Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 4

0

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 4

”ارے ہٹو بھی اب۔“ ثناء نے اسے پرے دھکیلا اور تیزی سے اپنے کمرے کیطرف بڑھ گئی۔ اپنے کمرے میں آتے ہی آنسو کسی منہ زور ریلے کی طرح پلکوں کا بند توڑ کر بہہ نکلے۔
یہ تو کھڑے کھڑے منگنی توڑدیں لیکن بیچاری پر ترس آجاتا ہے۔ فوزیہ کا یہ جملہ وہ باوجود کوشش نہ بھُلا سکی۔
کیا میں اتنی گئی گزری ہوں کہ ہارون مجھ پر ترس کھائے. اسکے سینے میں چُبھن سی ہونے لگی.”اے خدایا! ہم لڑکیاں اتنی بے بس کیوں ہوتی ہیں۔ نہ ہمیں اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے نہ مرنے کا۔ اب ساری زندگی ہارون مجھ پر یہ جتاۓ گا کہ وہ ترس کھا کر مجھے بیاہ لایا ہے، مجھے محبت کی بھیک دی ہے۔۔ یوں جیسے میں کوئی بھکارن ہوں۔“ اسکے حلق میں سوئیاں چُبھنے لگیں۔ اک خلش اسے چین نہ لینے دے رہی تھی. ترس کا لفظ اسکے دماغ پر ہتھوڑے کیطرح برس رہا تھا. دل و دماغ میں اک آگ سی لگی ہوئی تھی جن کی چنگاریاں اسکا جسم جلائے دے رہی تھیں. وہ تکیئے میں منہ چھپائے بڑی بے قراری سے روئے چلے جارہی تھی. یوں جیسے ساری زندگی کے جمع شدہ آنسو آج ہی بہا دینے کا ارادہ ہو.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی گھر میں شادی کے ہنگامے جاگ گئے. دن رات بازاروں کے چکر لگتے. ثناء تو امی اور نمرہ کے ہمراہ کبھی شاپنگ کیلیئے نہ جاتی۔ آخری عشروں تک کپڑوں اور زیورات کی تیاری اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی تھی۔ اور جوں جوں شادی کے دن قریب آرہے تھے، ثناء کا ڈیپریشن بڑھ رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر اس بے تحاشہ غم کو لیئے جارہی تھی۔ پھر انتیسویں روزے کو چاند نظر آگیا اور محلے سے لڑکیاں انکے گھر جمع ہو کر ڈھولک بجانے لگیں۔ اسے مایوں بٹھا دیا گیا۔ عید کے روز سے گھر میں مہمانوں کا تانتا باندھ گیا تھا۔ دودھیالی رشتے داروں کو زیادہ تر ہارون کے فارم ہاؤس میں ٹھرایا گیا تھا۔ لیکن ثناء کے ننھیالی رشتے دار تو انکے گھر ہی آرکے تھے۔ خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ اور ایسے میں وہ چھپ چھپ کر آنسو بہاتی رہتی۔ کبھی جو امی یا نمرہ اسے روتے دیکھ لیتی تو اس سے لپٹ کر خود بھی رونے لگتیں۔ گھر میں ایک میلے کا سماں تھا۔ کوئی آرہا تھا تو کوئ جا رہا تھا۔ اور وہ ان سب باتوں سے بے نیاز اپنے دکھ کو سینے سے لگائے آنے والے ان لمحوں کا انتظار کر رہی تھی جب ہارون اسے اپنی محبت کی بھیک دے گا۔ جیسے وہ نہ لے سکے گی نہ پھینک سکے گی۔ کیسے جان گسل لمحات ہونگے وہ۔ ”یااللہ ان لمحوں سے پہلے تو مجھے موت دے دے۔“ وہ سسک اٹھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر بارات کا دن آن پہنچا۔ اس نے رو رو کر اپنا برا حال کرلیا تھا۔ امی بھی اسے سینے سے لگائے کتنی ہی دفعہ رو چکی تھی۔ محسن بھائی بھی اپنی سوجی سوجی آنکھوں سمیت کتنی ہی دقعہ اسے کمرے میں آئے اور بڑی بے قراری سے چلے گئے۔ اور وہ اپنے کندھوں پہ دکھوں کی صلیب اٹھائے چپ چاپ زندہ لاش بنی بیٹھی رہی۔ جولائی کی تیز گرمی کے پیشِ نظر فنکشن شام کا رکھا گیا تھا۔ عصر کے وقت وہ پالر سے تیار ہو کر نمرہ کے ہمراہ محسن بھائی کی گاڑی میں ہوٹل پہنچی تھی۔ تقریباً سبھی مہمان آچکے تھے بس بارات کا انتظار تھا۔ اسے برائیڈل روم میں بٹھا دیا گیا۔ رشتے دار خواتین وفورِ شوق سے آ کر اسے دیکھتی اور ڈھیروں دعائیں دیتی وہیں برجمان ہوجاتیں۔ چھوٹے سے کمرے میں رش لگ گیا تھا۔ ثناء کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ اسی دم ”بارات آگئی بارات آگئی“ کی پکار کے ساتھ ہی بینڈ باجوں کا شور سنائی دیا تو بیتشر خواتین اٹھ کر باہر کی طرف لپکی۔ نمرہ بھی بارات کے استقبال کیلیئے چلی گئی۔ بینڈ باجوں کی دلنواز دھنیں فضا میں بکھر رہی تھیں۔ ثناء کے ہاتھ پاؤں سرد پڑنے لگے۔
”ارے دلہن کو بھی بارات دکھاؤ اچھا شگون ہوتا ہے۔“ اسکی ایک دور پرے کی خالہ نے لڑکیوں کو مشورہ دیا تو وہ اسے کھڑکی کے قریب لے آئیں۔ جس کے شیشوں کے اس پار باہر کا منظر بڑا واضح ہورہا تھا۔
”ارے دیکھ لو اپنے دلہا کو! پھر نہ کہنا ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔“ صبا شرارت سے باز نہ آئی تو اس نے بمشکل پلکیں اٹھائیں۔ آف وائٹ شیروانی میں وہ کسی مغلیہ شہزادے کی طرح شاہانہ انداز میں چلتا ہال کی طرف جا رہا تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
”چچ چچ بے چارے کو نظر لگاؤں گئ کیا؟“ صبا نے پھر ٹہوکا دیا تو وہ پہلی بار سچ مچ شرما گئی۔ پھر کچھ دیر بعد نکاح کا فریضہ انجام پایا وہ امی کے سینے سے لگ کر ایک بار پھر سسک اٹھی۔ کھانے کے بعد اسے اسٹیج پر لا کر بٹھایا گیا۔ سادہ سادہ رہنے والی ثناء پر آج بڑا روپ آیا تھا۔ گہرے سرخ رنگ کے غرارہ سیٹ میں مکمل دلہن بنی ثناء شرمیلے سے انداز میں سرجھکائے عام دنوں سے بڑی منفرد اور دلکش نظر آرہی تھی۔ صفیہ بیگم نے تو فوراً اپنی بیگم کی نظر اتاری اور ایک زرتار انچل اسکے سر پر ڈال کر گھونگھٹ بھی نکال دیا مبادا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ ثناء کا گھبراہٹ کے مارے برا حال تھا۔ ہارون اپنے کزنز کے جھرمٹ میں اسٹیج تک آیا اور کرسی بٹھائی کی رسم شروع ہوئی۔ ہارون بہت چہک رہا تھا۔ لڑکیوں کو تاک تاک کر جواب دینے میں تو وہ ویسے بھی ماہر تھا آج تو پھر اسکی خوشی دیدنی تھی۔ بلآخر پیسے دے کر ہی اس نے نمرہ سے جان چھڑوائی اور اپنی شریکِ حیات کے پہلو میں بیٹھ گیا ثناء کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی۔ دلہا دلہن کو آئینہ دکھایا گیا تو ہارون تو ثناء کا روپ دیکھ کر جیسے مہبوت ہوگیا تھا۔ دودھ پلائی کی رسم کے بعد مووی بننے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دس بجے کے قریب رخصتی کا شور اٹھا۔ آج سارے اپنے پرائے ہو رہے تھے۔ جس گھر میں زندگی کے بیس سال بتائے آج پرایا ہونے جارہا تھا۔ کیسی تلخ حقیقت تھی۔ امی، ابو کے مشفق سینوں سے لگ کر اسکا دل چاہا کاش اسے ابھی اسی وقت موت آجائے۔ محسن بھائی سے تو وہ ایسی لپٹی کہ سہیلیوں نے پکڑ کر علیحدہ کیا۔ ایک بار پھر بینڈ باجوں پر رخصتی کی خوبصورت سی دھن چھیڑ دی گئی۔ اور وہ سجی سجائی گاڑی میں ہارون رضا کے سنگ سب کو روتا چھوڑ کر رندگی کے نئے سفر پر آگئے بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینٹ اور گلاب کی ملی جلی خوشبو کمرے میں اتنی زیادہ تھی کہ یاسمین، گلاب اور موتیا کی خوبصورت لڑیوں سے آراستہ سیج میں بیٹھی ثناء کا دم گھٹنے لگا۔ دروازے پر آہٹ ہوئی تو ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بھی ثناء کی پیشانی پر پسینے کے قطرات چمکنے لگے۔
”آداب عرض کرتا ہوں۔“ ہارون نے بستر کے قریب آکر شوخی بھرے لہجے میں کہا وہ کچھ نہ بولی بس سر جھکائے اپنی دھڑکنوں کا شور سنتی رہی۔
”کیسے مزاج ہیں جناب؟“ اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ”یہ لیجیئے آپکی رونمائی کا تحفہ۔“ اس کے ہاتھ میں خوبصورت سی انگوٹھی پہناتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا اور بڑے پیار سے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا۔ ثناء نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں۔
”ارے یہ تم ہو۔۔“ وہ تو جیسے مبہوت سا ہوگیا تھا۔ ثناء کے سادو سے سانولے سلونے چہرے پر آج حوروں کی سی پاکیزگی تھی۔
”ذرا آنکھیں کھولو کہ ہارون رضا آج ان میں ڈوب کر پھر ابھرنا نہیں چاہتا۔“ دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھامتے ہوئے وہ جذبات سے پُر لہجے میں بولا۔ ثناء کی گھنیری پلکیں اُس کے رُخساروں پر لرز رہی تھیں اور دل کا عجیب حال تھا۔ ہارون کا یہ رویہ اسکی سوچوں کے بالکل منافی تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے جھکی جھکی کانپتی پلکیں اوپر کو اُٹھائیں لیکن ہارون کی جذبے لُٹاتی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے پھر سے جھُک گئیں۔ ہارون اس کے حیا بار چہرے کو دلچسپی سے دیکھتی ہوئے بے اختیار ہنس پڑا۔
”سمجھ نہیں آتا یہ شعلہ بار لڑکی آج شرما کیسے رہی ہے ویسے اچھی لگ رہی ہو یوں شرماتے ہوئے۔“ اسنے مسکرا کر کہتے ہوئے اسکے دونوں ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیئے۔ اسکے لمس میں بڑی چاہت اور اپنائیت تھی. قریب تھا کہ ثناء اس چاہت پہ ایمان لے آتی ترس کا لفظ کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے دماغ پر برسا اور اسنے ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ ہارون کی گرفت سے چھڑوا لیئے۔
”ارے کیا ہوا آج کی رات بھی غصے میں ہو۔“ وہ شریر لہجے میں بولا تو وہ شرم و لحاظ بالائے طاق رکھ کر ہارون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تلخی سے گویا ہوئی۔ ”معاف کیجیئے گا میں بھکارن نہیں ہوں کہ آپ مجھ پر ترس کھا کر میرے دل کے کشکول میں محبت کی بھیک ڈال دیں۔“
”بھیک ترس یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ ہارون نے از حد حیرت سے پوچھا۔
”ٹھیک کہہ رہی ہوں پہلے میں یہ سمجھتی تھی کہ آپ محض منگیتر اور کزن ہونے کے ناطے مجھے ستاتے ہیں لیکن سالگرہ کے روز فوزیہ نے جو باتیں کیں وہ آپ کو بھولی تو نہ ہونگی اور آپ نے ان باتوں کی میرے سامنے تصدیق کی تھی۔“ وہ آنسوؤں کی یُورش میں بولتی چلی گئی۔ ہارون کے چہرے پر عجیب ناقابل فہم سے تاثرات ابھرے۔
”فوزیہ کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں نے جو کچھ کہا وہ سب مذاق تھا۔“ اسنے سچائے بیان کی۔
”مذاق۔۔ نہیں ہارون رضا۔۔ میں اسے مذاق نہیں سمجھتی بھری محفل میں کسی کی بے عزتی کرنا آپکے نزدیک محض مذاق ہے کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ آپکی یہ باتیں کسی کے دل پر کیسی قیامت بن کر گزرتی ہیں۔ ہارون رضا آپ کو اتنے بے تحاشہ خوبصورت ہیں لیکن آپکو یہ حق کس نے دیا ہے کہ کسی کی بدصورتی کا مذاق اُڑائیں۔“ وہ تیز تیز لہجے میں بولتی چلی گئی۔ ہارون گنگ سا اسے سنتا رہا۔ ایسی سچویشن کے متعلق تو اسنے کبھی تصور تک نہ کیا تھا۔
”آپ مذاق کریں اور کسی کا دل ٹوٹ جائے واہ کیا کہنے ہیں آپکے مذاق کے۔ میری بات سنیں ہارون میں نے آپکو بہت چاہا ہے مجھے میری ریاضت کا خدارا یہ صلہ نہ دیں کہ مجھ پر ترس کھا کر جنت میں بھیج دیں۔ اگر آپکو میری ریاضت میں کھوٹ نظر آیا تو مجھے دوزخ کی سزا دی دیں۔ لیکن ترس نہ کھائیں مجھ پر۔۔ ترس۔۔“ یہ کہتے کہتے اسکی آواز شدت غم سے حلق میں پھنس گئی اور وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ہارون بوکھلا گیا۔
”دیکھو ثناء میں نے تم پر ترس کیوں کھاؤں گا بے وقوف لڑکی۔ تم نے اگر مجھے چاہا ہے تو میں نے بھی اپنے دل کے آئینے میں صرف تمہاری ہی صورت سجائی ہے۔ اُف اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم اس حد تک حساس ہو تو میں کبھی تمہیں نہ ستایا کرتا۔“ ہارون کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ وہ اسے کسطرح اپنے دل کا حال بتائے یہ کچھ ہوجائے گا اسکے خواب و خیال میں بھی کبھی نہیں آیا تھا۔ ایک وہ تھی کہ مسلسل روئے چلے جارہی تھی۔ وہ اسے یونہی روتا چھوڑ کر بستر سے اٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو البم اور ڈائری اسکے ہاتھ میں تھے۔
”یہ دیکھو ثناء تمہیں میری محبت کا ثبوت مل جائے گا میرے کہے پر تو تم نے یقین کرنا نہیں۔“ اس نے البم اور ڈائری اسکے سامنے رکھے مگر اسنے تو چہرے سے ہاتھ تک نہ ہٹائے تھے ہنوز سسکتی رہی۔
”ثناء پلیز ایک دفعہ صرف ایک دفعہ۔“ اس نے منت کرنے والے انداز میں کہا تو ثناء نے چہرے سے ہاتھ اٹھائے۔ رونے سے اسکا کاجل پھیل گیا تھا اور آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔ یہ پاگل پاگل آنکھوں والی ثناء ہارون کو کتنی پیاری لگی تھی۔ اسکا جی چاہا کہ وہ اسے بازوؤں میں بھر کر کہے کہ میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں پگلی محبت صورت کی محتاج کب ہوتی ہے۔ مگر وہ کچھ کہے بناء چپ چاپ جاکر کاؤچ پر بیٹھ گیا۔ ثناء نے سوں سوں کرتے ہوئے البم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اور اسے کھولتے ہی جھجھک گئی۔ سارا البم اسکی تصویروں سے بھرا پڑا تھام بچپن سے لیکر اب تک کی سبھی تصویریں تھی۔ ڈائری کھولی کر دیکھی تو جگہ جگہ اپنا نام پایا۔ جگہ جگہ اسکا تذکرہ تھا۔ اسکو مخاطب کیا گیا تھا پیار کا بہت خوبصورت سا اظہار کیا گیا تھا۔ ثناء یہ سب دیکھ کر ایکبار پھر سے رودی تو ہارون اٹھ کر تیر کی طرح اسکے پاس آیا۔
”ارے اب کیوں رو رہی ہو؟“وہ جھلا سا گیا۔
”مجھے معاف کردیں ہارون۔“ اسنے روتے روتے اپنے حنائی ہاتھ اسکے سامنے جوڑ دیئے رو ہارون نے ایک طویل سانس بھری اور اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔
”نہیں ثناء معافی مت مانگو۔ پگلی تم بہت نادان ہو۔ اتنا بھی نہیں جانتی کہ جس سے محبت ہو اسے ہی ستایا جاتا ہے۔“ اس نے پیار سے اسکے آنسو اپنی پوروں پر سمیٹے۔
”مجھے لگتا تھا میں صورت کے معاملے میں آپ کے لائق نہیں۔“ وہ اٹکتے ہوئے بولی۔ ہارون نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور اسے تھمایا۔ ”محبت صورت دیکھ کر نہیں ہوتی یہ تو دل کے معاملے ہیں اور ویسے بھی کوئی تمہیں میری نظروں سے دیکھے تو تم سے زیادہ حسین کوئی نہیں۔“ بات کے اختتام میں وہ مسکرایا تو ثناء نے سر جھکا لیا۔
”اب آپ مبالغہ آمیزی کر رہے ہیں۔“ وہ شرمائے ہوئے انداز میں بولی تو وہ کھل کر ہنسا۔
”ارے صاحب ہم تو ان سیاہ بھنورا سی آنکھوں میں ڈوب کر کسی کام کے ہی نہیں رہے. بقول غالبؔ
عشق نے ہم کو نکما بنادیا غالب،
ورنہ آدمی ہم بڑے کام کے تھے۔۔“
وہ بڑی شوخی سے گنگنایا تو ثناء نے شرما کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: