Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 3

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 3

–**–**–

مجھے یہاں نہیں رہنا ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بولی
میں آپ سے وہی پوچھ رہا ہوں ۔۔۔
میں بتاتی ہوں ۔۔۔
بیٹھیں ۔۔۔ حور نے حیرانی سے اسے دیکھا وہ نیچے اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
حیرانی کی بات تو نہیں ہے ۔۔۔کس بات پر حیران ہو رہی ہیں آپ ۔۔
نہیں وہ ۔۔۔ آپ نیچے بیٹھ گئے تو ۔۔۔
تو کیا ہوا ۔۔۔
کک۔۔کچھ نہیں ۔۔۔
کون ہیں آپ اور یہاں کیسے آئی۔۔۔
میں حور ہوں میرا تعلق یہاں کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے میری فیملی میں امی ، ایک بہن اور ایک بھائی ہیں بابا جان جب میں دس سال کی تھی گزر گئے جب کہ امی میرے بچپن میں ہی گزر گئی تھی میں اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
مگر آپ نے یہاں آنے کی وجہ پھر بھی نہیں بتائی ۔۔۔
حور نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔
دو دنوں میں میری شادی ہے اور یہ رشتہ میرے لیے نہیں آیا تھا میری بہن کے لیے تھا پر مجھے دیکھ کر انہوں نے میرا ہاتھ مانگ لیا ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے محبت ہو گئی انہیں اور امی نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر گئی پر وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھی اس بات کو لے کر جھگڑا بھی ہوا تھا شادی میں تین دن رہ گئے تھے امی میرے پاس آئی اور ان کے ہاتھ میں ایک جوس کا گلاس تھا انہوں نے وہ مجھے دے دیا اور مجھ سے معافی مانگنے لگی کیونکہ بچپن سے اب تک مجھے ماں کا پیار نہیں ملا تھا میں سمجھی وہ سچ میں معافی مانگنا چاہتی تھی میں نے معاف کر دیا اور ان کے کہنے پر جوس پی لیا مجھے اس کے بعد کچھ یاد نہیں مجھے جب ہوش آیا تو میں یہاں پر تھی ۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی
آپ واپس جانا چاہتی ہیں ؟
ہاشم کے سوال پر حور نے نظریں اٹھائی۔۔۔
آپ ان کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ یہ سب کیا ۔۔۔
میں بے پناہ محبت کرتی ہوں ان سے وہ مجھے غلط سمجھیں اس سے پہلے میں انہیں سب بتا دینا چاہتی ہوں اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ مجھے سمجھیں گے ہماری شادی ہونے والی ہے شادی کے بعد میں نے ان کے ساتھ رہنا ہے اپنے گھر نہیں ، میں انہیں سب بتانا چاہتی ہوں ۔۔۔
چلیں میرے ساتھ ۔۔۔ ہاشم کھڑا ہوا ۔۔۔
پر مجھے یہاں سے کوئی نہیں جانے دے گا ۔۔۔
کوئی نہیں روکے گا آپ کو چلیں میرے ساتھ ۔۔۔ ہاشم اس کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔
سب کے سب انہیں دیکھ رہے تھے خاص طور پر وہ لڑکیاں جو ہاشم پر مر مٹی تھی وہ اس کا ہاتھ پکڑے تیز قدم اٹھاتا ہوا نجمہ بائی کے پاس جا رہا تھا ۔۔۔
حور اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
نجمہ بائی نے دونوں کو دیکھا تو سارا کام چھوڑ چھاڑ کے باہر نکلی ۔۔۔
میں حور کو یہاں سے لے کر جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
اس کا مطالبہ سن کر وہ چونکی ۔۔۔
سبھی آنکھیں پھاڑ کر انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔
یہ تو نہیں ہو سکتا صاحب یہاں کی سب سے حسیں لڑکی کو آپ یہاں سے لے جانا چاہتے ہیں یہ نا ممکن ہے ۔۔۔۔
جو چاہیے حور کے بدلے میں خود بتائو ۔۔۔ منہ مانگی قیمت مل جائے گی ۔۔۔۔
حور نے یہ سنتے ہی اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
نہیں صاحب اس کی کوئی قیمت نہیں ہے میں نہیں جانے دے سکتی اس لڑکی کو معزرت۔۔۔۔
حور ہاتھ چھڑا چکی تھی وہ جانتی تھی یہ نا ممکن ہے نجمہ اسے نہیں جانے دے گی ۔۔۔
ہاشم حور کو ایک طرف لے آیا ۔۔۔
وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔
میں آپ کو لے جائوں گا یہاں سے میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا ۔۔۔
مجھے نہیں جانے دیں گی وہ ۔۔۔۔ کبھی نہیں نکل سکتی میں یہاں سے ۔۔۔
میں نے وعدہ کیا ہے میں آپ کو لے جائوں گا مطلب لے جائوں گا ۔۔۔
حور نے اس کے لہجے میں شدت پائی تھی ۔۔۔ اس لیے مطمئن سی ہو گئی اور اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
اگر کوئی بھی بات ہو تو مجھے بتا سکتی ہیں آپ ۔۔۔ ہاشم نے دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں کچھ دیا جسے وہ جلدی سے دیکھنے لگی ۔۔
وہ ایک فون تھا ۔۔۔
مگر وہ ۔۔۔مجھے ۔۔۔۔
کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا رکھیں اسے ۔۔۔میں اگلی بار آپ کو یہاں سے لے کر جائوں گا اور سب کے سامنے لے کر جائوں گا ۔۔۔
حور نے فون کو پلو میں چھپا دیا ۔۔۔
ہاشم اسے مطمئن کر کے وہاں سے نکلا اور کار میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوا کیونکہ اسے بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

وہاں دوسری طرف حور کی جگہ علیشاء مہندی کی رسم میں بیٹھی تھی اور اسے مہندی لگ رہی تھی ۔۔۔
بات تو یہ تھی کہ حور کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کے بعد بھی کسی نے اس موقع پر اس کے بارے میں نہ سوچا کہ آخر کیا بیت رہی ہو گی اس پر۔۔۔۔
حور کو رہ رہ کر فکر احد کی فکر کھائے جا رہی تھی وہ کیا سوچ رہا ہو گا میرے بارے میں ، آج مہندی تھی کیا ہوا ہو گا ، میں کیسے بتائوں گی اسے یہ سب۔۔۔ پھر اسے وہ فون یاد آیا جو ہاشم نے اسے دیا تھا ۔۔
نائدہ آرام سے سو رہی تھی حور نے فون نکالا اور احد کا نمبر ملایا ۔۔۔
کون ؟؟ احد نے فون اٹھایا۔۔
میں۔۔۔ میں ۔۔۔ ہوں ۔۔۔حور ۔۔۔ وہ ہچکچا رہی تھی ۔۔۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے فون کرنے کی ۔۔۔ بھاگ گئی تھی وہ بہت نہیں تھا اب فون کر کے ثابت کیا کرنا چاہتی ہو تم۔۔۔۔
میں نہیں بھاگی احد ایک بار میری بات سنیں ۔۔۔
کیوں سنوں تمھاری بات میں ہی غلط تھا اوقات سے زیادہ محبت کر بیٹھا تم سے ، مگر تم نے اپنی اوقات یاد دلا کر بہت اچھا کیا حور ، تمھاری وجہ سے میں نے علیشاء کو ٹھکرا دیا تھا مگر اب تمھاری اوقات سامنے آنے پر میں نے اسے تمھاری جگہ دے دی ہے آج ہماری مہندی ہے اس لیے مجھے دوبارہ فون کرنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں احد بغیر کچھ جانے بغیر سچائی جانے ، آپ میری جگہ اسے کیسے دے سکتے ہیں احد ، ایک بار مجھ سے پوچھا ہوتا کیا گزر رہی ہے مجھ پر ۔۔۔
مگر وہ تو فون رکھ چکا تھا
حور نے پھر سے اس کا نمبر ملایا مگر وہ اسے بلاک کر چکا تھا ۔۔۔
حور نے فون واپس رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔پوری رات وہ روتی رہی ۔۔۔
صبح ہوئی اور انیلہ نے دروازہ کھولا ۔۔۔
حور ہمیشہ کہ طرح کھانا لے آئی اور نائدہ کے ساتھ رکھ دیا اور خود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی ۔۔ تین دنوں سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا شکل بگڑتی جارہی تھی چہرے پر نشان ہو رہے تھے آنکھوں کے نیچے ہلکے ہو گئے تھے ۔۔۔
نائدہ نے ہمیشہ کی طرح کھانا کھا لیا ۔۔۔
انیلہ دروازہ بند کر کے چلی گئی تھی ۔۔۔
حور یونہی بیٹھی تھی جب ہاشم کی کال دیکھ کر ہڑبڑائی۔۔۔
یا خدا آپ کے پاس فون ہے ۔۔۔ نائدہ چونک پڑی
شششش۔۔۔ پلیز کسی کو مت بتانا پرابلم ہو جائے گی پلیز کسی کو مت بتانا ۔۔۔۔
حور بی بی یہ کہاں سے آیا آپ کے پاس ۔۔۔
وہ ہاشم۔۔۔۔ وہ بولتے بولتے رہ گئی۔۔۔
صاحب نے دیا جو کل آئے تھے ؟ نائدہ نے حیرانی سے اسے دیکھا
ہممم۔۔۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے وہ مجھے یہاں سے نکالیں گے ۔۔۔
ٹھیک ہے بی بی آپ بات کر لیں ۔۔
حور نے کال ریسیو کی۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔ جج۔۔۔جی ۔۔۔ کک۔۔
آپ ڈر کیوں رہی ہیں ۔۔۔۔
آپ نے اچانک فون کر دیا اگر کوئی آ جاتا تو ۔۔۔
اوہ معافی چاہتا ہوں میں یو ایس جا رہا ہوں ایک ہفتے میں آ جائوں گا آپ کو لے جائوں گا یہاں سے ۔۔۔
کیا ایک ہفتہ ۔۔۔ حور اپنی جگہ سے اٹھی اور بڑبڑائی۔۔۔۔
فلائٹ میں ہوں اس وقت رکھتا ہوں ۔۔۔۔
پپ۔۔۔پر میں ایک ہفتہ کیسے رہوں گی۔۔۔۔ اور آج شادی ہے میری ۔۔۔۔
آپ کو جانے کی جلدی ہے یا شادی کی ۔۔۔۔
ککک۔۔۔کیا ۔۔۔
کچھ نہیں رکھتا ہوں ۔۔۔
حور نے اس سے پہلے ہی فون رکھ دیا ۔۔۔
ایک ہفتہ ۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی یہاں ۔۔۔وہ غصے سے واپس بیٹھ گئی ۔۔۔
بی بی جی آپ کو امید تو ہے کہ آپ جائیں گی واپس پر یہاں ہزاروں لڑکیوں کو امید تک نہیں ملتی واپس جانے کی ۔۔۔
نائدہ کی بات پر وہ خاموش ہو گئی ۔۔۔وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ٹھیک ایک گھنٹے بعد نجمہ بائی اندر آئی ۔۔۔
حور اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی تھی
چلو باہر میرے ساتھ ۔۔۔
مگر کہاں ۔۔۔ حور نے ہمت کرتے ہوئے کہا
تم نے جو کل کیا ناں اس کے بعد میں تمھیں وہ کام کبھی نہیں کہوں گی چلو میرے ساتھ ۔۔۔ نجمہ بائی نے اسکا ہاتھ مظبوطی سے پکڑا اور کھینچتی ہوئی باہر لے گئی ۔۔۔
اس کا ہاتھ میں پھولوں کی پلیٹ پکڑا دی ۔۔۔
باقی لڑکیوں کے ساتھ جائو اور کچھ لوگ آئے ہیں ان کو خوش آمدید کہو۔۔۔
میں کیوں کروں ۔۔۔ میں نہیں کروں گی یہ سب۔۔۔ حور نے پلیٹ رکھ دی
تو مجھے ناں کر رہی ہے ۔۔۔ نجمہ بائی نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے کھینچ کر کہا۔۔۔
چھوڑیں درد ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔
چپ چاپ یہ پکڑ اور جا ۔۔۔
حور پلیٹ اٹھائے باقی لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔۔۔
چودھری ریان آئے ہیں جانتی ہو تم یہاں کے سب سے بڑے زمیندار کے بیٹے ہیں ۔۔۔ حور کے ساتھ کھڑی لڑکی نے دوسری سے کہا ۔۔۔
حور نے ان کی باتوں کو اگنور کر دیا۔۔۔
وہ اندر آیا تو اس پر پھولوں کی بارش کی گئی بس حور ہی تھی جو ہاتھ میں پلیٹ لیے کھڑی تھی اور ویسے کی ویسے کھڑی تھی ۔۔۔
وہ حور کے ساتھ سے گزرا تو رک گیا ۔۔۔
حور نے رخ بدل دیا ۔۔۔
ہاتھوں کو تکلیف دے دو تھوڑی سی ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑتے بولا ۔۔۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔ حور نے ہاتھ کو جھٹکا دیا۔۔۔
اففف ۔۔۔ وہ اسے گھورنے لگا
ہاتھ چھوڑو میرا وہ غصے میں بولی۔۔۔
غصہ بھی آتا ہے تمھیں ۔۔۔ اففف ادائیں دیکھو اور غرور ، بات کا کر رہی ہو ۔۔۔ کتنے کا غرور ہے تمھارا ۔۔۔
حور نے ہاتھ چھڑا کر اسی ہاتھ سے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔۔ اور اسے دیکھنے لگہا
آنکھیں نکال دوں گی میں ۔۔۔۔
اتنے میں نجمہ بائی آ گئی ۔۔۔
وہ حور کی طرف بڑھی تو ریان نے انہیں روکا ۔۔۔
رہنے دو ۔۔۔ مجھے پسند آئے اس کے تیور ۔۔۔ غضب کا غرور ہے اور حسن تو پوچھو مت ۔۔۔ ہیرا ہے ۔۔۔
حور نے پلیٹ وہیں پھینک دی اور غصے سے چلی گئی ۔۔۔
کیا ہوا حور بی بی ۔۔۔ نائدہ نے اسے غصے میں دیکھا ۔۔۔۔ تو پوچھ لیا ۔۔۔
نفرت ہے مجھے یہاں سے مجھے جانا ہے یہاں سے شرم و حیا نام کی چیز نہیں ہے یہاں نائدہ۔۔۔۔
کون تھی وہ لڑکی۔۔۔ ریان نے حور کے جانے کے بعد نجمہ بائی سے پوچھا۔۔۔
نئی ہے ۔۔۔ لگتا ہے دل پر لگی ہے آپ کو ۔۔۔ نجمہ نے جلتی آگ میں تیل ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
بے حد متاثر ہوا ہوں ۔۔۔ مجھے وہ چاہئیے۔۔۔۔
لے سکتے ہو بڑے آرام سے کب چاہیے ۔۔۔
کچھ دن تیور دکھانے دو ۔۔۔ جب ہاتھ آئی تو اس تھپڑ کا بدلہ لوں گا میں ۔۔۔۔
ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ۔۔۔ نجمہ بائی نے اسے ہال میں بٹھایا محفل لگ گئی مگر اس کا ذہن حور پر جاتا رہا ۔۔۔۔
محفل ختم ہوئی ریان چلا گیا ۔۔۔۔
اگلے دن پھر سے وہی واقعہ رونما ہوا۔۔۔۔
حور نہ چاہتے ہوئے ہاتھ میں پھول کی تھالی لیے کھڑی تھی اور ریان وہیں رکا ۔۔۔
حور آج پھر اسے تھپڑ مارنے کو تیار کھڑی تھی ۔۔۔
تھپڑ مارنے کا سوچ رہی ہو مارو مجھے سکون ملتا ہے تمھارے ہاتھوں کا میرے چہرے پر آنا ۔۔۔
حور نے منہ پھیر لیا۔۔۔
آج پھر ریان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
حور ہاتھ کو جھٹکا دیتی رہی اور وہ اسے کھینچتا ہوا اسی ہال میں لے گیا ۔۔۔
نجمہ بائی آرام سے کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی سب ہی تماشا دیکھ رہی تھیں وہ اسے کھینچتا ہوا ہال میں لے گیا اور اسے ہال کے بیچ و بیچ دھکا دیا وہ گر گئی تھی۔۔۔۔
صوفے کے سامنے پڑے شیشے کے گلاس اٹھائے اور ایک ایک کر کے فرش پر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے لگا۔۔۔
حور کے چاروں طرف اس نے شیشے بکھیر دیئے تھے ۔۔۔
شروع ہو جائو ۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا
کبھی نہیں۔۔۔ وہ چیخی ۔۔۔
جا سکتی ہو یہاں سے جا کر دکھائو ۔۔۔ وہ ہنس کر بولا۔۔۔۔
چاروں طرف شیشے بکھرے پڑے تھے ۔۔۔ کہیں سے بھی گزرنے کی جگہ نہیں تھی ۔۔۔
مر سکتی ہوں پر یہ نہیں کروں گی ۔۔۔ حور کہہ کر شیشوں پر چلنے لگی ۔۔۔
ریان اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
حور نے پائوں زخمی ہو گئے تھے وہ لڑکھڑاتے ہوئے ہال سی نکلی اور باہر جا کر رو پڑی
کہاں ہیں آپ میں نہیں رہ سکتی اب اور یہاں ۔۔۔ وہ چیخی ۔۔۔۔
بہت ہمت ہے اتنی آسانی سے نہیں مانے گی یہ لڑکی صاحب ۔۔۔
دیکھتے ہیں کب تک رہے سکتی ہی اپنی انا لیے ۔۔۔ ریان اٹھا اور چلا گیا ۔۔۔
حور مشکل سے کمرے تک گئی ۔۔۔ اس کے قدموں کے نشان سرخ رنگ میں فرش پر واضح ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
حور اندر آئی اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
یہ کیا ہوا حور بی بی ۔۔۔۔ نائدہ چیخی ۔۔۔۔
حور لڑکھڑا کر گر پڑی ۔۔
حور بی بی کیا ہوا آپ کو ۔۔۔ اس کے پیروں سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا ۔۔۔
وہ تھک چکی تھی اور بے ہوش ہو گئی ۔۔۔
جب اسے ہوش آیا تو نائدہ کو اپنے ساتھ ہی پایا ۔۔۔
حور اٹھی اور اپنے پیروں کو دیکھا۔۔۔
نائدہ نے اس کے پیروں سے شیشے نکال کر دوپٹا پھاڑ کر پٹی کی تھی ۔۔۔
حور نے اسکی طرف دیکھا جو آنکھوں میں ہمدردی لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
تمھارا شکریہ ۔۔۔
شکریہ کیسا بی بی آپ میرے لیے بہت کچھ کرتی ہیں میں نے تو کچھ خاص نہیں کیا ۔۔۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔
دونوں ہڑبڑا گئی ۔۔۔
نائدہ دروازہ کھولنے کے لیے اٹھی ۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا تو انیلہ اندر آئی اس کے ہاتھ میں لیپ تھا ۔۔۔
یہ لگا لو پیروں پر جلدی ٹھیک ہو جائو گی ۔۔۔ انیلہ نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کہا ۔۔۔
حور نے منہ پھیر لیا۔۔۔ وہ کسی کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی۔۔۔
لگا لو صاحب کو پتا چلا تو بہت ناراض ہوں گے مجھ سے۔۔۔
کس کی بات کر رہی ہیں آپ ۔۔۔حور نے حیرانی سے پوچھا
ہاشم صاحب کی وہ مجھے کہہ کر گئے ہیں آپ کا خیال رکھا جائے۔۔۔۔
نائدہ نے مسکرا کر حور کی طرف دیکھا ۔۔۔
حور نے بھی حیرانی سے اسے دیکھا ۔۔۔
میں لگا دیتی ہوں ۔۔۔ دکھائو پیر۔۔۔ انیلہ کی بات سنتے ہی وہ چونکی ۔۔۔
آپ مجھ سے بڑی ہیں یہ مجھے دے دیں میں لگا لوں گی ۔۔۔
انیلہ نے اسے لیپ دے دیا اور چلی گئی ۔۔۔۔
حور آہستہ آہستہ پیروں پر لیپ لگانے لگی۔۔۔
بہت خیال رکھتے ہیں صاحب آپ کا ۔۔۔ نائدہ بولے بغیر نہ رہ سکی ۔۔۔
حور کے لبوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
آپ ہنستے ہوئے بہت حسیں لگتی ہیں حور بی بی ۔۔۔میں نے پہلی بار آپ کو مسکراتے دیکھا ہے ۔۔۔۔
بس میں جلدی سے یہاں سے جانا چاہتی ہوں ۔۔۔ حور نے بات کا رخ موڑ دیا۔۔۔
ایسا ہی ہو گا صاحب آ گئے تو آپ کو لے جائیں گے پر آپ گھر کیسے جائیں گی ؟ کیا آپ سے سوال نہیں ہوں گے ؟ اور آپ کے پاس جواب ہیں ؟ ۔۔۔
وہ میں نہیں جانتی ، احد کی شادی ہو گئی ہو گی علیشاء سے کاش وہ مجھے سمجھ سکتے ۔۔۔ افسوس ہوا مجھے جس کے لیے میں واپس جانا چاہتی تھی وہ میری آواز تک سننے کو تیار نہیں ہے۔۔۔۔
نائدہ خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
رات ہوئی تو لائٹ چلی گئی ۔۔کمرے میں وہی گھپ اندھیرا تھا جس سے وہ ڈرتی تھی ۔۔۔۔
نائدہ تم یہاں ہو ناں ۔۔۔۔ وہ سہمی ہوئی بولی ۔۔۔
ہاں بی بی جی میں یہیں ہوں آپ کے ساتھ بیٹھی ہوں آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔
اچانک دروازہ کھلا اور دونوں چونک پڑی ۔۔۔
مگر وہ انیلہ تھی ہاتھ میں موم بتیاں لیے اندر آئی اور پورے کمرے میں لگانے لگی ۔۔۔
شکریہ آپ بہت مدد کر رہی ہیں میری میں احسان مند ہوں آپ کی۔۔۔
میرا کوئی احسان نہیں ہے تم پر مجھے جتنا کہا گیا ہے اتنا ہی کر رہی ہوں ۔۔۔ وہ اتنا کہہ کر موم بتیاں روشن کرنے لگی ۔۔۔
احسان تو ان کا بھی بہت ہے ، اپنے بھی اتنا نہیں کرتے جتنا انہوں نے کیا ہے۔۔۔۔ حور خود سے بڑبڑائی۔۔۔۔
انیلہ چلی گئی ۔۔۔
حور سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن سو نہ سکی ۔۔۔۔
پچھلی کئی راتوں سے وہ سو نہیں سکی تھی ۔۔۔
صبح جا کر کہیں اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔
مگر ہاشم کا فون آنے پر وہ ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔۔
بی بی صاحب آپ کو پھنسوائیں گے آپ فون کو سائلنٹ کر دیں ناں ۔۔۔
مجھے نہیں آتا کرنا ۔۔۔وہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔۔
نائدہ نے فون لیا اور سائلنٹ کر دیا ۔۔۔
اس نے کال ریسیو ہی کی تھی کہ دروازہ کھلا اور وہ چونک گئی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: