Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 20

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 20

–**–**–

لوگ پوچھتے ہیں سفیان شاہ کون ہے؟
کیا پہچان ہے اس کی؟
وہ جنہیں کھوج ہے سفیان شاہ کی بشمول میرے جو حقیقت سے ناواقف ہیں۔
آئیں ہم جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ
آخر پیر سفیان شاہ ہے کون؟
*****
دنیا میں رشتوں کو دو طریقوں سے categorized کیا جاتا ہے۔
سگا اور سوتیلا!
انہی پیمانوں پہ رشتوں کو پرکھا جاتا ہے۔ہم بہت سی کہانیاں سنتے ہیں اور بہت سے حقائق بتاتے ہیں سوتیلے رشتوں کے حوالے سے جو بہت تلخ ہوتے ہیں مگر ہم صرف تصویر کا ایک رخ کیوں دیکھیں؟
دھندلا اور تلخ!
آئیں ہم آپ کو آج تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہیں۔رشتوں کا معیار اور ان کی پرکھ صرف سگے اور سوتیلے کے اصول پہ نہیں بلکہ عزت اور اعتبار کے پیمانوں پہ ہوتی ہے۔تبھی سفیان شاہ جیسے لوگ پروان چڑھتے ہیں۔
پیر سفیان شاہ!ایک متمول گھرانے کا چشم و چراغ، پیر اذلان شاہ کی پہلی اولاد اور گدی کا وارث۔
اس کی پیدائش پہ اس کی ماں کا انتقال ہوجاتا ہے مگر سفیان اسے اپنی زندگی کا روگ نہیں بناتا پھر اس کی زندگی میں آتی ہے ایلاف شاہ۔
اس کے والد کی نئی ہم سفر کہنےکو پیر سفیان کی سوتیلی ماں مگر یہ تو ہمارے پیمانے ہیں،سفیان شاہ کا تو نہیں۔
باپ کے حوالے سے وہ ایلاف کی عزت کرتا ہے اور اپنے باپ کے کومے میں جانے کے بعد خاندانی سازشوں کی سرکوبی کرنے کیلئے وہ اپنی سوتیلی ماں کی آواز پہ لبیک کہتا ہے۔
وہ اپنی ماں کا مکمل مان رکھتا ہے اس کے ہر فیصلے پہ مہر لگاتا ہے۔اسے یہ پرواہ نہیں کہ گیارہ سال کی عمر میں وہ اپنے اسکول اور دوستوں کو چھوڑ آیا ہے۔وہ اسکول میں بھی ہر کسی کا ہر دلعزیز ہے۔
وہ رحمدل ہے
وہ مہربان ہے
اور
ایلاف شاہ!
بھلے سے اس نے سفیان کو جنم نہیں دیا مگر پروان تو اسی نے چڑھایا ہے نا اور ماں کون ہوتی ہے بھلا؟
ماں تو وہ ہوتی ہے جب پریشانی ہو
تو اولاد کو ہمت دے،حوصلہ دے،مشکل آن پڑے تو اسے اس سے لڑنا سکھائے۔
اولاد عزت دے تو بدلے میں وہ عزت کے ساتھ محبت بھی دیتی ہے اس کی ہر خوشی میں خوش ہوتی ہے۔
ماں تو بہت اعلی ظرف ہوتی ہے تو
ایلاف شاہ بھی تو ایسی ہے پھر کونسی طاقت روک سکتی ہے کہ وہ سفیان شاہ کی ماں نہیںجو بیٹے کی خواہش پہ اس کے ساتھ اپنی ڈگری مکمل کرتی ہے۔
اپنی سگی اولاد کو چھوڑ کر اور سفیان شاہ جو اپنے بہن بھائیوں پہ جان چھڑکتا ہے پھر کیوں ہم ایک ایسے شخص پہ بات کریں۔
میری اور آپ کی دنیا میں کتنے لوگ ہیں سفیان شاہ اور ایلاف شاہ جیسے،سننے میں یہ تو جیسے پریوں کے دیس کی کہانی ہے مگر یہ حقیقت اسی دنیا کی ہے۔
حقیقت کو کھوجا جاتا ہے۔
سچائی کا نور مل جائے تو اسے پھیلایا جاتا ہے۔یہ باتیں کسی پرانے زمانے کی نہیں،اسی دور کی ہیں۔
ہماری مشرقی سنہری روایات کا بانکپن ہیں یہ جو رشتوں کو اتنا خالص اور پاکیزہ رکھتی ہےبغیر کسی فائدے اور نقصان کے سو جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ سفیان شاہ کون ہے؟
تو اب انہیں معلوم ہوچلا ہے اور آخر میں بس اتنی کہوں گی۔رشتہ چاہے کوئی بھی ہو اس پہ اثر آپکی سوچ اور تربیت کا ہوتا ہے۔ہم انسان ہیں سب سے اعلی مخلوق تو اس لئے کہ ہمیں اپنے ظرف کو وسیع رکھنا چاہئے۔ اسی سے رشتوں میں گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
یہی ہمارا اصل ہے اور ہماری بنیاد
اور نسل انسانی کی بقا۔اپنی اولاد کو آپ نے پالنا تو ہے ہی تو کیوں نا تھوڑے ظرف کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔
ہاں ٹھیک ہے یہ آسان نہیں دل کو مارنا پڑتا ہے کیوں کہ دل مارے بغیر کچھ نہیں ملتا نہ نور اور نہ سکون۔
اس نوٹ کے ساتھ ہی وہ ویڈیو ختم ہوچکی تھی۔
ڈیزی گہری سانس لیتے ہوئے پیچھے ہوئی۔
” کیا کروگی اسکا اب؟”
” مائیک سے بات ہوئی ہے آج رات یہ آن ائیر ہوجائیگی،موٹیویشنل اسٹوری کے پروگرام میں۔” ثنا نے جواب دیا تھا۔
قصہ جہاں سے شروع کیا تھا ختم بھی وہاں سے کرنا تھا۔زخم جہاں سے لگایا تھا مرہم بھی وہاں سے لگانا تھا۔
ثنا کو اس کا حل یہی لگا تھا جو سچ تھا اس نے بتانا تھا۔
ایلاف سفیان کی جتنی بھی سگی ہوتی مگر حقیقت یہی تھی کہ سفیان کی شناخت کے خانے میں عالیہ شاہ کا نام تھا اور روز محشر وہ اسی نام سے پکارا جانے والا تھا۔
یہی سچ ہے
______________________________
” ایک بات پوچھوں آپ سے؟ ” سفیان نے جھجکتے ہوئے پوچھا تھا۔
“کیا بات ہے سفی؟” ایلاف نے پیار سے پوچھا تھا۔
“اس رات آپ کو کیسا لگا تھا؟کیا آپ نے بھی ویسا ہی محسوس کیا تھا جیسے میں نے کیا ان دو دنوں میں۔” سفیان نے ایلاف کے چہرے کو تکتے ہوئے پوچھا تھا۔
اس رات کا گواہ وہ بھی تھا مگر دلوں کے بھید تو خدا جانتا ہے نا۔
” وہ رات سفیان۔۔۔بہت سیاہ تھی۔بدنامی کی چادر میں لپٹی ہوئی اور ذلت کے ٹوکروں سے سجی ہوئی۔ وہ میری زندگی میں ایک اور کالی رات تھی مگر آخری رات تھی۔پتہ ہے سفیان رات جتنی بھی سیاہ اور چھپی ہوئی ہوتی ہے اس سے پھوٹنے والا سویرا اتنا ہی اجلا روشن اور چمکیلا ہوتا ہے۔بالکل واضح! کھلا، نور کی طرح پتہ ہے کیسے؟میں بتاؤںیہ جو رات ہوتی ہے نا اگر اس میں بدکاری کا سیاہ رنگ ہوتا ہے تو دل کو جھکانے والی اور سجدے میں جا کے بلک بلک رب کو پکارنے والی سنہری عبادتیں بھی اسی رات میں کی جاتی ہیں۔مسافر ہم ہی ہوتے ہیں اس رات کے بس راستہ چننا ہوتا ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اس رات میں بہت مایوس تھی سب نے مجھے چھوڑ دیا تھا مگر اللہ ہے نا جو ایک بار کسی کا ذمہ لے لے تو مکمل لیتا ہے اس نے میرا وسیلہ پیر اذلان شاہ کو بنایا تھا ہر جگہ اس رات بھی اللہ نے مجھے بھٹکنے نہیں دیا کیونکہ میں بہت پہلے ہی اللہ سے اقرار کر چکی تھی۔ عہد کیا تھا کہ مالک ہر حال میں مجھے سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق دینا،سو اللہ میری کیوں نا سنتا؟ اس برستی بارش میں تمہارے باپ نے مجھ سے کہا تھا ایلا ایک بار میرے ساتھ چلو میرا یقین کرواور میں نے کرلیا تھا۔اس رات اگر میں یقین نہ کرتی تو یقین کرو سفیان وہ کالی رات اپنی پوری تاریکی کے ساتھ مجھے کھا جاتی اور اس رات سے جڑا نور مجھے کبھی نہ ملتا۔تمہارے باپ نے اس برستی بارش میں مجھ سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج تک نبھا رہا ہے۔سفیان جو موقع مانگے اسے موقع دے دینا چاہئے۔ہم انسان ہیں خدا نہیں،اگر کوئی غلطی پہ شرمندہ ہے تو اسے معاف کردو ،گلے لگا لو۔یہ نہ ہو تمہاری بے رخی اسے تاریک راستوں کا مسافر کردے۔” ایلاف نے اسے اپنی زندگی کا نچوڑ بتا دیا تھا۔
اس رات کسی نے اس کی گواہی نہیں دی تھی،پیر اذلان شاہ نے دی تھی۔
اس کے باپ کی دستار اور خاندانی لوح دکھا کے ثابت کیا تھا کہ ایلاف محبوب ہر لحاظ سے ان کے ہم پلہ ہے۔
” آپ کو یہ کہاں سے ملیں؟ ” ایلاف کو حیرت ہوئی تھی۔
” یہ مجھے آپ کے ماموں نے دی ہیں۔ ” اذلان نے کہا تھا اور ایلاف حیرت سے اس کی شکل دیکھنےلگی تھی۔
طفیل ماموں! یہ کب ملے ان سے اور
وہ بھی تو مجھے مجرم سمجھتے تھے۔
” آپ ان سے کہاں ملے؟ ” ایلاف نے حیرت سے پوچھا۔
” آپ کو کیا لگتا ہے؟ اگر ایک اتفاق آپ کو ہماری زندگی میں لے ہی آیا تھا تو ہم چپ کر کے رہ جاتے۔نہیں! ایلا آپ کے بارے میں جاننا ہمارا حق تھا۔اس رات آپ کے ماموں نے جو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں آپ کی مامی کی باتوں پہ یقین آگیا تھا بلکہ اس لئے کہ وہ آپ کو اس گدھ سے بچانا چاہتے تھے اور یہ آپ کیلئے آپ کے ماموں نے دیا تھذ۔” اذلان نے ایک خط اس کی جانب بڑھایا تھا۔
” تھا!اس کا مطلب؟” ایلاف چونکی۔
” وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں ایلا ہوسکے تو ان کا جرم معاف کردینا۔” اذلان شاہ نے کہا تھا۔
ایلاف کی آنکھ سے دو آنسو ٹوٹ کے چپکے سے گالوں پہ بہہ گئے تھے۔
سو اس کا آخری رشتہ بھی اس دنیا سے منہ موڑ گیا تھا اسے ایک مضبوط پناہ میں دے کر۔
“جان سے پیاری بچی،ایلاف! میں جانتا ہوں تم مجھ سے بہت خفا ہو۔ہونا بھی چاہئے مگر میری بچی زندگی میں کبھی وہ فیصلے لینے پڑتے ہیں جو اندھیرے میں چھوڑے گئے تیر کی مانند ہوتے ہیں۔اس رات میں تمہیں کیسے اس بھٹے والے کے چنگل میں جانے دیتا، وہاں جاتیں تو اپنی مرضی سے سانس بھی نہ لے پاتیں۔پیر اذلان شاہ جس سے نہ جان نہ پہچان تھی۔ اللہ پہ توکل کرتے ہوئے تمہیں اس سے بیاہ دیا اور آج دیکھو یہ فیصلہ کتنا درست ثابت ہوا ہے ۔اس وقت یہی مناسب لگا مجھے اذلان سے تم چاہتیں تو آزادی لے سکتی تھیں۔ کہیں بھی جا سکتی تھیں۔ اپنے خواب پورے کرسکتی تھیں مگر دوسری طرف ایسا کچھ نہ تھا وہاں صرف موت ہی تمہیں اس قید خانے سے نکالتی۔ہوسکے تو اپنے اس ماموں کو معاف کردینا جو بہت مجبور تھا۔اسے ایک مرتے ہوئے شخص کی خواہش سمجھ لو،ہمیشہ خوش رہو!” ایلاف کے آنسوؤں سے پورا خط بھیگ گیا تھا۔
تو بالاخر اس در سے بھی وہ سرخرو ہوئی تھی۔
______________________________
” سفی یہاں آؤ،جسٹ کم!جلدی!” ایلاف ٹی وی کے سامنے بیٹھے بیٹھے بولی تھی۔
اس وقت ثنا کی بنائی ہوئی ڈاکومنٹری چل رہی تھی جو اسٹارٹ تو سوشل ریلیشن سے ہوئی تھی اور سفیان شاہ کا بتایا گیا تھا۔
سفیان ڈاکومنٹری دیکھ کے ایک گہری سانس لے کے رہ گیا تھا۔
“تو ثنا سکندر تمہیں عقل آہی گئی ٹھوکر کھا کے،یہ ٹھوکر اس محبت کو کھا گئی ثنا جسے ابھی ہمارے درمیان کھلنا تھا۔”
سفیان شاہ سوچ کے رہ گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: