Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Last Episode 22

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – آخری قسط نمبر 22

–**–**–

“دانی!جلدی آؤ۔ہم لیٹ ہورہے ہیں۔”سفیان نے اسے آواز لگائی جو اسکول بیگ پہنے لان میں کھڑا بال کو کک مار رہا تھا۔
“کم ان ڈیڈ!”باپ کی آواز پہ وہ اپنا مشغلہ ترک کرتا فورا گاڑی کی جانب بھاگا۔
فرمانبرداری کی وصف اب انکی آگے کتنی نسلوں تک چلنی تھی۔
سفیان جانتا تھا یہ پہلے ایلاف کا کمال تھا اور پھر ثمین کا،ثمین! آہ! وہ چاندی کی گڑیا جو سفیان کی شریک سفر بنی تھی۔
ایلاف نے کافی چھان پھٹک کے بعد ثمین کو منتخب کیا تھا۔نرم لہجے کی مالک،سلیقہ شعار اور ایم اے انگلش ثمین’ایلاف کو بےحد پسند آئی تھی۔
ثمین سے شادی کے چھ ماہ بعد پیر اذلان شاہ نے رواج کے مطابق پیر سفیان شاہ کی دستار بندی کی رسم کی تھی۔
یوں اب وہ خاندان کا بڑا تھا لیکن اس نے اذلان اور ایلاف کے مرتبے میں فرق نہیں آنے دیا تھا اور یہی تلقین ثمین کو بھی کی تھی جس نے ہمیشہ شوہر کی بات کا مان رکھا تھا۔
سفیان کچھ تو بھول ہی چکا تھا،سب بھی بھول ہی جاتا اگر ثمین اس سے جدا نہ ہوتی۔
لاہور سے ریگولر چیک اپ کروا کے واپسی پہ ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ثمین کو اس حادثے کے بعد فورا او ٹی شفٹ کیا تھا جہاں سے زندہ صرف بچہ ہی واپس آیا تھا۔
ثمین نے جان کی بازی ہار دی تھی۔
سفیان لب بھینچے’سرخ چہرہ لئے واپس شاہوں کی حویلی لے آیا تھا۔اسکے بچے کو بھی اس جیسا نصیب ملا تھا لیکن نہیں وہ غلط تھا۔
اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ایلا کی صورت موجود تھا۔ایلاف کے ہوتے ہوئے اسے اپنے بچوں کو باہر کی کسی نرسری نہیں بھیجنے کی ضرورت تھی۔
“یہ آپ کا ہے اب۔اسے سنبھال لیں اور مجھے بھی۔”سفیان نے ہمیشہ کی طرح اپنا غم اس سے بانٹا تھا اور ایلاف نے آگے بڑھ کے ہمیشہ کی طرح اسے سنبھالا تھا اور اس بار تو ایک کا اضافہ ہی ہوا تھا۔
“اسکا نام کیا رکھنا ہے؟”پیر اذلان شاہ نے اسکے کان میں اذان دینے کے بعد پوچھا تھا۔
“دانیال! ثمین کی خواہش تھی کہ اسکے بچے کا نام دانیال ہو۔”ایلاف نے جانے والی کا مان ہمیشہ کی طرح رکھا تھا اور دانیال کو بھی اس نے اپنا چوتھا بچہ سمجھ کے ہی پالا تھا۔
“ڈیڈ!آپ کیا سوچ رہے ہیں؟”دانیال اسکا بازو ہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں!”سفیان سر جھٹک کے رہ گیا تھا۔
******
سردیوں کی خوشنما دھوپ چھن چھن کے میناروں سے آرہی تھی۔ لان کی سبز گھاس پہ سنہری دھوپ کا عکس پھیل رہا تھا۔یہ لاہور کے مشہور اسکول کا منظر تھا۔
ڈائس پہ سفید اسکارف پہنے وہ لڑکی دونوں کہنیاں جھکائے اپنے سامنے بیٹھے بچوں کو دیکھ رہی تھی اور بول رہی تھی۔
” تو اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملا کہ کبھی کسی کا برا نہ سوچو۔اچھا کہو اور اچھا کرو۔حسد سے بچو!”
بچوں نے کورس میں یس کہا تھا۔بیل ہوئی تو سب بچے ایک ایک کر کے باہر چلے گئے سوائے ایک کے،ٹیچر اپنے کام میں مگن تھی اس لئے اس نے بچے کو دیکھا ہی نہیں جو مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔
“کیا بات ہے بریک اٹینڈ کیوں نہیں کی آپ نے؟” کچھ دیر بعد اس کی نظر پڑی تھی۔
“آپ ہمیشہ سیم لیسن والی سٹوری ہی کیوں سناتی ہیں؟” وہ بچہ بہت شارپ تھا۔
چھ مہینے پہلے ہی وہ اسکی کلاس میں آیا تھا۔
“یو نو دانیال!سم ٹائم ہمیں ایک لیسن کو بار بار ریپیٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب تک ہماری بنیاد مضبوط نہ ہوجائے اسی لئے میں آپ لوگوں کو سناتی ہوں۔” اس کے چہرے پہ اداس سی مسکان تھی۔
” آپ اتنی اچھی باتیں کرتی ہیں مس ثنا،میری گرینی یو نو وہ کہتی ہیں دانیال تمہیں بہت اچھی ٹیچر ملیں ہیں وہ خود بھی ایسی ہوں گی۔ ” دانیال تعریفی انداز میں بولا۔
” میں تمہیں کیا بتاؤں دانیال،یہ اچھائیوں کے سبق میں نے بچپن سے پڑے تھے مگر کبھی عمل نہ کیا جب ٹھوکر لگی تو یاد آیا۔جب اپنا سب لٹا دیا تو بچانا یاد آیا۔ ” ثنا کے چہرے پہ آزردہ سے مسکان تھی۔
پاکستان لوٹے اسے کئی سال ہوچکے تھے۔اس کی سوتیلی ماں بہت حیران ہوئی تھی ثنا اب پہلے والی ثنا نہیں رہی تھی۔ اس کی ماں اب بیمار رہنے لگی تھی اور بہن کی شادی ہونے والی تھی۔
ثنا نے صبح میں اسکول جوائن کیا تھا اور شام میں وہ ایک نیوز پیپر جوائن کر چکی تھی۔ایک سال میں وہ اس قابل ہوچکی تھی کہ اپنی بہن کی شادی کرسکے۔
اپنی ماں سے اس نے کہا تھا۔
“میں پرانی باتیں نہیں دہرانا چاہتی میں سب کچھ پیچھے چھوڑ کے آچکی ہوں۔میں نے جو کیا اس پہ شرمندہ ہوں۔”
اسکا بھائی پارٹ ٹائم جاب کرتا تھا ثنا نے اسکی ذمہ داری بھی اٹھا لی تھی۔ایک ٹھوکر نے اسکی زندگی ڈھب پہ لادی تھی۔اب اسکے پاس فیملی تھی۔اس نے عزت اور اعتبار کرنا سیکھ لیا تھا۔
پھر بھی دل کا وہ ایک حصہ آج بھی ویران تھا جہاں کسی کے قدموں کی دھمک آج بھی ثنا کو محسوس ہوتی تھی۔
______________________________
” بیسٹ ٹیچر ایوارڈ گوز ٹو مس ثنا سکندر۔” تالیوں کی گونج میں اعلان ہوا تھا۔
مہمان خصوصی ایلاف شاہ تھی۔
ثنا کے بڑھتے قدم رک سے گئے پھر سر جھٹک کے اسٹیج پہ چڑھ گئی تھی۔
اور!
ایلاف بھی حیران ہو گئی تھی۔
سو ثنا سکندر تم واقعی بدل چکی ہو۔”
اس نے ثنا کی پروگریس چیک کی تھی۔وہ دانیال کی ٹیچر تھی اور دانیال اسکے قصے سناتا رہتا تھا۔
ایلاف کچھ سوچ کے مسکرا دی تھی۔
*****
” کیا بات کہہ رہی ہیں آپ مام” سفیان ناگواری سے بولا تھا
” میں ٹھیک کہہ رہی ہوں سفیان اب شادی کرلو ثنا بدل چکی ہے۔ ” ایلاف اپنی بات پہ زور دے کے بولی تھی۔
” مام! وہ چیپٹر کلوز ہوچکا ہے پلیز۔” سفیان ہلکی آواز میں بولا تھا۔
“اچھا اگر یہ چیپٹر کلوز ہوچکا ہے تو تم پھر کیوں پہلے جیسے نہیں رہے۔یہ آنکھیں اس سفی کی تو نہیں ہیں۔تم تو کورس کی کتابیں اتنی مشکل سے پڑھتے تھے اب راتوں کو جاگ جاگ کے کیا پڑھتے ہو اور یہ تصویر کیوں آج تک تمہارے کمرے میں ہے؟” ایلاف نے اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا تھا۔
” مام!میں کیا کر سکتا ہوں اب؟وہ اگر بدل ل چکی ہے تو کیا ہوسکتا ہے وقت گزر چکا ہے۔”
” وقت نہیں گزرا سفی ثنا ایک اچھی لڑکی ہے۔ وہ اپنی خامیوں پہ قابو پا چکی ہے اور پھر دانیال بھی تو ہے اب کوئی اور لڑکی کیسے برداشت کرے گی۔” ایلاف نے کہا تھا۔
” تو مام ثنا بھی برداشت نہیں کرے گی۔” سفیان نے سر جھٹک کے کہا تھا۔
بچپن سے جو تصویر دل میں بسائی تھی اس کے رنگ اتنے پکے تھے کہ سفیان کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ آج بھی یونہی جگمگاتے تھے۔
” ثنا ہی وہ لڑکی ہے جو تمہاری سچائیوں سے واقف ہے۔وہ سفیان کو بھی قبول کرلے گی کیوں کہ وہ اب باظرف ہے۔” ایلاف نے اسے بتادیا تھا اپنی اور ثنا کی ملاقات کے بارے میں۔
” سفیان! پہلے ہی بہت سا وقت گزر چکا ہے۔اتنے سال بہت ہوتے ہیں۔تم دونوں کی بہتری اسی میں ہے۔کب تک یوں تم دونوں اپنی زندگی ایسے گزارو گے۔” ایلاف سے دیکھا ہی نہیں جاتا تھا۔
سفیان کی بے رونق زندگی اور خاموش سا وقت۔
______________________________
” ڈوبتے سورج کو دیکھنا اچھی بات ہے مگر آس پاس چلتے پھرتے لوگوں پہ بھی نگاہ کرلینی چاہئے۔” گلاسز شرٹ کے کالر میں اٹکاتے ہوئے کہا گیا۔
ثنا نے پلٹ کے پیچھے دیکھا اور حیران رہ تھی۔ اس کی راہوں میں یہ شخص پھر دوبارہ آئے گا،وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
” آپ!’یہاں!” ثنا نے بمشکل کہا تھا۔
“کیوں یہ پارک آپ کے نام ہے جو میں یہاں نہیں آسکتا۔ ” سفیان نے پوچھا تھا۔
“نہیں!” ثنا نفی میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ سامنے دیکھنے لگی تھی۔
” ثنا!” سفیان نے کچھ دیر کے بعد پکارا۔
” ہوں!”
” کئی سال بیت گئے۔بہت وقت گزر گیا۔”سفیان بھی اب سامنے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ہاں بہت وقت گزر گیا سفیان صاحب مگر اچھا گزرا۔” ثنا نے اس پہ دوسری نگاہ ڈالنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
“ثنا بیتی باتیں یاد نہیں کرتے اب،مجھے کچھ کہنا ہے تم سے۔مام تمہارے گھر آنا چاہتی ہیں، کیا اجازت ہے؟” سفیان نے کوئی اسم پھونکا تھا۔
ثنا اس کی شکل دیکھ کے رہ گئی تھی۔
” کیا میں اتنی بانصیب ہوں کہ اتنے کھرے شخص کا ساتھ مجھے ملے۔”
” نہیں!میں آپ کے قابل نہیں۔” ثنا نے انکار کردیا تھا۔
” ثنا!مام کہتی ہیں کہ ہم دونوں جو یوں بار بار ایک دوسرے کی راہ میں آتے ہیں تو تقدیر بھی کچھ چاہتی ہے۔اپنے دائرہ زندگی میں جب ایک دوسرے کو سوچ سکتے ہیں تو ساتھ کیوں نہیں ہوسکتے۔” سفیان نے اب اسے دیکھا تھا ڈوبتے سورج کا عکس اس کے چہرے پہ پھیلا ہوا تھا۔
ثناء نے خاموشی سے لفظ لفظ سنا تھا۔
“آؤ ثنا جب منزل ایک ہے تو راستہ بھی ایک کرلیں۔”وہ کہہ رہا تھا۔
” آپ نے مجھے معاف کردیا کیا؟” ثنا نے پوچھا تھا۔
” تمہارا مداوا بہت خوبصورت تھا.اور جن سے ہم محبت کرتے ہیں ان کیلئے ہمارے دل میں ویسے ہی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ثنا ول یو میری می؟” سفیان نے اس کی طرف چنبیلی کا چھوٹا سا پھول بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔
اور ثنا انکار کر کے کفران نعمت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
پہلے ہی وہ اپنے جنون میں اپنے عشق کو برباد کرچکی تھی۔
اب اسے اپنے جنون کو کنارا دینا تھا۔
اپنے عشق کو سہارا دینا تھا۔
کیونکہ!
یہ جنون منزلِ عشق ہے!
” میں ساری زندگی آپ کی احسان مند رہوں گی ایلاف شاہ۔آپ کے جنون کو کنارا اگر اذلان شاہ سے ملا تھا تو آپکی وجہ سے آج مجھے بھی عشق کی منزل مل گئی ہے۔” ثنا شکر گزار تھی
ثنا نے پلٹ کے سفیان کو دیکھا تھا اور مسکرا کے اس کے ہم قدم ہوگئی تھی۔
__

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: