Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 14

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 14

–**–**–

صبح ہی ہوئی تھی سب ڈائننگ ٹیبل پر معمول کے مطابق ناشتہ کر رہے تھے کہ رمشہ ہاتھ میں کارڈ لیے ڈائننگ ہال میں اینٹر ہوئی ۔۔۔
اسلام علیکم آنٹی ۔۔۔ سب سے پہلے وہ ہاشم کی امی سے مخاطب ہوئی اور انہیں ملی
وعلیکم السلام بیٹا آئو اچھے وقت پر آئی ہو بیٹھو اور ناشتہ کرو ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے اسے ڈائننگ ٹیبل کی طرف اشارہ کیا
نہیں نہیں آنٹی بس میری شادی ہے تو سر کو تو میسج کیا تھا کہ ضرور آئیے گا پر جواب ہی نہیں دیا سوچا خود چلی جائوں ۔۔۔
ارے ماشاءاللہ مبارک ہو ۔۔۔ بیٹا خود آنے کی تکلیف کیوں کی ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا
بس آنٹی کیا کرتی مجھے لگا سر کو کوئی ناراضگی ہے بس اسی لیے سوچا خود چلی جاتی ہوں ۔۔۔
مجھے کوئی ناراضگی نہیں ہے یہ بیٹھی ہے ناں حور پری آپکی بھابھی مجھے کہیں جانے ہی نہیں دیتی میں کیا کروں ۔۔۔ ہاشم نے باتوں باتوں میں حور کو چھیڑا
نہیں میں نے نہیں روکا ۔۔۔ حور جو کہ جوس پی رہی تھی جلدی سے گلاس رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
کوئی بات نہیں ناں اب رمشہ خود کہنے آئی ہے جانا تو پڑے گا کب ہے شادی بیٹے ۔۔۔ دادی نے پوچھا
کل ہے دادی ۔۔۔ رمشہ نے کارڈ دادی کی طرف بڑھا دیا
اچھا تو پھر ہاشم اور حور آئیں گے میں بھی آتی پر یہ سر دیکھ رہی ہو بس اس حالت میں نہیں آ سکتی ۔۔۔
میں بھی آئؤں گی ۔۔۔ گل نے بات کاٹی ۔۔۔
رمشہ نے پھیکی مسکراہٹ سے گل کی طرف دیکھا ۔۔۔ زہر لگ رہی ہو ۔۔۔ دل میں کہہ کر خاموش ہو گئی
اچھا آنٹی میں چلتی ہوں سر آپ ضرور آئیے گا اور حور آپ بھی آنا ۔۔۔
حور اور ہاشم دونوں نے ہاں میں سر ہلا دیا
رمشہ چلی گئی اور سب ناشتہ کرنے لگے
بھابھی کیا خیال ہے شاپنگ ہو جائے۔۔۔۔ اریبہ نے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے کہا
کوئی ضرورت نہیں ہے فضول خرچی کی ۔۔۔ ہاشم اکڑ کر بولا
بھائی بس کریں بھابھی پر دولت نچھاور کرتے رہتے ہیں بہن کی باری پر فضول خرچی ہو گئی واہ جورو کا غلام ۔۔۔
سبھی نے قہقہ لگایا اور حور نے ہاشم کی طرف دیکھا جو اریبہ کو چاقو دکھا رہا تھا
بھابھی کنٹرول میں کریں ان کو بہت شرارتی ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔
سن رہی ہو تمھاری شرارتوں کا اثر ہے ۔۔۔ ہاشم نے حور کے کان میں سرگوشی کی
آپ خود کم ہستی نہیں ہیں ۔۔۔ حور نے ناک سکوڑ کر کہا ۔۔۔
ہاشم ہنسنے لگا
تو پھر بھابھی آج چلتے ہیں ہم شاپنگ بھائی اپنے کیش کو ہوا لگوا لیں گے آج خود ۔۔۔ اریبہ نے قہقہ لگایا
کفایت شعاری کو اپنائو جو کپڑے گھر پڑے ہیں وہ کون پہنے گا ۔۔۔ ہاشم نے بحث چھیڑ دی
وارڈروب آپ کے کپڑوں سے بھرا پڑا ہے نہ خود پہنتے ہیں نہ کسی کو دیتے ہیں ان کو میں صفائی پوچے والا کپڑا بنا لوں ۔۔۔ حور نے اریبہ کی سائیڈ لی
ہاشم نے منہ بنا لیا ۔۔۔
چلو بھابھی ڈن ہو گیا ہم ناشتے کے بعد ریڈی ہو کر بھیا کے پیسے اڑانے چل رہے ہیں ۔۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔ ہاشم نے سر کو جھٹکا دے کر منہ بناتے ہوئے کہا
اوکے ڈن۔۔۔۔ حور نے بھی ہاں کر ڈالی
تم سے بعد میں پوچھوں گا میں ۔۔۔ ہاشم نے حور کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی
ابھی دیکھ لیں ۔۔۔ حور نے اسے چڑھایا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ناشتہ کرنے کے کچھ دیر بعد اریبہ ،حور اور ہاشم شاپنگ مال کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔۔۔
ہاشم نے ایک لال چنری حور کے سر پر ڈالتے ہوئے کہا سو سوئیٹ کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔
حور مرر میں خود کو دیکھنے لگی
ہاشم کی حور ۔۔۔ ہاشم نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور کان کی لو کو چومتے ہوئے کہا
کیا کر رہے ہیں کچھ تو خیال کریں شاپنگ مال ہے یہ آپ کا روم نہیں ۔۔حور نے اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے خفگی سے کہا
میں کونسا کسی سے ڈرتا ہوں اتنی ہمت ہے کسی میں کے ہاشم کو حور کے پاس جانے سے روکے ۔۔۔
خدا قسم آپ بچے کے بچے ہی ہیں میرا مطلب تھا آپ اس طرح سب کے سامنے کیوں شروع ہو رہے ہیں ۔۔۔
اوہ سوری جناب ۔۔۔ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی رہا نہیں گیا ۔۔۔
بھیا بھابھی بس کرو ۔۔۔ اریبہ نے دونوں کی باتوں میں خلل ڈالا
لو آ گئی کباب میں ہڈی ۔۔۔ ہاشم نے ناک سکوڑا
ہاہاہا ۔۔۔ حور ہنس پڑی ۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اریبہ ہیلپ کر دو میری ان میں سے کونسا اچھا ہے ۔۔۔ حور کے ایک ہاتھ میں گولڈن لہنگا تھا جب کے دوسرے ہاتھ میں لائٹ پنک میکسی ۔۔۔۔
بھیا سے پوچھیئے ۔۔۔ اریبہ نے ہاشم کی طرف اشارہ کیا جو پہلے ہی ہاتھ کھڑا کر چکا تھا
نہیں مجھے ان سب کے بارے میں کچھ نہیں پتا ۔۔۔ ہاشم نے کندھے اچکاتے ہوئے رخ موڑ دیا
بتائیں ناں پلیز میری ہیلپ نہیں کریں گے آپ ۔۔۔حور نے معصومیت سے کہا
یہ زیادہ اچھا ہے ۔۔۔ ہاشم نے ایک گولڈن میکسی نکالی جس پر بہت نفیس کام تھا اور سمپل سا پلین ڈریس تھا ۔۔۔
وائو۔۔ بھابھی کتنا پیارا ہے یہ مجھے دے دیں ۔۔۔ اریبہ حور کے ہاتھ سے لینے لگی تو ہاشم نے حور کو ایک طرف کھینچ لیا
اپنا ڈھونڈ چل ۔۔۔ ہاشم چڑھ کر بولا اور اسے جانے کا اشارہ کرنے لگا
حور دونوں کی لڑائی پر مسکرائی ۔۔۔
اریبہ مسکراتے ہوئے چلی گئی اور اپنا ڈریس سلیکٹ کرنے لگی ۔۔۔
حور ابھی شاپنگ کرنے میں مصروف تھی کہ ہاشم کہیں چلا گیا
حور کو جب ہاشم کا خیال آیا تو جھٹ سے پیچھے مڑی
ہا۔۔۔ہاشم کہاں ہیں آپ ۔۔۔ وہ حیران و پریشاں یہاں وہاں دیکھنے لگی
اریبہ بھی شاپنگ کرتے پتا نہیں کہاں چلی گئی تھی
حور ویسے ہی بھیڑ سے گھبراتی تھی اوپر سے ریان کا خطرہ کہاں دور ہوا تھا
وہ گھبرائی ہوئی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی
یکدم اسے کسی نے ایک طرف کھینچا
وہ چیخ پڑتی پر پھر آواز گلے میں دب کر رہ گئی
چیخنا مت ۔۔۔ ہاشم مسکراتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر بولا
کہاں چلے گئے تھے آپ ڈر گئی تھی میں اکیلا کیوں چھوڑا مجھے ۔۔۔
ارے یار آپ کو چھوڑ کر بھلا کہاں جانا ۔۔۔ ہاشم نے اس کا ہاتھ تھامے ہوئے کہا
یہ کیا حرکت ہے ہاشم ۔۔۔ حور اسے تکتی رہ گئی
اتنے میں ہاشم نے اس کی انگلی میں ایک ڈائمنڈ رنگ ڈال دی
یہ ۔۔۔ یہ۔۔۔ حور کبھی اسے دیکھتی تو کبھی رنگ کو۔۔۔
آئی نو تم سے زیادہ پیاری نہیں ہے لیکن ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے تمھیں خوش کرنے کی ۔۔۔۔ ہاشم اپنے ہونٹ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا
اگر ایک سمپل سی رِنگ بھی آپ مجھے دے دیتے تو میرے لیے انمول تھی ۔۔۔ حور نے اس کا ہاتھ تھام کر دوسرے ہاتھ کو اس پر رکھتے ہوئے محبت سے کہا
اور شکریہ ۔۔۔
کس بات پر شکریہ ۔۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے پوچھا
میری زندگی میں آنے کے لیے ، اتنی محبت کرنے کے لیے ، اور ۔۔۔۔ بولتے ہوئے رک گیا
اور ۔۔۔ حور نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
اپنی شرارتوں سے مجھے واقف کرانے کے لیے ۔۔۔ہاشم نے اس کے گال کھینچے ۔۔۔
تالی بجانے کی آواز پر دونوں چونکے ۔۔۔
ایسا کرو مجھے یہاں سے آگے سامنے والے نالے میں پھینک دو اور پھر کھل کر رومینس کرو ۔۔۔ اریبہ منہ بنا کر بولی
ہاہا ۔۔۔ افف ۔۔۔ حور ہنسی
ہاں جائو نکلو ۔۔۔ چلو حور ۔۔۔ ہاشم نے اس سے بڑھ کر بات کر دی ۔۔۔۔
بھیا آپ کیوں لڑ رہے ہیں صبح سے مجھ سے ۔۔۔ اریبہ منہ بنائے کھڑی تھی
آج ہاشم صاحب کا خرچہ ہو گیا ناں اس لیے ۔۔۔ حور نے ہنستے ہوئے کہا
ہممم وہ تو ہے ۔۔۔ ہاشم نے معصوم سا منہ بنا لیا
چلیں ہو گیا اگر رومینس تو ۔۔۔ اریبہ نے راستے کی طرف اشارہ کیا
ہاں تم آگے چلو ہم پیچھے آتے ہیں ۔۔۔ہاشم نے حور کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ہاں اب ایک گھنٹہ یہاں لگا دینا ۔۔۔ پبلک پلیس ہے شرم کرو بھائی۔۔۔ اریبہ قہقہ لگا کر ہنسی۔۔۔
تو گھر چل بتاتا ہوں تجھے ۔۔۔ ہاشم نے ناک سکوڑ کر کہا
بس بس بہت ہو گیا اب چلو اور مت لڑنا ۔۔۔حور نے ہاتھ جوڑ لیے ۔۔۔
تینوں شاپنگ مال سے نکلے ہی تھے کہ حور سے کوئی ٹکرایا اور حور گرنے لگی مگر ہاشم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ گرتے ہوئے بچ گئی ۔۔۔۔
اندھے پن کی انتہا کردی۔۔۔۔ اریبہ پیچھے سے اس لڑکے سے بڑبڑاتی ہوئی بولی جو اتنے میں بھاگ گیا تھا
چھوڑو اریبہ چلتے ہیں ۔۔۔ حور دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے بولی
ہاشم نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر اسے دیکھا جو اب آنکھوں سے اوجھل ہو چکا تھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

گھر پہنچ کر حور نے ڈریس پہن کر چیک کیا
کیسا لگ رہا ہے ۔۔۔ حور نے مڑ کر ہاشم کی طرف دیکھا جو کچھ سوچ رہا تھا
ہممم ۔۔۔ نائس ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بولا
حور نے کشن اٹھایا اور اسے دے مارا ۔۔۔بس نائس ۔۔۔ اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔
ارے یار بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ اتنی کیوٹ ۔۔۔ ماشاءاللہ نظر نہ لگے میری حور کو ۔۔۔ پری لگ رہی ہو ۔۔۔ حد سے زیادہ حسیں ۔۔۔ پر کشش ۔۔۔ اٹریکٹیو ۔۔۔
حور منہ بنا کر اسے دیکھنے لگی جو تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا ۔۔۔
اب کیا ہوا اوہ کچھ زیادہ ہو گیا ۔۔۔بس گزارہ ہے ۔۔۔ ہاشم نے قہقہہ لگایا
حور نے زمین پر پائوں رگڑے ۔۔۔
اوئے ہوئے غصہ آ گیا کتنی کیوٹ لگ رہی ہو اففف میری جان کو غصہ آ گیا ۔۔۔ہاشم اٹھا اور مسکراتے ہوئے اس کے سوجے ہوئے گال کھینچتے ہوئے بولا
آپ سچ میں حد کرتے ہیں کبھی تعریف بھی کر لیا کریں میری دل رکھنے کے لیے ۔۔۔ حور نے ادا سے کہا
حسن کو تعریف کی بھی ضرورت ہوتی ہے ؟ اتنی کشش کو کیسے بیان کروں الفاظ میں ۔۔۔ ہاشم اس کا چہرہ ٹھوڑی سے اوپر کرتے ہوئے بولا
اب آپ خوامخواہ جھوٹی تعریف کر رہے ہیں ۔۔۔ حور نے نظریں چرائی ۔۔۔
افف جھوٹ نہیں ہے سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ ہاشم نے مسکراتے ہوئے کہا
اوکے ٹھیک ہے مان لیا اور کچھ ۔۔۔حور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
اور ۔۔۔ ہاشم نے شرارتی لہجے میں کہا
ارے امی ۔۔۔ حور نے دروازے کی طرف دیکھا
ہاشم نے جلدی سے اسے چھوڑا اور وہ دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔
بے ایمان لڑکی ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حور اٹھو یار کیا کمال ہی کرتی ہو ابھی تک سو رہی ہو جلدی تیار ہو جائو شادی پر جانا ہے یار ۔۔۔ہاشم نے ونڈو سر پردے ہٹائے اور حور کے منہ پر دھوپ آنے لگی
حور نے منہ پر ہاتھ دے دیئے اور پھر سے سو گئی
حور گیٹ اپ یار ۔۔۔ ہاشم نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا
حور نے زرا سی آنکھیں کھولی اور ہاشم کی طرف دیکھا وہ تو آل موسٹ ریڈی تھا
آپ تیار بھی ہو گئے ۔۔۔ حور ہڑبڑا کر اٹھی
اس لیے تو کہہ رہا ہوں جلدی کرو دس بج رہے ہیں ۔۔۔
حور جلدی سے اٹھی اور فریش ہونے کے لیے چلی گئی
افف مہا رانی کی حرکتیں اگر امی دیکھ لیں تو پتا نہیں کیا ہو گا ۔۔۔ ہاشم نے بیڈ سے بلینکٹ اٹھایا اور اسے سیٹ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ یقیناً میری برائی کر رہے ہیں آپ ۔۔۔حور کی آواز سن کر وہ مسکرایا
نہیں میں نے کب برائی کی تعریف کر رہا ہوں میں تو ۔۔۔
حور چینج کر کر باہر آئی اور مرر کے سامنے بال سنوارنے لگی ۔۔۔
جلدی فٹا فٹ کرو ۔۔ دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ ہاشم نے جیولری کِٹ سے جھمکے نکال کر اس کے کانوں میں ڈالتے ہوئے کہا
یہ نیکلس بھی پہنا دیں جلدی ہو جائے گا کام ۔۔حور نے نیکلس اسے دیتے کہا
ہاشم نے نیکلس لے لیا اور اسے پہنانے لگا
حور نے لائٹ سا میک اپ کیا اور ریڈی ہو گئی ۔۔۔
ناشتہ وہیں کر لینا حور ۔۔۔
جی جی پتا ہے مجھے اچھا طریقہ ہے مزاق اڑانے کا بھوک سے برا حال ہے ۔۔۔
شادی پر جا رہے ہیں ناں کھا پی لینا ۔۔۔ ہاشم اور وہ دروازے سے باہر نکلے تو گل سامنے ریڈی کھڑی تھی
چلیں ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: