Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 5

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 5

فارم ہاٶس میں ولیمے کی پروقار سی تقریب جاری تھی۔ باٹل گرین رنگ کے لمبے ایمبراٸیڈڈ فراک میں بھاری کامدار دوپٹہ سر پر ٹکاۓ نفاست سے کیۓ گٸے میک اپ میں اسٹیج پر بیٹھی ثناء کے چہرے پر داٸمی خوشیوں کا عکس تھا۔ اسکے ساتھ بالکل جڑ کر بیٹھی نمرہ مسلسل اس سے باتیں کر رہی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر اسٹیج سے ذرا پرے ہارون سیاہ تھری پیس سوٹ میں اپنی تمام تر مردانہ وجاہت سمیت کھڑا اپنے دوستوں کیساتھ محو گفتگو تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اسٹیج پر چلا آیا اور اسکے برابر بیٹھ گیا۔
”ویسے ہارون بھاٸی آپ نے میری بہن پر ایک ہی رات میں کیا جادو کردیا ہے یہ تو بس آپکے نام کی ہی مالا جپ رہی ہیں۔“ نمرہ نے شرارت سے آنکھیں گھما کر کہا تو ثناء جھینپ گٸی۔
”یہ محبت کا جادو ہے لٹل سسٹر تم نہیں سجھوگی۔“ وہ مزے سے بولا تو نمرہ ہنس دی۔
”ویسے آپ میری آپی کو کہیں گھمانے پھرانے بھی لے کر جاٸینگے یا نہیں۔“ نمرہ نے وہ بات پوچھ لی جو وہ چاہ کر بھی نہ پوچھ سکی تھی کہ جھجھک مانع تھی۔
”بالکل لے کر جاٸینگے جناب پلان ڈن ہے۔انفیکٹ سرپراٸز ہے آپکی آپی کے لیۓ۔“ ہارون نے مسکراتی نظروں سے ثناء کی طرف دیکھتے ہوۓ نمرہ کو جواب دیا۔ تبھی فوزیہ اسٹیج پر چلی آٸی۔
”ہیلو ہارون! ہاۓ ثناء! ویسے کافی بہتر لگ رہی ہو آج۔“ اس نے نخوت سے کہا۔
”ہاۓ فوزیہ۔ تم نے ہمیں مبارک نہیں دی۔“ ہارون نے ہمیشہ کی طرح خیر مقدمی انداز اختیار کرلیا۔
”اوہ یس۔۔ مبارک ہو تم دونوں کو۔ اور خاص طور پر ثناء تمہیں۔ خاندان کے سب سے چارمنگ بندے کو لے اڑیں تم۔“ وہ بظاہر مسکرا رہی تھی مگر مسکراہٹ میں بھی جلن تھی۔
”لے اڑی۔۔ یہ خوب کہی تم نے فوزیہ جیسے ثناء نہ ہوگٸی ڈریگن ہوگٸی جو اتنے لمبے اونچے بندے کو لے کر پُھرررر ہوگٸی۔“ وہ مزاحیہ انداز میں بولا۔
”محاورتاً کہا ہے بھٸی۔“ فوزیہ نے منہ بنا کر کہا۔
” اوہ اوکے اوکے۔ بیٹھو ناں تم۔“ ہارون نے سر ہلا کر کہا۔
”نو تھینکس میں چلتی ہوں بس تم سے ملنے آٸی تھی۔“ وہ نخریلے انداز میں بولی۔
”اچھا اچھا۔ اب تیار ہوکر آٶگی؟“ ہارون نے بہت سنجیدگی سے پوچھا تو بہترین ڈیزاٸنر وٸیر اور میک اپ کی تہیں چہرے پر چڑھاۓ فوزیہ کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا۔
”تیار ہی تو ہوں۔“ وہ کھسیانی سی ہوکر بولی۔
”اوہ رٸیلی۔۔۔“ ہارون نے اپنی خوبصورت آنکھیں پوری کھول کر اظہارِ حیرت کیا۔ ”مجھے لگا تم تیار ہوۓ بناءٕ ہی آگٸی ہو اب جاٶگی تیار ہونے۔“ اسکی سنجیدگی ہنوز برقرار تھی۔ فوزیہ کے ماتھے پر باقاعدہ پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں۔ وہ کچھ بھی کہے بناءٕ پلٹ گٸی۔
”کیسا رہا۔۔۔؟“ اسکے جاتے ہی ہارون نے ثناء کو کان میں سرگوشی کی تو وہ بے ساختہ سی مسکراہٹ چھپا کر بولی۔ ”اتنی پیاری تو لگ رہی تھی وہ۔“
”پیاری ہوگی تو اپنے گھر میں۔ میری بیوی پہ طنز کرنے والوں کا یہی حال کرونگا میں۔“ وہ شانے اچکا کر لاپرواہی سے بولا۔
”بہت اچھا کیا آپ نے فوزیہ باجی کیساتھ۔ ہونہہ خود کو کیٹ ونسلٹ سمجھتی ہیں۔“ نمرہ منہ بنا کر بولی۔
”کیٹ ونسلٹ صاحبہ اب جاکر اپنے منہ پر غازے کی مزید چار تہیں چڑھا رہی ہونگی۔۔ پھر بھی سکون نہ ملے گا۔“ وہ شرارت آمیز لہجے میں بولا تو نمرہ ہنسنے لگی جبکہ ثناء محض سر ہلا کر رہ گٸی تھی۔ ہارون اپنے نام کا ایک ہی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاغان کی حسین ترین وادی میں انکو جھیل سیف الملوک کے بالکل قریب کاٹیج ملا تھا۔ ابھی برفباری کا موسم نہ تھا اسلیۓ ادھر آجکل سیاحوں کا رش تھا۔ ثنإ تو یہاں آکر جیسے کسی طلسم میں قید ہوگٸی تھی کچھ ایسا ہی سحر ہے اس وادی کے فضاٶں میں کہ جو بھی جاتا ہے مبہوت ہوجاتا ہے۔۔
رات کے وقت جھیل سیف الملوک کا ملکوتی حسن دوچند ہوجاتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ چاندنی راتوں میں اس جھیل کا سحر ہر ذی روح کو مبہوت کرکے اپنی جانب کھینچتا ہے اور لوگ اپنی سدھ بدھ کھو کر اسکی جانب کھنچتے چلے جاتے ہیں۔۔۔
ثناء نے رات کے وقت کھڑکی سے باہر جھانکا اور مبہوت رہ گٸی۔ مطلع بالکل صاف ہونے کے باعث آسمان پر چودہویں کا چاند پوری آب و تاب کیساتھ دمک رہا تھا۔ اونچے اونچے پہاڑ اونگھ رہے تھے اور جھیل کی شفاف سطح اس سمے ایسا تاثر دے رہی تھی جیسے کسی بہت بڑے آٸینے کو زمین پر رکھ دیا ہو اور چاند اسمیں اپنا عکس دیکھ رہا ہو۔ ”واٶ۔۔“ بے اختیار اسکے منہ سے نکلا۔
”کیا ہوا؟“ ہارون اسکے عین عقب میں آکھڑا ہوا اور باہر جھانکا۔
”بیوٹی فل۔۔“ وہ بھی بے اختیار کہہ اٹھا۔
”باہر چلیں ہارون؟“ ثناء نے پلٹ کر پوچھا۔
“چلو۔“ اسنے سر کو خفیف سی جنبش دی وہ دونوں باہر آۓ۔ دور دور تک پھیلی چٹانوں پر چاندنی کھیت کررہی تھی۔ فضاء میں جنگلی پھولوں کی تیز مہک گونج رہی تھی۔ ہلکی ہلکی خنک ہوا سے جھیل کنارے لگے جنگی پھول لہرا رہے تھے یوں جیسے پریاں رقص کررہی ہوں۔ وہ دونوں چلتے ہوۓ جھیل سے کچھ فاصلے پر رک گٸے۔
”یہ سب خواب جیسا ہے۔ ہے ناں ہارون۔۔“وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولی۔
”پتہ ہے میں یہاں پہلے بھی کٸی بار آچکا ہوں مگر یہ نظارہ اتنا ساحر پہلے کبھی نہ لگا۔ جانتی ہو کیوں؟“ وہ اسکی جانب دیکھتے ہوۓ مدھم لہجے میں بولا۔
”کیوں؟“ ثناء نے گردن گھما کر اسکی طرف دیکھا۔
”کیونکہ پہلے کبھی بھی تم میرے ساتھ نہ تھی۔۔ اور میری زندگی کے تو سب رنگ ہی تم سے ہیں ثناء۔“ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں سجا کر وہ سچاٸیوں سے معمور لہجے میں بولا تو ثناء کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس طلسماتی ماحول میں اپنے حسین ترین شریک حیات کے منہ سے اتنا پیارا اعتراف محبت اسکی روح تک کو سرشار کرگیا تھا۔ ہارون کی داٸیں بازو کو اپنی گرفت میں لیکر اسنے اسکی شانے سے سرٹکا دیا۔ رات قطرہ قطرہ بھیگنے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”امی امی جان دیکھیۓ تو کون آیا ہے۔“ رانی بھاگتی ہوٸی آٸی تو صفیہ بیگم نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔
”کون آگیا ہے جو اتنا شور مچا رہی ہو؟“ انہوں نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔
”آپ چلیں تو۔“ رانی ماں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کمرے سے باہر کھینچتے ہوۓ بولی۔
”ارے چھوڑ تو میرا ہاتھ لڑکی میں خود دیکھ لیتی ہوں۔“ انہوں نے جھلا کر اپنا ہاتھ بیٹی کی گرفت سے چھڑوایا اور کمرے سے باہر نکلیں۔ سامنے سے آتے ثناءٕ اور ہارون کو دیکھ کر انکا دل باغ باغ ہوگیا۔ ”ثناء!۔۔ ارے میرے بچے آگٸے۔۔ میں صدقے میں قربان۔۔ کیسے ہو تم دونوں کیسا رہا ہنی مون؟“ انہوں نے آگے بڑھ کر والہانہ انداز میں ثنإ کو خود سے بھینچا۔
”ارے ہمیں تو بالکل ہی اگنور کردیا امی جان۔“ ہارون منہ بنا کر بولا تو سبھی ہنس پڑے۔
”ارے تم اور ثنإ تو میرے گھر کی روشنی ہو۔“ صفیہ بیگم نے پیار سے ہارون کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاٸی۔
”بس تو پھر بلب لگانے کی کیا ضرورت امی جان۔۔“ ہارون نے ہنس کر کہا تو سارے گھر میں قہقہے گونج اٹھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”مے آٸی کم ان سر؟“ ایک مہین سی آواز پر ہارون نے سر اٹھا کر دیکھا۔ ایک نازک سی الٹرا ماڈرن اور کم عمر لڑکی آفس کے دروازے پر کھڑی اجازت طلب انداز میں اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
”یس کم ان۔“ ہارون نے سر کو خفیف سی جنبش دیکر کہا تو وہ اندر داخل ہوٸی۔
”پلیز بی سیٹڈ۔“ ہارون نے کرسی کی جانب اشارہ کیا تو وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی فاٸل اسکے سامنے رکھتے ہوۓ کرسی گھیسٹ کر بیٹھ گٸی۔ ہارون نے فاٸل کھول کر ایک طاٸرانہ نظر اس لڑکی کی سی وی پر دوڑاٸی۔ اور پھر اسکی طرف دیکھ کر پروفیشنل لہجے میں گویا ہوا۔”جی مس ربیعہ وقار آپ ویب ڈیزاٸنر کی جاب کے لیۓ تشریف لاٸی ہیں؟“
”جی سر۔“ اسکا لہجہ اور انداز با اعتماد تھا۔
”اس فیلڈ میں آپکا اس سے قبل کوٸی تجربہ؟“
”تجربہ تو نہیں ہے سر انفیکٹ میں نے اپنا بی ایس پچھلے ماہ ہی مکمل کیا ہے۔“ اس نے جواب دیا۔ ہارون نے سر جھکا کر ایک نظر اسکے ڈاکیومنٹس کی کاپیوں پر بھی ڈالی۔ اسکا اکیڈمک ریکارڈ کافی اچھا تھا اور اسنے تعلیم بھی معیاری تعلیمی اداروں سے حاصل کر رکھی تھی مگر وہ سب ادارے کراچی کے تھے۔
”آپ کراچی سے آٸی ہیں؟“ اسنے سوال کیا۔
”جی سر۔ جاب کی تلاش میں آٸی ہوں۔“ اسنے جواب دیا۔ ہارون نے ایک نظر اس لڑکی پر ڈالی جو بمشکل چوبیس برس کی ہوگی، چہرے پر معصومیت تھی۔ اس نے ایک طویل سانس لی۔
”ویل مس یہ کمپنی مسٹر آصف رحمن کی ہے آجکل وہ ایک بزنس ٹور کے سلسلے میں ملک سے باہر گٸے ہوۓ ہیں سو انکی غیر موجودگی میں میں انکی کرسی سنبھالے ہوا ہوں۔ آپکی کارکردگی دیکھنے کیلیۓ آپکو ایک ماہ کے پروبیشن پیریڈ پر رکھا جاۓ گا اگر آپ نے اچھا پرفارم کیا تو جاب مستقل کردی جاۓ گی۔ ہمارا پے پیکج انشإ اللہ آپکی توقعات سے بڑھ کر ہوگا۔ جاب کی بقیہ تفصیلات آپکو مس قدسیہ بتادینگی۔“ اسنے پروفیشنل انداز میں کہتے ہوۓ انٹرکام کا رسیور اٹھا کر سیکریٹری کو اس لڑکی کے متعلق ہدایات جاری کیں اور ریسیور رکھ کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔ ”آپ جاسکتی ہیں۔ مس قدسیہ آپکو گاٸیڈ کردینگی۔“ اسنے اسکی فاٸل اسکی جانب کھسکاتے ہوۓ کہا تو وہ شکریہ کہتی اٹھ کھڑی ہوٸی اور اپنی فاٸل سنبھال کر جانے کو پلٹی۔
”سنیں مس ربیعہ آپ اسلام آباد میں کہاں ٹھہری ہیں؟“ اس نے بے اختیار ہی پوچھ لیا۔
”جی یہاں میرے ماموں رہتے ہیں انہی کے پاس رہتی ہوں۔ “ اسنے پلٹ کر مدھم آواز میں جواب دیا تو ہارون نے سر ہلا کر اسکے جانے کی اجازت دی اور اسکے جانے کے بعد اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آج بہت دیر کردی آپ نے؟“ وہ گھر پہنچا تو ثنإ کو اپنے انتظار میں جاگتے پایا۔
”ہاں یار۔ آج کام کچھ زیادہ ہے اور ہمارے سٹاف میں ایک لڑکی کراچی سے آٸی ہے اسکو کام کے متعلق سمجھاتے دیر ہوگٸی۔“ اس نےتھکے تھکے انداز میں بستر کنارے ٹکتے ہوۓ جواب دیا۔
”اچھا جناب میں نے آپ سے کوٸی وضاحت تو طلب نہیں کی۔“ ثنإ نے اس کا کوٹ الماری میں ہینگ کرتے ہوۓ ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔
”اچھا لیکن اب کیا ہوسکتا ہے اب تو بتا ہی دیا۔“ جوتے اتارتے ہوۓ وہ ہلکے سے ہنسا۔
”کھانا گرم کروں؟“
”ہاں پلیز بہت بھوک لگ رہی ہے۔ تم نے کھانا کھایا؟“ جوتے اتار کر اٹھتے ہوۓ اسنے پوچھا۔
”آپکے بغیر پہلے کبھی کھایا ہے؟“ اسنے الٹا سوال پوچھا تو ہارون کو اس پر ٹوٹ کے پیار آیا۔
”میری پکی مشرقی زوجہ محترمہ اگر مجھے دیر ہوجاتی ہے تو آپ کھانا کھا لیا کریں۔ بھوکی مت رہا کریں۔“ اسے شانوں سے تھام کر اسنے محبت سے کہا۔
”مجھے اچھا لگتا ہے آپکا ویٹ کرنا اور آپکے ساتھ کھانا کھانا۔“ وہ جواباً سادگی سے بولی۔
”آٸی لو یو سویٹ ہارٹ۔“ اس کے بال بگاڑتے ہوۓ وہ پیار بھرے لہجے میں بولا تو وہ مسکرا دی۔
”چلیں فریش ہوجاٸیں میں کھانا لاتی ہوں۔“
”کبھی آٸی یو ٹو بھی کہہ دیا کرو کنجوس لڑکی۔“ وہ منہ بنا کر بولا تو وہ سر نفی میں ہلا کر ہنستی ہوٸی بھاگ کر کمرے سے چلی گٸی۔ ہارون مسکراتے ہوۓ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دو گھنٹوں کی مسلسل بارش نے اسلام آباد کے موسم کو بہت خوشگوار بنا دیا تھا گرمی کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ ہارون نے اپنے دفتر کی کھڑکی کے بلاٸنڈرز ہٹا کر باہر جھانکا۔ سڑکیں گیلی تھیں اور ساری فضا دھلی دھلاٸی تھی۔ آسمان پر ابھی بھی سیاہ بادل منڈلا رہے تھے۔ اسنے ثنإ کو کال ملاٸی۔
”أسلام علیکم“ ثنإ کی مسکراتی آواز سن کر اسکی ساری تھکن جیسے دور ہوگٸی تھی۔
”وعلیکم السلام کیا حال ہے میری جان؟“ وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔
”بالکل ٹھیک۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟“
”ابھی کام سے فارغ ہوا ہوں۔ اور اب اپنی پیاری سی بیوی کو یاد کررہا ہوں۔“
”تو گھر آجاٸیں ناں۔“ وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
”آجاٶں؟“ وہ مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر بولا۔
”بالکل آجاٸیں۔ میں پکوڑے بنانے کا سوچ رہی ہوں آپ بھی جواٸن کرلیں۔“ اسکا موڈ بہت خوشگوار تھا۔
”واٶ۔۔ پکوڑے اور گرما گرم چاۓ۔“ ہارون نے چٹخارے لیتے ہوۓ کہا۔
”اور املی کی چٹنی بھی۔“ ثنإ نے اضافہ کیا۔
”بس میں فوراً سے پیشتر آیا۔ جلدی سے چاۓ ریڈی کرو۔ اور ہاں اپنا وہ براٶن والا سوٹ پہن لو اسمیں تم بہت کیوٹ لگتی ہو۔ باۓ باۓ۔“ اسنے جلدی جلدی کہتے ہوۓ کال بند کی اور اپنا لیپ ٹاپ بند کرکے بیگ میں ڈالا۔ موباٸل جیب میں ڈالا گاڑی کی چابیاں اور بیگ اٹھا کر آفس سے باہر نکلا۔ ”مس قدسیہ میں گھر جارہا ہوں اگر کوٸی ضروری کام ہو تو مجھے کال کرلیجیۓ گا۔“ سیکریٹری کو ہدایت جاری کرکے وہ لفٹ کے ذریعے نیچے آیا اور پارکنگ کی طرف جاتے ہوۓ گیٹ کے پاس کھڑی ربیعہ کو دیکھ کر چونک گیا۔ آسمان پھر سے پورا بادلوں سے ڈھک چکا تھا اور بارش آنے کو تھی۔ اسنے پارکنگ سے اپنی گاڑی نکالی اور ربیعہ کے پاس لیجاکر روک دی وہ جو اپنے خیالات میں گم تھی بے طرح چونکی۔
”آٸیے مس میں ڈراپ کردوں۔“ اس نے کھڑی کا شیشہ گراتے ہوۓ بلند آواز میں کہا۔
”نو تھینک یو سر۔ میں ٹیکسی سے چلی جاٶں گی۔“ اسنے ہچکچاتے ہوۓ جواب دیا۔
”اس موسم میں آپکو جلدی جلدی ٹیکسی نہیں ملے گی۔ آجاٸیے میں ڈراپ کردونگا آپکو۔“ وہ پر خلوص لہجے میں بولا تو ربیعہ نے ادھر ادھر دیکھا۔
”بارش شروع ہوجاۓ گی تو آپکا جانا اور مشکل ہوجاۓ گا۔ پلیز گیٹ اِن ویسے بھی شام ہورہی ہے ایسے میں آپکا تنہا سڑک پر کھڑا ہونا اچھا نہیں لگتا۔“ اسنے نرم لہجے میں کہا تو اب کی بار وہ ہارون کی پرکشش آفر کو ٹھکرا نہ سکی اور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گٸی۔ گاڑی چل پڑی۔
”ویسے آپ روز کیسے آتی جاتی ہیں؟“ ہارون نے ونڈ اسکرین پر نظریں جماۓ ہوۓ پوچھا۔
”بس سے۔“ ربیعہ نے جواب دیا۔ وہ بار بار اضطراری انداز میں اپنی پیشانی مسلنے لگتی۔
”آپ کچھ پریشان ہیں؟“ ہارون سے رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹھا۔
”نو نو سر ایسا کچھ نہیں۔“ وہ گڑبڑا گٸی۔
”اوں ہوں کوٸی تو بات ہے۔“ ہارون نے سر ہلا کر نرمی سے کہا۔
”کچھ نہیں سر بس یہ سوچ کر پریشانی ہورہی تھی کہ گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے۔“ اسنے بودی سی دلیل پیش کی۔
”اونہوں یہ بات تو مانی نہیں جاسکتی۔“ ہارون نے نفی میں سر ہلایا۔
”کیوں سر؟“ ربیعہ نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔
”اسلیۓ کہ آپکے گھر والے بھی جانتے ہونگے کہ بارش کا موسم ہے اور آپ بس سے آتی جاتی ہیں سو آپکو دیر ہو ہی جاٸیگی۔ اصل بات کچھ اور ہے جو آپ چھپا رہی ہیں۔“ ہارون نے اپنی بات پر زور دیکر کہا پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔ ”میری دو بہنیں ہیں دونوں مجھ سے چھوٹی ہیں انمیں سے ایک بیاہ کر سعودیہ چلی گٸی ہے۔ جب سے وہ گٸی ہے ہمارے گھر کی رونق بہت کم ہوگٸی ہے۔ وہ مجھ سے بہت اٹیچڈ تھی۔ اپنی ہر پریشانی اور خوشی سب سے پہلے مجھ سے شٸیر کرتی تھی۔ اب بھی اسکے گھر میں جو بھی بات ہو وہ سب سے پہلے مجھے میسیج کرتی ہے۔ جانتی ہو جس روز پہلی بار تمہیں دیکھا تو لگا الماس میری بہن میرے سامنے آگٸی ہے۔ وہ بھی جب اداس ہوتی تو ایسے ہی کھو جاتی تھی۔“ وہ نرم لہجے میں بولتا گیا اور ربیعہ بے اختیار روپڑی۔ ہارون نے گاڑی سڑک کنارے روکی اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔ ”میں نے تمہیں اپنی بہن مان لیا ہے کیا تمہیں میں بھاٸی جیسا لگتا ہوں؟“اسکا لہجہ اتنا اپناٸیت بھرا تھا کہ دکھوں کی ماری ربیعہ کی ہچکیاں بندھ گٸیں۔
”سر میں۔۔۔“ وہ اٹکتے ہوۓ بولی۔
”ارے بھٸی بھیا بولو۔ میرے گھر میں سب چھوٹے مجھے بھیا بولتے ہیں۔ تم بھی مجھے بھیا کہنا ٹھیک ہے ناں؟“ وہ اپنے ازلی نرم لہجے میں بول رہا تھا ربیعہ نے نم آنکھوں سے اس خوبصورت سے انسان کی طرف دیکھا جس کا دل اسکے چہرے سے زیادہ پیارا تھا۔
”ارے لیکن رکو۔۔ غلطی ہوگٸی۔ ثنإ بھی مجھ سے چھوٹی ہے مگر وہ مجھے بھیا نہیں کہتی۔ پوچھو کیوں؟“ وہ اب اپنے مخصوص شوخ انداز میں بول رہا تھا۔
”کیوں سر؟“ ربیعہ نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوۓ پوچھا۔
” ارے یہی تو میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔“
”آپ ہی بتادیں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔“ وہ بے حد معصومیت سے بولی تو ہارون زور سے ہنس دیا۔
”اسلیۓ مس ربیعہ وقار کہ وہ میری اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔“ اسکے انکشاف پر ربیعہ کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گٸی۔
”یعنی میری بھابھی جان بھی ہیں۔“ اسکا موڈ بہت خوشگوار ہوگیا تھا۔
”بالکل ہیں۔ جلد تمہیں ملواٶں گا اس سے۔“ ہارون نے سر ہلاکر کہا۔
”اچھا تصویر تو دکھادیں۔“ وہ مان سے بولی۔
”ہاں یہ لو۔ “ ہارون نے ڈیش بورڈ سے اپنا موباٸل اٹھا کر اسمیں سے اپنی شادی کی تصویریں نکال کر موباٸل ربیعہ کو تھمایا اور گاڑی پھر سے اسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی۔
”کتنی پیاری ہیں بھابھی۔۔ماشإ اللہ۔آپ بہت لکی ہیں۔“ ربیعہ وفور شوق سے ایک ایک تصویر دیکھ رہی تھی۔ ”کب ہوٸی آپکی شادی؟“
”چار ماہ پہلے۔“
”یعنی نیولی ویڈ کپل۔“ وہ مسکرا کر بولی۔ اسکے چہرے پر مسرت تھی ہارون بھی مسکرایا۔
”بالکل۔ ادھردوسرے فولڈر میں ہمارے ہنی مون کی تصویریں بھی ہیں۔“ اسنے ربیعہ کو بتایا وہ جلدی سے فولڈر کھول کر تصویریں دیکھنے لگی۔
”واٶ جھیل سیف الملوک۔“ وہ ایکساٸیٹڈ لہجے میں بولی۔ جلدی جلدی سب تصویریں دیکھتے ہوۓ اسکی خوشی دیدنی تھی۔
”بہت بہت بہت اچھا کپل ہے آپ دونوں کا سر۔“ موباٸل واپس ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوۓ اسنے دل سے تعریف کی تھی۔
”سر۔۔“ ہارون نے اسے گھورا۔
”ارے ارے ارے۔۔آپ نکل گٸے۔ گھر پچھلی سڑک پر ہے۔“وہ جلدی سے بولی تو ہارون نے گاڑی بیک کی۔ کچھ لمحوں بعد اسنے گاڑی اسکے گھر کے سامنے روک دی۔
”تھینک یو سو مچ سر۔“
”پھر سر۔۔۔“ وہ مصنوی غصے سے بولا تو وہ ہنس دی۔
”اچھا میری پیارے بھیا آپ اپنی بہن کے گھر نہیں آٸینگے؟“ ربیعہ کے چہرے پر مسرت کی سرخیاں تھیں۔
”ضرور آٶں گا مگر ابھی نہیں کیونکہ آپکی بھابھی محترمہ چاۓ تیار کیۓ بیٹھی ہیں اگر میں لیٹ پہنچا تو خیر نہیں“
”ارے آپ بھابھی سے ڈرتے ہیں؟“وہ شرارت سے بولی۔
”ظاہر ہے۔ سارے شریف شوہر ڈرتے ہیں۔“وہ شانے اچکا کر بولا۔ ”اچھا اب اترو بھی دراز ہی ہوتی جارہی ہو۔“ اسنے یکدم اسے گھورا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”توبہ کسے بےمروت بھاٸی سے پالا پڑا ہے۔“ وہ گاڑی سے اترتے ہوۓ بولی۔ ”اچھا اللہ حافظ سر۔“ وہ کھڑکی پر جھک کر شرارت سے بولی تھی۔ ہارون نے اسے گھورا تو ہسنتی ہوٸی جھپاک سے اندر بھاگ گٸی۔ ہارون نے مسکراتے ہوۓ گاڑی آگے بڑھادی۔

Read More:   Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 14

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply