Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 13

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 13

–**–**–

فرذانہ بیگم اور گل جو حور جو لیے جا رہی تھیں یکدم رک گئی ۔۔۔
ہاشم تم اس لڑکی کو روک رہے ہو جس لڑکی نے تمہارے پیار کو مزاق بنا کر رکھ دیا ۔۔۔ گل اسے بھڑکاتے ہوئے بولی
ہاشم نے غصے سے سر کو جھٹکا دیا
بولو تم اس لڑکی کو روکو گے جس نے تمھاری قدر تک نہیں کی ۔۔
جسٹ شٹ اپ گل ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔ ہاشم غصے سے دھاڑا ۔۔۔
اس کی آواز میں اتنی شدت تھی کہ دادی جو سو رہی تھی اٹھ گئی اور حور تک کانپ گئی ۔۔۔
گل نے ڈر سے حور کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔
سب باہر جائیں میں حور سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ہاشم غصے پر قابو پاتے ہوئے بولا
مگر ہاشم ۔۔۔ گل بات مکمل نہ کہہ سکی
مجھے اپنی وائف سے بات کرنی ہے ۔۔۔ اس بار وہ تھوڑا ریلیکس ہو کر بولا ۔۔۔
سب باہر چلے گئے اور ریان تو پتا نہیں کہاں گم ہو گیا تھا کھڑے کھڑے سب کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا
ہاشم نے پانی اٹھایا اور پینے لگا ۔۔۔
حور خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جو غصے سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔
ہاشم نے گلاس اٹھا کر پھینک دیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔۔۔
ہا۔۔۔ حور بولنے ہی والی تھی کہ ہاشم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
مم میں سچ کہہ رہی ہوں اک بار ممجھے کک۔۔۔
اتنے میں دادی اندر آ گئی دونوں کے چہروں کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر دادی پریشان ہو گئی ۔۔۔
کیا ہوا بیٹے سب ٹھیک تو ہے کیا ہوا ہے ۔۔۔ دادی نے حور کو روتے ہوئے دیکھا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے پوچھا ۔۔۔
دادی کچھ نہیں ہوا آپ جائیں سو جائیں ۔۔۔ ہاشم نظریں چراتے ہوئے رخ بدل کر بولا
نہیں کچھ تو ہوا ہے اور تم ابھی تک سوئے کیوں نہیں بیٹے کیا ہوا ہے بتائو مجھے ۔۔۔۔
دادی کچھ نہیں ہوا ہے سچ میں ہاشم ابھی آئے ہیں ہم سو ہی رہے تھے آپ پریشان نہ ہوں آئیں میں آپ کو کمرے تک چھوڑ دیتی ہوں ۔۔۔ حور دادی کو لیے دروازے کی طرف بڑھی تو ہاشم نے حور کا بازوں پکڑ لیا۔۔۔
دادی کمرے سے چلی گئی تو ہاشم نے حور کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
حور اس کے اشارے کیے گئے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاشم اس کے سامنے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔۔
یہ یہ کیا ۔۔۔کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ حور جلدی سے کھڑی ہو گئی ۔۔۔
بیٹھ جائو حور ۔۔۔ ہاشم بجھے لہجے میں بولا اور حور بیٹھ گئی ۔۔۔۔
حور تم سوچتی ہو گی ناں کہ مجھے دو دنوں میں تم سے محبت ہو گئی اور میں پاگلوں کی طرح تمھارے پیچھے بھاگنے لگا اور تمھیں وہاں سے لانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ۔۔۔ جانتی ہو اس محبت کی وجہ ۔۔۔
حور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جس کی ڈارک گرین آنکھیں جن میں ہمیشہ ایک چمک ہوتی تھی آج بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔
جس دن میں نے تمھیں پہلی بار دیکھا تھا ناں اور تم نے میرے پیروں میں گر کر مجھ سے عزت کے لیے ہاتھ جوڑے تھے اک ایسی جگہ پر جہاں کوئی لاکھ سے زائد لڑکیاں روز اپنا ضمیر بیچ ڈالتی ہیں میں سمجھ گیا ایسے کردار کی لڑکی ، مجھے کہیں نہیں ملے گی تم سے محبت اسی دن ہو گئی بغیر کچھ سوچے سمجھے میں سوچ رہا تھا ایسی لڑکی کہاں ملے گی میں دیوانہ وار تمھیں وہاں سے نکالنے کے لیے ہاتھ پیر ہلاتا رہا اور تمھیں وہاں سے لے بھی آیا اپنی عزت بنانے میں ایک منٹ نہیں لگایا میں نے خود کو خوش قسمت سمجھتا تھا میں غرور سے کہتا تھا حور جیسی لڑکی ملنے پر فخر ہے مجھے لیکن ۔۔۔۔
حور بے اختیار رو پڑی اس کی باتوں میں اس قدر شدت تھی وہ خود بھی بھیگی آنکھوں کو اٹھا کر اسے دیکھتا اور پھر نظریں چرا لیتا ۔۔۔
حور میں نے کبھی خیال بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سب ہو جائے گا میں بالکل ٹوٹ چکا ہوں آج آخری بار تم سے پوچھتا ہوں کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے مان لوں گا میں یہ جھوٹ ہے سب جھوٹے ہیں لڑ لوں گا سب سے کسی کی نہیں سنوں گا حور بول دو یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔
حور کا چہرہ آنسوں سے بھیگ چکا تھا ۔۔۔ ایک پل کے لیے وہ سوچ رہی تھی ہاشم اسے نکال دے گا بغیر کچھ سوچے سمجھے مگر اس کے عشق نے اسے روک دیا تھا دماغ نے دل کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور وہ حور کے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔
تمھارے کردار کو میں نے سراہا تھا سب کے سامنے میں نے نہیں سوچا تھا کبھی اس طرح مجھے شرمندگی ہو گی آج امی نے پہلی بار مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا پر میں خاموش کھڑا رہا شرمندگی ہوئی مجھے آج بہت ، جسے اپنے غرور سمجھتا ہوں آج نظریں جھک گئی میری ۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ریان نے گل کو ایک طرف کھینچا ۔۔۔
کیا کر رہے ہو دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا ۔۔۔گل نے ہاتھ چھڑایا ۔۔۔
دماغ تمھارا خراب ہے حور کو باہر نکال دینا چاہیے تھا اب وہ ہاشم کو سب بتا دے گی سب پلان خراب ہو جائے گا اور نہ تم بچو گی نہ میں ۔۔۔ ریان غصے سے گل پر پھٹنے لگا
ہاہاہا پاگل سمجھا ہے کیا وہ بولے گی ہاشم مان لے گا مائی فوٹ ۔۔۔ بے وقوف ناں ہو تو ۔۔۔ ہاشم دو تھپڑ مارے گا اس کے منہ پر اور دھکے مار کر گھر سے نکال دے گا وہ ابھی اپنی محبتیں جھاڑ رہے ہیں ایک دوسرے پر کیے گئے وعدوں اور قسموں پر رو رہے ہوں گے ۔۔۔ گل نے قہقہہ لگایا
تم جیسی لڑکی کو کبھی کچھ سمجھ نہیں آئے گا میں جا رہا ہوں اس سے پہلے کوئی تماشا ہو ۔۔۔
تم ڈرپوک ہو تمھاری وجہ سے سب برباد ہو جائے گا ۔۔۔ گل نے اسے گریبان سے پکڑ کر کہا
تمھاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔ ریان نے غصے سے اپنا گریبان چھڑایا ۔۔
چٹاخ۔۔۔ ایک زور دار تھپڑ گل نے ریان کو مارا ۔۔۔ بکواس بند ۔۔۔ کہہ کر گل نے منہ پر انگلی رکھ کر کہا
ریان غصے کو پی گیا ۔۔۔ میں یہاں ایک پل نہیں رکوں گا ۔۔۔
جائو دفع ہو جاؤ ۔۔۔ بھول جائو حور کو عزت بچا کر دفع ہو جاؤ
تمھاری پوزیٹو سوچ تمھیں لے ڈوبے گی اگر کچھ ہوا ناں میں یہاں ایک ایک کو اڑا دوں گا ۔۔۔ ریان نے گن نکال لی
بے وقوفی مت کرو رکھو اسے اندر کنٹرول کرو ۔۔۔ گل نے اس سے گن کھینچ لی ۔۔۔
اور اگر حور نے ہاشم کو سب بتا دیا تو ۔۔۔ سوچا ہے تم نے کیا ہو گا ۔۔
اگر ایسا ہوا تو بھی میرے پاس ایک پلان ہے بیک اپ کے لیے تم چپ رہو ۔۔۔ اور فلحال رکو اگر کچھ ہوا تو میں ٹیکسٹ کر کے بتاتی ہوں کیا کرنا ہے اگر کسی نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا تو تماشا ہو جائے گا جائو ابھی ۔۔۔
ریان اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا اور گل میسج لکھنے لگی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ سب جھوٹ ہے مجھے اپنی محبت کی قسم میں آپ کے سوا کسی کا سوچ بھی نہیں سکتی میں بے حد محبت کرتی ہوں آپ سے ، یہ سب سازش ہے مجھے آپ سے دور کرنے کی مجھے سب بتا دینا چاہیے تھا میری غلطی ضرور ہے میں نے آپ کو نہیں بتایا بہت بڑی غلطی ہے مگر وہ ۔۔وہ دونوں جھوٹ بول رہے ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کل وہ ۔۔۔ کل وہ آیا تھا میں ڈر گئی تھی میں نہیں چاہتی تھی کہ گھر میں تماشا ہو مجھے کمرے سے باہر لے گیا مجھے نہیں جانا چاہیے تھا میں ۔۔میں کیا کرتی ڈر گئی تھی پر یہ صرف مجھے پھنسایا گیا ہے ۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔ حور روتے ہوئے سب کہہ گئی ۔۔۔۔
ہاشم اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا باہر سب اس کے جواب کے لیے جو منتظر تھے ۔۔۔
دروازہ کھلنے پر سب یکدم چونکے ۔۔۔
حور ہاشم کے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔
جلدی نکلو اب یہاں سے ۔۔۔گل نے حور کو دیکھ کر کہا
کوئی کہیں نہیں جائے گا ۔۔۔ ہاشم نے گل کو روکا جو حور کی طرف بڑھی تھی
دیکھ لیں امی اب اس نے پٹیاں پڑھائی ہیں ہاشم کو ۔۔۔ گل نے فرذانہ بیگم کو بھڑکایا
یہ بد کردار لڑکی یہاں نہیں رہے گی ۔۔۔ فرذانہ بیگم الجھ کر بولی
امی ایک منٹ سب پتا لگ جائے گا ۔۔۔ ہاشم ریان کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
ریان نے یکدم سے پلان کے مطابق گن نکال لی
سبھی کے رنگ اڑ گئے ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ حور جو ہاشم کے پیچھے کھڑی تھی یکدم ہاشم کے آگے آ گئی ۔۔۔
میں گولی چلا دوں گا ۔۔۔ ریان دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے بولا ۔۔۔
گل نے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
ریان نے ہوا میں ایک فائر کر دیا جس سے سبھی سہم گئے ۔۔۔
ہاشم اسے پکڑنے کے لیے اسکی طرف بڑھا مگر حور نے اسے روک لیا ۔۔۔
نہیں آپ نہیں جائیں گے اس کے پاس گن ہے پلیز آپ نہیں جائیں گے ۔۔۔
ریان نے گل کی طرف دیکھا تو گل نے یکدم ہاشم کو دھکا دیا اور دھکا دیتے ہی ریان نے فائر کر دیا اور بھاگ گیا ۔۔۔
تم ٹھیک ہو ناں ہاشم ۔۔۔ گل ایک بار پھر فرذانہ بیگم اور سب کی نظروں میں اچھی بن گئی ۔۔۔
فرذانہ بیگم جلدی سے ہاشم کی طرف بھاگی ۔۔۔
حور ہاشم کی طرف بڑھی مگر گل اس کے آگے آ گئی ۔۔۔
یا اللہ تیرا لاکھ شکر ہے ہاشم تم ٹھیک ہو ناں بیٹا ۔۔۔
گلِ بیٹا بہت شکریہ تمھارا بہت بڑا احسان کیا ہے تم نے ۔۔۔ فرذانہ بیگم گل کو پیار سے گلے لگاتے ہوئے بولی ۔۔۔
گل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
امی ہاشم دوست ہے میرا میں نے اسے بچانا تھا ناں ۔۔۔ وہ معصومیت سے بولی
حور اب ہاشم کی طرف گئی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔۔ ہاشم نے اسے گلے لگا کر کہا ۔۔۔
دیکھ لیا سب نے صرف حور جو بدنام کرنا چاہتا تھا حور ایسی حرکت نہیں کر سکتی میں خود شرمندہ ہوں میں نے حور پر شک کیا ۔۔۔ حور سے کوئی کچھ نہیں کہے گا اب اور سب اپنے غلط الفاظ کے لیے معافی مانگیں گے خاص طور پر گلِ تم ۔۔۔
گل نے حور کی طرف دیکھا ۔۔۔ آج تو پلان خراب کر دیا تمھاری محبت آ گئی بیچ میں لیکن ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی حور ۔۔۔وہ دل میں کہہ کر مسکرائی ۔۔۔
سوری حور میں نے بہت غلط الفاظ کہے تمھیں پر مجھے جب پتا چلا ہاشم تمھیں کہاں سے لے کر۔۔۔
بس ۔۔۔۔ حور ایک عزت دار گھرانے سے ہے اور جو کچھ تمھیں پتا چلا ہے وہ سب غلط ہے ۔۔۔
امی جان ایسا کچھ نہیں ہے میں چپ تھا کیونکہ میں خود غلط فہمی کا شکار تھا حور کی فیملی یہیں رہتی ہے اگر کسی کو کوئی کنفیوژن ہے تو کلیئر کر سکتا ہوں میں حور کو برا بھلا کہنے سے پہلے مجھ سے سوال کریں میں لایا تھا حور کو یہاں ۔۔۔
فرذانہ بیگم نے حور کی طرف دیکھا ۔۔۔ مجھے معا۔۔۔
نہیں نہیں امی ایسا مت کہیں ۔۔۔ آپ مجھ سے بڑی ہیں ۔۔۔ معافی مت مانگیں سب غلط فہمی کا شکار تھے ۔۔۔ حور نے ہاشم کے اشارے پر جواب دیا ۔۔۔
گل منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی فرذانہ بیگم بھی کچھ دیر بعد چلی گئی ۔۔۔
بھابھی خیال رکھئے گا ۔۔۔ کہہ کر اریبہ بھی چلی گئی ۔۔۔
حور بیٹے مجھے تو بتا دیتی ۔۔۔ دادی سب کے جانے کے بعد بولی
ارے دادو آپ خوامخواہ پریشان ہو جاتی اس لیے کچھ نہیں بتایا اور دیکھیں ناں شب ٹھیک ہو گیا ۔۔۔ حور نے دادی کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور تو اپنی بیوی پر شک کرنے سے پہلے پوچھ تو سکتا تھا ایک تھپڑ لگانا چاہیے تجھے ۔۔۔ دادی ہاشم سے مخاطب ہوئی
نہیں دادی ایسا نہیں ہے میں تو سوچ رہی تھی میں ایک منٹ میں گھر سے نکال دی جائوں گی لیکن ۔۔۔ حور بات اُدھوری چھوڑ کر ہاشم کو دیکھنے لگی جو محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
چلو اب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تماشا کرنے سے پہلے آپس میں پوچھ گچھ کر لینا ۔۔ بیٹے ان رشتوں کو بڑا خیال سے رکھنا پڑتا ہے بہت نازک رشتے ہوتے ہیں خاص طور پر میاں بیوی کا رشتہ ۔۔۔۔
دادی کہہ کر چلی گئی اور حور ہاشم کو دیکھنے لگی جو شرمندگی سے نظریں جھکا کر کھڑا تھا ۔۔۔
حور اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
حور نے سوالیہ نظروں سے ہاشم کو دیکھا ۔۔۔
ہاشم نے کان پکڑ لیے ۔۔۔ سوری ۔۔۔
سوری نہیں تھینکس آپ نے میری سن لی مجھے امید نہیں تھی جس طرح مجھے پھنسایا گیا تھا میں سوچ رہی تھی آپ مجھے خود سے الگ ۔۔۔
ہاشم نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ۔۔۔ سوچنا بھی مت ۔۔۔۔
دونوں مسکرا دیئے ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: