Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 1

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 1

–**–**–

انیلہ لے جائو اسے جب تک ہوش نہیں آتا کمرے میں بند ہی رکھنا یہ کسی کو نظر نہیں آنی چاہیے
جی نجمہ بائی مگر اس کے بدلے اتنی رقم کیوں ادا کر ڈالی تم نے ۔۔مجھے تعجب ہوا مانا کہ یہ بہت خوبصورت ہے پر دس لاکھ زیادہ نہیں ہے کیا
یہ تو کچھ بھی نہیں ہے یہاں آنے والے جس بھی امیر زادے کی نظر پڑی اس پر اس سے ہزار گنا زیادہ رقم دے گا لے جائو اسے اور جب ہوش آئے تو کھانا دے دینا
انیلہ اسے بے ہوشی کی حالت میں گھسیٹتے ہوئے ایک کمرے میں لے گئی چونکہ کمرہ پرانا تھا اس میں کچھ نہیں تھا اس لیے اسے فرش پر لٹا کر چلی گئی جب کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑی ہوئی تھی
انیلہ نے دروازہ بند کر دیا تھا پورے کمرے میں روشنی کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا بس ایک کھڑکی تھی جہاں سے باہر کی روشنی اندر آتی تھی
ایک گھنٹہ وہ لڑکی یونہی فرش پر پڑی رہی کمرے میں شدت کی گرمی تھی وہ پسینے سے شرابور پڑی ہوئی تھی اور پھر ہوش میں آنے لگی
ہوش میں آتے ہی اس نے آس پاس دیکھا ۔۔میں کہاں ہوں میں گھر سے یہاں کیسے آئی وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور دروازے کو کھولنے لگی پر دروازہ باہر سے بند تھا
کوئی ہے ۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔ میں کیسے آئی یہاں ۔۔۔کوئی ہے پلیز دروازہ کھولو ۔۔۔
میں کیسے آئی یہاں ہے کوئی یہاں ؟ ہیلپ کرو میری ۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔ وہ چیختی رہی
پر کمرہ سب سے آخر میں تھا کسی تک آواز ہی نہ گئی
دروازے پر ہاتھ مار مار کر اس کے ہاتھ لال پڑ گئے تھے ۔۔
پورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد اسے کھڑکی کے سوا کچھ نہ ملا وہ کھڑکی کی طرف بھاگی اور باہر دیکھنے لگی
کہاں وہ گائوں کی لڑکی اور کہاں یہ شہر تھا وہ گھر سے بہت دور لائی گئی تھی باہر کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی
پورا منظر اس کے جسم پر کپکپی طاری کر رہا تھا آخر کار اس سے دیکھا ناں گیا اور وہ واپس پلٹی ۔۔۔
منہ پر ہاتھ دیئے وہ آواز دبا کر رونے لگی
یا اللہ یہ سب ۔۔۔ اتنا ہی کہا تھا کہ باہر دروازے کے سامنے سے کوئی گزرا اس کے کانوں میں کسی کے قدموں کی آہٹ سی سنائی دی ایک بار پھر وہ اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔
دروازہ کھولو جانے دو مجھے، میں کیسے آئی یہاں کون لایا ہے مجھے یہاں مجھے میرے گھر جانا ہے مجھے جانے دو ۔۔۔
مگر چیخنا بھی بے کار تھا کوئی سننے والا نہیں تھا ۔۔۔
کوئی ہے پلیز میری مدد کرو مجھے نکالو یہاں سے ۔۔۔ وہ چیختی
ہوئی دروازے سے کھڑکی کی طرف بھاگی ۔۔۔۔

پر کوشش بے کار تھی وہ پچھلے تین گھنٹوں سے یہی کر رہی تھی پر کمرے میں خاموشی کے سوا اور کیا تھا ۔۔۔

چیخ چیخ کر اس کا گلا سوکھ چکا تھا ۔۔۔
لڑکھڑا کر گر پڑی پر پھر ہمت کر کے اٹھی اور خود کو کھڑکی تک گھسیٹا ۔۔۔

دروازے پر ہاتھ مار مار کر وہ تھک گئی تھی
اس بار پوری شدت سے چیخی تھی ۔۔۔ میری مدد کرو ۔۔۔
اے لڑکی تجھے سمجھ نہیں آتا ۔۔۔ یہاں کوئی نہیں آئے گا تیری مدد کے لیے ۔۔۔ اب یہاں رہنے کی عادت ڈال لے ۔۔۔
ایک عورت جو کہ انیلہ تھی اندر آئی اور اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے کھینچ کر کہا ۔۔۔۔
میں یہاں نہیں رہوں گی مر جائیں گی پر اس گندگی سے نکل کر رہوں گی وہ چیخی ۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔بہت ہمت ہے تجھ میں ۔۔۔کہہ کر اس کے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کر دیا ۔۔۔
وہ گال پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
اب اگر آواز نکلی تو اندھیرے کمرے میں ڈال دوں گی ۔۔۔۔ اور کھانا بھی نہیں ملے گا ۔۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر کھڑکی کی طرف بھاگی ۔۔۔
زور سے کھڑکی پر ہاتھ مارا ۔۔۔ کھڑکی پر کسی کی پرچھائی دکھائی دینے پر وہ ایک بار پھر چیخی ۔۔۔
بچائو مجھے ۔۔۔ ہیلپ ۔۔۔
وہ جو کوئی بھی تھا اس کے کانوں میں آواز ضرور پڑی تھی اور اس نے رخ بھی بدلا تھا ۔۔۔
نجمہ بہت چیختی ہے یہ کیا کروں اس کا اگر یہ ہمارا فائدہ ناں ہوتی تو گلا گھونٹ کر یہیں دفنا دیتی اسے ۔۔۔
نکالو اسے وہاں سے دھندا بند کروائے گی یہ اور وہ سٹور روم ہے ناں اس میں پھینک دو ۔۔۔ اور منہ میں کچھ ٹھونس دو آواز ہی نہ نکلے اب ۔۔۔
جی جیسا آپ کہیں ۔۔۔ کہہ کر وہ عورت انیلہ ایک بار پھر اندر داخل ہوئی اور اسے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئی اور ایک اندھیرے کمرے میں ڈال کر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
دروازہ کھولو پلیز میں اندھیرے میں نہیں رہ سکتی سنو کوئی پلیز میں اندھیرے میں نہیں رہ سکتی مجھے کسی اور کمرے میں لے چلو مجھے فوبیا ہے میں اندھیرے میں نہیں رہ سکتی پلیز خدا کا واسطہ مجھے نکالو یہاں سے ۔۔۔
انیلہ نے سب سنتے ہوئے بھی نظر انداز کیا اور چلی گئی ۔۔۔
کمرے میں اب روشنی بالکل بھی نہیں تھی وہ پاگلوں کی طرح یہاں وہاں دیکھ رہی تھی
اسے پورے کمرے میں پرچھائیاں دکھائی دے رہی تھی اندھیرا اس کا سب سے بڑا ڈر تھا ۔۔۔
وہ نیچے بیٹھ گئی اور گھٹنوں میں سر ڈالے آنکھیں بند کر دی ۔۔۔
کچھ دیر بعد انیلہ ہاتھ میں کھانا لیے کمرے میں آئی اس کے اندر آنے پر وہ لڑکی جلدی سے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی لیکن انیلہ نے اسے بازوں سے پکڑ لیا
یہاں سے نکلنے کی سوچنا بھی مت تم نہیں جا سکتی یہاں سے نجمہ بائی نے بہت بڑی رقم دی ہے تمھارے بدلے ۔۔۔ یہ لو کھانا کھائو اور ہماری اچھائی کا فائدہ مت اٹھائو
میں یہاں کیسے آئی ۔۔۔ کون لایا مجھے یہاں ۔۔۔
تمھاری ماں آئی تھی تمھاری بہن کے ساتھ ۔۔۔
یہ الفاظ سننے کی دیر تھی کہ وہ گھٹنوں کے بل نیچے لڑکھڑاتے ہوئے بیٹھ گئی
انیلہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی
دیکھ تیری ماں کو تجھ سے کیا تکلیف تھی میں نہیں جانتی پر اب تو یہاں سے نہیں جا سکتی اس لیے کھانا کھا اور چیخنا بند کر دے ۔۔۔
وہ لڑکی بے جان سی ہو گئی تھی
نام کیا ہے تیرا ۔۔۔ انیلہ نے کھانا اس کی طرف بڑھا کر کہا
وہ کسی بے جان لاش کی طرح گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی
کیا نام ہے تیرا ۔۔۔ اس بار اس نے اسے جھنجھوڑا۔۔
وہ ہوش میں آئی ۔۔۔
نام پوچھا تیرا میں نے ۔۔۔
حح۔۔۔حور ۔۔۔ وہ مشکل سے بولی
کھانا کھا لینا میں جا رہی ہوں ۔۔۔
رکیئے پلیز مجھے یہاں سے نکالیں میں یہاں نہیں رہ سکتی دروازہ بند ہونے پر اندھیرا ہو جاتا ہے میں خود کو نہیں پہچان سکتی اندھیرے میں اور میں اندھیرے میں نہیں رہ سکتی میں شور نہیں کروں گی مجھے یہاں سے نکالیں ۔۔۔
یہ کھانا اٹھا اور کوئی چالاکی مت کرنا تو یہاں سے نہیں نکل سکتی پیچھے آ میرے ۔۔۔
حور نے کھانے کی پلیٹ اٹھائی اور انیلہ کے تعاقب میں چلنے لگی
وہ نظریں جھکائے چل رہی تھی نظریں اٹھاتی بھی کیسے عزت دار گھرانے کی لڑکی ہو کر مجبوری میں یہاں تھی اپنوں نے ہی اسے یہاں پھینک دیا تھا
انیلہ اسے لیے ایک دوسرے کمرے میں آئی جہاں پر ایک طرف چھوٹی سی میز تھی جس پر پانی کا گھڑا پڑا تھا ساتھ میں مٹی کا گلاس تھا کمرے میں فرش پر پرانا سا قالین تھا لائٹ کا انتظام ضرور تھا ۔۔ ایک چھوٹا سا بلب تھا اور کمرے میں پنکھا لگا تھا ۔۔۔
ترس کھا کر یہاں لائی ہوں اس لیے کوئی چالاکی نہیں ۔۔۔
حور نے خاموشی سے کھانے کی پلیٹ ایک طرف رکھی اور نیچے بیٹھ گئی اور انیلہ کو دیکھنے لگی جو دروازہ بند کر کے جا رہی تھی ۔۔
کیوں کیا آپ نے امی ایسا مانا کہ میں آپ کو نا پسند تھی پر اتنی بھی کیا نفرت آپ نے مجھے جیتے جی جہنم میں دھکیل دیا ۔۔۔۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر آئی ۔۔۔
حور جلدی سے کھڑی ہوئی ۔۔۔
اسے بھی اندر ڈال کر دروازہ بند کر دیا گیا تھا
وہ لڑکی حور کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
حور واپس کونے میں بیٹھ گئی ۔۔۔
وہ لڑکی کبھی حور کو دیکھتی کبھی کھانے کی پلیٹ کو۔۔۔ حور نے بھی اسے ایسا کرتے دیکھا تھا
تمھیں بھوک لگی ہے تو تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔حور نے پلیٹ اس کی طرف بڑھا دی اور وہ بغیر کچھ کہے کھانے پر ٹوٹ پڑی تھی
کھانے کھانے کے بعد اس نے گھڑے سے پانی پیا اور حور کے ساتھ بیٹھ گئی
آپ کا شکریہ بی بی میں ایک ہفتے سے بھوکی تھی ۔۔۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے آمین
اس کی بات سن کر حور اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔ ایک ہفتے سے ؟ تم کون ہو اور یہاں کیسے آئی ۔۔۔
میں نائدہ ہوں ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بولی تھی
تمھاری فیملی کہاں ہے ۔۔۔
میرا تو کوئی نہیں ہے اب ۔۔۔ وہ رونے لگی
رو مت مجھے معاف کرنا میں نے پوچھا ۔۔۔ حور اسے چپ کرانے لگی
نہیں بی بی میرا کوئی نہیں ہے بھوک سے مر رہی تھی پھر ایک لڑکی یہاں لے آئی ۔۔۔
حور جس نے اسے چپ کرانے کی غرض سے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ہٹا لیا
میں جانتی ہوں آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں میں یہاں اپنی مرضی سے آئی اس لیے
تم خود آئی پر میں ۔۔حور بولتے ہوئے چپ ہو گئی
آپ یہاں کیسے آئی بی بی
حور کس منہ سے کہتی کہ اس کی سوتیلی ماں اسے یہاں چھوڑ گئی ہے وہ خاموش ہی رہی
آپ بہت خوبصورت ہیں بی بی ۔۔۔ نائدہ نے اس کے لمبے بال دیکھنے کے بعد اس کے چہرے کی طرف نظر اٹھائی اور بولی
حور نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔
اتنے میں نجمہ بائی اندر آئی تو حور ٹھٹک کر رہ گئی
ڈر مت کچھ نہیں کہوں گی تجھے ۔۔۔ وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی
حور حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی
کچھ دیر بعد محفل لگے گی اور
مجھ سے کوئی امید مت رکھئے گا میں مر کر بھی ایسا کچھ نہیں کروں گی ۔۔۔حور بیچ میں بول پڑی
نائدہ نے حور کو گھورا ۔۔۔
میری اچھائی کا فائدہ اٹھا رہی ہو تم لڑکی میں جتنی اچھی ہوں اس سے زیادہ بری ہوں اس لیے جتنا کہا ہے اتنا ہی کر انیلہ کچھ دیر میں دلہن کا لہنگا لائے گی اور تمھیں تیار کرے گی چپ چاپ آ جانا ورنہ مجھے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں ۔۔۔
میں نہیں کر سکتی ۔۔حور نے ایک بار پھر نفی میں کہا
اس بار نجمہ بائی غصے میں پیچھے پلٹی اور اس کے منہ کو ہاتھوں میں جکڑ لیا
یہاں میرے سوا کسی کی نہیں چلتی اور میرے خلاف جانے کی سوچنا بھی مت میں تجھے ماروں گی نہیں تجھے وہ سزا دوں گی جس سے تجھے مزید تکلیف پہنچے گی ۔۔۔
حور کانپ رہی تھی ۔۔۔
آج کے بعد میرے سامنے زبان چلانے کی ہمت بھی مت کرنا تمھارا وہ حشر کروں گی یاد رکھو گی ۔۔۔
نجمہ بائی چلی گئی اور حور اپنی بے ترتیب سانسیں بحال کرنے لگی
بی بی آپ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔۔۔
کون ہے جو اس جہنم میں رہنا چاہے گا تم ضمیر بیچ سکتی ہو میں نہیں ۔۔۔ حور نائدہ پر چیخی اور وہ سہم گئی ۔۔۔
انیلہ کچھ دیر بعد ہاتھ میں دلہن کا جوڑا لیے اندر آئی ۔۔۔اور حور کے سامنے پھینک دیا
اور ساتھ میں کچھ جیولری بھی تھی جو اس نے چنری کے ساتھ ہاتھ میں لے رکھی تھی
جلدی سے کپڑے بدل اور ایک منٹ میں میرے ساتھ چل
حور نے ایک نظر لہنگے پر ڈالی اور دوسری نظر انیلہ پر ۔۔۔
کیا دیکھ رہی ہے جلدی اٹھ ۔۔۔بازوں سے پکڑ کر حور کو زمین سے اٹھایا ۔۔۔
پھر لہنگا اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔ ایک منٹ میں ۔۔۔ صرف ایک منٹ ۔۔۔ کہہ کر وہ نائدہ کو لے کر باہر نکل گئی ۔۔۔
حور نے آنسوں صاف کیے اور چینج کرنے کے بعد دروازہ کھولا
انیلہ اندر آئی اور اسے تیار کرنے لگی
نائدہ مسلسل حور کو دیکھ رہی تھی وہ تھی ہی اس قدر حسیں کہ کسی کو بھی رشک آ جاتا ۔۔۔
تیار کر کہ اس نے حور کا ہاتھ پکڑا اور نائدہ کو کمرے میں بٹھا کر دروازہ بند کر کے ایک طرف چلنے لگی ۔۔۔
حور کے قدم مشکل سے اٹھ رہے تھے وہ خود کو بمشکل گھسیٹ رہی تھی اس کی ہمت ہی جواب دے گئی تھی
آج کوئی غلطی نہیں ہونی چائیے رئیس زادے آئے ہیں ایک امیر زادے کے ہمراہ ۔۔۔ نجمہ نے ایک بار پھر اسے دھمکی دی ۔۔۔
حور نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔
انیلہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے ایک ہال کمرے میں لے کر آئی جسے سجایا گیا تھا اور چاروں طرف ویلوٹ کے سرخ صوفے رکھے گئے تھے اور درمیان میں ایک سرخ قالین بچھا ہوا تھا ۔۔۔
حور کانپ رہی تھی اور اس کا دل حلق میں آ گیا تھا ۔۔۔
انیلہ اسے ہال میں چھوڑ کر چلی گئی ۔۔۔ حور ڈر کے مارے چاروں طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جہاں صوفوں کے سامنے جام ، شراب کے گلاس رکھے ہوئے تھے
اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور حور نے جلدی سے منہ موڑ لیا اور چہرے پر گھونگھٹ ڈال دیا تھا
کچھ لوگ اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔
یا میرے مولا یہ کیسا امتحان ہے مجھے موت دے دے میں نہیں سہہ سکتی ۔۔۔
بھائی جان آپ بھی لیں ایک گلاس جام نوش کریں ۔۔۔ وہ اندر ہی داخل ہوا تھا کہ اسے ایک دوست نے شراب کی پیشکش کر دی ۔۔۔
اس نے ہاتھ سر رہنے دو کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
کیوں بھائی آج تو لینی پڑے گی آپ کو ۔۔۔
میں شراب نہیں پیتا تم جانتے ہو ناں ۔۔۔ دور ہٹائو اسے مجھ سے ۔۔۔ وہ اکٹر سے بولا ۔۔۔
حور سہمی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
سب صوفے پر بیٹھ گئے تھے سوائے ان دونوں کے جو ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
ہاشم بھائی بیٹھ جائیں کیوں مزہ خراب کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ آج ہماری ضد پر آپ آ تو گئے پر اب ہمیں ہی مزہ نہیں لینے دیں گے آپ ۔۔۔۔
حور ہاتھوں میں دوپٹہ لیے اسے کانپتے ہاتھوں سے مسل رہی تھی ۔۔۔
ہاشم صوفے کی طرف ہی بڑھا تھا کہ حور اس کے پیروں میں گر گئی ۔۔۔
پلیز آپ کو خدا کا واسطہ ، آپ سب چلے جائیں یہاں سے میں مر کر بھی یہ نہ کرتی میں مجبور ہوں خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔ وہ روتے ہوئے گڑگڑائی۔۔۔
سبھی لڑکے اپنی جگہ پر کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
اتنے میں نجمہ بائی وہاں آ گئی اور حور کو ہاشم کے پیروں سے اٹھا کر زور دار تھپڑ مارا ۔۔۔
حور کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
ہاشم نے ایک نظر حور کی طرف دیکھا اور اس کی نظر وہیں ٹھہر گئی۔۔۔
ڈارک برائون سمندر جتنی گہری آنکھیں جن کے کنارے آنسوں سے بھیگے ہوئے تھے ، سر سے چنری سرک گئی تھی اس کے لمبے بال کمر سے نیچے تک جا رہے تھے وہ کانپتے ہوئے خود کو سنبھال رہی تھی
اتنے میں ہاشم نے نیچے گری چنری اٹھائی اور اس کے سر پر ڈالی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: