Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 21

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 21

–**–**–

ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔آج ثنا کی فرسٹ ڈاکومنٹری پریزینٹیشن تھی۔ ڈائس پہ ثنا کھڑی تھی،گرے اسکارف پہنے سیاہ چمکتی آنکھوں میں اداسی کی چمک لئے وہ موجود تھی۔
یہ پرزینٹیشن اس کی پہلی اور آخری ثابت ہونے والی تھی۔
“Quite colours of the lady of the east” یہ ڈاکومنٹری نہیں مشرق کے اسرار کی کہانی ہے۔
کہنے کو تو یہ تین عورتوں کی کہانی ہے جو مختلف سماج سے تعلق رکھتی ہیں مگر ان میں ایک قدر ایسی ہے جو انہیں یکساں کرتی ہے۔
وہ ہے ہمت !کبھی نہ ہار ماننے والی طاقت۔پاکستان کی ایلاف شاہ ہو،سری لنکا کی پاروتی ہو یا بنگلہ دیش کی بملا کماری ہو۔ تین مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی یہ تین عورتیں ہمت کے پہاڑ ہیں۔ عظمت کے مینار ہیں
مگر ان سب میں ممتاز ہمیں ایلاف شاہ دکھتی ہے۔
پتا ہے کیوں؟
اس کیلئے آپ کو ڈاکومنٹری دیکھنی ہوگی مگر میں آپ کو اتنا کہوں گی کہ ایلاف شاہ توازن کی وہ خوبصورت مثال ہے جو ہم سب اپنی زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں مگر صرف خواہش کر کے رہ جاتے ہیں ہمیں کوئی واضح راستہ نہیں ملتا ایسے لوگوں کے بشمول میرے میں یہی کہوں گی کہ اگر کچھ مرتبہ چاہئیے تو عاجزی کا ہنر سیکھئے ایلاف اذلان شاہ سے۔
” I am not saying that lady Ailaf is my country mate,but I am saying this because she is defiantly an inspiring lady with all quite colours of east and faith on God.thankyou!”
ثنا کی سپیچ ختم ہوئی تو تالیوں کی گونج نے اس کا استقبال کیا پھر ڈاکومنٹری دکھائی گئی تھی اور ثنا کا دعوا سچ ثابت ہوا تھا۔
ایلاف ہر جگہ چھائی ہوئی تھی
______________________________
” ثنا تم اور اسکارف!کیا آج تمہارا کوئی فیسٹیول ہے کیا?” ڈیزی یہی سمجھی تھی
اتنے عرصے میں ثنا نے پہلی بار اسکارف لیا تھا۔
” آج میں نے اپنے کنٹری کو پریزینٹ کیا ہے ڈیزی تو کچھ تو ایسا ہو جو میری شناخت ظاہر کرے۔ ” ثنا کا جملہ سفیان نے بھی سنا تھا۔
وہ بھی یہاں موجود تھا ظاہر ہے وہ بھی یہاں کام کرتا تھا،ڈسکوری کا ایمپلائی تھا اور پھر ایلاف بھی اسکے ساتھ تھین
” کانگریٹس ثنا ناؤ یو آر دا پارٹ آف ڈسکوری۔کنٹریکٹ سائن کرو۔” مونیکا نے کہا تھا،وہ واپس آچکی تھی۔
” نو مونیکا!میں کوئی کنٹریکٹ نہیں سائن کر رہی ہوں۔ میرا اور آپ لوگوں کا ساتھ بس اتنا تھا۔اٹس ٹائم ٹو موو ناؤ۔” ثنا نے انکار کردیا تھا۔
” تم نے ایسا کیوں کیا ثنا ایک گولڈن چانس مس کردیا۔اس وقت کیلئے تو تم کب سے انتظار کر رہیں تھیں پھر؟” ڈیزی حیران تھی۔
” تم نے کہا تھا نا ڈیزی،ہمارا پیشہ ایک ذمہ داری کا نام ہے اور میں اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہی ہوں تو میں یہ پوسٹ ہی ڈیزرو ہی نہیں کرتی۔ میں واپس جا رہی ہوں پاکستان۔مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ” ثنا نے اپنی خامیوں کا اعتراف کرلیا تھا۔
” ایسے گولڈن چانس بار بار نہیں ملتے ثنا۔” ڈیزی نے سمجھایا تھا۔
“پروا نہیں!میں نے جو کیا ہے اس کے آگے یہ بھی کم ہے۔ڈیزی تم ایک بہت اچھی دوست ثابت ہوئی ہو۔میں کوشش کروں گی کہ میں بھی اچھی بن سکوں۔” ثنا نے اس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“میرے لئے یہ سب کرنا آسان نہیں فطرت بدلنا آسان نہیں مگر میں انسان ہوں میں سب کرسکتی ہوں۔جب میں برائی کرسکتی ہوں تو اسے چھوڑ بھی سکتی ہوں بس ارادہ پکا اور خدا کی ذات پہ یقین ہونا چاہئے۔”
” ثنا نے بیوقوفی نہیں کی اس طرح کنٹریکٹ چھوڑ کے؟”ڈیزی نے سفیان کو مخاطب کیا تھا۔
“میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔مجھے اس کی ذات سے جو مسئلہ تھا اب وہ حل ہوچکا ہے۔” سفیان قطیعت سے بولا تھا۔
” اور محبت سفیان شاہ،اس کا کیا ہوگا؟ ” ڈیزی نے اتنی ہلکی آواز میں کہا تھا کہ سفیان کو بمشکل سنائی دیا۔
” محبت!چھوڑو ڈیزی وہ تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی،سب ختم۔” سفیان نے بات ختم کی اور آنکھوں پہ سیاہ گلاسز چڑھا کے باہر نکل گیاتھا۔
زندگی میں بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بہت کچھ چھلک جاتا ہے
ہمارے چہرے سے بھی!
اور
آنکھوں سے بھی!
*****
“سو فائنلی اب آپ لوگ پاکستان میں ہیں۔”اذلان شاہ نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
“یس ڈیڈ!آئی ایم سو ہیپی۔”عساف جو سفیان کے ساتھ بیٹھا کچھ ڈسکس کررہا تھا فورا بولا تھا۔
“ہونا بھی چاہئے سو سفیان کیا سوچا ہے اب تم نے؟اسٹڈی مکمل ہوچکی ہے اور جاب کا شوق بھی پورا ہوچکا ہے۔اب تمہاری شادی ہوجانی چاہئے۔”اذلان شاہ جیسے پہلے سے سب کچھ طے کر کے بیٹھے تھے۔
“شادی!”ایلاف کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
سفیان کی پسند سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔
“اوکے ڈیڈ!جیسے آپ کہیں۔”سفیان نے عام سے انداز میں کہا تھا۔
ایلاف نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“لیکن سفیان تم تو۔۔۔”
“مام پلیز!میں باہر کا قصہ باہر ہی ختم کر آیا ہوں۔”سفیان نے زندگی میں پہلی بار اسکی بات کاٹی تھی۔
“کیا یہ اتنا آسان ہے؟”ایلاف نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔
“ناممکن تو کچھ بھی نہیں نا۔”سفیان کا انداز سپاٹ سا تھا۔
“ایلا! آپ کی نظر میں سفیان کیلئے فیملی کی کونسی بچی سوٹ ایبل رہے گی؟”اذلان شاہ نے موضوع بدل دیا تھا۔
“فیملی میں!”ایلاف چونکی۔
“جی!سفیان کو شادی خاندان میں ہی کرنی ہے کیونکہ وہ گدی کا وارث ہے۔اس لئے دلہن بھی پیروں کے خاندان سے ہوگی۔اب شادی کرے اور گدی سنبھالے۔”اذلان نے اصول بتایا تھا۔
“مام’ڈیڈ آپ دونوں دیکھ لیں۔میں اور عساف باہر جارہے ہیں۔”سفیان کھڑا ہوچکا تھا۔
“اذلان!کیا ضروری ہے کہ سفیان کی بیوی پیر زادی ہی ہو؟”ایلاف نے سوچتے ہوئے پوچھا۔
“بالکل!اور وجہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں۔”
“اونہہ!لیکن میں تو پیر زادی نہیں ہوں پھر مجھ سے کیوں رشتہ نبھا لیا آپ نے؟”ایلاف نے چبھتے ہوئے انداز میں پوچھا۔
“ایلا!آپ ہماری زندگی میں دیر سے آئیں تب تک ہماری دستار بندی ہو چکی تھی اور شادی بھی۔”اذلان نے نرمی سے وضاحت کی۔
“یعنی اگر میں آپ کی زندگی میں پہلے آتی تو پھر آپ کیا کرتے؟چھوڑ دیتے مجھے۔”ایلاف نے پوچھ ہی لیا۔
“نہیں!گدی چھوڑ دیتے۔”اذلان نے بےحد گھمبیر انداز میں کہا۔
“واللہ!”ایلاف گڑبڑا کے رہ گئی۔ساری طراری رخصت ہوئی۔
“آپ جیسی عورت کیلئے دنیا چھوڑی جاسکتی ہے ایلا’کہیں تو دنیا چھوڑ کے دکھائیں۔”وہ اسکے جھینپے ہوئے انداز پہ محضوظ ہوتے پوچھ بیٹھے۔
“نہیں!یہ رواج بدل کے دکھائیں۔”وہ انکے لبوں پہ ہاتھ دھرتی کہہ اٹھی۔
“ایلا!اگر سفیان کی پسند آپ جیسی کوئی لڑکی ہوتی تو یقین کیجئے ہم ایک پل بھی نہ لگاتے اس رواج کو بدلنے میں لیکن جس لڑکی کیلئے آپ یہ سب چاہ رہی ہیں۔یہ ناممکن ہے!اس لڑکی نے ہم پیروں کے خون پہ انگلی اٹھائی تھی،ہم نے اسے ایک نادان لڑکی سمجھ کے معاف کیا۔اسی کو غنیمت جانیں۔پورے خاندان سے بغاوت ہم اس وجہ سے نہیں کرسکتے۔”اذلان شاہ قطیعت سے بولے تھے۔
ایلاف ایک گہری سانس بھر کے رہ گئی تھی۔وہ جانتی تھی اپنی روایات کے برعکس اذلان شاہ نے ثناء سکندر کو معاف کردیا تھا ورنہ پیروں کی نسل پہ سوال اٹھانے والے کو ایسے ہی نہیں بخش دیا جاتا۔
اور ثناء سکندر بھی ایسے نہیں بخشی گئی تھی۔سفیان شاہ کی محبت اس سے روٹھ چکی تھی۔محبت کے بدلے اس نے جان بخشی پائی تھی۔
*****
وقت کے تھال میں چند سالوں کے سکے مزید گرے تھے۔زندگی اس دوران کتنا آگے بڑھ گئی تھی،آئیں ذرا لاہور کی اس کوٹھی میں جا کے دیکھتے ہیں جہاں اس وقت ناشتے کی میز سجی ہوئی ہے اور ایلاف شاہ کے سامنے اسکا ساڑھے چار سال کا گرینڈ سن موجود ہے۔
جی ہاں ایلاف شاہ دادی بن چکی ہیں۔
******
” مام!بس میں اور نہیں لوں گی۔” ماہ نور بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی آج اسکا پریکٹیکل تھا اب وہ میڈیکل کالج میں آچکی تھی۔
” بس کردیں مام!کھا کھا کے اور موٹی ہوجائیگی۔” سفیان نے چوٹ کی تھی۔
” بھائی! آپ کا بولنا ضروری ہے ہر بار۔” ماہ نور کو فورا مرچیں لگی تھیں
“بھئی مام اسے جلدی سے بھیج دیں۔جلدی جائے گی تو نقل کا ٹائم مل جائے گا۔” سفیان باز نہیں آیا تھا۔
” بس کردو بھائی! نہ جانے کیا ہوگیا ہے تمہیں کبھی مجھے کیا کہتے ہو اور کبھی کیا؟مام انہیں سمجھا لیں،خود ہی ہوں گے ہاتھی۔ ” ماہ نور کو غصہ آگیا تھا۔
” اور آپ ہماری چھوٹی سی مینڈکی،اب چلو جلدی سے آپریشن ٹیبل پہ تمہارا انتظار ہورہا ہوگا۔چلو دانیال کم آن وی آر لیٹ۔عساف جا چکا ہے۔” سفیان بولتے ہوئے اٹھ گیا تھا۔
“کیا مینڈکی بھائی!آج تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔رکو!” ماہ نور اسکے پیچھے بھاگی تھی۔
” چلو شکر ہے سفیان نے اس بات کو بھلا دیا ہے وہ نارمل ہوگیا ہے پہلی کی طرح۔” اذلان نے اخبار تہہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
” کیا واقعی وہ نارمل ہے؟اذلان آپ کو کیا ہوگیا ہے وہ سب پوز کرتا ہے۔آپ نے کبھی اسکی آنکھوں کو نہیں دیکھا وہاں صرف ویرانی ہے ،اور کچھ نہیں ہے” ایلاف ان کے آگے چائے کا کپ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی تھیں۔
” ایلا!آپ بہت سینسیٹو ہورہی ہیں۔وہ لڑکی سفیان کو برباد کرچکی تھی سفیان کیسے اسے اپنا سکتا ہے؟” اذلان اب پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
“تو اس نے مداوا بھی تو کیا تھا۔وہ شرمندہ تھی آپ ہی تو کہتے ہیں نا معاف کردینا چاہئے جو معافی مانگے۔” ایلاف نے یاد دلایا تھا۔
” ایلا ہم اس پہ کچھ نہیں کہیں گے۔یہ سفیان کا فیصلہ ہے ہم اسے تجویز دے سکتے ہیں مگر اسے مجبور نہیں کرسکتے۔وہ ویسے بھی ثمین کی ڈیتھ کے بعد اب سنبھلا ہے اوپر سے ہم وہ قصہ دوبارہ کھول کے بیٹھ جائیں۔” اذلان کو یہ مناسب نہیں لگ رہا تھا۔
“پھر کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟” ایلاف گھور کے بولی تھی۔
“آج ہم صرف آپ سے بات کریں گے۔ایلا! کتنا وقت ہوگیا ہے ہم دونوں نے ڈھنگ سے ایک دوسرے کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔ ” اذلان اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولے۔
” اف!پیر سائیں!آپ نہیں سدھریں گے۔” ایلاف بے بسی سے بولی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: