Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Last Episode 7

0

یہ معاملے دل کے از فضہ بتول آخری قسط نمبر 7

ثناء اسکا تھپڑ سہہ نہ سکی اور تیورا کر گر پڑی۔ شور کی آواز سن کر گھر کے بقیہ افراد بھی اکٹھا ہوگئے تھے۔ ہارون نے آگے بڑھ کر اسے زمین سے اٹھانا چاہا تو اس نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا اور خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
”ارے کیا ہوا بہو کیوں جھگڑا کر رہے ہو تم دونوں؟“ امی پریشانی کے عالم میں آگے بڑھیں اور ہارون دل ہی دل میں پشیمان ہورہا تھا یہ اس نے کیا کردیا۔ وہ اپنے ہاتھ کو نفرت انگیز انداز میں دیکھنے لگا جو اسنے ثناء پر اٹھایا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا وہ اپنا ہاتھ کاٹ ڈالے جو ثناء پر اٹھ گیا۔
ثناء امی کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اسکی سسکیوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
”آخر بات کیا ہے؟“ ابو نے گرجدار آواز میں ہارون کو مخاطب کیا۔
”وہ ابو۔۔“ ہارون گڑبڑا گیا۔
”تم بتاؤ بہو کس بات پر جھگڑ رہے تھے تم دونوں؟“ وہ اب بہو سے مخاطب ہوئے۔ ثناء نے اٹکتے ہوئے انہیں ساری بات من و عن بتادی تو ہارون مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی مجرم بن گیا۔ سب گھر والے اسے گھور رہے تھے۔
”سب باتیں ایک طرف مگر تم نے بہو پر ہاتھ کیوں اٹھایا مرد ہوکر اتنی گری ہوئی حرکت کی تم نے؟“ ابو گرجے اور ساتھ ہی ایک زوردار تھپڑ ہارون کے منہ پر جڑ دیا۔ اور ہارون.. اس نے تو کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ اتنی سی بات پہ ساری چاہتیں نفرتوں میں بدل جائینگی۔ وہ اس وقت سر جھکائے اس طرح کھڑا تھا جیسے مجرم کٹہرے میں کھڑا ہو۔
”ابو آپ میری بات تو سنیں۔“ اس نے ہمت کرکے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا مگر سب اسکو برا بھلا کہنے لگے۔ امی تو باقاعدہ رو رہی تھیں۔ سب کا اسرار تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرکے ثناء سے معافی مانگ لے مگر ہارون اس غلطی کو کیسے تسلیم کرلیتا جو اسنے کیا ہی نہ تھا۔ وہ چپ چاپ گھر سے نکل آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رات کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح شہر کی خاک چھاننے کے بعد وہ صبح کے وقت تھکا ہارا گھر پہنچا تھا۔ سارے گھر پر سناٹے کا راج تھا وہ شکستہ قدموں سے چلتا اپنے کمرے میں آیا تو وہاں بھی تنہائی کا ڈیرہ تھا۔
”ثناء“ اسنے بے اختیار اسے پکارا۔ تبھی رانی چلی آئی۔
”بھابھی چلی گئیں ہیں۔“ اسنے اسے بتایا تو وہ ہارے ہوئے انداز میں دو قدم پیچھے ہٹا۔ ”بھیا یہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔“ وہ روتی ہوئی چلی گئی تھی۔ اور ہارون.. وہ تو نجانے کہاں پہنچ گیا تھا۔
”ثناء یہ تم نے کیا کردیا میں بے قصور وار ہوتے ہوئے بھی قصور وار ہوگیا۔ تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئیں۔ اتنی سنگدل کیوں بن گئیں تم کتنی کٹھور ہو تم کو ذرا میرے دل کا خیال نہیں آیا۔۔“ وہ دل ہی دل میں اس سے شکوہ کناں ہوگیا۔ ” ایک بار واپس آجاؤ ثناء مجھ سے کسی کی قسم لے لو ہارون صرف تمہارا ہے یہ دل صرف تمہارے نام کی مالا جپتا ہے۔ ان آنکھوں میں تمہارے سوا کوئی نہیں۔۔“ اس نے اپنا کھولتا ہوا دماغ ہاتھوں پر گرا لیا۔ پھر وہ کتنی مرتبہ اسے لینے گیا لیکن اسکی التجا معافی کسی بھی بات نے ثناء کے دل پہ اثر نہ کیا۔ وہ جب جاتا تو وہ اندر سے دروازہ بند کرلیتی وہ پاگلوں کی طرح اسکا دروازہ پیٹتا رہتا پھر شکستہ قدموں سے لوٹ آتا۔ شروع شروع میں تو چچا چچی اور محسن بھی اسکے خلاف تھے مگر آہستہ آہستہ وہ بھی ثناء کو سمجھانے لگے۔ اسے کمپرومائز کرنے کی تلقین کرنے لگے مگر وہ کسی طور ہارون کی شکل دیکھنے کی روادار نہ تھی۔ دوسری جانب ہارون کے گھر والے بھی اب اسکے دکھ سے متاثر ہونے لگے تھے مگر وہ دشمن جان کسی صورت نہ پگھلی۔ اسی دوران رابعہ کی شادی ہوگئی اسنے اسے اپنی شادی پر آنے کی بار بار یاد دہانی کروائی مگر اس نے ضروری کاموں کا بہانہ کردیا وہ کیسے جاتا اسکی شادی میں، اسکی تو زندگی ہی اجڑ کر رہ گئی تھی۔ دن بے قرار اور راتیں بے کیف تھیں۔ ہر لمحہ جدائی کی آگ میں تڑپ تڑپ کر وہ اب کچھ بیمار رہنے لگا تھا۔ عورت اتنی سنگدل ہوتی ہے یہ تو اسنے تصور بھی نہ کیا تھا۔ اسی طرح جلتے سلگتے سات ماہ بیت گئے۔ امی ابو نے بھی کئی بار ثناء سے گھر واپس آجانے کی استدعا کی مگر وہ اس بری طرح بدگمان تھی کہ اپنے فیصلے سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹی تھی۔ ہارون تو اب گھبرا کر مرجانے کی دعا کرتا کہ اس زندگی سے تو موت بہتر لگتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”صاب جی کوئی بیگم صاحبہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔“ نوکر نے آکر اسے اطلاع دی تو وہ ماضی کے جھروکوں سے باہر نکل آیا۔ بارش کب کی تھم چکی تھی وہ کپڑوں کی شکنیں ہاتھوں سے درست کرتا ہوا باہر نکلا اور ڈرائنگ روم میں آیا۔ وہاں موجود دونوں نفوس کو دیکھ کر وہ بے قراری کے عالم میں آگے بڑھا۔
”رابعہ۔“
”آداب بھیا۔” وہ جلدی سے آگے بڑھی اسکے ہمراہ اسکا شوہر راحیل تھا۔
”رابی میری بہن۔۔“ وہ مضطربانہ انداز میں بولا۔
”کیا ہوا بھیا آپ ٹھیک تو ہے ناں؟“ رابعہ کچھ پریشان ہوگئی۔
”رابی میری بہن اپنے بھائی کی زندگی بچالو۔ دیکھو میں کب سے تمہارا منتظر ہو رابی۔ میری زندگی کے گھور اندھیروں میں بس اب تم ہی امید کی کرن ہو۔ وہ اونچا لمبا مرد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا رابعہ اور راحیل ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”جی کس سے ملنا ہے آپکو؟“ نمرہ نے دروازے پر کھڑی پیاری سی لڑکی کو سر سے پاؤں تک گھورا۔
”جی میرا نام رابعہ ہے مجھے ثناء بھابھی سے ملنا ہے۔“ اسنے متانت سے جواب دیا۔
”اوہ تو آپ رابعہ ہیں۔۔“ نمرہ کے لہجے میں تلخی کی آمیزش آگئی۔
”جی اور یہ میرے شوہر راحیل۔ ہم کراچی سے ہارون بھیا اور ثناء بھابھی سے ملنے آئے تھے مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ چھوٹی سی غلط فہمی کی بنیاد پر اتنا بڑا طوفان آچکا ہے۔“ اپنے برابر کھڑے راحیل کا تعارف کروانے کے بعد اس نے کہا۔
”آپ۔۔“ نمرہ الجھی۔
”دیکھیں میرا ثناء بھابھی سے ملنا بہت ضروری ہے۔ میں ہر بات انہی سے کلیئر کرونگی۔“ رابعہ جلدی سے بولی۔
”ثناء آپی تو ہسپتال چلی گئی ہیں۔“ نمرہ نے بتایا۔
”اوہ کونسے ہسپتال؟“
”شفاء۔“ نمرہ نے بتایا تو وہ راحیل کی طرف مڑی۔
”چلیں ہمیں فوراً ہسپتال جانا ہے، میں ہارون بھیا کو بھی کال کردوں۔“ وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال روانہ ہوگئے راستے میں ہی رابعہ نے کال کرکے ہارون کو ہسپتال آنے کا کہہ دیا۔ وہ دونوں جب ہسپتال پہنچے تو ہارون اور اسکے گھر والوں کو پارکنگ میں موجود پایا وہ سب اکٹھے اندر آئے۔ چچا چچی سے باہر ہی ملاقات ہوگئی تھی۔ ان سے اطلاع ملی کہ بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ ہارون کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ ثناء سے ملنے کے لیئے تڑپنے لگا۔ دوسری جانب سب گھر والے رابعہ کے متعلق تجسس میں تھے۔ اسنے اپنے متعلق انہیں سب کچھ بتادیا اور ثناء سے ملنے اسکے کمرے میں چلی آئی۔ ثناء تکیوں سے ٹیک لگائے سوگوار سی بیٹھی تھی۔ اسنے مدھم آواز میں سلام کیا تو وہ چونکی۔
”تم.. تم یہاں کیوں آئی ہو؟“ وہ اسے دیکھتے ہی خشمگیں لہجے میں بولی۔
”میں اپنے بھتیجے کو دیکھنے آئی ہوں۔“ رابعہ نے نرم لہجے میں کہا۔
”تم.. تمہارا کوئی رائٹ نہیں میرے بچے کو دیکھنے کا۔“ وہ چلائی۔
”پلیز بھابھی بدگمانی بہت بری چیز ہے۔ اپنے دل کو صاف کرلیں۔ میں شادی شدہ ہوں. اپنے شوہر کیساتھ آپ اور ہارون بھیا سے ملنے آئی تھی۔“ اسنے متانت سے اسے بتایا۔
”بھیا۔۔“ ثناء نے الجھن آمیز انداز میں اسکی طرف دیکھا۔
”ہاں بھابھی ہارون بھیا صرف میرے بھائی ہیں اور وہ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں اسکی گواہ میں ہوں۔ اگر وہ فلرٹی ہوتے تو مجھے بہن نہ کہتے، ایک بھائی کی طرح مجھے سپورٹ نہ کرتے۔ وہ کس قدر عظیم انسان ہیں یہ مجھ سے پوچھیں۔“ وہ جذباتی انداز میں بولے گئی پھر اس نے دھیرے دھیرے سب کچھ ثناء کو بتادیا۔ ”میری شادی کی آدھی سے زیادہ شاپنگ تک انہوں نے کروائی مجھے۔ بھیا تو چاہتے تھے کہ وہ خود مجھے آپ سے متعارف کروائینگے مگر آپ نے انہیں اسکا موقع ہی نہ دیا.۔ بھابھی اللہ جانتا ہے ہارون بھیا میرے سگے بھائیوں سے بڑھ کر ہیں۔“ وہ اپنی بات کے اختتام پر پھوٹ پھوٹ کے رودی۔ اور ثناء.. اسکی تو عجیب حالت ہورہی تھی۔ نہ وہ رو سکی نہ ہنس سکی۔ یہ اسنے کیا کرڈالا تھا خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنے آشیانے کو آگ لگا ڈالی۔ اپنے اتنے محبت کرنے والے شوہر سے بدگمان ہوگئی۔
”آپ نے میرے بھیا کو بہت رلایا ہے بھابھی پلیز اب یہ تلخیاں ختم کردیں۔“ رابعہ نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ اسے تو یہی سمجھ نہ آرہی تھی کہ وہ اب ہارون کا سامنا کیسے کرے گی۔
کچھ دیر بعد سبھی گھروالے چلے آئے۔ سب بہت خوش تھے۔ مگر ثناء کو ہارون کا انتظار نہ تھا پر وہ نہ آیا۔ اگلے روز اسے ہسپتال سے چھٹی مل گئی تو تایا تائی اسے اپنے ساتھ لے آئے۔ سارا گھر اسکے استقبال کے لیئے سجایا گیا تھا۔ چھوٹے کا صدقہ اتارا گیا۔ غریبوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اور پھر ثناء اپنے بیٹے کو گود میں لیئے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اندر داخل ہوتے ہی سامنے والی دیوار پر ٹنگی انکی شادی کی خوبصورت سی تصویر دیکھ کر اسکے دل میں اک ہوک سی اٹھی۔ ہارون نجانے کہاں تھا وہ اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی مگر وہ تو اسکے سامنے ہی نہ آیا تھا۔ اس نے مایوس سے انداز میں چھوٹے کو کاٹ میں لٹایا۔
”ثناء۔“ ہارون کی پیار بھری رس گھولتی پکار اسکے کانوں میں اتری تو وہ چونک کر پلٹی۔ صدا کا خوبصورت ہارون رضا اپنی شاندار اٹھان لیئے اسکے سامنے تھا۔ لبوں پر بڑی پیاری مسکراہٹ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں مہکتے سرخ گلابوں کا ایک بڑا سا بکے تھا جو اسنے اسکی طرف بڑھایا تو وہ بکے تھامنے کی بجائے بے اختیار روتے ہوئے اسکے قدموں میں جھک گئی۔
”مجھے معاف کردیں۔“
”ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو پگلی۔۔“ ہارون نے جلدی سے جھک کر اسے اٹھایا۔ ”تمہاری جگہ اس دل میں ہے۔“ وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔
”مجھے معاف کردیں ہارون مجھے معاف کردیں“ وہ روتے ہوئے مسلسل ایک ہی جملے کی تکرار کیئے جارہی تھی۔
”ارے بس کرو کردیا معاف۔“ ہارون نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔
”میں بہت سنگدل ہوں بالکل قدر نہیں کی میں نے آپکی محبت کی۔“
”کم آن ثناء جو ہوگیا اسے بھول جاؤ۔“ اس نے محبت سے اسکے آنسو پونچھے اور آگے بڑھ کر کاٹ سے چھوٹے کو اٹھالیا۔
”ویسے ہمارا یہ پیارا سا بیٹا بہت ہی مبارک قدم لیکر آیا ہے۔“ اسنے محبت پاش نظروں سے اپنے بیٹے کو تکتے ہوئے کہا۔
”لیکن ہارون میں بہت ظالم ہوں میں نے آپکو کتنے دکھ دیئے ہیں آپ مجھے سزا دیں۔“ ثناء کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
”اچھا۔“ وہ اپنی بھوری بھوری آنکھیں پھیلا کر بولا۔ ”تمہاری سزا یہ ہے کہ اب اگر تم نے ایسی کوئی بات کی تو میں تم سے پکا پکا خفا ہوجاؤنگا۔“ ہارون نے زیر لب مسکرا کر کہا تو ثناء نے بے اختیار اسے شانے پر ہاتھ رکھا۔
”نہیں پلیز آپ مجھ سے خفا مت ہونا۔“
”بس پھر جلدی سے یہ آنسو صاف کرو اور اپنی پیاری سی سمائل دکھاؤ۔“ اسنے مسکرا کر پیار سے کہا تو ایک مدھم سی مسکان نے ثناء کے لبوں کا احاطہ کرلیا۔
”دیکھو ثناء میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ محبت صورت کی محتاج نہیں ہوتی یہ تو دلوں کے معاملے ہیں اور دل پر کسی کا زور نہیں چلتا۔“ وہ سنجیدہ انداز میں بولا۔ ثناء کا سر جھک گیا۔
”ویسے ہمارے پیارے سے بیبی کا نام کیا ہوگا؟“ اسنے کچھ دیر بعد موضوع بدل کر پوچھا۔
”آپ بتائیں۔“ ثناء نے اپنی پلکیں اوپر کو اٹھائیں۔
”ہوں۔۔“ ہارون سوچنے لگا۔ ”عمر.. عمر رضا۔“ اسنے تجویز دی۔
”بہت اچھا نام ہے. بس پھر آج سے یہ ہمارا عمر ہے۔“ ثناء نے مامتا بھری نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔
”بالکل۔ ویسے یہ تو تم نے بتایا ہی نہیں کہ تمہیں میری محبت پر اب بھی یقین آیا یا نہیں۔“ عمر کو کاٹ میں لٹاتے ہوئے اس نے شرارتی انداز میں پوچھا۔
”اب مجھے شرمندہ تو مت کریں۔ وہ شرمندہ لہجے میں بولی۔
”تو آپ شرمندہ بھی ہوتی ہیں۔۔“ اسکے چہرے کو نگاہوں کے حصار میں لیکر وہ اسکے عین سامنے آن کھڑا ہوا۔
”میں آل ریڈی بہت شرمندہ ہوں آپ سے ہارون۔“ وہ نظریں جھکائے جھکائے بولتی ہوئی ہارون کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔ ”اصل میں مجھے تم سے بہت زیادہ خفگی کا اظہار کرنا تھا مگر تم سامنے آئی تو سب کچھ بھول گیا۔“ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولا تو وہ بے اختیار ہنس پڑی۔ ”یہ محبت بھی انسان کو خوار ہی کروادیتی ہے۔“ وہ سر ہلا کر بولا تو ثناء کی ہنسی اور تیز ہوگئی۔ ہارون نے پرشوق نظروں سے اسے تکتے ہوئے خود سے قریب کیا اور ایک پیار بھری سرگوشی کی۔
”تمہاری ذات سے آگے نہ کچھ بھی سوچ سکوں
میں کیا کروں کہ یہ دل کا معاملہ ٹھہرا“
اس قدر خوبصورت اظہار پر ثناء نے مسکرا کر اسکے کشادہ سینے میں منہ چھپا لیا۔

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: