Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 3

0

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 3

”صفیہ آپا نے شادی کی کوئی بات کی؟“ ذکیہ(ثناء کی خالہ) نے بڑے کریدنے والے انداز میں ساجدہ(ثناء کی امی) سے پوچھا۔
”نہیں آپا ابھی تک تو کوئی نہیں کی۔“ ثناء کی امی کچھ اداسی سے بولیں۔
”ارے تو پھر کب کرینگی؟ اب تو ثناء کو امتحان دیۓ ہوئے بھی ایک مہینہ گزر چکا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے آپا کی نیت میں کچھ کھوٹ ہے۔“ ذکیہ نے کہا۔
”نہیں نہیں ایسا نہ کہیں آپا۔“ ساجدہ گھبرا کر بولیں۔
“ارے بھئی تم تو بڑی بھولی ہو۔ ہارون اتنا خوبصورت ہے، اونچی پوسٹ پر ہے اور پھر احمد بھائی اتنے امیر ہیں۔ سچ تو یہ کہ تمہارے خاندان سے اس خاندان کا کچھ جوڑ نہیں بنتا۔ اور ثناء بھی کہاں ہارون کیساتھ جچتی ہے۔“ ذکیہ نے کچھ زیادہ ہی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا۔
”لیکن آپا ثناء اور ہارون بچپن کے منگیتر ہیں اور جہاں تک بات ہے احمد بھائی اور ہماری حیثیت کے فرق کی تو یہ بات ہمیشہ سے اظہر من الشمس ہے۔“ ساجد نے کہا۔ ”صفیہ بھابھی اور احمد بھائی نے خود ثناء کو مانگا تھا جب وہ صرف پانچ دن کی تھی۔تب تو ثناء انہیں بہت پیاری لگتی تھی۔“
”ارے بچپن میں تو سبھی بچے پیارے لگتے ہیں۔“ ذکیہ کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہوۓ بولیں۔
”لیکن آپا! یہ رشتہ انہوں نے خود جوڑا تھا اور آج تک تو صفیہ بھابھی اور احمد بھائی کی کسی بات یا رویے سے مجھے ایسا نہیں لگا کہ وہ لوگ یہ رشتہ توڑنا چاہتے ہیں۔“ ساجدہ الجھن آمیز انداز میں بولیں۔
”ارے تم کسی دوسری دنیا سے تو نہیں تو آئی۔ وہ اپنے منہ سے تھوڑا ہی کہیں گے کہ انکو یہ رشتہ توڑنا ہے۔ بس چپ چاپ ہارون کا رشتہ کہیں اور طے کرکے تمہیں مٹھائی بھجوا دینگے۔“ ذکیہ نے ہاتھ ہلا کر کہا۔
”ہاۓ آپا کیوں ہولاۓ دے رہی ہیں۔ ہم تو ثناء کی طرف سے بالکل مطمئن ہوۓ بیٹھے تھے۔“ ثناء کی امی دہل گئیں۔
”ارے میری بھولی بہن لوگ تو نکاح توڑ دیتے ہیں یہ تو محض زبانی کلامی نسبت ہے وہ بھی برسوں پرانی۔“
”تو آپا! اگر انہوں نے ایسا کرنے کا سوچ ہی لیا ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں؟“ ساجدہ نے بے بسی سے کہا۔ پھر ذکیہ ہولے ہولے سرگوشیوں میں کچھ کہنے لگیں اور ستون کی اوٹ میں کھڑی ثناء جو خالہ سے چاۓ کا پوچھنے آئی تھی، بُجھے دل کیساتھ واپس پلٹ گئی۔ آج سے پہلے اس نے امی کو اتنا پریشان نہ دیکھا تھا۔ ”یہ سب پریشانی میری وجہ سے ہے۔ اے اللہ! کیا ہوجاتا اگر تُو مجھے تھوڑی سی اچھی شکل دے دیتا تو میرے ماں باپ میری طرف اتنے فکر مند تو نہ ہوتے۔“ وہ دکھ سے سوچتی ہوئی کچن میں چلی آئی اور چولہے پر چاۓ کا پانی رکھا۔ اس کا دل اپنی قسمت کی سیاہی پر یقین کرتا چلا جارہا تھا، اسے اپنے چہرے کے سانولے رنگ کی طرح اپنا مستقبل بھی تاریک دکھائی دینے لگا تھا۔ ”ہارون تم نے بڑا سوچ سمجھ کر ہی مجھے ڈارک پیج کہا تھا۔“ وہ یاسیت بھرے انداز میں سوچے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہاں تو پھر پرسوں آپ ہماری سالگرہ میں تشریف لارہی ہیں؟“ ہارون نے اچانک ہی اسکے عقب میں آکر اسے مخاطب کیا تو وہ کو اپنے دھیان میں مگن کباب تلنے میں مصروف تھی بے تحاشا چونک کر پلٹی۔ ہارون اپنی براٶن آنکھوں میں شوق کا اک جہان آباد کیۓ اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ جھجھک گئی۔
”میرے آنے یا نہ آنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔“ اسنے مدھم مگر تلخ لہجے میں جواب دیا اور پلٹ کرکفگیر کی مدد سے فرائنگ پین میں کباب پلٹنے لگی۔
”اگر میں کہوں کہ آپکے نہ ہونے سے ہماری سالگرہ کی تقریب کا سارا حسن ماند پڑ جاۓ گا تو۔۔۔“
”تو مجھے معلوم ہے کہ یہ صرف ایک مذاق ہوگا۔“ وہ اس کی بات کاٹ کر تیز لہجے میں بولی تو ہارون نے اس کی پشت کو گھورا۔ ہلکے سبز رنگ کے سادہ سے شلوار قمیض اور بڑا سا دوپٹہ سر پہ اوڑھے وہ ہمیشہ کی طرح بالکل سادہ سی تھی۔
”ضروری تو نہیں ثناء کہ میں آپکے ساتھ ہر وقت مذاق ہی کروں۔“ وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔
”ہاں جانتی ہوں۔۔ کبھی آپ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور کبھی میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ اب ان دونوں moods میں فرق تو ہے ناں۔“ اس نے کباب پلیٹ میں نکالتے ہوۓ طنزیہ انداز میں کہا تو ہارون کا چہرہ ایک لمحے کو تاریک سا ہوگیا۔
”چلیں جیسے آپکی مرضی۔ میں تو ویسے بھی چچا جان اور چچی کو خاص طور پر مدعو کرنے آیا تھا۔“وہ شانے اچکا کر لاپرواہی سے بھرے لہجے میں کہہ کر کچن سے چلا گیا تو ثناء نے پلٹ کر دیکھا پھر ملول سی ٹرالی میں برتن سیٹ کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”احمد منزل“ آج بقعہء نور بنی ہوئی تھی۔ جلتے بجھتے رنگین قمقمے کچھ ایسا سماں پیدا کر رہے تھے جیسے بارش کے بعد آسمان پر سات رنگوں کی دھنک بکھر جاتی ہے۔
ہر سو لہراتے رنگ برنگے آنچل، لڑکیوں کی مترنم ہنسی اور چوڑیوں کی کھنک، ڈیک سے برآمد ہوتی ہلکی ہلکی موسیقی سے ہم آہنگ ہورہی تھی۔ ہر طرف سینٹ اور عطر کی ملی جلی خوشبوئیں چکرا رہی تھیں۔ بڑے سے لان میں اس تقریب کا شاندار سا اہتمام کیا گیا تھا۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک جانب اپنے کزنز اور دوستوں کے جھرمٹ میں کھڑا ہارون گہرے نیلے تھری پیس سوٹ میں بہت جچ رہا تھا۔ بظاہر تو وہ خوش گپیاں کر رہا تھا مگر بے قرار نظریں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ ثناء کا انتظار اسے تڑپاۓ دے رہا تھا اور وہ تھی کہ آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ وہ اکھڑ سی لڑکی اسے بچپن سے ہی کتنی پیاری لگتی تھی، اپنی تمام تر بد مزاجیوں اور بد تمیزیوں کے باوجود وہ اس کی چاہت میں دھیمے دھیمے سلگتا رہا تھا۔ اسے تنگ کرکے، ستا کے وہ ہمیشہ اس کے آس پاس رہنے کی کوشش کرتا اور وہ اس کے دل کے حال سے بے خبر بس خفا خفا انداز میں اسے سخت سُت سناتی رہتی۔۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ کسی کار کے ہارن کی آواز پر چونک پڑا۔ اکرام چچا کی چھوٹی سوزوکی مہران گیٹ کے اندر داخل ہورہی تھی۔ وہ اپنے دوستوں سے معذرت کرتا ہوا پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسی طرف چلا آیا جہاں گاڑی سے محسن کے علاوہ سب برآمد ہوۓ۔
”السلام علیکم!“ وہ پرتپاک انداز میں آگے بڑھا اور چچی کے سامنے سرجھکایا۔
”وعلیکم اسلام! بیٹا جیتے رہو۔ خوش رہو۔ لمبی عمر پاؤ۔“ انھوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دل سے دعا دی۔ پھر وہ اکرم چچا سے بغل گیر ہوا۔
”محسن نہیں آیا چچی؟“ اس نے ایک اچٹتی سی نظر ذرا الگ سی ہو کر کھڑی ثناء پر ڈالتے ہوئے چچی سے پوچھا۔
”اسے ایک ضردری کام ہے۔ وہ ذرا دیر سے آئے گا۔“ چچی نے جواب دیا۔
”اچھا آپ لوگ اندر چلیئے ناں۔ امی ابو کئی بار آپکا پوچھ چکے ہیں۔“ اس نے چچا چچی سے کہا تو وہ دونوں رہائشی عمارت کی جانب بڑھ گئے۔
”ہیپی برتھ ڈے ہارون بھائی۔“ نمرہ نے مہکتے سرخ گلابوں کا بکے اسے پکڑایا تو وہ مسکرا اٹھا اور پیار سے اپنی چھوٹی بہن کے سر ہاتھ رکھا۔
”تھینک یو چھوٹی۔ ویسے تم لوگ اتنی دیر سے کیوں آئے؟“
”ہم تو کب سے تیار بیٹھے تھے ہارون بھائ۔ بس یہ ثناء آپی نے دیر لگا دی۔“ نمرہ نے سارا مدعا ثناء پر ڈال دیا جو ہلکے گلابی رنگ میں ملبوس دوپٹہ ہمیشہ کی طرح سر اور سینے پر پھیلائے میک اپ سے مبرہ چہرہ لیئے بلکل سادہ سی تھی۔
”ہاں بھی! وقت کی پاپندی کرنا تو کوئ آپ کی ثناء آپی سے سیکھے۔“ وہ لفظ ثناء آپی پر زور دیتے ہوئے شریر لہجے میں بولا۔
”اور مہمانوں کا استقبال کرنا کوئی آپ سے سیکھے۔“ امی ابو کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ثناء نے بھی اسکے طرزِ تخاطب پر چوٹ کرتے ہوئے رہائشی عمارت کی جانب قدم بڑھا دیئے اور ہارون بھی اسکی چوٹ کا مزہ لیتے ہوئے، نمرہ کو ساتھ لیئے مہمانوں کی طرف چلا آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھیر ساری تالیوں کی گونج میں ہارون رضا نے اپنی اٹھائیسویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ چاروں طرف سے مبارکباد کا شور اٹھا۔ میز پر تحفوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ پُر تکلف سی چائے کا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا۔ ہر طرف ملازم مستعدی سے مہمانوں کو چائے سرو کررہے تھے۔ ہارون ہمیشہ کیطرح کزنز کے جھرمٹ میں کھڑا خوش گپیوں میں مگن تھا۔
”بھئ فوزیہ آج تو بڑی اسمارٹ لگ رہی ہو۔“ اس نے قدرے بلند انداز میں اپنے طرح دار ماموں زاد فوزیہ کی تعریف کی تاکہ قریب ہی کھڑی ثناء بھی سن لے۔
”تھینک یو۔“ فوزیہ نے اپنے سٹیرز میں کٹے بالوں کو ایک انداز میں جھٹکتے ہوئے اٹھلا کر جواب دیا۔
”ویسے سلیم یار لڑکیوں کو ایٹ لیسٹ کپڑے پہنے کا سینس تو ہونا ہی چاہیئے۔ کپڑوں اور رنگوں کے معاملے میں فوزیہ کا ٹیسٹ عمدہ ہے۔“ ہارون نے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی نگاہیں فوزیہ کے چہرے پر جما دیں۔
”ہوں یہ تو ہے۔“ سلیم نے تائیدی انداز میں سر کو جنبش دی۔
”ویسے تمہیں کون اتنا careless نظر آرہا ہے؟“ نومی نے کریدنے والے انداز میں پوچھا۔
”میں کیا بتاؤ تم خود ہی فیصلہ کرلو۔“ وہ لا پرواہی سے کندھے اچکا کر بولا تو فوزیہ سمیت سب کی نظر بےاختیار سامنے کھڑی ثناء پر جم گئیں۔
”اوہ سانولا رنگ اور گلابی لباس۔“ فوزیہ برا سا منہ بنا کر بولی۔
”کم از کم ایک دفعہ آئینہ دیکھ لیتی تو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہ ہوتی۔” ہارون دبی زبان میں بولا اور ثناء کے دل پر جیسے گھونسا پڑا تھا۔ وہ اسے یوں سب کے سامنے تماشہ بنا دے گا یہ بات کتنی تکلیف دہ تھی۔
”چھوڑو یار اب ایسی بھی بری نہیں لگ رہی۔“ نومی شاید اس گفتگو سے بور ہوگیا تھا۔ ”اور ویسے بھی تمہاری تو بچپن کی۔۔۔۔۔۔“
”بس بس پلیز۔۔۔۔“ ہارون کی براؤن آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ اسکا خیال تھا کہ ثناء کوئی سخت سا جواب ضرور دے گی مگر وہ تو ایک خاموش سی نظر اس پر ڈال کر وہاں سے ہٹ گئ تھی اور اسکے جاتے ہی ہارون کو سب رنگ پھیکے لگنے لگے۔ وہ کچھ لمحوں بعد ہی سب سے معذرت کر کے ثناء کی تلاش کرتا رہائشی عمارت مین چلا آیا۔ مختلف کمروں سے چکراتا ہوا وہ اوپری منزل پر آیا تو اسے گیلری میں کھڑا دیکھ وہیں چلا آیا۔ وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔
”یہاں کیوں کھڑی ہو؟“ اس نے ریلنگ پر ہاتھ جماتے ہوئے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا۔ ثناء رخ موڑ گئی۔
”تم نے مجھے سالگرہ کا تحفہ نہیں دیا؟“
”آپکو مجھ بدذوق کے تحفے کی کیا ضرورت۔۔۔۔ آپکو تو بہت اعلی ذوق دکھنے والوں سے تحفے ملے ہیں۔“ بھیگے لہجے میں طنز کر کے تیز تیز قدموں سے چلتی وہاں سے چلی گئی۔ ہارون چپ چاپ اسے جاتا دیکھتا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہال کمرے میں سب جمع ہوگئے اور ہارون سے گانے کی فرمائش ہونے لگیں۔ ہارون نے پیانو بجانا باقاعدہ سیکھ رکھا تھا اور آواز اسکی قدرتی طور پر کافی اچھی تھی۔ وہ خاندان کے اکثر فنکشنز میں کزنز کی فرمائش پر گانا سنایا کرتا تھا۔ سو آج بھی وہ اٹھ کر کونے میں رکھے پیانو کے سامنے جا بیٹھا۔ اسکی نظریں کچھ فاصلے پر الگ تھلگ بیٹھی ثناء پر جا رکیں جو چپ چاپ نظریں جھکائے اپنے ناخنوں سے کیوٹکس کھرج رہی تھی۔

تو میرے پیار کا گیت ہے
تو میرے دل کی آواز ہے
میرے ہونٹوں پہ نغمے تیرے
میرے نغموں کا تو ساز ہے

پیانوں کی مدھم سی دھن سے ہم آہنگ ہوتی اسکی بھاری اور گھمبیر سی آواز نے ماحول پر فسوں سا طاری کردیا تھا۔ ثناء نے بلا ارادہ ہی نگاہیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔ وہ سر جھکائے بجا رہا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔

زندگی کے کسی موڑ پر
ساتھ تیرا نہ چھوڑیں گے ہم
لاکھ توڑے زمانہ ستم
تجھ سے رشتہ نہ توڑیں گے ہم

ہارون نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملی اور ہارون کے ہونٹوں کو مدھم سی مسکراہٹ چھو گئی۔

تو محبت کا ہمراز ہے
تو میرے پیار کا گیت ہے
تو میرے دل کی آواز ہے
میرے ہونٹوں پہ نغمے تیرے
میرے نغموں کا تو ساز ہے

گانا ختم ہوتے ہی سارا حال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ تبھی ثناء اٹھ کر چپکے سے وہاں سے کھسک گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمانوں کے جانے کے بعد وہ تھکا تھکا سا اپنے کمرے میں آیا اور بتی جلاتے ہی بستر کی سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایک خوبصورت سے پیکٹ نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اٹھایا تو ایک خوبصورت سی ڈائری اس میں سے پھسل کر گر پڑی۔ ہارون نے جھک کر اسے اٹھایا اور پہلا صحفہ کھولا۔ ثناء کی موتیوں جیسی لکھائی میں لکھی وہ سطریں چمک رہی تھیں۔ ”سالگرہ مبارک ہو۔ خدا آپکو ہزار سال زندگی عطا کرے۔ ثناءاکرام۔“
ہارون نے سہ بار اس سطر کو پڑھا۔ ”پگلی۔“ زیر لب کہہ کر وہ مسکرا اٹھا اور ڈائری کو سینے سے بھینچ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ثناء آپی! ثناء آپی!۔۔۔۔۔ خوشخبری۔۔۔۔۔ خوشخبری۔“ نمرہ بھاگی ہوئی آئی اور پھولی سانسوں کے درمیاں اٹک اٹک کر بولی۔
”ایسی کونسی خوشخبری ہے جو ہماری نمرہ باؤلی ہوئی جارہی ہے۔“ ثناء جو دھوبی سے آئے کپڑے سنبھال رہی تھی کام چھوڑ کر نمرہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
”آپ بھی سنیں گی تو خوشی سے پاگل ہوجائینگی۔“ نمرہ نے آنکھیں میچ کر کہا۔
”اچھا بس! اب یہ سسپنس ختم کرو۔“ ثناء نے اسے گھورا۔
”اوکے بتاتی ہوں۔۔۔۔۔ ایکچوئیلی میں ابھی ابھی امی ابو کی باتیں سن کر آرہی ہوں۔“
”یہ کونسی بڑی بات ہے۔ ٹوہ لینے کی عادت تو تمہیں بچپن سے ہے۔“ ثنا برا سا منہ بنا کر بولی۔
”اوہو بھئ! آپکے مطلب کی بات ہے سنیں تو سہی۔“
”سناٶگی تو سنوں گی ناں۔“ وہ جھنجھلا گئی۔
”ابو ابھی امی کو بتا رہے تھے کہ تایا ابو اور تائی امی نے شوال کی دس تاریخ کو آپکو اور ہارون بھائی کو عمر بھر ساتھ رہنے کی سزا دینے کا عندیہ دیا ہے۔“ یہ کہتے ہوۓ وہ بے اختیار ثناء سے لپٹ گئی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: