Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 5

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 5

–**–**–

سردیوں کی نرم چمکیلی سنہری دھوپ حویلی کے اونچے میناروں سے اس لمبے چوڑے صحن میں جھانک رہی تھی جہاں بہت سی ملازمائیں اپنے اپنے حصے کے کاموں میں مصروف تھیں تو کچھ ان کی نگرانی میں۔
” نی رجو!ساری گاجریں کش کرلیں یا ٹپے ہی گائی جا رہی ہے۔” وہ ایک باوقار سرخ و سفید چہرے والی خاتون تھیں۔اس پیروں کی حویلی میں ان کا سکہ چلتا تھا۔
اس عورت کی آنکھیں شہد رنگ تھیں یہ پیر اذلان شاہ کی ماں تھیں۔
” آہو!بی بی تساں فکر ہی نہ کرو۔ ” رجو جلدی سے بولی۔
” اچھا!اچھا جلدی اب ان کو چڑھا اور سن گھی ذرا کم ہی رکھنا بلکہ تانیہ او تانیہ پتر تو اپنی نگرانی میں گاجر کا حلوہ تیار کروانا۔گھی ذرا کم ہی رکھنا۔پتا تو ہے نا بنین کو ڈاکٹروں نے منع کر رکھا ہے۔” انہوں نے ساتھ میں ایک طرف چارپائی پہ بیٹھ کے دھوپ سینک کر کینو کھاتی تانیہ کو مخاطب کیا۔
تانیہ جھنجھلا کے رہ گئی مگر ساس کے سامنے دم مارنے کی مجال کہاں تھیں اس کی۔
” ہوں!کونسا انوکھا بچہ پیدا کر رہی ہے یہ بنین۔ اس کی وجہ سے سب کی جان عذاب میں آئی رہتی ہے۔” تانیہ نے ناگواری سے سوچا۔
بنین اس کی جھٹانی تھی۔پیر اذلان شاہ کی ماں کو سب شاہ بیگم کہتے تھے۔ عورتوں کیلئے ان کا دم بڑا غنیمت تھا۔بڑی دبنگ قسم کی خاتون تھیں صحیح اور غلط کی مکمل پہچان رکھتیں تھیں۔مظلوموں کی مکمل حمایت کرتیں اور نا انصافی کرنے والوں کیلئے سزا کا فیصلہ ہوتا تھا، سو اگر پیر اذلان شاہ میں بھی یہ سب جملہ خصائل تھے تو اس میں کچھ ایسا حیران کن بھی نہ تھا۔
اولاد ماں باپ کا ہی پرتو ہوتی ہے اور پھر پیر اذلان شاہ ان کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔گوہر شاہ کے پیدا ہونے کے سات سال بعد وہ پیدا ہوا تھا اس کے بعد کمال شاہ اور احمد شاہ تھے جو انسیت اور جو محبت اپنی اولادوں میں سے ان کو اذلان سے تھی وہ کسی اور سے نہ تھی۔
وہ تھا بھی تو ایسا
ایماندار ,ملنسار اور مضبوط کردار
ان کی ہر بات ماننے والا
اگر کچھ اختلاف رکھتا بھی تھا تو اپنی رائے اتنے سلیقے اور طریقے سے دیتا کہ لچک پیدا ہوجاتی تھی۔اسے اپنی بات منوانے کا فن آتا تھا مگر پھر بھی زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے کہ انسان کو اپنی فطرت کے برعکس چلنا پڑتا ہے۔ اذلان شاہ بھی چلا تھا اور کیا خوب چلا تھا۔ ایک زمانہ گواہ تھا
اپنی اسی تابعداری کی بدولت وہ خاندانی دستار اور گدی کا وارث ٹھہرا تھا۔
“شاہ بی بی میں نے سنا ہے پیر اذلان شاہ آج پھر سویرے سویرے جاگیر آئے ہیں۔خیر تو ہے!” رجو کی زبان میں کھجلی ہوئی۔
” مرد ذات ہے خیر سے ذمہ دار ہے.سو کام ہوتے ہیں اس کی اپنی جاگیر ہے۔سو دفعہ آئے دن میں تجھے کیا تکلیف پڑی ہے۔” شاہ بی بی کو اس کی ٹوہ لینے والی عادت سے چڑ تھی،ہر وقت سی آئی ڈی بنی رہتی تھی۔
اسے تو انہوں نے چپ کرادیا تھا مگر اندر ہی اندر وہ پریشان ہوگئیں تھیں۔وہ جب بھی جاگیر آتا تھا۔انہیں اپنی آمد کی اطلاع ضرور بھجواتا تھا۔بھلے ملنے بعد میں آتا اور ابھی کل ہی تو گیا تھا بظاہر کوئی ایسا مسئلہ بھی نہ تھا کہ اسے اتنی جلدی لوٹنا پڑے۔
” ناں رجو تجھے کس نے بتایا؟” تانیہ بھی الرٹ ہوئی تھی۔
” لو بی بی کرلو گل۔وہ ہے نا داد شاہ پیر جی کا چمچہ اسے دیکھا تھا صبح ڈیرے کی طرف اور پھر گاڑی بھی دیکھی تھی ان کی۔” رجو کی رپورٹ مکمل تھی۔
” کیا بات ہوسکتی ہے؟الہی میرے بچے پہ رحم کرنا۔” بی بی شاہ متفکر سی دعا کر رہی تھیں۔
______________________________
” بختاں!تجھے پتا ہے رات ایک بڑی عجیب بات ہوئی۔” امیراں تجسس پھیلاتے ہوئے بولی۔
” کیا؟ ” بختاں نے اشارے سے پوچھا۔
” رات نا!پیر سائیں کے ساتھ ایک کڑی آئی تھی،رج کے سوہنی۔ ” امیراں آنکھیں پھیلا کے بولی۔
” کوئی مہمان ہوگی۔ ” بختاں بے تاثر لہجے میں بولی۔
” اری نہیں پگلی!یہی تو بات ہے وہ مہمان نہیں، مہمان ہوتی تو مہمان خانے میں ٹہرتی۔اسے تو پیر سائیں نے اندر والے کمروں میں ٹھہرایا ہے۔ ” امیراں سے یہ گتھی ہی نہیں سلجھ رہی تھی۔
” کوئی رشتہ دار ہوگی۔” بختاں نے اندازہ لگایا۔
” لو شاہوں کی رشتہ داریں ایسی ہوتی ہیں۔نہیں بختاں میں نے پوچھا دونوں سے تو کوئی بتاتا ہی نہیں۔یہ چکر ہی کوئی اور ہے۔” امیراں اب کے راز داری سے بولی۔
” کیسا چکر؟” بختاں بھنویں اچکا کے بولی۔
” سن!مجھے لگتا ہے یہ لڑکی نا پیر سائیں کو پسند آگئی ہے۔پتا ہے اس نے چادر بھی پیر جی کی پہنی ہوئی تھی۔” امیراں اپنا خیال بتاتے ہوئے بولی۔
” لعنت ہو تیری سوچ پہ امیراں۔ اذلان شاہ ایسا آدمی نہیں، ٹکے ٹکے کی عورتوں کے پیچھے خوار ہونے والا۔” بختاں ناگواری سے بولی۔
” لو کر لو گل! پھر کیا وہ لڑکی آسمان سے اگی ہے یا پیر سائیں کی جیب سے نکلی ہے۔” امیراں برا مانتے ہوئے بولی۔
“جہاں سے بھی آئی ہو ہمیں کیا۔یہ ان کا مسئلہ ہے تو نے ناشتہ نہیں بنایا ابھی تک۔” بختاں نے اس کی کلاس لگائی۔
” ناشتہ کس کیلئے بناؤں؟ پیر سائیں تو کہیں رات کو ہی واپس ہوگئے اور وہ ابھی تک سو کے اٹھی نہیں۔بندہ اسے مہمان کہے یا کسی اور سیارے کی مخلوق۔ ” امیراں اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولی۔
صبح سے تین دفعہ وہ ایلاف کے کمرے کے چکر کاٹ چکی تھی اور ہر بار وہ اسے سوئی ہوئی ملی تھی کمبل منہ تک لپیٹے۔
اپنے نصیبوں کی سیاہی پہ وہ رات بھر روتی رہی تھی پھر نہ جانے کس پہر آنکھ لگ گئی تھی۔ نیند تو سولی پہ بھی آجاتی ہے اسے بھی آگئی تھی۔
وہ رات کو یہ دعا مانگتے مانگتے سوئی تھی کہ اسے صبح کا سورج نصیب نہ ہو مگر اس کی زندگی باقی تھی۔اس کی آنکھ کھلی فجر قضا ہوچکی تھی۔ ایلاف کو کوئی ملال نہ ہوا وہ بے حسی کی انتہا پہ تھی اذیت کی کوئی حد نہ تھی۔
کیوں جئیوں میں؟
کس لئے؟
اس دنیا کیلئے! جن کو مجھے اپنی ہر سانس کی گواہی دینی ہے
کہاں سے لاؤں میں وہ عیسی جو میری گواہی دے
نہیں چاہیۓ ایسی زندگی
مجھے موت چاہئیے میرے مالک
میں نہیں جی سکتی اس دنیا میں
موت کی خواہش اتنی شدید تھی کہ وہ ہر احساس سے بے نیاز ہوچکی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ملازمہ اس کے کمرے کے چکر پہ چکر لگا رہی ہے مگر وہ خود اٹھنا ہی نہیں چاہتی تھی۔صبح سے دوپہر ہوچلی تھی،حالات جیسے بھی ہوں دل میں حشر بپا ہوں دماغ میں دنگل ہو سوچوں کا پیٹ کا معاملہ سب سے مختلف ہوتا ہے۔ اسے اپنا جہنم بھرنا ہوتا ہے چاہے کچھ بھی ہو کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں مگر ایلاف کو بھی جیسے ضد ہوچلی تھی وہ نہ خود اٹھی نہ اپنے لئے کھانا طلب کیا۔
” کیوں اپنی سانسیں بڑھاؤں وہ بھی اس شخص کا کھا کے جو میرے وجود کو شعلوں کی زد میں چھوڑ گیا ہے۔نہ مجھے اس کے نام کی پناہ چاہئے نا اس کے گھر کی روٹی کب تک منہ چھپا کے پھرے گا۔کبھی تو سامنے آئے گا نا۔بتا دوں گی اسے میں بھی ایلاف ہوں۔” ایلاف لاشعوری طور پہ زہریلی ہوچکی تھی۔
اسے اس سارے منظر نامے میں ایک ہی شخص قصوروار دکھ رہا تھا۔وہ اب تک بہت مشکل زندگی جیتی آئی تھی مگر اب اس کے برداشت کی حد ہوچکی تھی۔عورت کے کردار پہ بات آئے تو ہر حد ختم ہوجاتی ہے۔
محبت کی
زندگی کی
______________________________
رات کا سایہ شاہ پور کی جاگیر میں اپنے پر پھیلا چکا تھا۔حویلی کے اونچے میناروں سے رات کے سائے ناگن کی طرح بل کھا کے پھیل چکے تھے۔ شاہ بی بی اپنے کمرے میں بستر پہ موجود وال کلاک پہ نظریں گاڑے بیٹھی تھیں۔ اب تک اذلان شاہ نہ خود آیا تھا اور نہ کوئی پیغام بھجوایا تھا۔ بڑھتی رات کے ساتھ شاہ بی بی کی پریشانی بھی بڑھ رہی تھی۔
” شاہ بی بی!پیر سائیں آگئے ہیں۔ادھر ہی آرہے ہیں۔” رجو کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھول کے بولی۔
” شکر ہے!” شاہ بی بی کے لبوں سے پرسکون سانس خارج ہوئی۔ اب کچھ ہی دیر میں وہ ان کے سامنے ہوگا۔ ان کے بے چین دل کو قرار آنے لگا۔
” السلام علیکم!اماں سائیں۔” پیر اذلان شاہ مؤدب سا ہوکے بولا۔
” وعلیکم السلام!اماں کی جان بہت انتظار کرایا۔خیر تو ہے نا۔” شاہ بی بی اس کے تھکے تھکے چہرے کو بغور دیکھتی ہوئیں بولیں۔شہد رنگ آنکھوں میں سرخی واضح تھی۔
” کیا ساری رات سویا نہیں میرا بچہ؟” ان کے دل کو دھکا سا لگا۔
” پتا نہیں اماں خیریت ہے بھی کہ نہیں،ہمیں خود نہیں معلوم۔” اذلان شاہ تھکا تھکا سا ان کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔
” خدایا رحم! ” شاہ بی بی تو دہل ہی گئیں۔رجو کو جانے کا اشارہ کیا اور اذلان شاہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے سہلانے لگیں۔
” شاہ!کیا بات ہے پتر؟ہم نے آپ کو اتنا تھکا ہوا پہلے تو کبھی نہیں پایا۔” شاہ بی بی فکر مندی سے بولیں۔
” اماں!ہمیں لگتا ہے ہم اس دستار کے قابل ہی نہیں،نہ اس گدی کے۔جب ہم اپنے گھر والوں کی ہی تربیت نہ کرسکے ان پہ نظر نہ رکھ سکے تو جاگیر والوں کا کیا مداوا کریں گے۔” اذلان شاہ ایلاف کے لفظوں کے زیر اثر تھا۔
” پیر اذلان شاہ!ایسا بھی کیا ہوگیا ہے۔آپ اور اتنے مایوس۔آپ کی تربیت ایسی تو نہ کی تھی کہ آپ ہار مان جائیں حالات سے۔” شاہ بی بی کے دل کو تو دھکا ہی لگا تھا۔
جواب میں اذلان شاہ نے انہیں ساری بات بتا دی تھی بشمول ایلاف سے نکاح کے۔
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ گوہر شاہ اور اکبر شاہ نے اپنے بیٹے کو اتنی چھوٹ دی ہوگی۔توبہ! میرے خدا اس لڑکے نے تو نام ہی ڈبو دیا پیروں کے خاندان کا۔” بی بی شاہ برہمی سے بولیں تھیں۔
پیر سلطان کا نواسہ اور اتنی نیچ حرکت!
” اور آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی اس لڑکی سے نکاح کرنے کی۔جب غلطی خرم شاہ کی تھی تو اسے ہی بھگتنے دیتے۔ اس سے کرواتے آپ نکاح خود کو کیوں بلی چڑھایا؟” بی بی شاہ کی انصاف پسند طبیعت کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی۔
” وہ ہمارے ساتھ نہیں تھا اس وقت۔ہم نے اسے کال بھی کی کوئی رابطہ نہ ہو اور اب تک اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔” اذلان دھیرے سے بولا۔
” آپ کو کوئی ضرورت نہیں تھی نکاح کرنے کی،پناہ ہی دینی تھی تو آپ کا شیلٹر ہوم ہے وہاں لے جاتے،یہاں حویلی لے آتے۔خرم شاہ کبھی تو ہاتھ آتا تھوڑا انتظار کرلیا ہوتا۔” شاہ بی بی ناگواری سے بول رہی تھیں۔
” اماں جان!ہم نے کہا تھا اس کے ماموں سے مگر وہ لوگ کچھ سننے کو تیار نہ تھے.وہ عجیب لوگ تھے سنگسار کردیتے اس لڑکی کو،اماں جان آپ نے ہمیں انصاف کی تربیت دی ہے ہم بھلا کیسے ظلم ہوتا دیکھ سکتے۔مجبوری ہی سہی مگر اب وہ ہماری پناہ میں ہے۔ ” اذلان شاہ صفائی دیتے ہوئے بولا۔
” ہمیں آپ پہ فخر ہے۔آپ کو مان رکھنا آتا ہےمگر بہت سے معاملات ہیں آگے یہ کوئی افسانہ تو نہیں کہ سب ہنسی خوشی نپٹ جائے۔یہ زندگی ہے خاندان کے بڑے اعتراض کریں گے کہ اتنا بڑا فیصلہ اور خاموشی اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں خاص طور سے تانیہ شاہ کو اور اکبر شاہ کو،سب کے خیال میں اگر آپ کو دوبارہ گھر بسانا ہے تو نازیہ شاہ سے عقد کرلینا چاہئیے۔ ” بی بی شاہ نے انہیں آئینہ دکھایا۔
” اماں جان ہماری زندگی ہے یہ اگر ایک بار ہم نے خاندان والوں کی رضا سے عالیہ شاہ کو اپنا لیا تھا تو ضروری نہیں دوبارہ ان کا کہا مانیں،ہماری بھی کوئی حیثیت ہے۔ ” اذلان شاہ ناگواری سے بولا ۔
” گویا آپ خوش ہیں۔اس لڑکی کو اپنی زندگی میں لا کے۔” شاہ بی بی نہ جانے کونسی تسلی چاہ رہی تھیں۔
” اماں جان شادی کوئی کھیل تو نہیں اور وہ لڑکی اس میں بھی انا بہت ہے۔وہ ہمارا نام ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ خوشی اور غمی کا سوال تو تب ہو جب کوئی احساس ہو۔” اذلان شاہ کو ایلاف کی رات والی گفتگو ازبر تھی۔
” تو پھر کیا انجام ہوگا اس رشتے کا؟ ” بی بی شاہ نے پوچھا تھا۔
” ہم نے اسے کہہ دیا ہے کہ اگر اسے یہ رشتہ بوجھ لگتا ہے تو ہم بھی کوئی شوق نہیں رکھتے اسے اپنے ساتھ باندھنے کا۔” اذلان شاہ سنجیدگی سے بولا۔
” آپ نے مذاق سمجھ رکھا ہے نکاح کو،نکاح ایک ذمہ داری ہے جو مرد پہ ڈالی گئی ہے۔جو بھی ہے اب وہ آپ کی بیوی ہے منکوحہ ہے۔یہ کوئی چیز نہیں پسند نہ آئے تو واپس۔” شاہ بی بی کو قطعا اچھا نہیں لگا تھا یوں کہنا۔
ابھی نکاح کیا اور پھر چھوڑ دیا۔
” اس میں انا بہت ہے اماں۔وہ ہمیں عالیہ شاہ کی طرح الٹے دماغ کی لگی ہے۔اس نے خرم شاہ کے چکر میں ہمیں بھی رگید دیا تھا۔” اذلان شاہ کوفت سے بولا تھا۔
شاہ بی بی اسے دیکھ کے رہ گئیں تھیں یہ انداز تو اس کے تب ہوا کرتے تھے جب عالیہ شاہ نام کے طوفان سے وہ منسوب ہوا تھا۔
” بنین شاہ خیر سے فارغ ہوجائے تو ہم شہر آئیں گے ملیں گے تمہاری دلہن سے۔بیٹا جیسا تم بتا رہے ہو ایک اچھی لڑکی یوں ہی ہوتی ہے اور خدا نہ کرے وہ عالیہ شاہ کی طرح ہو۔اس بار تمہاری زندگی جہنم نہیں بننے دوں گی میں۔اگر وہ واقعی بسنے والی لڑکی ہوئی تو تم اسے بساؤ گے اذلان شاہ ویسے بھی اب تمہیں شادی کرلینی چاہئے کب تک تم اور تمہارا بچہ یوں ہی گھومتے رہیں گے۔” شاہ بی بی فیصلہ کن لہجے میں بولیں۔
بنین شاہ ان کی دوسرے نمبر کی بہو تھی شادی کے آٹھ سال بعد خدا انہیں نوازنے جا رہا تھا۔ بنین شاہ ان کی اچھی بہو تھی اس نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ کبھی نہ موڑا تھا۔ وہ ان کی بھانجی بھی تھی جب کہ تانیہ شاہ سلطان شاہ کی بھتیجی تھی اور عالیہ شاہ کی بہن ۔عالیہ شاہ پیر سلطان کی سب سے بڑی بھتیجی اور پیر اذلان شاہ کی بیوی تھی۔
_____________________________________
پیر سلطان شاہ اور پیر اعظم شاہ دو بھائی تھے۔ دونوں کی شادی ساتھ ہی ہوئی تھی۔سلطان بڑے اور اعظم چھوٹے تھے۔ قدرت کے فیصلے کہ اعظم کو اولاد کی نعمت سے اللہ نے پہلے نوازا عالیہ شاہ کی صورت میں وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی۔ سلطان شاہ میں تو اس کی جان تھی گوہر عالیہ کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہوئی تو اعظم کے گھر اکبر شاہ کی پیدائش ہوئی خاندانی رواج کے تحت ان دونوں کی نسبت طے کردی گئی تھی۔ ان کے ہاں لڑکیوں کی نسبت فورا طے کردی جاتی تھی عالیہ شاہ کی کسی سے نسبت ٹھہر ہی نہ سکی کیوں کہ اس کیلئے فی الحال کوئی رشتہ نہ تھا۔ سات سال بعد اذلان شاہ کی پیدائش ہوئی تو ابھی شاہ بی بی دل سے خوش ہو ہی نہ سکی تھیں کہ سلطان شاہ نے عالیہ شاہ اور اذلان شاہ کی نسبت ٹھہرا دی تھی۔
” یہ زیادتی ہے پیر صاحب دونوں کے ساتھ۔” شاہ بی بی اجتجاجا بولی تھیں۔
” کوئی ذیادتی نہیں، کنواری رہنے سے بہتر ہے کہ کسی سے اس کی شادی ہوجائے اور ویسے بھی مرد کے سامنے عورت چھوٹی ہی لگتی ہے۔” سلطان شاہ نے ان کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔
اذلان شاہ کو انہوں نے اپنے اصولوں کے مطابق پروان چڑھایا تھا۔وہ باپ سے ذیادہ ماں سے قریب تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ بچے بڑے ہوگئے شاہ بی بی کی گود میں کمال شاہ اور احمد شاہ کا اضافہ ہوچکا تھا تو اعظم کے ہاں تانیہ شاہ اور نازیہ شاہ کا۔
شاہ بی بی نے کمال کی نسبت بنین شاہ سے طے کردی تو سلطان شاہ نے احمد شاہ اور تانیہ کا نصیب ساتھ ملا دیا۔
اکبر شاہ اور گوہر شاہ کی شادی کا وقت آیا تو سلطان شاہ نے اذلان شاہ کو بھی بلا بھیجا تھا۔
” تیار ہوجاؤ اب گھر بار والے ہونے جا رہے ہو۔” سلطان شاہ اسے پسندیدگی سے دیکھتے ہوئے بولے، اٹھارہ برس کا بھر پور شیر جوان ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا تھا۔
” کیا مطلب بابا جان؟” اذلان حیرانگی سے بولا۔
” تمہاری شادی بھی اکبر شاہ کے ساتھ ہوگی۔ عالیہ شاہ کے ساتھ۔” سلطان شاہ نے دھماکہ کیا۔
” کیا!” اذلان شاہ تو ہل ہی نہ سکا۔
” اماں جان یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا جان؟ میری شادی ،میرے ساتھ کے لڑکے ابھی پڑھ رہے ہیں اور میری شادی۔وہ بھی عالیہ شاہ سے۔ ” اذلان شاہ پریشانی سے بولا تھا۔
اپنی یہ کزن اسے ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ سارا دن ملازماؤں پہ رعب جماتی نت نئی سزائیں دیتی انہیں عجیب حاکمانہ رویہ تھا۔
اذلان شاہ کا انکار حویلی والوں کیلئے صور اسرافیل ثابت ہوا قیامت آگئی تھی ایک۔
” بہت خوب اس لئے تمہیں پڑھایا کہ تم انکار کی جرات کرسکو۔ یاد رکھو اگر تم عالیہ سے شادی نکاح نہیں کروگے تو گوہر کی بھی شادی نہیں ہوگی۔” سلطان شاہ کی دھمکی نے اذلان شاہ کے سارے احتجاج ختم کر دئیے تھے۔
اس نے عالیہ شاہ سے شادی کرلی تھی لیکن کچھ سال بعد بہن کی خوشیوں کیلئے، وہ جانتا تھا اس کا باپ کتنا ضدی ہے۔عالیہ شاہ ایک عذاب کا نام تھا جو ہر وقت اس پہ مسلط رہتا تھا۔ اذلان کہاں جاتا ہے کیا کھاتا ہے کس سے ملتا ہے عالیہ ہر وقت اسی ٹوہ میں رہتی تھی۔ اذلان شاہ دو ہفتوں میں ہی تنگ آگیا تھا۔ اس لئے شہر جانے کو تیار ہوگیا تھا عالیہ شاہ نے سنا تو اس کے سر پہ پہنچ گئی تھی۔
” میں بھی چلوں گی شہر آخر کو بیوی ہوں۔” وہ جیسے اذلان کو یہ بات حفظ کروانا چاہتی تھی۔
” ہم شہر میں پڑھنے جا رہے ہیں۔وہاں آپ کا کیا کام آپ حویلی میں رہیں۔” اذلان شاہ حتی الامکان برداشت سے کام لیتا تھا۔
” ہمیں پتا ہے کہ ہمیں کہاں رہنا ہے اور کہاں نہیں۔ صاف کہو کہ شہر میں دوسریوں کو بھی وقت دینا ہے بھلا میں بوڑھی تمہیں کیا دوں گی۔” عالیہ شاہ چیں بہ چیں ہو کے بولی۔
” منہ سنبھال لے بات کریں۔ہم سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی۔” اذلان نے بنا لگی پٹی کے کہا۔
عالیہ شاہ کے تلوے پہ لگی اور سر پہ بجھی تھی۔ اس کے آمرانہ مزاج کے آگے کسی کی نہ چلتی تھی۔ اس نے وہ واویلا کیا کہ سلطان شاہ نے اسے اسی وقت اذلان شاہ کے ساتھ بھیج دیا تھا۔
عالیہ کو ہر وقت اپنی بڑھتی عمر کا احساس رہتا تھا۔ اذلان شاہ جو ابھی جوانی کی منزلوں پہ قدم رکھ رہا تھا وہ اسے سب سے چھپانا چاہتی تھی۔
شہر آکے بھی ہر وقت وہ اذلان شاہ کی جاسوسی کرتی کہ کہیں وہ کسی اور لڑکی کے چکر میں تو نہیں، اذلان اسے سمجھا سمجھا کے تھک چکا تھا مگر عالیہ دن بدن زہریلی ہوتی جارہی تھی۔ اذلان کا دل گھر آنے کو قطعا نہ کرتا تھا۔ وہ گھر نہیں اسے پاگل خانہ لگتا تھا جہاں عالیہ شاہ جیسی پاگل عورت تھی مگر اسے جانا پڑتا تھا۔یوں بھی ان دنوں عالیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی اذلان چاہتا تھا وہ حویلی چلی جائی مگر عالیہ نے تو جیسے اس کی نافرمانی کی قسم اٹھا رکھی تھی۔اس حالت میں بھی اسے چین نہ تھا۔
اذلان کہ امتحان ہونے والے تھے۔ موبائل آف کئے وہ سب دوست کمبائن اسٹڈی میں مصروف تھے دیر ہونے پہ عالیہ اس کا نمبر ملا ملا کے تھک گئی اور اپنا بی پی شوٹ کرلیا تھا۔اذلان گھر آیا تو عالیہ کی حالت خراب دیکھ کے وہ اسے فورا اسپتال لے گیا تھا۔ اب عالیہ کی زندگی ہی اتنی تھی یا قدرت کو اذلان پہ رحم آگیا تھا۔عالیہ ایک بچے کو جنم دینے کے بعد یہ دنیا چھوڑ گئی تھی۔
اذلان شاہ ڈیڈ باڈی اور بچے سمیت جاگیر گیا تو چاچی نے اسے عالیہ کی موت کا ذمہ دار اٹھایا تھا اور بچے کی کسٹڈی کا مطالبہ کردیا تھا۔
” ہرگز نہیں عالیہ ایک بیمار ذہن کی عورت تھی وہ اپنے جنون کے ہاتھوں ختم ہوئی ہے۔اپنا بچہ میں اس حویلی میں نہیں دوں گا تاکہ ایک اور عالیہ شاہ بنے۔ نو وے! ” اذلان شاہ کے تیور بدل چکے تھے۔
اس نے سفیان نام رکھا تھا اپنے بیٹے کا، انیس سال کی عمر میں وہ ایک بچے کا باپ بن چکا تھا۔ وہ اپنے بچے کو اس فرسودہ نظام سے بہت دور رکھنا چاہتا تھا۔اسے ابتدا سے نرسری کے بعد سوئیزرلینڈ بھیج دیا تھا۔ وہ وہیں رہتا تھا سالانہ چھٹیوں میں لاہور تک آتا تو دادا دادی وہیں مل لیتے تھے۔
وقت کے تھال میں چند سکے اور گرے۔ پیر سلطان شاہ کے انتقال کے بعد پیر اذلان شاہ کو گدی پہ بٹھا دیا گیا تھا۔اذلان نے جاگیر کے معاملات کے ساتھ پڑھائی بھی مکمل کی تھی۔ زراعت کے شعبے میں ڈگری لینے کے بعد اس نے سی _اے اپنے ذاتی شوق کی بنا پہ کیا تھا۔ اس کی زندگی اب جاگیر اور لوگوں کہ معاملات کے گرد ہی گھمتی تھی اپنی ذاتی ذندگی تو کہیں رہی نہیں تھی۔سب نے کتنا چاہا تھا کہ وہ دوسری شادی عالیہ شاہ کی چھوٹی بہن نازیہ شاہ سے کرلے مگر اذلان کیلئے ایک تلخ تجربہ ہی کافی تھا۔وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھا اب کم ازکم سکون تو تھا مگر اس سکون میں ایلاف نامی پتھر نے ہلچل مچادی تھی۔
_____________________________________
” امیراں!بی بی ٹھیک ہیں۔” اذلان شاہ آج دو دن بعد شہر لوٹا تھا اور گھر پھنچتے ساتھ ہی ایلاف کا پوچھا تھا۔
اب یہ شاہ بی بی کی باتوں کا اثر تھا یا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایلاف یہاں موجود ہے یا جاچکی ہے۔
“پیر سائیں!وہ بی بی مجھے تو کسی اور سیارے کی مخلوق لگتی ہے۔ نہ بولتی ہے کچھ نہ کھاتی پیتی ہے بس منہ سر لپیٹے پڑی رہتی۔نہ ہماری بات کا جواب دیتی ہے۔” امیراں بھڑک کے بولی۔
پچھلے دو دن سے ایلاف نے ایک لقمہ تک توڑ کے نہ دیا تھا اور نہ کسی بات کا جواب،بس چپ چاپ منہ سر لپیٹے اشک بہائی جاتی اب تو آنسو بھی خشک ہوچکے تھے۔
” کیا بیوقوف عورت!کم ازکم ہمیں تو بتایا ہوتا اس کی حالت کا۔ ” اذلان شاہ پریشانی سے بولتے ہوئے اسکے کمرے کی طرف بڑھا جہاں ایلاف کا مسکن تھا۔
” لو کر لو گل،میں کہاں سے بتاتی مجھے کونسا آرڈر دے کے گئے تھے۔” امیراں بڑبڑائی۔
اذلان کمرے میں داخل ہوا تو ایلاف بے سدھ پڑی تھی بیڈ پہ رنگت خطرناک حد تک پیلی پلکیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔
اذلان شاہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھا۔
” ایلاف!ایلاف بی بی۔ ” اس نے اپنے پر حدت ہاتھوں میں ایلاف کا ہاتھ تھاما۔
ایلاف کا پورا جسم برف کی طرح سرد تھا۔وہ ہوش وحواس سے مکمل بیگانہ تھی۔ دو دن کے فاقے نے اس کی یہ حالت کردی تھی۔یہ سزا ایلاف نے اپنے لئے خود چنی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: