر باتیں بڑی بڑی کر رہا تھا۔
“میں بہت چھوٹی ہوں۔” ثنا نے جیسے اسے ایٹم بم کا فارمولہ بتایا تھا۔
” یہاں سب چھوٹے چھوٹے ہیں پر کوئی رو نہیں رہا۔یو نو ہم یہاں اپنے کنٹری کو پریزنٹ کر رہے ہیں تو کیا تم رو کے یہ بتانا چاہتی ہو کہ پاکستانی گرلز سلی ہوتی ہیں روتی’ دھوتی۔”
ثنا نے اسکی بات پہ فورا آنسو صاف کئے تھے اور مسکرا کے بولی تھی۔
“نو وے!تمہارا نام کیا ہے؟” ساتھ ہی پوچھا تھا۔
“تم مجھے سیف کہہ سکتی ہو کیونکہ میرے دوست مجھے یہی کہتے ہیں۔” اس کے چہرے پہ دوستانہ مسکان تھی۔
” یہ لو!” سیف نے اسکی طرف چاکلیٹ بڑھائی تھی۔
ثنا کی نظر اسکے ہاتھ پہ موجود تل پہ پڑی تھی۔
” تم ایک دن بہت بڑے آدمی بنوگے۔” ثنا نے بے ساختہ کہا تھا۔
” واٹ!غریب تو میں اب بھی نہیں ہوں۔” سیف ہنسا تھا۔
” ایسا میری نانو کہتی ہیں،جس کے ہاتھ پہ تل ہوں ان کیلئے۔” ثنا چڑ گئی تھی۔
” اچھا! چلو لڑتے نہیں ہیں۔آؤ میں تمہیں جھولا دوں۔” سیف کھڑا ہوتے ہوئے بولا تھا۔
” ٹھیک ہے!” ثنا نے خوشی خوشی کہا تھا۔
سیف،ثنا کا دوست بن گیا تھا۔ثنا کا واحد دوست ثنا اس سے ساری باتیں کرتی تھی مزے سے۔
” تمہیں گھر یاد نہیں آتا،اپنے پیرنٹس؟” ایک دن ثنا نے اس سے پوچھا تھا۔
” میری مدر نہیں ہیں ثنا اور گھر کے بجائے میں شروع سے ہی ہاسٹل رہا ہوں یہی میرا گھر ہے۔” سیف نے اسے اداسی سے بتایا تھا۔
” تم سیڈ نہ ہو ،میں ہوں نا تمہاری فیملی چلو جلدی کرو جھولا دو۔” ثنا نے اسے اداس ہوتے دیکھا کہ کہا تھا۔
” سیف آرام سے پلیز۔سیف!سیف کے بچے۔” ثنا کی چیخیں نہیں رک رہی تھیں۔
سیف بہت زور سے اونچا اونچا جھولا دے رہا تھا۔
” میں اب تم سے نہیں بولوں گی۔” ثنا ناراض ہوگئی تھی مگر اگلے دن وہ سیف کو ڈھونڈ رہی تھی پر وہ اسے کہیں نہیں ملا تھا۔
سیف شاہ جا چکا ہے۔ثنا جھولے پہ سن ہی بیٹھی رہ گئی تھی۔
اس کا اکلوتا دوست،واحد غمگسار جا چکا تھا۔ثنا اس دن پھر روئی تھی جھولے پہ بیٹھ کے اور کچھ عرصے بعد اسے بھی بلا لیا تھا اس کی سوتیلی ماں نے ثنا کے پیرنٹس کی ایک کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوچکی تھی۔
ثنا کی سوتیلی ماں نے کہا تھا۔
” میں تمہاری اتنی مہنگی پڑھائی افورڈ نہیں کرسکتی۔”
اس کی سوتیلی ماں نے اسکا ایڈمیشن یہیں لاہور میں کرا دیا تھا۔غنیمت تھا کہ اس نے گھرپہ بٹھایا نہیں تھا نہ اسے نانی کے حوالے کیا تھا۔
” اری! یہ گھر ہتھیانے کے ناٹک ہیں اس کلموہی کے۔ثنا! وہ تیرا گھر ہے ڈٹ کے رہ جو تجھے نہ ملے وہ کسی اور کو بھی نہ ملنے دے۔” حسد کا پہلا سبق ثنا کی نانی نے اس کے کچے ذہن میں اتار دیا تھا اور کچے ذہن پہ یہ رنگ بہت پکا چڑھا تھا۔
ثنا کے سوتیلے بہن بھائی کی بہترین چیزیں یا تو غائب ہوجاتیں یا اتنی خراب حالت میں ہوتیں کہ کسی کام کی نہ ہوتی تھیں۔
ثنا کی سوتیلی ماں جاب سے لوٹتی تو اس کے بنا کے رکھے گئے کھانے میں یہ تو نمک زیادہ ہوتا یا مرچیں۔اس نے ثنا کو گھر میں تو رکھ لیا تھا مگر وہ اسے ماؤں والا پیار نہ دے سکی۔
وہ جاب کی وجہ سے بہت مصروف رہتی پھر اسکے اپنے دو بچے تھے۔نتیجا! ثنا کے اندر منفی شخصیت مکمل طرح سے پروان چڑھ چکی تھی۔
سیف شاہ اسے آج بھی نہ بھولا تھا،کسی نے آج تک اس کے ساتھ اس جیسا رویہ رکھا ہی نہ تھا۔
ثنا نے میٹرک کے بعد جاب شروع کردی تھی مگر سوتیلی ماں سے وہ برابر کے پیسے لیتی تھی۔
” یہ سب میرے باپ کا ہے۔” ثنا کا اشارہ کرایے پہ دئیے ہوئے پورشن پہ ہوتا تھا۔
اپنی ساری خامیوں کے باوجود اگر اس میں کوئی خوبی تھی تو وہ اس کی ذہانت تھی۔
کالج میں آنے کے بعد اس نے اسکالرشپ لیا تھا ہمیشہ، جرنلزم میں ماسٹرز کے ساتھ ساتھ اس نے فلم میکنگ اور فوٹوگرافی سے ریلیٹیڈ کورس بھی کئے تھے۔
یہ فوٹوگرافی کا شوق بھی اسے سیف شاہ کو دیکھ دیکھ کے لگا تھا۔وہ بہت اچھی تصویریں اتارتا تھا۔
ثنا کو جھولے پہ بٹھا کے اس نے ثنا کی نہ جانے کتنی تصویریں لیں تھیں۔
ماسٹرز کمپلیٹ ہونے کے بعد وہ لندن چلی آئی تھی ڈسکوری سے وابستہ ہونے اور یہاں اسکے حسد نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔
آنسو اس کے گالوں پہ بہہ بہہ کر گردن تک پہنچ چکے تھے۔
” سفیان!سیف میں نے یہ کیا کردیا۔اس غلطی کا مداوا کیسے ہوگا؟” ثنا کو نئے سرے سے رونا آرہا تھا۔
______________________________
” سفی فون نہیں اٹھا رہا ہے۔اذلان کچھ کریں اس کا کوئی نمبر نہیں مل رہا۔” ایلاف پریشانی سے بولی تھی۔
” ریلیکس!ہم کوشش کر رہے ہیں ایلا۔ہم کسی سے کہتے ہیں وہ گھر جا کے پتہ کرے۔” اذلان شاہ اسے ریلیکس کرتے ہوئے بول رہے تھے۔
“آپ میری فلائٹ بک کرائیں۔مجھے جانا ہے سفی کے پاس۔” کوئی ایلاف کے دل کو چیر کے دیکھتا جہاں اس وقت برچھیاں سی چل گئی تھیں وہ آرٹیکل پڑھ کے اور کمنٹس پڑھ کے اس کے،سفی کا وجود سوالیہ نشان بن گیا تھا۔
“ایلا ریلیکس!ہم پتہ کروا رہے ہیں کس کی حرکت ہے یہ؟چھوڑیں گے نہیں اسے۔پیروں کا نام اچھالنا اتنا بھی آسان نہیں ہے۔” اذلان کے لہجے میں تپش تھی۔
” فار گاڈ سیک!اذلان مجھے سفی کے پاس جانا ہے۔ اسکی کیا حالت ہوگی؟ اگر ہم سب کی یہ حالت ہوئی ہے۔” ایلاف کی آنکھ سے آنسو نکل پڑے تھے۔
یہ اذیت تو وہ جانتی تھی۔ ان زخموں کا ذائقہ تو وہ پہچانتی تھی۔
ماہ نور تو رونے ہی لگی تھی۔سگے اور سوتیلے والی کہانی تو تھی ہی نہیں اسے عساف لے گیا تھا۔
” مجھے نہیں پتہ اذلان میں جارہی ہوں۔اس وقت سفی کو ہماری ضرورت ہے۔” ایلاف جانتی تھی کہ سفی کی حالت کیا ہوگی۔
ایک وقت وہ تھا جب ذلت کی بلندی پہ آکے وہ جان دینے چلی تھی اور سفیان نے اسے بچایا تھا اب کہانی وہی تھی
بس کردار بدل چکے تھے۔
اذلان شاہ جانتے تھے ایلاف جو ٹھان چکی ہے وہ کر کے رہے گی سوانہوں نے ایلاف کو بھجوا دیا تھا۔
_____________________________
” سفی میرے بچے!ہم سے بھی ناراض ہو کیا؟” ایلاف اس کی حالت دیکھ کے ہی کٹ کے رہ گئی تھی۔
یہ اس کا سپر مین تو نہ تھا۔یہ تو کوئی اور ہی سفیان تھا،ٹوٹا بکھرا!
” کیوں سفی؟کیوں مجھے بھی خبر نہیں کی۔ خود ہی اتنا سب سہتے رہے اکیلے۔کیا تم بھی مجھے سوتیلا سمجھتے ہو۔” ایلاف نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتےہوئے پوچھا تھا۔
” کیا سگا’کیا سوتیلا؟مام!مجھے تو ایک سوالیہ نشان بنا دیا گیاہے۔میری شناخت ذلت کی سیاہی میں چھپ چکی ہے۔” سفیان ٹوٹ رہا تھا۔
” سفی تم جانتے ہو یہ جھوٹ ہے،بکواس ہے۔کون ہے جس نے یہ بکواس لکھی ہے؟تم جب حق پہ ہو تو منہ چھپائے کیوں بیٹھے ہو بولو۔” ایلاف کووہ اس طرح بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
” پتہ نہیں!مام جس نے بھی یہ کیا ہے میرا اندر ہلا دیا ہے۔جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے،ہو از سفیان شاہ تو میں کیا کہوں؟” سفیان نے اذیت سے آنکھیں میچ لی تھیں۔
“اگر جیسا میں سوچ رہی ہوں۔ویسا ہے تم یہ کام اس لڑکی کا ہے جس نے میرا انٹرویو کیا ہے۔” ایلاف کا دماغ بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔
“آپ نے اسے بتایا کہ میں آپکا بیٹا نہیں؟”صدمے سے سفیان کی آواز پھٹ گئی تھی
” سفی!اتنا کم ظرف سمجھتے ہو مجھے،وہ جاگیر بھی گئی تھی مجھے لگتا ہے۔ وہیں سے اسے نے کوئی کچی پکی کہانی سنائی ہے۔” ایلاف کو جیسے صدمہ ہوا تھا۔
یہ دن بھی آنا تھا۔
” اب کیا فائدہ مام رہنے دیں جو ہوناتھا وہ ہو چکا۔ ” سفیان ہمت ہار چکا تھا۔
” سفی!تم یہ کہہ رہے ہو،یاد رکھو تمہاری گواہی میں کوئی آسمانی صحیفہ نازل نہیں ہوگا۔تم ہی تو کہتے تھے ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔یہ تمہاری آزمائش ہے سفی۔یاد رکھو اپنے مسیحا ہم خود ہوتے ہیں۔اپنے درد گر خود بنو سفی۔تم میں اتنا دم ہے کہ اپنی طرف اٹھی ہوئی انگلیوں کو نیچے کرسکو۔تم میرے سپر مین ہو،تم ہمت نہیں ہار سکتے۔” وہ ایلاف تھی،باہمت تھی اور اس نے اپنی اولاد کو بھی ہمت کے،شجاعت کے سبق پڑھائے تھے۔
” مام یہ آسان نہیں۔ ” سفیان بے بسی سے بولا تھا۔
“تو تن آساں تم بھی نہیں ہیں۔مشکل پسند ہین اور مسلمان مشکل میں گھبرایا نہیں کرتے۔” ایلاف کی باتیں اس میں پرانے سفی کو جگا رہی تھیں جو دو دنوں سے کہیں روٹھ گیا تھا،چھپ گیا تھا۔
اور چھپ تو ثنا بھی گئی تھی ڈیزی سے صبح وہ اس کے جانے کے بعد کمرے سے نکلتی تھی۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ڈیزی کا سامنا کرے دو دن میں اس نے اپنا محاسبہ کیا تھا۔قصور سارے اسکے ہی نکلے تھے۔
آج بھی وہ شام کو کچھ سامان لینے نکلی تھی۔واپسی میں اس نے گھر کا لاک کھلا ہوا پایا تھا۔
” شاید ڈیزی آگئی ہے۔” ثنا سوچتے ہوئے اندر آئی تھی۔
اور سامنے موجود شخص کو دیکھ کے اس کی روح کانپ اٹھی تھی۔
” تو کیا یوم حساب آچکا ہے؟ابھی تو مجھے مداوا کرنا تھا۔” ثنا سن سی سوچ رہی تھی۔
” بہت انتظار کروایا،ثنا سکندر آپ نے۔خیر!ہمارے پاس بہت وقت ہے مگر آپ کا وقت گنا جا چکا ہے۔” مقابل کی آواز نہیں شیر کی دھاڑ تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: