Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 11

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 11

–**–**–

غصے میں ریان کار میں بیٹھا اور فل اسپیڈ میں کار دوڑا دی ۔۔۔اس وقت وہ بپھرا ہوا تھا غصے سے پاگل ہو گیا تھا بس وہ چاہتا تھا کوئی اس سے پنگا لے اور وہ اسے وہیں مار ڈالے پھر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگا
اس کا نمبر ٹریس کرتا ہوں یہی خیال اس کے ذہن میں آیا اور وہ ٹھنڈا ہوا
مگر فون کو وہ توڑ چکا تھا غصے سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا ۔۔۔
دوسری طرف یہی آئیڈیا گل کو بھی آیا اس نے ہاشم کو ایک بات پھر کال کیا اس بار نمبر ڈائل ہو رہا تھا مگر نمبر بزی آ رہا تھا
گل نے سوچا ویٹ کر لیتی ہوں بس فون رکھ دیا اور پھر دس منٹ بعد فون کیا
اب پھر سے فون سوئچ آف تھا
کیسے ٹریس کروں گی حور مائی فوٹ ۔۔۔ تم اتنی ڈرپوک نکلی کہ تین دن کا انتظار کیے بغیر بھاگ گئی بہت پیار کرتے ہو ناں ایک دوسرے سے جینا حرام نہ کر دیا تو پھر کہنا یہ سب اس بڑھیا کی وجہ سے ہوا آج اس بڑھیا کی خبر لیتی ہوں ۔۔۔کہہ کر وہ اٹھی اور باہر نکل گئی
دادی اس وقت لائونچ میں ہی بیٹھی ہوئی تھی
کیا کروں اس بڑھیا کے ساتھ ۔۔وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی
دادی اتنے میں اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف آ رہی تھی اور گل وہیں سیڑھیوں پر کھڑی تھی
کیسی ہیں دادی جی ۔۔۔ گل نے دادی کو آتے دیکھا تو بات کرنے لگی ۔۔۔
دادی اسے بغیر جواب دیئے سیڑھیاں چڑھنے لگی
سن بڑھیا ۔۔۔
دادی توہین سمجھ کر پیچھے کی طرف مڑی اور گل نے دادی کو سیڑھیوں سے دھکا دے دیا ۔۔۔
لے اب کر مزے ۔۔۔ گل مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی
فرذانہ بیگم کچن سے اور اریبہ کمرے سے بھاگتی ہوئی دادی کی طرف آئی اور انہیں اٹھانے لگی
دادی کے سر پر چوٹ لگ گئی تھی اور خون بھی نکل رہا تھا
اریبہ نے جلدی سے ڈرائیور کو بلایا اور فرذانہ بیگم کے ساتھ دادی کو لے کر اسپتال لے کر چلی گئی
گل نے فوراً ہاشم کو میسج کر دیا کہ دادی کو بہت چوٹ لگی ہے جلدی سے واپس آ جائو ۔۔۔مگر اس کا جواب نہ آیا وہ تو فون سوئچ آف کر کے بیٹھا تھا
اس وقت ہاشم اور حور بڑے مزے سے کاغان ویلی میں مزے کر رہے تھے گھوم پھر رہے تھے ۔۔
سو پریٹی بہت ہی پیاری جگہ ہے پر اب میں تھک گئی۔۔۔ حور رک گئی ۔۔۔
پھر چلتے ہیں واپس ہوٹل میں۔۔۔۔
آپ نے گھر پر بتایا کہ نہیں ۔۔۔ وہیں کہیں کدھر بھاگ گئے دونوں ۔۔۔۔
میں نے امی کو بتا دیا تھا یار ۔۔۔۔
دونوں واپس ہوٹل آ گئے تھے رات ہو گئی تھی دونوں ڈنر کر کے فارغ ہو کر ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اتنے میں بارش شروع ہو گئی ۔۔۔
بارش ۔۔۔ حور بیڈ سے اتر کر کھڑکی کی طرف بھاگی
آج پھر وہی کام کرو جائو ۔۔۔ ہاشم نے اسے اس کی شرارتیں یاد کرائیں ۔۔۔۔
حور ہنسی دبا گئی ۔۔۔ اور کھڑکی سے باہر ہاتھ نکال کر ہاتھوں پر بارش کی بوندوں کو اکھٹا کرنے لگی ۔۔۔۔
پتا ہے کتنی معصوم لگ رہی ہو ۔۔۔
سچی مچی ۔۔۔ حور شوخ لہجے میں بولی اور مسکرانے لگی
ہممم پر مجھ سے کم معصوم ۔۔۔ ہاشم نے قہقہ لگایا ۔۔۔۔
حور نے صوفے پر پڑا کشن اٹھایا اور ہاشم کو مارا ۔۔۔
آپ معصوم نہیں ہیں ۔۔۔۔
معصوم تو تم بھی نہیں ہو بس شکل معصوموں والی ہے ۔۔۔۔ ہاشم نے دوسرا کشن اسے مارا
کیوں سب بگاڑ رہے ہیں آپ ۔۔۔حور نے واپس اسے مارا
شروعات کس نے کی تھی سوری کرو ۔۔۔
میں کیوں سوری کروں ۔۔۔ حور اترانے لگی
اتنی عقل کاش ہوتی کہ سوری کر لینا چاہیے پر وہ کیا ہے ناں کہ تمھاری اور عقل کی بہت بڑی دشمنی ہے ۔۔۔ ہاشم نے مزید اسے چھیڑا
حور نے ڈیکوریشن پیس سے کینڈل سٹینڈ اٹھا لیا اور اسے مارنے کے لیے دیکھانے لگی ۔۔۔
نہیں نہیں نہیں ۔۔۔ہاشم بیڈ سے اترا ۔۔۔
ماروں گی عقل نہیں ہے ناں مجھ میں اب میں آپ کی عقل نکال کر اپنے دماغ میں شفٹ کروں گی ۔۔۔حور اسٹینڈ اٹھا کر اس کی طرف بڑھی اور بولی ۔۔۔۔
اپنے خاوند کو مارو گی تم ۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔ ہاشم بیڈ پر چڑھ گیا ۔۔۔
ماروں گی ۔۔۔ حور بھی بیڈ پر چڑھ گئی۔۔۔
ہاشم نے اس کے ہاتھ سے کینڈل اسٹینڈ چھین لیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا
نہیں مجھے نہیں مارنا ۔۔۔ حور نے ہاتھ منہ پر رکھ کر منہ چھپا لیا ۔۔۔
ہاشم اسے منہ چھپاتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔۔
حور کچھ دیر منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہی پھر ہاشم کی طرف سے کوئی کاروائی نہ دیکھ کر منہ سے ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھنے لگی جو پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ہاشم نے کینڈل سٹینڈ پھینک دیا اور کندھے اچکاتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔۔
حور اسے حیرانی سے دیکھنے لگی ۔۔۔
ہرگز نہیں ۔۔۔ پاگل تم ہو میں نہیں ہوں ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا اور اپنا کشن اٹھانے لگا
کدھر جا رہے ہیں آپ۔۔۔
کل بھی صوفے پر سلایا تھا مجھے آپ نے آ کر پورے بیڈ پر قبضہ کرلیا تھا ۔۔۔۔
اچھا اوہ سوری آپ سو سکتے ہیں یہاں ۔۔۔ حور نے ایک سائیڈ ہوتے ہوئے کہا
واقعی ۔۔۔ ہاشم نے کشن رکھتے ہوئے کہا اور اپنی سائیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
میں کچھ سوچ رہا تھا ۔۔۔ ہنسی دبا کر وہ شرارتی انداز میں بولا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔حور جو سونے کے لیے لیٹ رہی تھی رک گئی اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
یہ جو کاکروچ ہے آپ کے پائوں پر اس کا آپ کو بتا دینا چاہیے ۔۔۔۔
کیا کہاں ۔۔۔۔ حور اچھل پڑی
ہاشم مسکراتے ہوئے لیٹ گیا اور اس کا مزاق اڑانے لگا
بہت غلط بات ہے ایسے کسی کو ڈرانا نہیں چاہیے ۔۔۔۔
کتنی پیاری لگتی ہو ڈرتے ہوئے ۔۔۔۔
میں ہوں ہی پیاری ۔۔۔ حور معصومیت سے لیٹتے ہوئے بولی ۔۔۔
ماشاءاللہ ۔۔۔ کوئی شک نہیں ہاشم اپنی نظریں اس پر ٹکائے بولا ۔۔۔۔
حور شرم سے نظریں چرا گئی ۔۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

صبح ہوئی اور سورج کی کرنیں کھڑکی سے کمرے میں آئی ہاشم آنکھیں مسلتے ہوئے نیند کی وادیوں سے باہر نکلا ۔۔۔۔
حور کو اپنے سینے پر سر رکھے سوئے دیکھ کر وہ مسکرایا ۔۔۔
ہیلو اٹھو ۔۔۔ صبح ہو گئی ہے ۔۔۔ ہاشم نے اسکے گال تھپتھپائے ۔۔۔
وہ ویسے کی ویسے سوئی ہوئی تھی ۔۔۔
حور ۔۔۔۔ اٹھو یار ۔۔۔ ہاشم نے فون اٹھایا اور ٹائم دیکھنے کی غرض سے آن کیا
گل کے اتنے زیادہ میسج اور ٹاپ پر اریبہ کے میسج تھے ۔۔۔
حور کا سر کشن پر رکھ کر وہ اٹھا اور فون اٹھا کر صوفے پر جا بیٹھا اور میسج پڑھنے لگا
فون رکھ کر جلدی سے اٹھا نہا کر کپڑے تبدیل کر کے پیکنگ کرنے لگا
حور نے آنکھیں کھول کر سب سے پہلے سامنے کھڑے ہاشم کو دیکھا جو ہڑبڑاہٹ میں پیکنگ کر رہا تھا
کیا ہوا ۔۔۔حور اٹھ کر بیٹھ گئی
دادی اسپتال میں ہیں ۔۔۔
کیا ہوا انہیں ۔۔۔حور پریشان ہو گئی۔۔۔
سیڑھیوں سے گر گئی تھی کل پر میں نے میسج اب دیکھتے ہم جا رہے ہیں آج ہی واپس۔۔۔۔
حور اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی اتنے میں ہاشم نے پیکنگ کر لی تھی ۔۔۔
دروازے پر دستک ہوئی تو ہاشم دروازے کی طرف بڑھا
سر ۔۔۔ یہ آپ کا بریک فاسٹ ۔۔۔
ہاشم نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے لی اور میز پر رکھ دی اور خود صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔
پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔ حور باہر آئی ہاشم کو پریشان دیکھ کر اسے تسلی دی ۔۔۔
آئی ہوپ سب ٹھیک ہو اچانک سے کیا ہو گیا ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ہم آج ہی نکل جاتے ہیں گھر کے لیے آپ پریشان نہ ہوں ناشتہ کر لیں پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔ حور نے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا
دونوں نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر واپس گھر کے لیے روانہ ہو گئے ۔۔۔۔
کیوں بتایا ان کو تم نے کیا ضرورت تھی میرا سن کر وہ کہے گا ابھی چلو واپس ۔۔۔ دادی اریبہ سے بولی
دادی اگر میں نہ بتاتی تو بھائی ناراض ہوتے ۔۔۔
انہیں کچھ وقت ساتھ رہنے دیتے میں ٹھیک ہوں دیکھو ۔۔۔ دادی بیزار سی ہو گئی
کیسی ہیں آپ دادی جی ۔۔۔ گل اندر آتے ہوئے مسکرا کر بولی
دادی اسے گھورنے لگی دادی اچھے سے جانتی تھی گل نے انہیں دھکا دیا تھا۔۔۔۔
بتائیے ناں دادی جی کچھ چاہیے آپ کو چائے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میں اپنے ہاتھوں سے بنا لاتی ہوں ۔۔۔ گل نے دادی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
اریبہ بیٹے تم جائو اب ۔۔۔
اوکے دادی ۔۔۔اریبہ کہہ کر چلی گئی ۔۔۔
کیوں رے بڑھیا زیادہ چوٹ لگ گئی کیا ۔۔۔ گل اریبہ کے جانے کے بعد بولی
شرم آنی چاہیے تمھیں ۔۔۔ اچھے سے جانتی ہوں تمھاری نیتوں کو کیا کرنا چاہتی ہو تم ۔۔۔
ہاشم تو میرا ہے صرف میرا اور تجھ جیسے ایک دو اگر گر کر مر ور جائیں گی تو میرا کونسا نقصان ہے۔۔۔۔۔ وہ لاپرواہی سے بولی
یہی فرق ہے تم میں اور حور میں تم میں انسانیت نہیں ہے اور وہ ۔۔۔
او بس کر بڑھیا یہ گن دیکھ رہی ہے سب کے سامنے گولی حور کے دماغ میں ڈال دوں گی اگر تو نے ہاشم سے کچھ کہا میں جیل چلی جائوں گی مگر حور کا سر کھا کر جائوں گی ۔۔۔۔
دادی اس کی دھمکی سے ڈر گئی تھی ۔۔
بس اپنا منہ بند رکھیو ۔۔۔ گل ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مسکراتے ہوئے اٹھی اور چلی گئی ۔۔۔۔
یا اللہ میری حور کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا میرے بچے کی زندگی میں کوئی تکلیف نہ آنے دینا ۔۔۔ دادی نے دعا میں ہاتھ اٹھا لیے ۔۔۔
سن اوئے جو بول رہی ہوں وہ کر تجھ سے کچھ نہیں ہونا اب یہی کرنا پڑے گا جس کہتی ہوں اتنا کر ۔۔۔۔
سن لڑکی تو مجھ پر حکم چلا رہی ہے کچھ ہو پایا تجھ سے اب کیوں سر کھا رہی ہے میرا ۔۔۔ریان نے غصے میں کہا
او تجھے حور چاہیے یا نہیں جتنا کہا ہے اتنا کر ۔۔۔۔ گل بھڑک کر بولی
ہو جائے گا ۔۔۔کہہ کر ریان نے فون رکھ دیا ۔۔۔
اب کیا کرو گی حور واپس تو تم آ ہی رہی ہو گی ۔۔۔ بیچاری انجوائے نہیں کر سکی یہاں تو آئو تمھارے جانے کا انتظام کر رہی ہوں ہمت کیسے ہوئی تمھاری میرے ہاشم کے ساتھ جانے کی ۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

سوری حور ٹائم نہیں دے سکا میں کیا کروں دادی کا سن کر ڈر گیا تھا بغیر سوچے سمجھے تمھیں لے آیا واپس ناراض تو نہیں ہو ناں ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں مجھے بہت اچھا لگا اتنا بھی بہت تھا آپ فکر نہ کریں ہم گھر جا رہے ہیں اور دادی بھی ٹھیک ہی ہوں گی ۔۔۔۔
ناراض نہیں ہو ناں ۔۔۔
نہیں میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں میں بہت خوش ہوں آپ میرے ساتھ گئے اور میں مے بہت اچھا وقت گزارا آپ فکر نہ کریں ۔۔۔۔
دس بجے کا ٹائم تھا جب وہ گھر پہنچے ۔۔۔
دونوں سامان لیے گھر میں اینٹر ہوئے گل، اریبہ اور بیگم فرذانہ لائونچ میں ہی بیٹھی تھی ۔۔۔
ارے بھابھی بھیا آپ لوگ آ گئے ۔۔۔اریبہ نے چونک کر انہیں دیکھا ۔۔۔۔
بیگم فرذانہ بھی انکی طرف متوجہ ہوئی
گل کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔۔۔۔
دادی کہاں ہیں ۔۔۔ ہاشم نے سب سے پہلے دادی کا پوچھا ۔۔۔
دادی کمرے میں ہیں آرام کر رہی ہیں ۔۔۔۔
وہ ٹھیک ہیں ناں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ۔۔۔ حور نے فکر مندی سے کہا
زخم زیادہ نہیں ہے ۔۔۔ آپ فکر مت کریں بھابھی ۔۔۔
دونوں نے سامان وہیں چھوڑ دیا جو اریبہ کمرے میں لے گئی اور دونوں دادی کے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔
دادی دونوں کو دیکھ کر اٹھ گئی تھی ۔۔۔
لیٹی رہیں دادی ۔۔۔ حور نے ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
دادی اتنی لاپرواہ ہیں آپ کیسے ہو گیا یہ سب ۔۔۔ ہاشم نے ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
کیا گل کا بتا دوں ۔۔۔ اگر اس نے حور کو کچھ کر دیا ۔۔۔ دادی سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: