Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 2

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 2

شام کے سات بج چکے تھے۔ ”یااللہ اتنی دیر ہوگئی۔۔۔۔۔ اف سارے زمانے میں کیسی بدنامی ہوجائے گئی۔“ اس نے چشمِ تصور سے اپنے ابو کی جھکی کمر دیکھی لی تو آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ نکلے۔ وہ بے قراری کے عالم میں کمرے میں ٹہلنے لگی۔ اسکے جسم پر موجود کالج یونیفارم اب تک ہلکا ہلکا نم تھا۔ سردی کے مارے اسکے ہاتھ جم رہے تھے۔ اس نے ہیٹر جلایا اور اسکے پاس بیٹھ کر ہاتھ سینکنے لگی۔ اسکا ذہن مسلسل اس جگہ سے بھاگ نکلنے کی تدابیر پر غور کر رہا تھا۔ جسم کو ذرا حرارت ملی تو ذہن پر چھائ مایوسی کی دھند چھٹنے لگی اور وہ ایک بار پھر سے چاق و چوبند ہو کر اٹھی اور کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھی۔ دبیز پردہ ہٹایا مگر مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کھڑکی میں لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ اسی لمحے دروازہ کھلا اور کسی کے بھاری قدموں کی چاپ ابھری۔ ثناء نے جلدی سے آنچل سر پر ڈال لیا مگر پلٹی نہیں۔ اسکے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔
”ثناء اکرام۔“ایک بھاری بھرکم آواز کمرے میں گونجی تو وہ جی جان سے دہل گئی۔
”یااللہ یہ تو میرا نام بھی جانتا ہے۔“ اس نے سہمے ہوئے انداز میں دل میں سوچا۔
ًبیٹھ جاؤ۔” پھر وہی آواز گونجی اور وہ ڈرتے ڈرتے پلٹی۔ وہ ایک دراز قد انسان جس نے بلکل انگریزی فلموں کے جاسوسوں کی وضع قطع اختیار کر رکھی تھی۔ سیاہ پتلون سیاہ السٹر جس کے کالر کھڑے کر رکھے تھے۔ سر پر سیاہ فلٹ ہیٹ جس کا گوشہ پیشانی تک جھکا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ واضح نہ تھا۔ وہ اس پراسرار سے انسان کو دیکھ کر مزید ہیبت کا شکار ہوگئی۔ آنکھوں سے آنسو نکلنے کو بے تاب ہوگئے۔
”رونے کی ضرورت نہیں۔ بیٹھ جاؤ۔“ اب کی بار وہ ذرا سخت لہجے میں بولا تو ڈرتے ڈرتے بستر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی سمٹی سمٹائی سی۔ آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں وہ بار بار پلکیں جھپک رہی تھی۔
”روؤ مت مجھے بزدل لڑکیاں بلکل پسند نہیں۔“ بارعب آواز نے ایکبار پھر اسے ڈرایا۔
”پلیز مجھے میرے گھر پہنچا دیجیئے۔ میرے گھر والے پریشان ہورہے ہونگے۔“ وہ ملتجیانہ انداز میں بولی۔
”گھر۔“ بے ہنگم قہقہے کی آواز سے پورا کمرا گونج اٹھا۔
”یا وحشت اتنا لمبا قہقہہ۔“ اس کے قہقہے سے گھبرا کر وہ اسکی طرف دیکھنے لگی۔
ًاب تم صدا گھر کو ترستی رہوگئی۔“ وہ بڑی کرخت آواز میں بولا۔
ًنہیں۔۔۔ نہیں۔ ایسا ظلم نہ کرو میرے ساتھ۔ اللہ کیلیئے مجھ پر ترس کھاؤ۔” روتے روتے ثناء کی ہچکی بندھ گئی۔ دفعتاً چند ملے جلے قہقہوں پر اس نے بےتحاشہ اپنا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا۔ اور پھر دروازے کے پاس کھڑے فہد، رانی، نمرہ، تائی اماں اور امی کو بے تحاشہ ہنستے دیکھ کر اسکے ہونٹ مارے تحیر کے کھل گئے۔ اس نے دیکھا اب وہ پراسرار سا انسان بھی اپنے سر سے ہیٹ اتار کر السٹر کے کالر گرا چکا تھا۔ ”ہارون۔“ وہ بے اختیار بولی۔
”جناب۔“ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر شوخی سے بولا تو وہ اچھل کر کھڑی ہوئی۔
”ہیپی برتھ ڈے۔“ فہد بولتا ہوا اندر داخل ہوا تو ثناء کا دل چاہا کہ لیمپ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔
”تو یہ تم سب کی شرارت تھی۔“ وہ دانت پیس کر بولی۔
”نہ نہ یہ سب پلینگ تو ہارون بھائی کی تھی۔ ہم نے تو بس انکا ساتھ دیا ہے۔“ رانی جلدی سے بولی تو وہ ہارون کی طرف پلٹی۔ جو اب بلکل بے تعلقانہ انداز میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔
”ارے بھئ ہم نے سوچا کیوں نہ اپنی بیٹی کی سالگرہ ذرا منفرد انداز میں منائی جائے۔ اسلیئے ہم سب نے مل کر فارم ہاؤس میں تمہارے لیئے سرپرائز کا انتظام کرلیا۔“ تائی امی نے اسے بتایا تو اسے یکدم یاد آیا کہ یہ تو تایا ابا کے فارم ہاؤس کا ہی کمرہ تھا بس سیٹنگ تھوڑی تبدیل کر دی گئی تھی۔ اسے اپنی کم عقلی پر غصہ آیا کہ فارم ہاؤس کو پہچان نہ سکی۔
”وہ تو ہمیں تم پر ترس آگیا ورنہ یہ ڈرامہ تھوڑی دیر اور جاری رہتا تو زیادہ لطف آتا۔“ ہارون نے تپانے والی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر کہا۔
”مجھے اس قسم کے سرپرائز بلکل پسند نہیں ہے میں تایا ابو سے آپکی شکایت کرونگی۔“ وہ غصیلے لہجے میں بولی۔
”ثناء یہ کیا بدتمیزی ہے۔“ امی نے فوراً سے اسے گھر کا تو وہ پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئ۔ کچھ دیر بعد نمرہ اور رانی اسے بمشکل تمام کیک کاٹنے پر راضی کر کے بڑے کمرے میں لے آئیں تھیں۔
”یہ لیں چلا دیں چھری۔ ویسے بھی اس کام میں آپ کافی ماہر ہیں۔“ چھری تھماتے ہوئے ہارون نے پہلا جملہ بلند جبکہ دوسرا دھیمی آواز میں کہا تو وہ سلگ اٹھی۔ لیکن کچھ کہے بنا چھری پکڑ کر کیک کاٹا۔ تالیوں کی گونج کے ساتھ ہارون کی مسلسل تپانے والی نظریں اسکا دل جلا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک حسنین رضا کی تین اولادیں تھیں۔ احمد رضا، اکرام رضا اور سب سے چھوٹی سمیہ بیگم۔
احمد رضا آرمی سے منسلک تھے اور انکے چار بچے تھے۔ ہارون، الماس، فہد اور رانی۔ ہارون سوفٹ وئیر انجنئیر تھا اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کافی اچھی پوسٹ پر تھا۔ الماس پچھلے برس ہی اپنی پھپھی سمیہ بیگم کے اکلوتے لڑکے عمران کیساتھ بیاہ کر سعودیہ چلی گئی تھی۔ فہد بی کام جبکہ رانی میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی۔ احمد رضا نے آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک خوبصورت سا بنگلہ بنالیا تھا۔ ان کا گھرانہ خوشیوں کا گہوارہ تھا۔
اکرام رضا ایک جنرلاسٹور کے مالک تھے۔انکے تین بچے تھے۔ محسن جو کہ ایم بی اے کرنے کے بعد نوکری تلاش کر رہا تھا۔ پھر ثناء جق گریجویشن کے آخری سال میں تھی اور سب سے چھوٹی نمرہ فرسٹ ائیر میں تھی۔ یہ ایک مڈل کلاس گھرانہ تھا۔
ہارون اور ثناء کی نسبت بچپن سے طے تھی۔ اونچے دانتوں، چوڑے دہانے اور جھیل سی آنکھوں والی سانولی سلونی ثناء اکثر ہی ہارون کی شرارتوں کا شکار رہتی۔ یہ محسن بھائی اور نمرہ بھی اسے تنگ کرنے میں اکثر ہارون کا ساتھ دیتے اور تو اور امی، ابو، تایا اور تائی بھی اسکی شرارتوں کا کوئی نوٹس نہ لیتے تو وہ اپنے آپ سے الجھتی رہتی۔
یہ بھوری بھوری آنکھوں والا ہارون اسے بہت عزیز تھا۔ سارے خاندان میں ہارون رضا کی خوبصورتی کے چرچے تھے۔ خاندان کی ہر لڑکی اسے پالینے کی تمنا کیا کرتی۔ وہ تھا بھی تو اللہ کی بنائی ہوئی انمول تصویر۔ سُرخ و سفید رنگت، لمبا اونچا قد، بھرا بھرا مردانہ وجاہت کا حامل جسم، بھورے رنگ کے چمکیلے بال جن کی چند لٹیں ہمیشہ اس کی کشادہ پیشانی پر پڑی رہتیں۔ وہ ثناء کو تنگ تو بہت کرتا تھا لیکن وہ آج تک یہ نہ جان سکی تھی کہ آیا منگیتر ہونے کی حیثیت سے وہ اسے پسند بھی کرتا ہے یا نہیں اور یہ سوچ اکثر ہی اسے پریشان کیۓ رکھتی۔ ہارون کا مزاج ہی کچھ ایسا تھا۔ وہ ہمہ وقت مذاق کے موڈ میں نظر آتا۔ خاندان کے ہر فنکشن میں وہ کزنز ک جھرمٹ میں گھِرا ہی نظر آتا، ہر لڑکی کیساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتا تو ایسے میں سب سے الگ تھلگ بیٹھی ثناء کا دل سلگ اٹھتا۔ اسکی انا کو یہ بھی تو گوارا نہ تھا کہ اپنے دل کا حال از خود اسکے سامنے عیاں کردیتی۔ بس اندر ہی اندر جلتی رہتی اور ہارون کے حوالے سے خیالات استوار کرتی جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہیلو ڈارک پیج!“ اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا ہارون رضا کو اپنی خوبصورت اٹھان اور دل موہ لینے والی مسکراہٹ کیساتھ سامنے پایا۔ سیاہ پتلون اور سفید ڈریس شرٹ میں اسکا وجیہہ سراپا بہت دلکش لگ رہا تھا۔ سن گلاسز اسنے گریبان پر اٹکا رکھی تھی۔ اور سیاہ کوٹ بائیں بازو پر ڈالا ہوا تھا۔ شاید وہ آفس سے سیدھا ادھر ہی چلا آیا تھا۔
”ڈراک پیج۔۔“ ثناء کا خون کھول اٹھا۔ وہ ہمیشہ سے ہی اسکی سانولی رنگت پر فقرے چست کرنے کا عادی تھا۔ بچپن میں تو چلو خیر تھی مگر اب کیا تُک بنتی تھی۔ وہ اکثر دبی زبان میں اسے کافی سخت سُت سنا بھی دیا کرتی مگر وہ ہارون ہی کیا جو چکنا گھڑا نہ ہو۔
”کیا ہوگیا؟ نظر لگاٶ گی کیا؟“ وہ اسکے یوں گھور گھور کر دیکھنے پر چوٹ کرگیا۔
”بڑی غلط فہمی ہے آپکو اپنے متعلق۔“ وہ جل کر بولی۔
”غلط فہمی نہیں بی بی ثناء اسکو خود آگاہی کہتے ہیں۔“ وہ فرضی کالر جھاڑ کر بولا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی کڑوا سا جواب دیتی محسن بھائی اسے پکارتے چلے آۓ۔
”ثناء کون ہے دروازے پر۔۔۔۔ ارے ہارون تم۔ اندر آٶ ناں باہر کیوں کھڑے ہو۔“ وہ ہارون کو دیکھ کر سراپا خوش اخلاقی بن گئے۔ ثناء برا سا منہ بنا کر سائیڈ پر ہوگئی اور ہارون اندر آگیا۔
”میں تو اندر ہی آنا چاہ رہا تھا مگر تمہاری بہن صاحبہ رکاوٹ بنی کھڑی تھیں۔“ اس نے محسن سے بغل گیر ہوتے ہوۓ اس پر پوائنٹ مارا۔
”بری بات ہے ثناء۔ یار تم چلو اندر غالباً آفس سے آرہے ہو؟“ محسن بھائی اسے تنبیہہ کرنے والے انداز میں گھوری ڈال کر ہارون کی طرف متوجہ ہوگئے۔
”ہاں یار بہت بھوک لگ رہی تھی تو سوچا ادھر ہی چلا آٶں، گھر جانے میں تو زیادہ وقت لگ جاتا اور ہوٹلوں کا کھانا تم جانتے ہو کہ مجھے ہضم نہیں ہوتا۔“ وہ کتنی مسکین سی صورت بناۓ کہہ رہا تھا۔ ثناء خوب جانتی تھی کہ وہ ادھر صرف اور صرف اسکا دل جلانے آتا تھا۔
”ارے یار تمہارا اپنا گھر ہے۔ چلو اندر امی کے پاس بیٹھتے ہیں۔ ثناء! جلدی سے ہارون کے لیۓ کھانا لاٶ اور ساتھ میں چاۓ بھی بنا لینا۔“ محسن بھائی کی تو ویسے بھی ہارون سے گاڑھی چھنتی تھی اور پھر وہ ثناء کا ہونے والا شوہر بھی تھا اس لیۓ انکی خوش اخلاقی عروج پہ ہوتی۔
”ہاں ملازمہ ہوں ناں میں۔“ اس نے کلس کر سوچا۔
”اپنے جیسی کالی چاۓ نہ بنالانا ڈارک پیج۔“ وہ اندر جاتے جاتے بھی اس کو چھیڑنا نہ بھولا تھا۔ وہ پاٶں پٹختی ہوئی کچن میں چلی آئی اور فریج سے آٹا نکال کر روٹیاں بنانے لگی۔ ”کیا میں اتنی کالی ہوں؟“ اس نے روٹی بیلتے ہوۓ سوچا۔ ”اگر ہارون اتنا خوبصورت ہے تو اس کوئی حق نہیں پہنچتا کہ دوسروں کی بدصورتی کا مذاق اڑاۓ۔“ دل میں درد کی ٹیسیں سی اُٹھیں اور آنکھوں میں آنسو اُمڈ آۓ۔ ”ڈارک پیج۔“ رہ رہ کر اسکا دیا ہوا لقب اسکی سماعتوں میں گونج اٹھتا اور وہ آنسوٶں کو پیتی ہوئی اسکے لیۓ کھانا تیار کرتی رہی۔

Read More:   Tery Ishq Nachaya by Hoor e Shumail – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply