Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 12

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 12

–**–**–

اس سے پہلے دادی کچھ بولتی گلِ دروازے سے اندر داخل ہوئی اور دادی کو مسکراتے ہوئے دیکھا
بس جلدی میں تھی تو پپ۔۔۔پیر پھسل گیا ۔۔ دادی نے گل کو دیکھتے ہوئے کہا
خیال کرنا چاہیے تھا ناں ۔۔۔ حور نے افسردگی سے کہا
اب میں ہوں ناں دادی کا خیال رکھنے کے لیے آپ سب تو چلے گئے ہنی مون پر تو پیچھے سے گھر کا خیال تو ہمیں ہی رکھنا پڑا ۔۔۔ گلِ حور سے مخاطب ہوئی مگر حور نے اسے کوئی جواب نہ دیا
کافی لیٹ ہو گیا ہے دادی آپ ریسٹ کریں ۔۔۔ چلو حور ہم چلتے ہیں ۔۔۔ ہاشم نے اٹھتے ہوئے کہا
اپنا خیال رکھئے گا دادی ۔۔۔حور بھی اٹھی اور ہاشم کے ساتھ باہر نکل گئی
کیوں رے بڑھیا بہت زبان چلتی ہے تیری ایک منٹ نہیں لگائوں گی حور کو ٹھوک دوں گی ۔۔۔ گلِ نے ایک بار پھر دھمکی دی
میں کچھ نہیں بتائوں گی ہاشم کو تم حور کو کچھ مت کرنا ۔۔۔ دادی بوکھلا گئی تھی
اچھا ہے چل سو جا بڑھیا ۔۔۔ کہہ کر گل کمرے سے نکل گئی
تھک ہار کر حور لیٹ گئی جبکہ ہاشم لیپٹاپ پر آفس کے کام میں مصروف ہو گیا
حور کیا خیال ہے آپ کا رمشہ کی شادی ہو رہی ہے اٹینڈ کرنا چاہو گی انوائٹ کیا ہے ہمیں ۔۔۔ ہاشم نے لیپٹاپ بند کرتے ہوئے کہا
حور نے نفی میں سر ہلا دیا اور منہ پر بلینکٹ ڈال کر سو گئی ۔۔۔
کیوں نہیں ۔۔۔ ہاشم نے اس کے منہ سے بلینکٹ کھینچا۔۔۔
کہا ناں نہیں ۔۔۔ میں اتنی فری نہیں ہوں حور منہ بنا کر بولی
ہاں ناں شرارتوں سے فرصت ملے گی تو کام کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہو گا ۔۔۔ ہاشم نے اسے طعنہ دیا
چپ رہو ۔۔۔حور نے کشن اس کے سر پر مارا اور اس کے سارے بال ماتھے پر بکھر گئے ۔۔
سو سوئیٹ ۔۔۔ حور زور سے ہنسی ۔۔۔
اوئے ۔۔۔ سارا سٹائل خراب کر دیا ہاشم بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
آئیں میں ٹھیک کر دیتی ہوں ۔۔۔ حور نے پیار سے اٹھ کر کہا
واقعی ۔۔۔ہاشم کو تجسس ہوا
میری گود میں سر رکھ لیں ۔۔۔ میں ٹھیک کر دیتی ہوں ۔۔۔۔ حور ہنسی دبا کر بولی ۔۔۔
ارے صدقے جاؤں ۔۔۔ ہاشم مسکراتے ہوئے اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔
حور ہنسی کو روکے اس کر بال بنانے میں مصروف تھی اور وہ بڑے آرام سے سو رہا تھا ۔۔۔
حور نے اپنے بالوں سے پنیں نکالی اور اس کے اکٹھے کیے بالوں میں لگا دی ۔۔۔
یہ کیا تھا ۔۔۔ہاشم نے سر اٹھایا ۔۔۔
ہو بھی گیا ۔۔۔ حور منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی ۔۔۔
کیا ۔۔۔ہاشم نے سر پر ہاتھ رکھا تو اسے کھمبے نما ٹیل پونی کا احساس ہوا ۔۔۔
یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ وہ بال کھینچتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔۔
کتنے پیارے لگ رہے تھے ۔۔۔ حور نے پھر سے ہنسی اڑائی ۔۔۔۔
رکو میں بتاتا ہوں تمھیں ۔۔۔ وہ بال سیٹ کرتے ہوئے اٹھا مگر حور بیڈ سے اتر کر کمرے سے بھاگ گئی ۔۔۔
واپس تو آئو گی ناں دیکھ لوں گا میں ۔۔۔ہاشم پیچھے سے بڑبڑایا ۔۔۔
حور بھاگتی ہوئی باہر نکلی تو گل سے ٹکرا گئی ۔۔۔
تم کیا کر رہی تھی یہاں ۔۔۔حور نے حیرانی سے پوچھا
تم سے مطلب ۔۔۔ گل لڑنے کو تیار کھڑی تھی
ہاشم آواز سن کر باہر نکل آیا ۔۔۔
تم میرے روم کے باہر کھڑی تھی ہماری باتیں سن رہی تھی ناں تم ۔۔۔حور غصے سے بولی
تمھیں اب میرے اس گھر میں رہنے سے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔ گل غصے میں آ گئی تھی
بس کرو جان مجھ پر غصہ اتارو بیچاری کو کیوں تنگ کر رہی ہو چلو آئو ۔۔۔ ہاشم اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا مگر آواز اتنی تھی کہ گل نے بھی سن لیا تھا
حور غصے سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
افف جان لو گی کیا۔۔۔ ہاشم مزید منمنایا ۔۔۔
گل سے اب برداشت نہ ہوا تو وہ زمین پر پائوں رگڑتے ہوئے چلی گئی ۔۔۔
حور اس کے جانے کے بعد بھاگنے کی تیاری کرنے لگی جو ہاشم کے ساتھ کر کے آئی تھی ہاشم نے اسے چھوڑنا نہیں تھا ۔۔۔
کدھر ۔۔۔ ہاشم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
سوری ۔۔۔ حور کان پکڑ کر مسکرائی ۔۔۔
معاف کر دیا چلو مگر تھوڑی سی سزا ملے گی ۔۔۔
کیا ۔۔۔ نو ۔۔۔ حور نے معصوم سا منہ بنا لیا
چلو بھی ۔۔۔ ہاشم اسے لیتے ہوئے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
حور ڈر سے جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاشم بچوں کی طرح اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔ بیٹھی رہو پوری رات اب۔۔۔
اوکے جی بیٹھی ہوں ۔۔۔ حور بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی اور ہاشم آرام سے سو گیا ۔۔۔
نیند ہی نہیں آ رہی ۔۔۔
بچوں کو سلانا آتا ہے مجھے ۔۔۔۔ حور اس کے بالوں میں پیار بھرا ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔
افف کتنا سکون آ رہا ہے ۔۔۔ہاشم آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا
سو جائیں ۔۔۔ حور مسکرائی ۔۔۔
ہاشم کچھ دیر میں ہی سو گیا تھا ۔۔۔
حور نے جب دیکھا وہ سو گیا ہے تو اس کا سر گود سے ہٹا کر کشن پر سلایا اور خود لیٹ گئی ۔۔۔
لائٹس آن تھی کیونکہ حور اندھیرے میں نہیں سوتی تھی ۔۔۔اتنے میں کھڑکی سے ریان کمرے میں آ گیا ۔۔۔
حور ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔ اگر ہاشم اٹھ جاتا تو قیامت آ جاتی ۔۔۔
ریان حور کی طرف بڑھا تو حور ڈر گئی ۔۔۔
ریان کی شکل سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی تماشا کرنے والا ہے ۔۔۔
میری بات سنو ۔۔۔ ریان نے آہستگی سے کہا
حور غصے سے اسے دیکھنے لگی اگر وہ بولتی تو یقیناً ہاشم اٹھ جاتا اور پھر کیا ہوتا اس کا اندازہ حور کو بھی نہیں تھا۔۔۔
بس دو منٹ میں کچھ غلط نہیں کرنے آیا ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ۔۔۔۔
حور ڈرتے ہوئے بیڈ سے اتری اور سہمی ہوئی کھڑی ہو گئی
ریان نے اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا مگر حور نے نفی میں سر ہلا دیا
ریان اس کا ہاتھ پکڑے اسے باہر کھینچ لایا ۔۔
کیا بد تمیزی ہے یہ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔حور ہاتھ چھڑاتے ہوئے غصے سے بولی
میں معافی مانگنا چاہتا ہوں بہت ذلیل کیا میں نے تمھیں میں سو تک نہیں پا رہا بہت پریشان ہوں مجھے بس معاف کر دو ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
یہ کیا کر رہے ہو تم اٹھو چلے جائو یہاں سے مم میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے مم میں نے معاف کیا چلے جائو ۔۔۔ حور دو قدم پیچھے ہوکر بولی
میں نہیں جائوں گا جب تک تم مجھے دل سے معاف نہیں کر دیتی ۔۔۔۔
میں نے کہا ناں چچ چلے جائو یہاں سے میں نے کر دیا معاف ۔۔۔۔ حور ہچکچاتے ہوئے بولی
تم نے سچ میں معاف کر دیا مجھے ۔۔ ریان کھڑا ہوا۔۔۔
اب جائو یہاں سے آئندہ یہاں مت آنا ۔۔۔حور جانے لگی تو ریان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔ حور نے ہاتھ کو جھٹکا دیا ۔۔۔
ریان نے اپنے ہونٹ اسے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔۔۔
حور نے جلدی سے ہاتھ چھڑایا اور اسے دھکا دیا ۔۔۔
میں کل پھر آئؤں گا ۔۔۔معافی مانگنے۔۔۔ ریان شیطانی مسکراہٹ لیے پیچھے ہٹا ۔۔
ریان کی پرچھائی دیوار پر دکھائی دے رہی تھی وہ جا رہا تھا ۔۔۔ حور دھڑکتے ہوئے دل سے اسے گھورتی رہی ۔۔۔
حور _!!!
نام پکارے جانے پر وہ اچھل پڑی اور یکدم پیچھے مڑی
کیا ہوا۔۔۔۔۔یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔
کک کچھ نہیں ہاشم چچ چلیں ۔۔۔ حور لرزش کرتے الفاظ لبوں سے نکالتے ہوئے اسے لیے کمرے میں چلی گئی
ہاشم مسلسل اسے پسینہ صاف کرتے دیکھ رہا تھا
اتنی ٹھنڈ میں پسینہ کیوں آ رہا ہے طبعیت تو ٹھیک ہے تمھاری ۔۔۔۔ ہاشم نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کرتے ہوئے کہا
جج۔۔۔جی ٹھیک ہوں ۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے مم مجھے ۔۔۔حور ڈرتے ہوئے لیٹ گئی اور آنکھیں موندے سو گئی ۔۔۔۔
ہاشم نے کسی کی پرچھائی ضرور دیکھی تھی پر اگنور کرتے وہ لیٹ گیا اور اس بات جو ذہن سے نکال دیا ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

صبح بھی حور اٹھی تو ریان کی باتوں کو لے کر پریشان تھی ۔۔۔
ہاشم آفس کے لیے تیار ہو گیا تھا اور ناشتہ کر رہا تھا جب کہ حور ہاتھ میں گلاس پکڑے گہری سوچ میں گم سم بیٹھی تھی۔۔۔۔
حور ۔۔۔۔
حور یکدم چونکی اور اس کے ہاتھ سے گلاس گر پڑا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا
رکو ہاتھ نہیں لگانا انہیں ۔۔۔ہاشم نے اسے روکا لیکن
حور ہڑبڑا کر ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے اٹھانے لگی جیسے اس نے ہاشم کی بات سنی ہی نہیں ہے اور اس کے ہاتھ کو ایک ٹکڑا چبھ گیا اور اس نے آہ کے ساتھ ہاتھ پیچھے کھینچا۔۔۔۔
روک رہا تھا ناں مت چھونا ۔۔۔ دکھائو چھوڑو اسے ۔۔۔ بیٹھو یہاں میں فرسٹ ایڈ کِٹ لے آتا ہوں ۔۔ ہاشم اسے بیڈ پر بٹھا کر کِٹ اٹھا لایا ۔۔۔
دیکھو خون نکل رہا ہے ۔۔۔حور ابھی بھی چپ تھی
حوررررررررر۔۔۔۔ دھیان کہاں ہے آپ کا۔۔۔
جج۔۔جی سوری وہ بغیر بات جانے جواب دے بیٹھی ۔۔۔
ٹھیک ہو ناں تم ۔۔۔۔ ہاشم نے پیار بھرے لہجے میں کہا
میں۔۔۔ جی میں تو ٹھیک ہوں ۔۔۔ وہ ہچکچا کر رہ گئی
اگر کوئی پرابلم ہے تو مجھے بتائو میں آفس نہیں جاتا ۔۔۔
نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں آپ جائیں۔۔۔۔ حور نے دل پر قابو پا کر کہا۔۔۔۔
خیال رکھنا اور کچھ دیر بعد کال کرنا مجھے ٹینشن رہے گی ورنہ ۔۔۔ہاشم اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر پیار بھرا لمس چھوڑے اٹھا اور جانے لگا ۔۔۔۔
مجھے بتا دینا چاہیے ۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑائی ۔۔۔
رکیں ۔۔۔۔
ہاشم جاتے ہوئے رک گیا۔۔۔اور پیچھے مڑا ۔۔۔
وہ کل رات ریا۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔ آفس سے کال آ گئی تھی ۔۔۔ ہاشم نے فون اٹھاتے ہوئے اسے اشارہ کیا
ہاں بس آ رہا ہوں پانچ منٹ میں ۔۔۔ ہاشم نے فون رکھتے ہوئے کہا
اب بتائو حور کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔۔
جی وہ کل رات کے بارے میں کچھ بات کرنی تھی سور میں نے بتایا نہیں ۔۔۔
ارے مزاق تھا میں نے مائنڈ نہیں کیا پریشاں ہونے کی ضرورت نہیں ہے میری جان کو ۔۔۔ آتا ہوں میٹنگ ہے پھر بار کرتے ہیں ۔۔۔ ہاشم اتنا کہہ کر چلا گیا۔۔۔
حور اپنی بات مکمل نہ کہہ پانے پر مایوس ہوئی ۔۔۔کوئی بات نہیں جب آئیں گے تو بتا دوں گی ۔۔۔۔
پورا دن حور نے پریشان ہو کر گزارہ ۔۔۔
میں کل رات پھر آئؤں گا ۔۔۔معافی مانگنے ۔۔۔ ریان کی یہیں بات حور کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ۔۔۔ وہ چاہتی تھی جلدی سے ہاشم آئے اور اسے سب بتائے ۔۔۔
رات کے دس بج رہے تھے ہاشم ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
حور نے ڈر کے مارے کھڑکی بند کر دی اور سہم کر بیٹھ گئی ۔۔۔
اچانک گھر کی لائٹ چلی گئی ۔۔۔حور کو اندھیرے سے بہت ڈر لگتا تھا وہ چیخ مار کر بیڈ سے اتری ۔۔۔
ہاشم کہاں ہیں آپ ۔۔۔ وہ ڈرتے ہوئے بولی اور دروازہ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔
اتنے میں وہ کسی سے ٹکرائی ۔۔۔
ہاشم آپ آ گئے لائٹ نہیں ہے پلیز دیکھیں کیا ہوا ہے اندھیرا ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔۔ سہمے ہوئے وہ ریان کو ہاشم سمجھ کر اس سے سمٹ گئی تھی ۔۔۔۔
ریان نے بھی گل کے پلان کے مطابق ہی کیا تھا ۔۔۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور اس کے ہاتھ سے فون گر گیا جس کی فلیش لائٹ کی مدد سے کمرے کا نظارہ کیا گیا تھا
حور جلدی سے پیچھے ہٹی ۔۔۔
لائٹ آ چکی تھی مگر حور اور ہاشم کے رشتے پر کالے بادلوں نے اندھیرا کر دیا تھا
حور کیوں دور ہو رہی ہو ہم ڈرتے ہیں کیا اس سے میں نے کل کہا تھا ناں کہ میں آئؤں گا کسی سے مت ڈرو طلاق لے لو اس سے کب تک ڈرامہ کرو گی اس کے ساتھ بس کر دو چلتے ہیں ہم یہاں سے ۔۔۔
گل تالیاں بجاتے ہوئے کمرے میں اینٹر ہوئی ۔۔۔
حور ڈرتے ہوئے ہاشم کی طرف دیکھ رہی تھی جو مردہ حالت میں کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ہا ۔۔ہاش۔۔۔ہاشم یہ یہ سب ۔۔۔
بس کرو کتنے ڈرامے کرو گی ہاشم کے ساتھ تم۔۔۔۔ دل سے پیار کرتا تھا وہ تمھیں اور تمھیں وہ بچا کر ان بد نام گلیوں سے یہاں لے آیا اتنی رقم دے کر اور تم اپنے عاشقوں کو نہیں چھوڑ سکتی ہاشم کے لیے ۔۔۔ گل نے آگ کو مزید ہوا دی۔۔۔۔
یہ یہ سب جھوٹ ہے میں تو ۔۔۔ مجھے لگا ہاشم ہیں ۔۔۔ حور بمشکل بولی سکی ۔۔۔۔
اچھا تمھیں ہاشم میں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں دیکھتا ۔۔۔۔ احساس کی بات ہوتی ہے خیر تم جیسی لڑکی کو کہاں اندازہ ہو گا ۔۔۔ بد کردار۔۔۔
شور سن کر ہاشم کی امی بھی آ گئی تھی اور اریبہ بھی جب کہ دادی کمرے میں سو رہی تھی ۔۔۔
ہاشم میں سچ کہہ رہی ہوں یقیں کرو میرا ۔۔۔ حور ہاشم سے سمٹ گئی اور رونے لگی جو کب سے خاموش کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔حور۔۔۔مان لیتا ہوں اور جب آدھی رات کو یہ یہاں آتا ہے اور تم مجھے نہیں بتاتی تو اس کا کیا کروں کیسے نظر انداز کروں ۔۔۔ ہاشم کی شکل اس وقت اس قدر بدل گئی تھی جیسے کسی نے اس کے جسم سے روح نکال دی تھی اور وہ محض لاش تھی ۔۔۔۔
حور نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا جو اس وقت اس پر یقین نہیں کر رہا تھا
امی اس لڑکی کا بیک گراؤنڈ میں بتاتی ہوں آپ کو یہ گندی پرورش پانے والی گندی گلیوں کی گندی نسل ہے جسے ہاشم کروڑوں میں خرید کر لایا تھا۔۔۔۔ گل اب فرذانہ بیگم سے مخاطب ہوئی ۔۔۔
فرذانہ بیگم نے غصے سے ہاشم کی طرف دیکھا
کیا یہ سچ ہے ۔۔۔ یہ لڑکی ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے غصے میں ہاشم پر ہاتھ اٹھا دیا ۔۔۔
ہمارے خاندان کو جانتے ہو تم اس لڑکی کو یہاں لانے کی ہمت کیسے ہوئی تمھاری اتنی خراب تربیت تھی میری کہ تم بد کردار لڑکیوں کو یہاں لے آئو گے ۔۔۔
ہاشم نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
فرذانہ بیگم نے حور کو بازوں سے پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگی ۔۔۔
ہاشم سب جھوٹ ہے مجھے ایک بار بتانے کا موقع تو دیں میں قسم کھاتی ہوں میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔ وہ چیختی ہوئی ہاشم کا ہاتھ پکڑ کر اس کے پیروں میں گر گئی ۔۔۔
گل نے اسے کھینچ کر اٹھایا اور باہر لے جانے لگی ۔۔۔
رک جائیں امی ۔۔۔ ہاشم یکدم بول پڑا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: