Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 1

0

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 1

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو محبت کیلیئے خوبصورتی کو لازم سمجھتی تھی مگر زندگی کے ایک حادثے نے اس پر یہ حقیقت واضح کردی کہ، محبت حسن کی محتاج نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر موسم خوشگوار تھا۔ کافی دیر سے جاری بارش اب ہلکی ہلکی پھوار میں بدل چکی تھی۔ موسم بہار کی اس پہلی بارش نے ہر سو رنگ بکھیر دیئے تھے۔ ساری فضا جیسے دُھل دُھلا کر نکھر گئی تھی۔ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی بڑی بھلی لگ رہی تھی۔ ایسے حسین موسم میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑا ہارون رضا کچھ زیادہ ہی اداس ہوگیا تھا۔ اس کے خوبصورت چہرے پر رقم رنج کی داستان بڑی واضح تھی اور ذہن میں اس قاتلِ جان کا تصور تھا جو اسکے دل کے چمن کو ویران کر گئی تھی۔ کتنا دکھ دے کر چلی گئی تھی وہ اُسے، کیسی کٹھور، کیسی سنگدل تھی۔ ایک لمحہ بھی اسکی تڑپ کا احساس نہ کیا تھا اس نے۔ وہ جو پچھلے پندرہ برس سے اپنے دل کی تمام تر شدتوں کے ساتھ اس سے محبت کرتا آیا تھا، کتنی بے دردی سے اسکی محبت کو بے مول کر کے چلی گئی تھی۔۔ اس کے دل پر شک کا پتھر اتنی زور سے مارا کہ وہ سارے کا سارا چکنا چور ہوگیا۔ لمحہ لمحہ خون رستا رہا۔۔۔۔۔ وہ تو اسکی اولین چاہت۔۔۔۔ اسکی زندگی کی سب سے قیمتی متاع تھی لیکن کیسی بے حس نکلی تھی۔ کتنی بےدردی سے اسکی آرزوؤں کا خون کر کے چلی گئی تھی۔ ہارون نے کھڑکی کی سلائیڈ کھسکائی، نم ہوا کے ساتھ کئی پھولوں کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی تو دل مزید بجھ گیا۔ دریدہ دل تو وہ گزشتہ چھ، سات ماہ سے تھا مگر آج اس دلفریب موسم میں اپنے بھڑکتے جذبات پر بند باندھنا کیسا تکلیف دہ ہورہا تھا کہ اسکی براؤن آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے اپنا سر کھڑکی کے پٹ سے ٹکا دیا۔ ماضی کے روشن باب کسی فلم کی مانند اسکے ذہن کے پردے پر چلنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ سال قبل۔ ۔ ۔

وہ کالج سے باہر نکلی تو بادلوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھ کر سخت کوفت میں مبتلا ہوگئی۔ اس نے محسن بھائی کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں مگر سنسان سڑک پر دور دور تک کوئی ذی روح دیکھائ نہ دیا۔ اسکی کوفت مزید بڑھنے لگی۔
“میڈم نے بھی آج ہی مجھے روکنا تھا۔ ہر کام کیلیئے تو جیسے میں ہی رہ گئی ہوں۔” وہ سڑک کنارے چلتے ہوئے جلے دل کے ساتھ سوچے گئی۔
“اور محسن بھائی کو بھی دیکھو آج لینے ہی نہیں آئے۔ اف کاش میں آج آئی ہی نہ ہوتی۔ صبح امی کہہ بھی رہی تھی کہ موسم کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے آج مت جاؤ۔ اب اگر انکی بات مان لی ہوتی تو یوں خوار نہ ہونا پڑتا۔”
تیز ہارن کی آواز سے وہ اپنے خیالات کی رو سے چونکی اور پلٹ کر دیکھا دور سے آتی ٹیکسی کو دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی۔ اس نے جلدی سے ہاتھ ہلایا مگر وہ روکنے کا اشارہ ہی کرتی رہ گئی اور ٹیکسی آگئے نکل گئی۔۔ “اف خدا غارت کرے ان ٹیکسی والوں کو ذرا بھی دید نہیں انکی آنکھوں میں۔” مارے غصّے کے اسکا خون خول گیا۔ ساتھ ہی بادلوں کی خوفناک گڑگڑاہٹ نے اس کے دل پر خوف سا طاری کردیا۔ وہ تیز تیز چلنے لگی۔
“اف میرے اللہ! میں کیا کروں ابھی بارش شروع ہوجائے گی اور کوئی سواری بھی نہیں مل رہی۔” وہ سر جھکائے چلے جارہی تھی۔ ہوا میں اب کافی تیزی آگئی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ہلکی ہلکی پھوار برسنے لگی۔ ثناء نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔ “ارے یہ کیا! بارش بھی شروع ہوگئی۔ کاش میں چھتری ہی لے آتی۔ یااللہ! آج خیر خیریت سے گھر پہنچا دے۔” دل ہی دل میں جتنی قرآنی آیات یاد تھیں دہرا ڈالیں۔ بارش میں تیزی آنے لگی۔ آسمان سیاہ گھور بادلوں میں ڈھک گیا۔ دن کے تین بجے بھی شام کا سماں لگتا تھا۔ خوف اور دہشت کے مارے ثناء کی ٹانگیں لزرنے لگیں۔ بادلوں کی گھن گرج سے تو ویسے ہی اسکی جان جاتی تھی۔ جنوری کا مہینہ ویسے بھی سخت ٹھنڈا ہوتا ہے اوپر سے اسلام اباد کی یہ ویران سڑکیں اتنا کھلا ایریا کہ ٹھنڈ کی شدت کا احساس دو چند ہو جائے۔
ثناء کے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے ہوگئے۔ جوگرز کے اندر بھی پاؤں جمنے لگے۔ سرد ہوا کے تھپیڑوں سے سر بھی بھاری بھاری ہونے لگا تھا۔ “ہائے اللہ! امی نے کہا بھی تھا کہ کوٹ پہن کے جاؤں اب اگر پہن آتی تو اتنا بھیگ تو نہ جاتی۔” مارے دکھ کے آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ سخت سردی سے ہاتھ پاؤں شل ہونے لگے تھے، قدم مَن مَن بھر کے ہورہے تھے۔ “اف خدایا! یہ بس اسٹاپ کدھر رہ گیا ہے؟ یااللہ یہ میں اپنی دھن میں کدھر نکل آئی ہوں؟” اس نے یکدم چونک کر اپنے اردگرد نگاہیں دوڑائیں۔ وہ بے دھیانی میں واقعی راستہ بھول گئی تھی۔ اسے راستوں کا ویسے بھی اتنا اندازہ نہ تھا۔ ہمیشہ تو محسن بھائی اور ابو ہی لیتے چھورتے تھے۔ ثناء کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ ایک سنسان سڑک پر بلکل اکیلی کھڑی تھی۔ اطراف میں بڑے بڑے درخت تھے اور بس۔ “یااللہ! پلیز میری مدد کریں۔” وہ ایک ٹنڈ منڈ درخت کے تنے کے قریب کھڑی رونے کے قریب تھی۔ اچانک کسی کار کے ہارن کی آواز نے اسکی رہی سہی ہمت بھی ختم کردی۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا۔ سیاہ رنگ کی ہنڈا سست رفتاری سے اسکی قریب آرہی تھی۔ ثناء تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ مگر وہ گاڑی برابر اسکے تعاقب میں رہی۔ “اے میرے پیارے نبی!ؐ میری عزت رکھ لیں۔” اسکے دل سے فریاد نکلی۔ بارش اب زور و شور سے برس رہی تھی۔ وہ سر تاپا بھیگ چکی تھی۔ دفعتاً کار والے نے رفتار بڑھائی اور گاڑی بلکل اس کی راہ میں حائل کر کے روک دی۔ ثناء کا دل ڈوبنے لگا۔ گھگھی بندھ گی۔ گاڑی کی اگلی سیٹ سے ایک نقاب پوش برآمد ہوا اور اسکی طرف بڑھا۔ مارے دہشت کے ثناء نے آنکھیں بند کرلیں۔ نقاب پوش اسکے قریب آگیا۔ ثناء کا ذہن چکرانے لگا۔ آنکھوں کے سامنے ہر منظر گڈ مڈ ہونے لگا۔۔ کچھ تو سردی کا اثر کچھ خوف اسکا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔
*******************
وہ کوئی نرم لطیف سا احساس ہی تھا جس نے اسکے سوئے ہوئے وجود کو بیدار کیا تھا۔ اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور کچھ دیر خالی الذہنی کے عالم میں چھت کو گھورتی رہی۔ ذہن کچھ صاف ہوا تو ادرگرد نظر دوڑائی۔ وہ ایک نرم بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور اسے اوڑھائے ہوئے کمبل میں سے لطیف سی مہک اٹھ رہی تھی۔اس نے گردن گھما کر اپنی بائیں جانب دیکھا تو سائیڈ ٹیبل پر طشتری میں رکھے پھلوں پر نظر پڑی۔ آن واحد میں ثناء کا ذہن مکمل طور پر بیدار ہوا تھا اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ “ہائے اللہ یہ میں کہاں آگئی ہوں؟” اس نے حیران حیران نظریں ادھر ادھر گھمائیں۔ یہ ایک نفاست سے سجایا گیا کافی کشادہ کمرہ تھا۔ کھڑکیوں پر مخمل کے بھاری اور دبیز پردے پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف بڑے سے سنگھار میز پر استعمال کی ہر شے رکھی تھی۔ سامنے سینٹر ٹیبل پر اسکا کالج بیگ رکھا ہوا تھا۔ “یااللہ کیا وہ آدمی مجھے اغوا کر کے لے آیا ہے۔” اگلے خیال نے اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیئے اور وہ سرعت سے دوپٹہ سر پر ڈالتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی اور اسے دھڑا دھڑ پیٹنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی جو شکل سے ملازم نظر آتا تھا، اندر داخل ہوا۔
“یس میڈم؟” اس نے اندر آکر مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔ “میں کہاں ہوں؟” وہ غصے سے بولی۔
“یہ بتانے کی مجھے اجازت نہیں۔” وہ ہنوز مؤدبانہ انداز میں بولا۔
“مجھے یہاں کون لایا ہے؟” اس نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
“آپ کو یہاں صاحب کے حکم پر لایا گیا ہے۔”
“کیا نام ہے تمہارے صاحب کا؟”
“صاحب کا نام بتانے کی اجازت نہیں ہے۔”
“افوہ کیا مصیبت ہے یہ بتانے کی اجازت نہیں وہ بتانے کی اجازت نہیں۔ آخر کیا بتانے کی اجازت ہے تمہیں؟“ وہ غصے سے پھنکاری۔
“صاحب نے بولا تھا کہ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ آپ کپڑے تبدیل کرلیں۔ اُس الماری میں آپ کی ناپ کے کپڑے موجود ہیں۔” اس نے انگلی کے اشارے سے بتایا۔
“چسٹ شٹ اپ۔۔۔ مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے۔” وہ غصے سے چلائی تھی تو ملازم چپ چاپ سر جھکائے کمرے سے باہر نکل گیا اور کھٹ سی ہلکی آواز کیساتھ دروازہ بند ہوگیا۔ ثناء وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ اسے اپنی بے بسی پر رونا آرہا تھا۔ “گھر والے کتنے پریشان ہورہے ہونگے۔ امی نے تو رو رو کر بُرا حال کرلیا ہوگا۔“ وہ پریشانی کے عالم میں سوچے گئی۔ سوچتے سوچتے اس کی نظر دیوار گیر گھڑی تک گئ تو وہ اچھل کر کھڑی ہوگئی

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: