Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 6

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول قسط نمبر 6

آرکسٹرا کی ہلکی ہلکی دھن پر چوبی فرش پر دھیرے دھیرے پاٶں مارتا ہوا ہارون رضا کچھ بے چین سا نظر آرہا تھا۔
”کچھ چاہیۓ سر؟“ویٹر نے ایک بار پھر آکر اُس سے پوچھا۔
”اوہ نہیں مجھے کسی کا انتظار ہے۔“ وہ بیزاری سے بولا۔
”بہتر سر۔“ ویٹر نے کندھے اچکاۓ اور داٸیں جانب مُڑ گیا۔
”السلام علیکم! بھیا“ رابعہ کی چہکتی ہوٸی آواز پر اس نے چونک کر گردن گھماٸی۔
”اوہ رابی کی بچی تمہیں خدا سمجھے۔ اتنی دیر کردی۔ میں پچھلے آدھے گھنٹے سے تمہارے انتظار میں سوکھ رہا ہوں۔“ ہارون نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا۔
”دھیرج بھیا دھیرج۔۔ اپنی سی کہے جاٸیں گے کہ کسی اور کی بھی سنیں گے۔“ رابعہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
”ہاں کہو۔“
”دراصل جنابِ عالی! ہم تو ٹاٸم سے پہلے نکل آۓ تھے۔ لیکن ہم آپ کی طرح کار والے تو ہیں نہیں، یہاں تو گھنٹوں بس کے چکر میں خوار ہونا پڑتا ہے۔“ اُس کے لہجے میں دُکھ کا عنصر نمایاں تھا۔
”ارے پگلی! اس میں اتنا اُداس ہونے والی کیا بات ہے۔ تم نے مجھے کہا ہوتا میں تمہیں پک کرلیتا۔“ ہارون نے اُس کے دکھ کو محسوس کرتے ہوۓ کہا۔
”اچھا چھوڑیں ان باتوں کو یہ بتاٸیں کہ آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟“ رابعہ نے اُس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوۓ پوچھا۔
”وہ بھی بتاتا ہوں۔ پہلے یہ بتاٶ کہ کیا لوگی؟“
”ایپل جوس منگوالیں۔“ رابعہ نے مینو میں مشروبات کی فہرست پر ایک طاٸرانہ نظر دوڑاتے ہوۓ جواب دیا۔ ہارون نے بیرے کو طلب کرکے آرڈر دیا اور رابعہ کی طرف متوجہ ہوا۔
”میں تمہارے متعلق جاننا چاہتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم بُرا نہیں مانوگی۔“ ہارون نے تمہید باندھی۔
”کیا جاننا چاہتے ہیں بھیا۔“رابعہ نے مدھم آواز میں پوچھا۔
”اس روز تم کچھ زیادہ ہی اداس تھی۔“ہارون نے قصداً جملہ ادھورا چھوڑا۔
”اُس دن کیا بھیا میں تو ہر وقت ہی اُداس رہتی ہوں۔“وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔
”اسی اداسی کی وجہ تو جاننا چاہتا ہوں میں۔“ ہارون نے کہا۔
”چھوڑیں بھیا۔ میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔“
”دیکھو رابی میں نے تمہیں بہن کہا ہے اور بہنیں بھاٸیوں سے کچھ نہیں چھپاتیں۔“ ہارون کے لہجے میں محبت بھرا استحقاق تھا رابعہ چند لمحے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو گھورتی رہی اسی اثنإ میں بیرا انکا آرڈر میز پر سجا گیا۔
”ہم چار بہن بھاٸی ہیں میں سب سے چھوٹی ہوں۔ دونوں بھاٸی اپنے اپنے گھر والے ہیں۔ بہن اپنے شوہر کیساتھ کینیڈا میں مقیم ہے۔ میں دسویں کلاس میں تھی جب میرے اباجان کا انتقال ہوگیا۔ بڑا بھاٸی کماتا تھا گھر کا خرچ آسانی سے چل رہا تھا۔ امی جان نے اپنی زندگی میں سب کے گھر بسا دیۓ تھے۔ میری منگنی بھی ابو کے ایک دور پار کے کزن کے بیٹے راحیل سے کردی گٸی تھی۔ راحیل منگنی کے بعد تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے یوکے چلے گٸے میرا ان سے خط کے ذریعے رابطہ رہتا ہے۔ زندگی نارمل سے انداز میں چل رہی تھی کہ اچانک پچھلے برس امی کا انتقال ہوگیا۔ اور امی کے بعد تو جیسے میرے لیۓ ساری دنیا کے دروازے بند ہوتے چلے گٸے۔ بھاٸیوں کو میں بوجھ لگنے لگی۔ بھاوجوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چُبھنے لگی۔ سسرال والوں نے بھی نظریں پھیر لیں۔ کٸی ماہ سے راحیل نے بھی کوٸی رابطہ نہیں کیا۔۔ ماموں نے اپنے پاس بلا لیا تو میں ادھر چلی آٸی۔ قسمت یاور تھی کہ نوکری مل گٸی۔ آپ یقین کرینگے بھیا کہ میرے بھاٸی جو اتنی اونچی اونچی پوسٹوں پر ہیں، کسی نے ایکبار بھی نہ کہا کہ میں انجان شہر جاکر دھکے کیوں کھاٶں، وہ تو الٹا خوش ہوۓ۔ جھوٹے منہ بھی نہ روکا مجھے۔“ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی۔ ہارون کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ اس دکھی لڑکی کا غم کیسے بانٹے۔
”میں اکثر سوچتی ہوں کہ آپ کی بہنیں کتنی خوش قسمت ہیں کہ انہیں آپ جیسا مخلص اور چاہنے والا بھاٸی ملا۔“ رابعہ نے سچاٸی سے کہا۔
”اچھا۔“ ہارون نے اسے گھورا۔ ”تم بد قسمت ہو۔۔ ٹھیک ہے نہ سمجھو مجھے اپنا بھاٸی۔“ وہ منہ بنا کر بولا تو رابعہ کو خواہ مخواہ ہنسی آگٸی۔
”ہاں ہاں ہنس لو، میں تو پاگل ہوں جو تمہیں اپنی بہن سمجھتا ہوں۔“ وہ بالکل سنجیدہ اور متین لہجے میں بولا۔
”ننھی منی۔“ وہ اتنے زور سے ہنسی کہ اردگرد بیٹھے لوگ انکی طرف متوجہ ہوگٸے۔
”ارے ارے احمق لڑکی۔“ ہارون نے جلدی سے کہا۔ ”کیا کہیں گے لوگ انہیں ہوٹل میں بیٹھنے کی بھی تمیز نہیں۔“ ہارون نے اسے گھورا تو رابعہ نے فوراً اپنی ہنسی کو بریک لگاۓ۔
”چلو جوس ختم کرو پھر تمہیں گھر چھوڑ آٶں۔“ ہارون نے پیار بھرے انداز میں کہا تو وہ اپنے جوس کی طرف متوجہ ہوگٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون گھر میں داخل ہوا غیر معمولی سناٹے نے اُس کا استقبال کیا۔
”امی جان۔“ وہ آواز دیتا ہوا لاٶنج سے ہوتا کچن میں آیا۔ خانساماں چولہے پر رکھی کسی پتیلی میں چمچ چلا رہا تھا آہٹ پر اسکی جانب پلٹا۔
”سلام صاحب۔“
”وعلیکم السلام! سب لوگ کدھر گٸے ہیں؟“ اس نے پوچھا۔
”جی چھوٹی باجی اور بیگم صاحبہ بازار گٸے ہیں فہد صاحب ابھی یونیورسٹی سے نہیں لوٹے۔ بڑے صاحب بھی کہیں گٸے ہوۓ ہیں۔ اور دلہن بیگم سورہی ہیں۔“ خانساماں نے تفصیل بتاٸی تو وہ سر ہلاتا ہوا کچن سے نکل کر اپنے کمرے کیطرف چلا آیا۔ ثنإ کو بے خبری سے سوتا دیکھ کر وہ قدرے حیران ہوا تھا کیونکہ وہ دوپہر میں سونے کی عادی نہ تھی۔ کپڑے تبدیل کرکے وہ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ملازم کھانا لے آیا۔
”ثنإ نے کھانا کھایا؟“ اس نے پوچھا۔
”نہیں جی۔“ ملازم جواب دے کر چلا گیا۔
”ثنإ کو جگا لوں۔“ اُس نے سوچا پھر اُٹھ کر اسکے سرہانے آیا اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ”ارے ارے بھیا بھابھی کو مت اُٹھاٸیے“ کی پکار پر چونک گیا۔ رانی ٹپک پڑی تھی۔
”تم۔۔“ ہارون نے اپنی بھوری بھوری آنکھیں پھیلا کر اُسے گھورا۔ ”جی ہاں میں۔“ رانی نے کمر پر ہاتھ جما کر اکڑ کے کہا۔ تبھی امی، ابو اور فہد بھی چلے آۓ۔
”ارے آپ سب گھر پر ہیں۔“ وہ حیرت سے بولا۔
”جی۔ ارادہ تو یہ تھا کہ دروازہ ہی نہ کھولا جاۓ جب تک آپ مٹھاٸی کا ٹوکرا سر پر اُٹھا کر نہ لاٸیں۔“ فہد مسکراتے ہوۓ بولا۔
”لیکن کیوں؟“ ہارون نے اب تقریباً غصے میں آکر قدرے اونچی آواز میں بولا۔
”آہستہ بھٸی دلہن کی طبیعت ٹھیک نہیں۔“ امی جلدی سے بولیں۔ تو وہ گھبرا کر ثنإ کے سرہانے بیٹھ گیا جس کی نیند اب کچی ہونے لگی تھی۔
”کک۔۔ کیا ہوا ثنإ کو؟“
”کچھ بھی نہیں۔۔ اب ٹھیک ہے۔“ امی بڑے آرام سے بولیں۔
”لیکن امی۔۔“ اسکا دل ڈوبنے لگا۔ نجانے ثنإ کو کیا ہوا تھا۔ وہ سوچ سوچ کر پریشان ہوا جارہا تھا اور سب گھر والے کتنے اطمینان سے کھڑے تھے، وہ پزل ہوگیا۔
“ارے میرے پیارے بھیا پریشان مت ہوں۔“ رانی کو بلآخر اس پہ ترس آگیا۔ ”اصل میں آپ۔۔۔ نہیں نہیں میں۔۔ نہیں نہیں امی۔۔“ وہ بولتے بولتے آنکھیں میچ کر مسکاٸی۔
”کچھ پھوٹو بھی۔“ وہ جھنجھلایا۔
”ایکچوٸیلی بات یہ ہے کہ امی جان دادی بننے والی ہے۔“ رانی نے دھماکہ کیا۔
”کیا؟؟“ ہارون کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے مشکل ہوگٸے تھے۔ اسی اثنإ میں ثنإ بھی جاگ چکی تھی اور مندی مندی سی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔
”ہاں بھٸی۔ مبارک ہو۔جا رانی بھاٸی کا منہ میٹھا کروا۔ اور فہد تم آٶ میرے ساتھ بھابھی کے گھر مٹھاٸی دے آٸیں۔“ امی کے حکم پر مجمع برخواست ہوگیا۔ ہارون نے ثنإ کی طرف دیکھا جو شرمیلی سی مسکان ہونٹوں پر سجاۓ اٹھ بیٹھی تھی۔
”تھینک یو ثنإ۔“ اُس نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر گرم جوشی سے کہا تھا۔ اس سمے ان دونوں کی آنکھوں میں داٸمی خوشیوں کا عکس تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”نہیں پہلے میری۔۔نہیں جی پہلے میری سننی پڑے گی۔“ رابعہ نے ہاتھ ہلا کر شور مچانے والے انداز میں کہا۔
”آل راٸٹ بھٸی تم بولو۔“ ہارون نے ہتھیار ڈالے۔
”وہ۔۔۔ آپ خود ہی پڑھ لیں۔“ رابعہ نے شرمیلے انداز میں انگلیاں مروڑتے ہوۓ ایک کاغذ کا ٹکڑا اسکی طرف بڑھایا تو ہارون نے کاغذ اس کے ہاتھ سے لے کر اس پر نظریں دوڑاٸیں۔ یہ راحیل کا خط تھا جو اگلے ہفتے واپس آرہا تھا اسنے رابعہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ کسی بھی حال میں رابعہ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔
”ہوں۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ دیکھا اس دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ راحیل واقعی ایک اچھا انسان ہے۔“ ہارون نے خط پڑھنے کے بعد پر مسرت لہجے میں کہا رابعہ کی آنکھیں بھرآنے لگیں۔
”ارے یہ کیا تم رو رہی ہو۔ نہیں بہنا خوشی کے موقع پر نہں رویا کرتے۔“ اس نے شفقت سے پر لہجے میں کہا تو رابعہ نے اپنی آنکھیں صاف کرڈالیں۔
”یہ تو خوشی کےآنسو ہیں بھیا۔“ وہ روۓ روۓ لہجے میں بولی۔
”اچھا میرے پاس بھی تمہارے لیۓ ایک خوش خبری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اب تم روٶگی نہیں۔“ ہارون ہاتھ اٹھا کر بولا۔
”نہیں نہیں اب نہیں روٶں گی۔“
”گڈ پھر سنو۔ تم پھپھو بننے والی ہو۔“ ہارون نے مسکراتے ہوۓ بتایا تو وہ جیسے خوشی سے اُچھل پڑی۔
”سچ بھیا۔۔ یا اللہ یہ کتنا پیارا دن ہے۔ آج تو خوشیاں سنبھالے نہیں سنبھل رہیں۔ تیرا شکر میرے مالک۔“ وہ دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھاۓ رب کا شکر ادا کرنے لگی ہارون مسکرانے لگا۔
”اچھا ایسا ہے کہ راحیل سے میری بات کرواٶ۔ تمہاری شادی کے متعلق بات کرونگا اس سے۔ اور ہاں شادی کی جو بھی شاپنگ ہے وہ میں کرواٶں گا تمہیں۔“ اسنے کچھ دیر بعد سنجیدگی سے کہا۔
”میں نے بھاٸیوں کو میسیج کیا تھا انہوں نے جواب دیا کہ جب راحیل آٸیں گے تب دیکھا جاۓ گا۔“ اسنے اداسی سے جواب دیا۔
”چھوڑو تم سب کو۔ میں ہوں ناں اور تمہارے ماموں بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ تم اپنے بھاٸیوں کو انکے حال پر چھوڑدو اور راحیل سے میری بات کرواٶ۔“ ہارون نے بالکل بڑے بھاٸیوں کے سے انداز میں ذمے دارانہ لہجے میں کہا تو رابعہ مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل سے بات کرکے ہارون کو اندازہ ہوا کہ وہ ایک بہت معقول انسان تھا اور رابعہ کیساتھ بہت مخلص بھی تھا۔ اس نے ہارون کو یقین دلایا کہ اگر اسکے گھر والے نہ بھی مانے تو پھر بھی وہ رابعہ سے ہی شادی کرے گا۔ ہارون کو یک گونہ اطمینان محسوس ہوا۔ دوسری جانب رابعہ کے ماموں ممانی بھی رابعہ اور راحیل کی شادی کے حق میں تھے۔ ہارون نے ایکبار رابعہ کے بھاٸیوں سے بھی بات کی اور اس کے مضبوط دلاٸل کا نتیجہ تھا کہ اسکے بھاٸیوں کے دل میں بہن کی سوٸی ہوٸی محبت پھر سے جاگ گٸی اور جس روز راحیل کا جہاز اسلام آباد لینڈ کیا اسی روز اسکے دونوں بھاٸی اپنے اپنے بیوی بچوں سمیت چلے آۓ۔ راحیل نے اپنے والدین کو بتادیا کہ وہ ہر صورت رابعہ سے ہی شادی کرے گا۔ اب چونکہ سب مساٸل حل ہوچکے تھے سو راحیل کے گھر والے بھی مان گٸے اور طے یہ پایا کہ رابعہ اور راحیل کی شادی کراچی میں ہی ہوگی۔ اس روز شام کو رابعہ کو کراچی واپس جانا تھا ہارون اسے ساتھ لیۓ مارکیٹ چلا آیا۔ وہ اسے کچھ شاپنگ کروانے لگا۔ ہارون کا ارادہ تھا کہ آج گھر جاکر ثنإ کو رابعہ کے متعلق بتاۓ گا اور اسے ساتھ لے کر کراچی جاۓ گا رابعہ کی شادی میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”اُف بھابھی۔۔ اب تو تھک گٸی۔ کچھ دیر بیٹھتے ہیں۔“ رانی نے تھکی تھکی آواز میں کہا۔وہ دونوں کافی دیر سے شاپنگ کرنے نکلی تھیں۔
”اوکے بابا چلو۔ ایک تو تم تھک بڑی جلدی جاتی ہو۔“ ثنإ منہ بنا کر بولی۔
”امی نے آپ کو زیادہ چلنے پھرنے سے منع کیا تھا۔ اور ویسے بھی آپ کی طبیعت۔۔۔“
”اچھا اچھا بڑی بی۔۔ چلو تمہیں جوس پلوا دوں۔“ اسنے اسکی بات کاٹ کر کہا اور وہ دونوں ایک قریبی ریسٹورنٹ میں آبیٹھیں۔ کچھ کھانے پینے کے بعد ہمت بحال ہوٸی تو انہوں نے شاپنگ کا سلسلہ پھر سے شروع کیا۔ گروسری سٹور سے نکلتے ہوۓ ثنإ کو کچھ یاد آیا تو وہ رانی کی طرف مڑی۔
”تم جاکرگاڑی میں بیٹھو میں سامنے والی شاپ سے ہوکر آتی ہوں۔“ اس نے گفٹ شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا تو رانی شاپنگ بیگز سنبھالتی چلی گٸی۔ ثنإ گفٹ شاپ کی طرف بڑھی ہی تھی کہ گلاس وال کے اس طرف کا منظر اسے چونکا گیا۔ ہارون کسی خوبصورت سی لڑکی کے ہمراہ دوکان میں موجود تھا۔
”ہارون یہاں۔۔۔“ اسکا دماغ چکرانے لگا۔ وہ دونوں باتیں کررہے تھے مسکرا رہے تھے ہارون کے ہاتھوں میں موجود شاپنگ بیگز بتارہے تھے کہ وہ کافی دیر سے اس لڑکی کو شاپنگ کروا رہا تھا۔ ثنإ نے دیوار کا سہارا لیکر بمشکل خود کو گرنے سے روکا۔ وہ دونوں اب دوکان سے باہر آرہے تھے وہ جلدی سے رخ موڑ کر کھڑی ہوگٸی۔
”رابی تم چلی جاٶگی مگر میرے دل سے نہیں جاٶگی۔“ اسکے پاس سے گزرتے ہوۓ ہارون کی لگاوٹ بھری پکار نے ثنإ کو وجود میں شک کی چنگاری کو مزید ہوا دی۔ انکے نظروں سے اوجھل ہوجانے کے بعد وہ بمشکل خود کو سنبھالتی گاڑی تک آٸی اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر رانی کے برابر بیٹھی اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر ہانپنے لگی۔
”کیا ہوا بھابھی؟“ رانی گھبرا گٸی۔
”گھر چلو میرا دل نیچے نیچے جارہا ہے۔“ وہ نقاہت بھرے لہجے میں بولی۔
”ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں بھابھی۔“ رانی پریشانی سے بولی۔
”نہیں۔ ڈراٸیور گھر چلو۔“ وہ سخت لہجے میں کہہ کر پھر سے سیٹ کی پشت سے ٹک گٸی۔ رانی چپ ہوگٸی جبکہ ڈراٸیور نے گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی۔ سارا رستہ مکمل خاموشی کی نذر ہوگیا۔ گھر پہنچ کر وہ رانی کی طرف پلٹی۔
”دیکھو تم تاٸی امی سے ذکر مت کرنا۔“
”لیکن کیوں؟“
”بس یونہی وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔“ وہ کہہ کر گاڑی سے اتری اور سیدھی اپنے کمرے میں چلی آٸی۔ اور اپنے کمرے میں آتے ہی آنسو کسی منہ زور ریلے کی طرح بہہ نکلے۔ وہ گھٹنوں میں منہ دیٸے ٹوٹ کر رودی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تو ہارون رضا آج تمہارا اصلی روپ میرے سامنے آگیا۔ میں بھی سوچتی تھی اتنا خوبصورت آدمی ایک عام سی شکل والی لڑکی سے کیسے محبت کرسکتا ہے۔“ وہ ابھی گھر پہنچ کر بیٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ ثنإ کے انتہاٸی تلخ جملوں نے اس کا استقبال کیا۔ وہ چونک کر اسکی طرف پلٹا۔ وہ روٸی روٸی آنکھوں کیساتھ اسکے سامنے تھی۔
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثنإ؟“ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
”وہی کہہ رہی ہوں جو مجھے بہت پہلے کہہ دینا چاہیۓ تھا۔“ وہ ناگن کی طرح پھنکاری۔
”ثنإ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“ اس نے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا۔ تو اس نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
”مت لگاٶ مجھے ہاتھ۔“
”یار آخر بتاٶ بھی تو کچھ۔“ وہ زچ ہوکر بولا۔
”کیسے مان جاٶں کہ تم انتے نادان ہو اتنے معصوم ہو۔“ وہ غصے کے مارے کانپ رہی تھی۔
”ثنإ میری جان اگر تمہیں مجھ سے کوٸی شکایت ہے تو۔۔۔“
”بند کرو یہ چونچلے آٸی ہیٹ اٹ۔“ وہ اسکی بات کاٹ کر تلملا کر بولی۔ ”اپنے اندر جھانکو ہارون رضا تمہیں سب معلوم ہوجاۓ گا۔ تمہارے ظاہر اور باطن میں کتنا فرق ہے کبھی سوچا ہے تم نے؟“ ثنإ کی آنکھوں سے ان ساون بھادوں کی جھڑی لگی ہوٸی تھی۔
”دیکھو جو کچھ بھی تمہارے دل میں ہے کہہ دو۔ آٸم شیور تمہیں کوٸی غلط فہمی ہوگٸی ہے۔“ وہ صلح کُن انداز میں بولا۔
”غلط فہمی۔۔ نہیں میری آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتیں۔ اگر تمہیں اُس کے جانے کا اتنا ہی دکھ ہے تو اسکے ساتھ چلے جاٶ۔ میں خود ہی تمہاری راہ سے ہٹ جاٶں گی۔ وہ بہت خوبصورت ہے تم اس کو پسند کرتے ہو رابی ایک اچھی لڑکی ہے۔“ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
”رابی۔۔“ ہارون اچانک مسکرا اٹھا۔ ”تم نے یقیناً مجھے اس کے ساتھ بازار میں دیکھا ہوگا۔ تم بھی شاید آج بازار گٸی تھیں۔بیٹھو میں تمہیں سب بتاتا ہوں۔ ایکچوٸیلی میں تمہیں پہلے ہی بتانا چاہتا تھا لیکن یہ سوچ کر رک گیا کہ جب اسے گھر لاٶں گا تب ہی سب سے اُس کا تعارف کرواٶں گا مگر۔۔۔“
”مجھے کچھ نہیں سننا۔“ اسنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیۓ۔ اسکی اس بچگانہ حرکت پر وہ بے اختیار مسکرادیا۔
”پگلی تم بہت شکی ہو۔ اب تک تمہیں میری بات اور محبت کا یقین نہیں آیا۔ دیکھو ثنإ شک محبت کی جڑیں کھوکھلی کردیتا ہے۔ اپنے دل سے شک نکال دو۔ ہارون صرف تمہارا ہے۔ وہ لڑکی میری بہن ہے۔ یقین کرو۔“ وہ اب سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔
”مجھے بہلایں مت۔ اب چوری پکڑے جانے پر آپ اُسے بہن ہی بناٸیں گے۔“وہ طنزاً مُسکراٸی۔
”ثنإ تم پھر میری محبت کا مذاق اُڑا رہی ہو۔“ وہ تلخ ہوا۔
”سچ بہت کڑوا ہوتا ہے ہارون رضا اور بہت کم لوگ اُس کو سننے کی ہمت رکھتے ہیں۔“ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ دلیری سے بولی۔
”تم خواہ مخواہ اتنی سی بات کو طول دے رہی ہو۔“ ہارون نے پھر نرم لہجہ اختیار کیا۔
”یہ اتنی سی بات ہے۔۔ہاں آپکے نزدیک یہ اتنی سی بات ہوگی لیکن میرے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔ کوٸی عورت اپنے شوہر کو دوسری عورت کیساتھ رنگ رلیاں مناتے نہیں دیکھ سکتی۔“
”ثنإ۔۔۔ تم حد سے بڑھ رہی ہو۔“ ہارون کو غصہ آگیا۔
”اور آپ حد میں ہیں کیا۔ میں ہزاروں بار کہوں گی کہ آپ جھوٹے دغاباز ہیں۔ آپ نے ترس کھا کر میرے دل کے کاسے میں اپنی محبت کی بھیک ڈال دی تھی۔ ہارون رضا تم نے مجھے بھکارن سمجھا نہ تم نے مجھے دھتکارا نہ سینے سے لگایا۔ تم کتنے بڑے فریبی ہو۔“ وہ اب زور زور سے چلانے لگی تھی۔
”آہستہ بولو گھر والے کیا کہیں گے۔“ ہارون کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔
”کیوں آہستہ بولوں۔“ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے خوفی سے بولی۔ ”تمہاری بدکرداری اور عیاشیوں کے قصے سب کے سامنے کھل نہ جاٸیں اسلیۓ ڈرتے ہو تم۔“ وہ تلخ ترین لہجے میں بولی۔
”ثنإ۔۔۔“ ہارون کا ضبط جواب دے گیا اور اس نے ایک زوردار تھپڑ ثنإ کے چہرے پر رسید کردیا تھا۔

Read More:   Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 30

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply