Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 10

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 10

–**–**–

ہاشم نے باقی بچی ہوئی پیکنگ کر دی تھی کیونکہ حور اس قدر شرما کر گئی تھی کہ وہ بڑی مشکل سے واپس آتی ۔۔۔۔
وہاں ریان نے گنڈے ہائر کر دیئے تھے کل ہاشم کو مار ڈالنا مگر جانے مت دینا ۔۔۔
حور واپس کمرے میں آئی تو پریشان لگ رہی تھی
کیا ہوا آپ کو۔۔۔ہاشم پیکنگ کر کے ابھی فارغ ہوا تھا
بہت ٹینشن ہو رہی ہے پتا نہیں کیوں ۔۔۔ حور صوفے پر بیٹھ گئی
کہا تو ہے اگر نہیں جانا چاہتی تو کوئی زبردستی نہیں ہے ۔۔۔ ہاشم اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
نہیں وہ بات نہیں ہے میں ۔۔۔ بس کیا بتائوں ۔۔۔ وہ اپنی بات ٹھیک سے کہہ نہیں پا رہی تھی
اچھا تو اور کیا بات ہے کسی نے کچھ کہا کیا آپ سے ۔۔۔
نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا پر بس دل گھبرا رہا ہے مجھے لگتا ہے کچھ برا ہونے والا ہے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔
کوئی وجہ بھی تو ہو گی کوئی ٹینشن ہے تو وہ بھی بتائو بغیر وجہ کے ٹینشن تو نہیں ہوتی ناں ۔۔۔
گل کو فون پر کسی سے بات کرتے سنا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔ حور بولتے ہوئے رک گئی اور پھر نظریں جھکا لی ۔۔۔
کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔ بتائیں مجھے ۔۔۔ میں بات کرتا ہوں اس سے جا کر ۔۔۔
نہیں آپ پلیز ادھر مت جائیں اب ۔۔۔ وہ ہچکچا کر رہ گئی ۔۔۔
پھر مجھے سب بتائیں کیا کہہ رہی تھی وہ ۔۔۔
کہ ۔۔۔ ہم نہیں جا سکتے ۔۔۔
تو اتنی سی بات پر پریشان ہو گئی آپ اس کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہو گا ۔۔۔ ہاشم نے اسے تسلی دی ۔۔۔
مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا سر درد سے پھٹ رہا ہے میں کیا کروں آپ مجھے بتائیں ۔۔۔وہ الجھ کر بولی ۔۔۔
اچھا اس وقت کہاں ہے وہ ۔۔۔
کمرے میں ہی ہو گی مجھے کیا پتا ۔۔۔ حور بیزاری سے بولی ۔۔۔
چلو پھر اٹھو ۔۔۔ ہاشم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
پر کہاں ۔۔۔ حور اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی
ہاشم نے بیگز لیے اور اسے لے کر کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔
یہ کیا ۔۔۔ حور نے حیرانی سے اسے دیکھا
شششش۔۔۔ چپ کر کے چلو ۔۔۔ ہاشم نے منہ پر انگلی دے کر دھیمے لہجے میں کہا
حور چپ ہو گئی دونوں باہر نکل آئے تھے ہاشم نے اسے کار میں بیٹھنے کو کہا اور خود بھی سامان رکھ کر کار میں بیٹھ گیا
یہ کیا تھا ۔۔۔ حور اسے حیرانی سے دیکھنے لگی ۔۔۔
چوری بھاگ رہے ہیں ۔۔۔ ہاشم نے سیٹ بیلٹ لگا کر ہنس کر کہا ۔۔۔
کیوں ۔۔ حور ابھی تک نہیں سمجھی تھی
ارے او پاگل لڑکی تمھیں ہی ڈر لگ رہا تھا اب سب کو بغیر بتائے جا رہے ہیں پہنچ کر ہی بتائیں گے ۔۔۔
اوہ واہ ۔۔۔حور نے اس کی چالاکی کی داد دی ۔۔۔
بس تھوڑی دیر لگے گی فلائٹ کے ٹکٹ بک کرنے میں تب تک ۔۔۔
تب تک ؟ حور نے ادھوری بات پر سوال کیا
تب تک مزے کرو ۔۔۔ ہاشم نے کار سٹارٹ کی اور سپیڈ میں راستے پر دوڑا دی ۔۔۔
آپ ڈرتے ہیں گل سے ۔۔۔حور نے منہ بنا کر کہا
میں نہیں ڈرتا آپ ڈرتی ہو ۔۔۔
میں نہیں ڈرتی بس گھبراہٹ ہو رہی تھی جیسے وہ کچھ کرنے والی تھی۔۔۔
اب تو چل رہے ہیں کیوں موڈ آف کر رہی ہو ۔۔۔
میں موڈ آف نہیں کر رہی آپ لڑنا چاہتے ہیں تو یہیں گاڑی روکیں مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ وہ منہ سوجائے بولی
اب کسی کی جرات نہیں ہے مجھے روکے میری مرضی ہے اب ۔۔۔ ہاشم نے قہقہہ لگایا
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔ حور ڈر گئی
کچھ نہیں ۔۔۔ وہ ابھی تک ہنس رہا تھا
آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے اب ۔۔۔
ڈرپوک ہو تو ڈر ہی لگے گا کہاں لے کر جائوں گا میں بھلا حد ہے ویسے ۔۔۔۔
اس نے یکدم کار روکی
اب کیا ہوا ۔۔۔ثور کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں
اترنا ہے ایئر پورٹ ہے جناب ۔۔۔ ہاشم نے سامنے اشارہ کیا
حور ڈرتے ڈرتے کار سے اتری اور چاروں طرف دیکھنے لگی اتنے لوگ دیکھ کر وہ پھر پریشان ہو گئی ۔۔۔۔
قسم سے بہت ڈرپوک ہو چلو اب ۔۔۔ ہاشم نے اسے پریشان دیکھا تو اس کا ہاتھ پکڑ لیا
مجھے بھیڑ بھاڑ سے الجھن ہوتی ہے میں کیا کروں ۔۔۔ وہ ہاشم کا ہاتھ مظبوطی سے تھامے ہوئے بولی ۔۔۔
اچھا تو پھر وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ ہاشم رک گیا
کیوں کیا مطلب ۔۔۔حور بھی رک گئی ۔۔۔
چلو اب وہاں چلتے ہیں جہاں بھیڑ بھاڑ نہیں ہے ۔۔۔ وہ واپس مڑا ۔۔۔
حور چپ چاپ اس کے ساتھ چلتی ہوئی واپس کار میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
اب رات ہو چکی اور ہاشم ابھی تک ڈرائیو کر رہا تھا جب کہ حور تھک گئی تھی اور نیند سے آنکھیں بند کرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں ابھی تک نہیں پہنچے مجھے سونا ہے ۔۔۔ آخر کار وہ بول پڑی ۔۔۔
سو جائو آرام سے ۔۔۔
اور کتنی دیر ہے ۔۔۔۔
ابھی ٹائم ہے بہت سو جائو ۔۔۔
حور سو گئی اور نیند میں چلی گئی ۔۔۔۔
وہاں گھر میں ڈنر کا وقت ہو گیا تھا اور ہاشم اور حور ابھی تک باہر نہیں آئے تھے ۔۔۔
امی ہاشم اور حور کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔ گل باہر آ کر فرذانہ بیگم سے بولی
صاحب تو بی بی کے ساتھ کب کے چلے گئے ۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر ڈنر لگاتے ہوئے نوکر نے کہا
کیا ۔۔۔گل جو پہلے ہی پریشان تھی غصے میں بولی
اچھا تو کیا ہو گیا جانا تو تھا دونوں بچے تو نہیں ہیں شادی ہوئی ہے نئی نئی ہمارے پابند تو نہیں ہیں جہاں جائیں مرضی ان کی آخر ساتھ میں وقت گزارنا چاہیے ۔۔۔ دادی نے بات جو وہیں ختم کر دیا ۔۔۔
گل نے ٹیبل سے فون اٹھایا اور ہاشم کا نمبر ڈائل کیا پر ہاشم نے فون سوئچ آف کر دیا تھا
گل آپے سے باہر نکل رہی تھی وہ باہر تماشا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ہاشم ۔۔۔ چیختے چلاتے اس نے سب اٹھا کر پھینک دیا
پورے کمرے میں یہاں وہاں غصے سے پھرنے لگی جب کچھ سمجھ نہ آئی تو نیچے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے گئی ۔۔۔
تم نے اچھا نہیں کیا ہاشم ۔۔۔تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی فون کو دیوار میں مارا جو کچھ ہاتھ آیا اسے اٹھا کر پھینکتی چلی گئی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حور کی آنکھیں کھلی تو جلدی سے اٹھی ۔۔۔ اب تو نظارہ ہی بدل گیا تھا وہ بیڈ پر سو رہی تھی ۔۔۔
وہ اس وقت کسی لکژری ہوٹل کے کمرے میں کھڑی تھی کمرے میں ہاشم کو نہ پا کر وہ ڈر گئی اور دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔
ہاشم ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لیے اندر آ رہا تھا اور حور اور اس کی ٹکر ہوتے ہوئے رہ گئی ۔۔۔
خیال سے کیا ہو گیا کیوں واویلا مچا رہی ہو ۔۔۔
مجھے اکیلا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے پتا ہے کتنا ڈر گئی تھی میں ۔۔وہ اسے ڈانٹنے لگی ۔۔۔
میں تو باہر تک ہی گیا تھا اتنا اوور ریئیکٹ کیوں کر رہی ہو ۔۔۔
کوئی فکر نہیں ہے آپ کو ۔۔۔ وہ ناراض ہو گئی ۔۔۔
اچھا سوری مجھے کیا پتا تھا ڈر جائو گی ۔۔ہاشم نے کان پکڑ لیے
میں اتنا ڈر گئی تھی رات کو میں کار میں تھی اور اچانک ۔۔۔
ہاں وہ میرا احسان مانو میں بیچارا ایک موٹی سی لڑکی کو کار سے یہاں تک کیسے لایا مجھ سے پوچھو ۔۔۔
میں موٹی نہیں ہوں ۔۔۔
مزاق کر رہا ہوں چلو فریش ہو جائو ناشتہ کر لو ۔۔۔
گھر پر بتایا آپ نے اور یہ ہم کہاں ہیں ۔۔۔ حور نے باہر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
کاغان ویلی میں ۔۔۔ اور میں نے موبائل سوئچ آف کر دیا تھا ابھی دیکھتے ہیں حالات کو ۔۔۔ ہاشم نے فون اٹھاتے ہوئے کہا
کیا ۔۔ حور کھڑکی کی طرف بڑھی اور باہر کا خوبصورت منظر دیکھ کر مسکرانے لگی ۔۔۔
گل کی پچاس مس کالز اور کوئی ستر میسج دیکھ کر ہاشم نے فون واپس رکھ دیا اور حور کو دیکھنے لگا جو کھڑکی سے باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔۔۔
میڈم فریش ہو جائو جلدی سے ناشتہ کرنا ہے بھوک لگی ہے مجھے ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ حور کپڑے لے کر فریش ہونے چلی گئی اور ہاشم اس کا انتظار کرنے لگا
وہ فریش ہو کر باہر آئی اور آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور دونوں ناشتہ کرنے لگے
تھینکس مجھے یہاں لانے کے لیے بہت سکون ہے یہاں میرے لیے یہ سب کرنے کے لیے ۔۔۔ حور سے جب نہ رہا گیا تو اس نے کہہ دیا
تھینکس کی جگہ پر سمائل کر دیں مجھے ابھی اچھا لگے گا ۔۔۔
ہاشم کا جواب سن کر حور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے مجھے سب کچھ مل جاتا ہے جب آپ سمائل کرتی ہیں۔۔۔
سچ میں اس جگہ سے جُڑی ایک ایک یاد میرے لیے بہت انمول ہو گی مجھے ہمیشہ سے ہی ایسی جگہوں پر جانا پسند تھا اور آپ کے ساتھ آئی ہوں تو یہ سب سے خوبصورت لمحہ ہے میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں اپنی محب۔۔۔ حور بولتے ہوئے رک گئی ۔۔۔
میں تو بلا جھجک بول دیتا ہوں آپ بھی کوشش کریں باقی سمجھ مجھے آ گئی ہے ۔۔۔ہاشم ٹرے اٹھاتے مسکراتا ہوا باہر چلا گیا اور حور شرما سی گئی ۔۔۔
ریان ایئر پورٹ پر کھڑا کب سے انتظار میں تھا مگر نہ ہاشم آیا نہ حور تو تنگ آ کر اس نے گل کو فون کیا
کب سے فون کر رہا ہوں کیوں نہیں اٹھا رہی تم اور کہاں ہیں وہ جب سے کھڑا ہوا ہوں ۔۔۔ ریان گل پر برس پڑا جو پہلے ہی آگ بگولہ ہوئی بیٹھی تھی
کتے کی طرح مت بھونک کل سے فون کر رہی ہوں قبر میں تھا تو فون نہیں اٹھایا اب بھونک رہا ہے چلے گئے وہ دونوں بغیر بتائے اور کہاں گئے ہیں مجھے کچھ نہیں پتا ۔۔۔۔ وہ اس سے زیادہ غصے میں تھی اور بولتی چلی گئی۔۔۔۔
ریان نے زور سے فون سڑک پر مارا اور فون کے ٹکڑے ہو گئے ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: