Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 15

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 15

–**–**–

حور نے ہاشم کی طرف دیکھا ۔۔
چلو۔۔۔ ہاشم نے گل کو آگے چلنے کا اشارہ کیا اور وہ آگے چلی گئی
اس کا جانا ضروری تھا کباب میں ہڈی نہ ہو تو ۔۔۔ حور نے منہ بنایا ۔۔۔
ارے واہ مجھے جلنے کی سمیل آ رہی ہے ۔۔۔ ہاشم نے مسکراتے ہوئے کہا
ارے یہ کیا گر گیا دیکھیں ۔۔۔ حور نے جوابی کارروائی میں اس کے قدموں کی طرف اشارہ کیا
کیا کہاں پر ۔۔۔ہاشم نیچے دیکھنے لگا
یہ دیکھیں سامنے آپ کا دماغ پڑا ہوا ہے اٹھا لیں ۔۔۔ حور قہقہ لگا کر ہنسی
ہاشم نے منہ بنا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
چلیں دیر ہو رہی ہے مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔
چلتے ہیں ۔۔۔ ہاشم اور وہ ساتھ باہر نکل آئے
ویٹ میں کار نکال لوں ۔۔۔ہاشم کار کی طرف بڑھ گیا
اتنا بن ٹھن گئی ہو ضرورت کچھ خاص نہیں تھی حور ہونا تو تم نے کیڈنیپ ہی ہے ۔۔۔ گل خود سے بڑبڑائی
حور نے بھی اسے بڑبڑاتے ہوئے دیکھا تھا
گل اسے دیکھ کر مسکرا دی
ہاشم کار لے آیا اور گل لپک کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
گل ایسا کرو تم پیچھے بیٹھ جائو میری میکسی کافی ہیوی ہے میں مینج نہیں کر سکتی پیچھے ۔۔۔ حور نے فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا
ہاں مجھے بھی میری حور کے ساتھ ہی بیٹھنا ہے ۔۔۔ ہاشم نے حور پد نظریں گاڑھ کر کہا
گل اٹھی اور پیچھے بیٹھ گئی جب کہ حور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
چلیں ۔۔۔ ہاشم نے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
گل نے دیکھ کر رخ پھیر دیا تھا
حور نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا
ہاشم نے کار سٹارٹ کر دی
بہت ہنس رہی ہو ناں تم حور تمھارا ٹائم ختم اب میرا ٹائم شروع ہو گا ۔۔۔ گل انہیں ہاتھ پکڑے دیکھ کر بولی
شادی ہال میں تھی تو ہاشم نے ہال کے باہر کار روکی ۔۔۔
ہال کے باہر کھڑے لڑکے نے دروازہ کھولا گل اتر گئی ہاشم بھی خود اترا
رکو ۔۔۔ لڑکا حور کی سائیڈ کا دروازہ کھولنے لگا تو ہاشم نے اسے روکا ۔۔۔
لڑکا پیچھے ہٹ گیا ہاشم نے خود حور کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور پوکٹ میں ہاتھ ڈال کر پیچھے ہو گیا
حور مسکراتے ہوئے نیچے اتری تو ہاشم نے اس کا ہاتھ تھام لیا
دونوں پر پھولوں کی کلیاں برسائی گئی گل ان کے پیچھے چل رہی تھی
خیر ہو جناب یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ حور نے ہاشم کے کان میں سرگوشی کی
جناب غریب اپنی حور کے ساتھ آیا ہے پری کا ویلکم ہو رہا ہے ۔۔ ہاشم نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا
اوہ واہ ۔۔۔ حور مسکرا دی
ہال میں موجود سب کی نظریں حور اور ہاشم پر تھی نیو شادی کا کپل وہ دونوں ہی لگ رہے تھے
کالا ٹیکہ لگا لیا تھا ناں ۔۔۔میری حور کو نظر نہ لگ جائے ۔۔۔
اوہ بھول گئی میں ۔۔۔حور نے مزاق میں لیتے ہوئے کہا
افف حور اتنی لاپرواہی ۔۔۔ ایک منٹ رکو ۔۔۔
ہاشم پیچھے گل کی طرف مڑا ۔۔۔
کاجل ہو گا تمھارے پاس ۔۔۔
جی ہے ۔۔۔ گل نے بغیر سوچے سمجھے اسے کاجل نکال کر دے دیا ۔۔۔۔
ہاشم نے لیتے ہوئے حور کو ایک طرف کھینچا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ حور نے ہچکچاتے ہوئے کہا ۔۔۔
ششش چپ نظر لگ گئی تو ۔۔۔ ہاشم نے اسے کان کے قریب کالا ٹیکہ لگاتے ہوئے مسکرا کر کہا
میں بچی ہوں کیا ہاشم ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ ہاشم نے کاجل گل کو دے دیا ۔۔۔
کاش تم اتنا پیار مجھے کرتے ہاشم نہ کہ اس لڑکی کو ۔۔۔ گل ہونٹ بھینچ کر خود سے بولی
ہاشم بھائی کیا حال ہے ۔۔۔ ہاشم کا ایک دوست اسے مل گیا
ارے سعد ۔۔۔ہاشم اس کے ساتھ گپوں میں مصروف ہو گیا تھا
اتنے سارے لوگ اب میں کس سے بات کروں ۔۔۔حور نے آس پاس دیکھتے ہوئے کہا
حور اف یو ڈونٹ مائنڈ کیا ہم وہاں بیٹھ جائیں میں یہاں کسی کو نہیں جانتی بور ہو رہی ہوں ہوئی کین ٹاک ٹو کیدر ۔۔۔ گل نے اسے چیئرز کی طرف اشارہ کیا
جانتی تو میں بھی کسی کو نہیں ۔۔۔ بیٹھ ہی جاتی ہوں ۔۔۔ حور نے چیئرز کی طرف ایک قدم بڑھایا تو ہاشم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
حور پیچھے مڑ کر اسے گھورنے لگی ۔۔۔
کہیں نہیں جانا میرے ساتھ رکو حور میں کوئی رزک نہیں لے سکتا ۔۔۔ ہاشم نے بات کرتے ہوئے حور کو اتنا ہی کہا
حور خاموشی سے اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی
اتنے میں بارات آ گئی ۔۔۔
کافی رش مچ گیا ۔۔
ہاشم اتنی بھیڑ میں انکمفرٹ ایبل ہوں ۔۔۔ حور نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا
یہاں بیٹھو میں پانی لے آتا ہوں اور کہیں نہیں جانا ۔۔۔ ہاشم کہہ کر ٹیبل سے گلاس اٹھانے کے لیے پیچھے مڑا ۔۔۔
اگر نہیں آنا تھا تو بتانا چاہیے تھا ناں ۔۔۔ ہاشم کے ہاتھ سے گلاس گر گیا جب حور اپنی جگہ پر نہیں تھی ۔۔۔
حور ۔۔۔ دیکھو مزاق نہیں کرنا میں بہت پریشان ہو رہا ہوں سامنے آئو۔۔۔ وہ پریشان ہو کر یہاں وہاں دیکھنے لگا
حور کہاں ہو ۔۔۔ ہاشم اب دیوانہ بنا ہر طرف دیکھ رہا تھا پورے ہال میں حور کہیں نہیں تھی ۔۔۔
وہ دوڑتا ہوا ہال سے باہر نکلا اور ہر طرف دیکھنے لگا

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

چھوڑو مجھے کون ہو تم ۔۔ جانے دو مجھے۔۔۔ ہاشم۔۔۔۔ ہاشم میں یہاں ہوں دیکھو یہاں ۔۔۔ وہ منہ سے ہاتھ ہٹا کر کار سے باہر دیکھتے ہوئے چیخی ۔۔۔
سپرے دے جلدی سے نادر ۔۔۔
یہ لو بھائی ۔۔۔۔
۔۔آگے بیٹھے لڑکے نے جلدی سے سپرے نکال کر اسے دیا ۔۔
اور پیچھے بیٹھے لڑکے نے جلدی سے حور کو سپرے سے بے ہوش کر دیا ۔۔۔
حور اس وقت مکمل بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔۔
اتنے میں ایک اور لڑکا کار میں آ بیٹھا ۔۔۔
ریان بھائی آ گئے چل جلدی ۔۔۔ پیچھے بیٹھے لڑکے نے اتر کر آگے بیٹھتے ہوئے کہا
ریان نے حور کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کار سٹارٹ کر دی گئی ۔۔۔۔
حور کہاں ہو تم ۔۔۔ ہاشم یہاں وہاں دیکھتا رہا اور وہ اسے لے کر چلے بھی گئے ۔۔۔
کیا ہوا ہاشم ۔۔۔ حور کہاں ہے ۔۔۔ گل ہال سے نکلی اور ہاشم سے مخاطب ہوئی
ابھی تک تو ۔۔۔ وہ ۔۔ابھی تک تو ۔۔ میرے ساتھ ۔۔۔میں پانی ۔۔ ہاشم نے اپنا ماتھا پکڑ لیا
کیا ہوا بتائو ریلیکس ہو کر بتائو حور کہاں ہے ۔۔۔
جلدی چلو واپس ۔۔۔ ہاشم نے کار کی کیز نکال کر کار کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
گل مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے چلی گئی اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی
دیکھا حور کہا تو تھا میں نے کہ اب میرا ٹائم شروع ہو گیا ہے تمھاری جگہ اب میں لوں گی ۔۔۔ گل خود سے بڑبڑائی ۔۔۔ میری بات سن لو کان کھول کر اگر ان سب میں تم نے کچھ کیا ہے ناں تو میں تمھیں معاف نہیں کروں گا میری پوری دنیا ۔۔۔۔ سب کچھ ۔۔۔۔اس وقت گم ہو چکی ہے ۔۔۔ اچانک سے۔۔۔۔ کہاں ۔۔۔۔جا سکتی ہے وہ ۔۔۔ ہاشم غصے میں کیا کیا کہتا چلا گیا اسے خود سمجھ نہ آئی ۔۔۔۔
دیکھو ہاشم میں اتنی بھی گری ہوئی نہیں ہوں مجھے معاف کر دو مجھے یہیں اتار دو مجھ پر الزام تو مت لگائو ۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔ سوری مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا بول رہا ہوں ابھی تک ۔۔۔
ہاشم سامنے ۔۔۔ گل چیخی ۔۔۔
سامنے سے آتی کار ہاشم کی کار سے ٹکرا گئی ۔۔۔
ہاشم کا سر سامنے اسٹیئرنگ سے لگا اور سر پھٹ گیا اور خون کا ایک فوارہ اسے کے سر سے بہنے لگا جب کے گل ہو معمولی سی چوٹ لگی تھی ۔۔۔
ہاشم۔۔۔۔ہا۔۔ہاشم اٹھو ۔۔۔ گل نے اسے جھنجھوڑا جو آنکھیں بند کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
ح۔۔۔حح۔۔۔حو۔۔حوررر۔۔۔ وہ اتنا کہہ کر آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔
ہاشم اٹھو ۔۔۔یاشم ہوش میں آئو۔۔۔۔ گل اسے جھنجھوڑتی اس کے گال تھپتھپاتے رہی مگر وہ بے ہوش تھا ۔۔
ہیلپ کوئی ہے پلیز ہیلپ کرو ۔۔۔ وہ کار سے باہر نکل کر چیخی ۔۔۔۔۔
پلیز ہیلپ کرو وہاں۔۔۔وہاں ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔ پلیز اللہ کا واسطہ ہے مدد کرو ہاشم ۔۔وہاں ۔۔۔پلءز ۔۔۔ وہ چیختی ہوئی ایک کار کو روکتے ہوئے بولی
کار سے ایک لڑکا باہر نکلا اور گل کے ساتھ ہاشم کی کار کی طرف بڑھا ۔۔۔
ہاشم ۔۔۔یہ یہ ہے ۔۔۔ پپ پلیز میں ہاتھ جوڑتی ہوں بب بہت خون بہہ رہا ہے ہاسپیٹل لے چلو میں میں ۔۔۔ میں اکیلی نہیں جا سکتی لے کر ۔۔۔ گل ہاتھ جوڑتے ہوئی بولی
آپ ریلیکس ہوں کار سے نکالنے میں میری مدد کریں میں لے چلتا ہوں ۔۔۔ لڑکے نے اسے تسلی دی اور ہاشم کو کار سے نکالتے ہوئے اپنی کار میں لٹا دیا
گل نے ہاشم کا سر اپنی گود میں لے لیا ۔۔۔
ہاشم سوری مم میں سب کروں گی جج جو بولو گے کک کچھ نہیں ہو گا تمھیں ہاشم۔ ۔۔۔آنکھیں کھولو ۔۔۔ وہ اپنے دوپٹے سے کسی پاگل کی طرح اس کے بہتے خون کو روکنے لگی
لڑکے نے ہاسپیٹل کے سامنے کار روکی اور ہاشم کو ہاسپیٹل میں لے کر داخل ہو گئے ۔۔۔
ڈاکٹرز جلدی سے اسے لیے آئی سی یو میں چلے گئے اور گل باہر ہاتھ جوڑے خود کو کوسنے لگی ۔۔۔
میری وجہ سے ہوا نہ حور کو ریان کو دے کر جاتی ناں۔۔۔۔ ناں ہاشم کو کچھ ہوتا تم اتنی گھٹیا کیسے ہو سکتی ہو ہاشم کو میری وجہ سے چوٹ پہنچی مر جانا چاہیے مجھے ۔۔۔ وہ خود کو کوستی چلی گئی اور روتی چلی گئی
ح۔۔۔ححح۔۔۔حور کو واپس آنا ہو گا ۔۔۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے فون نکال کر آنسوں صاف کرتے ہوئے ریان کو فون کرنے لگی
دد ۔۔۔دیکھو ری ۔۔۔ریان حح۔۔۔۔ حور کو واپس آنے دو ہاشم کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے بہت کریٹیکل ہے حور کی ضرورت ہے اسے پپ پلیز حور کو واپس چھوڑ دو میں سب سہہ لوں گی ہاشم حور کے ساتھ رہے مجھے کوئی تکلیف نہیں وہ بس ٹھیک رہے پلیز میں ہاتھ جوڑتی ہوں حور کو واپس چھوڑ دو میں نہیں دیکھ سکتی ہاشم کو اس طرح ۔۔۔۔
تمھارا دماغ خراب ہے گل تمھیں لگتا ہے میں چھوڑ دوں گا حور کو کبھی نہیں ۔۔۔ریان مسکرایا
مم میں پولیس کو لے آئؤں گی میں تمھیں جیل میں بند کروا دوں گی ۔۔۔
نہیں ڈرتا کسی سے میں جا جو کرنا ہے کر لے ۔۔۔۔
کہہ کر ریان نے فون رکھ دیا اور گل کو بلاک کر دیا
آپ ان کی وائف ہیں کیا ۔۔۔ بار بار حور کا نام لے رہے ہیں پلیز آپ اندر جائیں ان سے بات کریں بہت کریٹیکل حالت ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نے باہر آ کر گل سے کہا
گل آنسوں صاف کرتے ہوئے اندر چلی گئی
ہاشم آنکھیں بند کیے تھا
گل نے آ کر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ اور رو پڑی ۔۔۔
ح۔۔حح۔۔حورر۔۔۔ ہاشم کے ہونٹ ہلے ۔۔۔
مم۔۔۔میں یہیں ہوں ۔۔۔ ہاشم ٹھیک ہو جائو جلدی ۔۔ میں آ گئی ہوں ۔۔۔ گل روتے ہوئے خود کو سمبھال کر بولی ۔۔۔
گلِ۔۔۔۔ اپنی حور کو۔۔۔۔۔ پہچانتا ہوں میں ۔۔۔ اگر تم جانتی ہو ۔۔۔۔حور کہاں ہے تو بتا دو میں نہیں جی سکتا اس کے بغیر بتا دو اگر تم کچھ جانتی ہو ۔۔۔
مم مجھے معاف کر دو ہاشم ۔۔۔ گل رونے لگی
حور کہاں ہے بتائو مجھے ۔۔۔ ہاشم آنکھیں کھول چکا تھا
وو ۔۔وہ ریان اسے ۔۔
ہاشم نے ہاتھ سر ڈرپ کی پِن نکال دی ۔۔۔
یہ یہ کیا کر رہے ہو ہاشم تمھیں آرام کی ضرورت ہے یہ یہ مت کرو میں ۔۔۔
چلو میرے ساتھ حور کے پاس ۔۔۔ ہاشم مشکل سے نیچے اترا اور اسے کھینچتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
پورا ہاسپیٹل کا سٹاف انہیں دیکھ رہا تھا
ہاشم مم میں ڈرائیو کرتی ہوں تم بیٹھو ۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں میں حور سے ملوا دوں گی آپ کو اور چلی جائوں گی آپ کی لائف سے ۔۔۔ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔
ہاشم خاموشی سے کار میں بیٹھ گیا اور گل نے کار کو اس پرانی فیکٹری کی طرف دوڑا دیا جہاں ریان حور کو لے کر گیا تھا ۔۔۔
وہاں پہنچ کر ہاشم گل سے پہلے کار سے اترا ۔۔۔
ہاشم تم ٹھیک ہو ناں ۔۔۔ گل اسے دیکھ کر بولی جو بمشکل چل رہا تھا ۔۔۔
ہاشم نے کوئی جواب نہ دیا اور گل اس کے ساتھ چلتی گئی ۔۔۔
ایک تنگ گیلری سے ہوتے ہوئے گل نے اسے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
ہوش میں لائو اس لڑکی کو ۔۔۔ ریان نے حور کو زمین پر لٹا کر کہا
ایک لڑکا پانی کا گلاس لے آیا اور اس کے منہ پر انڈیل دیا
حور ہڑبڑا کر اٹھ گئی
ہاشم پلیز میری بات مانو میں اندر جاتی ہوں تم نہیں پلیز میں تمھیں نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔۔۔ گل نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے ۔۔۔
ہاشم خاموش تھا ۔۔۔ تم سے یہ امید نہیں تھی مجھے دوست مانا تھا میری زندگی کی دشمن بن گئی تم ۔۔۔۔ ہاشم اتنا ہی بولا اور گل نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی
گل اندر چلی گئی ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔ ریان اسے دیکھ کر چونکا ۔۔۔
اس وقت ریان کے ساتھ چار لڑکے کھڑے تھے جنہیں اس نے گل کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔
گل ایک پل کے لیے تو ڈر گئی مگر پھر پیچھے سے آتے ہاشم کو دیکھ کر وہ چاروں ٹھٹک گئے ۔۔۔
جائو منہ کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔ ریان دھاڑا ۔۔۔
ہاشم کے ہاتھ میں ایک سٹیل کا پائپ تھا ۔۔۔
وہ اس وقت بھی ان کے لیے کافی تھا ۔۔۔
گل نے جلدی سے حور کی رسیاں کھولی اور اسے اٹھایا ۔۔۔
چاروں لڑکے زمین پر پڑے تھے جب ہاشم حور کی طرف بڑھا ۔۔۔
ریان اس وقت گن نکال چکا تھا اور لوڈ بھی کر چکا تھا ۔۔۔
دو سیکنڈ میں ہی گولی چلنے کی آواز آئی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: