Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 4

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 4

–**–**–

اس کے ہاتھ میں فون دیکھ کر انیلہ نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
پاگل ہو گئی ہو تم ۔۔۔ اگر نجمہ بائی نے دیکھا تو پتا ہے ناں کیا ہو گا ۔۔۔
نہیں وہ فون آیا تو ۔۔۔ حور نے حیرانی سے اسے دیکھا جو الٹا اسے بچا رہی تھی۔۔۔۔
جلدی سے بات کرو میں باہر رکتی ہوں اگر کوئی آئے گا تو میں بتا دوں گی ۔۔۔ کہہ کر انیلا باہر دروازے میں کھڑی ہو گئی ۔۔۔
حور فون کو گھورنے لگی ۔۔۔
کرو بھی کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔
حور نے فون کان سے لگایا ۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ وہ ہچکچا رہی تھی
وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ ۔۔۔ بتانا تھا کہ میں آج واپس آ رہا ہوں آپ کو لے جاتے ہیں پھر ۔۔۔
حور خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔
نائدہ نے اس کی خوشی سے اندازہ لگا لیا تھا کہ کیا کہا ہے اس نے ۔۔۔۔
مگر پھر احد کا سوچ کر اداس سی ہو گئی تھی۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔آپ نے جواب ہی نہیں دیا ۔
نہیں کچھ نہیں میں رکھتی ہوں کوئی آ رہا ہے ۔۔۔حور نے جھوٹ بولتے ہوئے فون رکھ دیا ۔۔۔
جھوٹ کیوں بولا بی بی ۔۔۔ نائدہ نے مسکرا کر کہا
کک۔۔۔ کیوں اور کیا بات کرتی ۔۔۔ حور منہ بنا کر بولی۔۔۔
نائدہ مسکرائی اور چپ کر گئی ۔۔۔
انیلہ اتنے میں اندر آئی اور کھانے کی پلیٹ اس کے آگے دکھ دی ۔۔۔
اس کے جانے کے بعد حور نے پلیٹ نائدہ کی طرف بڑھا دی۔۔۔
آپ کے بہت احسان ہیں میں تو صرف دعا ہی کر سکتی ہوں آپ کو آپ خود کو بھوکا رکھ کر مجھے دیتی ہیں ۔۔۔
مجھے دعا ہی چاہیے نائدہ۔۔۔۔ اس سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
اللہ کو آپ کی محبت سے ملا دے آمین ۔۔۔
حور نے حیرانی سے اسے دیکھا اس کی محبت تو اس سے نفرت کر رہی تھی اسے غلط سمجھ رہی تھی پھر کیسے ملتی اسے اسکی محبت ۔۔۔
مگر نائدہ نے تو ہاشم اور حور کا کہا تھا جو اشارہ تھا حور نہ سمجھ پائی۔۔۔
نائدہ ایک کام کرو گی میں یہاں بیٹھ کر بہت تھک گئی ہوں مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔
مگر بی بی میں آپ کو باہر کیسے لے جائوں گی ۔۔۔
بس یہیں تک ہی میں چلنا چاہتی ہوں مجھے لے جائو پھر واپس آ جائیں گے ۔۔۔
نائدہ نے کھانا کھایا اور پھر حور کو سہارا دے کر باہر لے گئی ۔۔۔
باہر حور کا ٹکرائو ایک بار پھر ریان سے ہو گیا
ریان اسے اس حالت میں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔
چلو یہاں سے نائدہ۔۔۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے ہاں ۔۔۔ ریان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔۔
چھوڑنے کے لیے تو نہیں پکڑا تھا ۔۔۔
اس کے بعد جو ہوا حیران کن تھا ۔۔۔ ہاشم نے حور کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا اور ریان کو دھکا دے کر حور سے دور کیا ۔۔۔۔
تو کون ہے ۔۔۔ ریان غصے میں غرایا ۔۔۔
آواز نیچے ۔۔۔ ہاشم نے کڑک لہجے میں اسے انگلی دکھا کر کہا ۔۔۔
چلیں یہاں سے ۔۔۔ ہاشم نے حور سے کہا ۔۔۔
حور نے خود سے ایک قدم اٹھایا جب ہاشم کی نظر اس کے پائوں پر پڑی ۔۔۔
یہ کیسے ہوا ۔۔۔ وہ حیرانی سے بولا ۔۔۔
کک۔۔۔کچھ نہیں چلیں یہاں سے پلیز ۔۔۔
میں نے پوچھا کیسے ہوا یہ ۔۔۔
ان کی وجہ سے ہوا۔۔۔۔ نائدہ نے ریان کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
ہاشم نے حور کی طرف دیکھا ۔۔۔ یہ سچ کہہ رہی ہیں ؟ ۔۔۔
ریان غصے سے ہاشم کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
نہیں یہ غلطی سے ہوا ۔۔۔۔ حور نے جھوٹ بولا ۔۔۔۔
ہاتھ توڑ دوں گا اگلی بار یہ حرکت کی تو ۔۔۔ ہاشم ریان کو کہہ کر حور کو لیے انیلہ کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔
ریان غصے سے لال ہو گیا تھا وہ ان کے تعاقب میں چلنے لگا ۔۔۔
ہاشم جانتا تھا وہ ان کے پیچھے چل رہا ہے مگر وہ خاموشی سے حور کو لیے چلتا ہوا وہاں آیا جہاں نجمہ بائی اور انیلہ موجود تھیں۔۔۔
ہاشم اور حور کو دیکھ کر وہ دونوں کھڑی ہو گئی ۔۔۔
میں حور کو لینے آیا ہوں ۔۔۔ ہاشم ان سے مخاطب ہوا۔۔۔
نجمہ بائی نے انیلہ کی طرف دیکھا جو پہلے ہی اسے کچھ سمجھا چکی تھی ۔۔۔
اتنی قیمت کیوں ادا کر رہے ہو اس لڑکی کے لیے ۔۔۔۔ نجمہ بائی نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
کیونکہ وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔ ہاشم نے چیک نکالا اور اس پر سائن کر دیئے ۔۔۔
کتنی قیمت چاہیے آپ کو ۔۔۔۔ خود ہی بتائیں ۔۔۔۔
نجمہ بائی مسکرائی ۔۔۔اب ہیرا ہے تو کروڑوں میں ہی ہو گا ناں ۔۔۔
ایک کروڑ چاہیے تمھیں ؟ انیلہ نے نجمہ سے کہا ۔۔۔
نجمہ کے لیے یہ بہت بڑی رقم تھی پر لالچ نے اس کی زبان کو ہاں کہنے سے روکا ۔۔۔
دو کروڑ چاہیے ۔۔۔ ہاشم کے الفاظ سن کر وہ مسکرائی ۔۔۔ اب بھی جواب ناں میں تھا ۔۔۔
پانچ کروڑ چاہیے ۔۔۔ اس بار اس کی زبان کو تالا لگ گیا تھا ۔۔۔
ہاشم نے چیک پر پانچ کروڑ لکھ کر چیک اس کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔
حور خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
چلیں یہاں سے ۔۔۔۔ ہاشم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا۔۔۔۔
حور جو نائدہ کے سہارے کھڑی تھی ہاشم کے ہاتھ بڑھانے پر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
خوش رہیئے حور بی بی ۔۔۔ نائدہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر کہا ۔۔۔
حور نے ہاشم کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
نائدہ اگر تم۔۔۔
حور میں خیال رکھوں گی اور اسے کھانا بھی مل جائے گا تم فکر مت کرو ۔۔۔انیلہ نے کہا ۔۔۔۔
حور نے نائدہ کی طرف دیکھا جو اس کے جانے پر خوش تھی ۔۔۔
ہاشم ریان کے سامنے حور کا ہاتھ پکڑے دروازے کی طرف بڑھا ۔۔۔
پورے کوٹھے پر آج یہ پہلی بار ہوا تھا سب لڑکیاں انہیں رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جو ہاتھ تھامے ان گلیوں سے نکل رہے تھے ۔۔۔۔
حور خوش بھی تھی اور پریشان بھی ۔۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ وہ کار کے قریب رک گئی اور پوچھا ۔۔۔
آپ کے گھر اور کہاں ۔۔۔ ہاشم نے بغیر دیکھے جواب دیا ۔۔۔۔
آپ نے مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے اتنی رقم لٹا دی ۔۔۔ کیوں ۔۔۔
ویسے ہی ۔۔۔ بیٹھیں کار میں، میں گھر چھوڑ دیتا ہوں آپ کو ۔۔۔۔
ویسے ہی کیوں ؟ یہ کوئی جواب نہیں ہے ۔۔۔ میں نے پوچھا آپ کو جواب دینا ہو گا ۔۔۔۔
آپ کو جواب مل جائے گا کبھی نہ کبھی ۔۔۔ ہاشم نے اسے کار میں بٹھا کر کہا اور خود ڈرائیور کرنے لگا ۔۔۔
راستہ بتاتی رہیں گھر کا ۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔ جب کہ حور کے اسے دیکھنے پر اس کے چہرے پر موجود پریشانی کے آثار حور کو نمایاں دکھائی دیئے تھے۔۔۔۔
حور نے اسے گھر کا پتا بتایا اور وہ خاموشی سے ڈرائیور کرتا رہا ۔۔۔۔
مغرب کا وقت ہو گیا تھا جب ہاشم نے کار اس کے گھر کے سامنے روکی ۔۔۔۔
حور جانے سے ڈر رہی تھی مگر ہاشم کار میں بیٹھا اس کے جانے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
حور کار سے اتری اور ڈور بیل بجائی ۔۔۔
مسلسل دو بار ڈور بیل بجانے پر بھی جب کوئی نہ آیا تو ہاشم کار سے اترا اور دروازے پر گاڑی کی چابی سے زور سے دستک دی ۔۔۔۔
حور کے بھائی نے دروازہ کھولا تھا ،
حور کہاں تھی تم ۔۔۔ وہ خوشی سے بولا ۔۔۔آئو۔۔۔اندر آئو۔۔۔۔
حور نے ہاشم کی طرف دیکھا جو جانے کے لیے واپس مڑا تھا ۔۔۔
وہ اسے ٹھیک سے شکریہ بھی نہیں کہہ سکی تھی کہ دروازے پر اس کی ماں آ گئی ۔۔۔
کیا کرنے آئی ہو اب تم یہاں ۔۔۔ بھاگ کر ہمارا منہ کالا کرنے آئی ہو ۔۔۔۔ وہ غصے سے بولی
کون ہے امی ۔۔۔ علیشاء بھی باہر نکل آئی تھی ۔۔۔
میں بھاگی نہیں تھی امی بس کریں ۔۔۔ حور رو پڑی ۔۔۔
تمھارے بولنے سے کیا ہو گا تمھارا مطلب امی جھوٹی ہیں ؟ نکلو یہاں سے تم۔۔۔ علیشاء نے اسے دھکا دے کر کہا ۔۔۔۔
ہاشم سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا سب دیکھ رہا تھا یہ حور کی مرضی ہی تھی جو یہاں آنا چاہتی تھی ۔۔۔
اتنے میں احد بھی آ گیا ۔۔۔
تم یہاں کیوں آئی کچھ باقی رہ گیا تھا کیا ۔۔۔۔ وہ بھی غصے سے پھٹ پڑا ۔۔۔
آس پاس سے شور سننے پر عورتیں اکھٹی ہو گئی تھی ۔۔۔
احد کی نظر کار پر پڑی اور پھر اس کے ساتھ کھڑے ہاشم پر ۔۔۔
سس۔۔سر۔۔۔ آپ یہاں ۔۔۔ اس کی بولتی بند ہوگئی تھی
ہاشم نے اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
یہ تو بھاگ گئی تھی پھر کہاں سے آ گئی ۔۔۔ اسے دھکے مار کر نکال دینا چاہیے ۔۔۔ ایک عورت آگے آئی اور اسے بازوں سے پکڑ کر پیچھے دھکا دیا ۔۔۔
میں نہیں بھاگی تھی احد میں سچ کہہ رہی ہوں میں نہیں بھاگی ۔۔۔
احد کبھی حور کو دیکھتا کبھی ہاشم کو ۔۔۔۔
ہماری شادی ہو گئی ہے میرے شوہر سے دور رہو ۔۔۔علیشء نے احد کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔
حور نے آنسوں سے بھیگی آنکھوں کو احد کی طرف موڑا ۔۔۔
اس جیسی لڑکی کو کوئی اپنا نہیں سکتا اس کا کردار خراب ہے پتھر مارنے چاہیے ایسی لڑکی کو ۔۔۔۔ ایک عورت نے نیچے سے پتھر اٹھا لیا ۔۔۔
رک جائو کوئی کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔ہاشم نے حور کے سامنے آ کر کہا ۔۔۔۔
تم کون ہوتے ہو ۔۔۔۔ اس منہوس لڑکی کی طرف داری کرنے والے یہ اپنانے کے لائق نہیں ہے پیدا ہو کر اپنی ماں کو کھا گئی پھر باپ کا سر کھا گئی منہوس ہے یہ ۔۔۔
بکواس بند کریں سب اپنی ۔۔۔۔ اپنی سوچ کو ٹھیک کریں آپ کی خود کی بیٹیاں ہوں گی حالات برے ہو سکتے ہیں مگر کسی لڑکی کو بد کردار کہنے کا حق آپ کو نہیں ہے ۔۔۔ اس لیے ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔۔
اس وقت صرف ہاشم ہی تھا جو اسے سمجھ رہا تھا اس کے اپنے تک اسے نہیں سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔ حور اسے دیکھ رہی تھی جو اس اکیلی کے لیے کھڑا سب سے لڑ رہا تھا ۔۔۔۔
تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس کا کردار اچھا ہے شادی سے پہلے یہ بھاگ گئی اور اب واپس آ گئی۔۔۔۔ کون اپنائے گا اسے ۔۔۔۔ کوئی نہیں ۔۔۔ جو اپنی شادی سے کسی کے ساتھ بھاگ سکتی ہے وہ کسی کی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔
میں کروں گا نکاح حور سے ، پوری دنیا کے سامنے کروں گا اپنا کر سب کا منہ بند کروں گا چلیں یہاں سے جہاں قدر نہیں وہاں نہیں رکنا چاہیے ۔۔۔ ہاشم اس کا ہاتھ پکڑ کر کار کی طرف بڑھا ۔۔۔
سر رکیئے مم میں سمجھاؤں گا سب کو سر ۔۔۔ احد بعد میں بے عزتی سے بچنے کے لیے سامنے آ گیا ۔۔۔
جا سکتے ہو تم ۔۔۔ ہاشم نے اسے دروازے کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔
سس۔۔سر ۔۔۔
بد کردار کون ہے جلد پتا چل جائے گا آپ کو حور یا آپ کی بیٹی ۔۔۔۔ ہاشم نے علیشاء کی طرف اشارہ کیا اور حور کی امی سے مخاطب ہوا ۔۔۔
علیشاء کا دل حلق میں آ گیا تھا ۔۔۔
سب جانتا ہوں پر کسی کی بیٹی پر بات کرنے کا حق میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو ہے جب آپ کی بیٹی کی سچائی سامنے آئے گی آپ کے آپ حور سے معافیاں مانگ رہی ہوں گی۔۔۔ ہاشم نے حور کو کار میں بٹھایا اور خود کار میں بیٹھ کر اتنا کہہ کر کار سٹارٹ کیے چلا گیا ۔۔۔
کیا مطلب تھا اس کا ۔۔۔۔ علیشاء کی امی نے علیشاء کی طرف دیکھا ۔۔۔
مم۔۔۔مجھے کک۔۔۔ کیا پتا امی ۔۔۔ ووہ مجھے بب۔۔برا کہہ کر گیا اووور آپ سب سنتے رہے ۔۔۔۔
احد نے اسے شکی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
کیا ؟ شک کریں گے آپ مجھ پر احد میں نے کک کچھ نہیں کیا ۔۔۔
احد بغیر کچھ بولے گھر میں چلا گیا اور علیشاء بھی اس کے پیچھے چلی گئی ۔۔۔
علیشاء کی امی کی بھی اچھی خاصی ہو گئی تھی دروازہ بند کر کے گھر میں گھس گئی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حور کار میں بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں تھی آپ کو یہاں آنے کی ۔۔۔
تو اور کہاں جاتی میں ۔۔۔ کچھ نہیں بچا اب مجھے یہیں چھوڑ دیں مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔۔۔
میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا اور اس وقت تو ہر گز نہیں ۔۔۔۔
میں کسی کے لائق نہیں ہوں مجھے جانے دیں پلیز ۔۔۔
خاموش رہو ۔۔۔
میرے گھر والے جب مجھے نہیں سمجھ رہے تو کہاں جائو گی میں مجھے مر جانا چاہیے ۔۔۔۔
سوچنا بھی مت ایسا ۔۔۔
ہاشم نے ایک بہت بڑے عالی شان بنگلے کے سامنے کار روکی ۔۔۔۔
اتریں ۔۔۔
وہ سیٹ بیلٹ ہٹا کر کار سے نکلتے ہوئے بولا
حور حیران و پریشاں بیٹھی تھی ۔۔۔
ہاشم نے اسے کار سے اتارا اور اسے لیے گھر میں اینٹر ہوا ۔۔۔
سب باہر آئیں ۔۔۔ وہ لائونچ میں آ کر بولا ۔۔۔۔
ایک منٹ میں گھر کے سب میمبرز لائونچ میں آ گئے تھے ۔۔۔
سب حیرانی سے اسے اور حور کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
یہ کون ہے بیٹا ۔۔۔ ہاشم کی امی( بیگم فرذانہ) نے کہا
دانش قازی صاحب کو بلائو ۔۔۔
کیا کیوں بھیا ۔۔۔ دانش کا منہ کھل گیا تھا ۔۔۔
ان سے کہو نکاح کرانا ہے ۔۔۔
حور نے حیرانی سے ہاشم کی طرف دیکھا۔۔۔۔
کیا نکاح کس کا نکاح ۔۔۔ ہاشم کی امی نے چونک کر اسے دیکھا
آپ کے سامنے کھڑی ہے ۔۔۔ ہاشم نے حور کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔
حور حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
مگر بیٹا ۔۔۔ اور یہ کون ہے اور اچانک سے ۔۔۔
کم آن مماں دیکھیں ناں بھائی فلمی سین کر رہے ہیں مزہ آئے گا موسٹ ویلکم بھابھی ۔۔۔ اریبہ (ہاشم کی بہن) نے ہاشم کی ہمیشہ کی طرح طرف داری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
تم چپ کرو ۔۔۔ ہاشم کی چچی روبینہ نے اسے سر میں تھپڑ مارا ۔۔۔۔
حور حیران کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اتنے میں دانش آ گیا ۔۔۔
بھائی آ رہے ہیں قاضی صاحب ۔۔۔ کچھ دیر میں ۔۔۔
آئیں بھابھی میں آپ کو تیار کر دوں ۔۔۔ اریبہ نے حور کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔
نہیں مجھے نہیں آنا ۔۔۔ حور نے ہاتھ چھڑا لیا ۔۔۔ اور ڈر کر ہاشم کو دیکھنے لگی ۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔
آپ کے سامنے ہے سب کچھ جو کر رہا ہوں۔۔۔ کل جب آپ میرے ساتھ اپنی گھر جائیں گی رسم کے لیے تو سب کو پتا چل جائے گا۔۔۔
پر ۔۔۔
چلیں بھابھی ۔۔۔ اریبہ اسے زبردستی ایک کمرے میں لے گئی ۔۔۔
ہاشم بیٹا کیا ہوا ہے یہ سب اچانک سے کیوں کر رہے ہو ۔۔۔
امی جان اتنا سمجھ لیجئے مجھے جس سے محبت ہے اس سے نکاح کر رہا ہوں ۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر اس کی امی مسکرائی ۔۔۔
ہمیں تو بتا دیا ہوتا ایک بار کیا ہم۔تمھاری پسند کو نظر انداز کر دیتے دھوم دھام سے شادی کرتے سب کو بلاتے ۔۔۔
نہیں امی جان فالتو میں ان سب کی ضرورت ہی نہیں بلکہ سادگی سے ہی ہو گا حور کو بھی اچھا لگے گا میں نہیں چاہتا ان سب باتوں میں سٹینڈرڈ کو لے کر بحث ہو ۔۔۔۔
بھائی قاضی صاحب آ گئے ہیں ۔۔۔
اتنے میں اریبہ بھی حور کو لے کر آ گئی ۔۔۔
اریبہ نے اس کے چہرے پر لائٹ میک اپ کیا تھا جس نے اس کے حسن میں اضافہ کر دیا تھا۔۔۔۔ اور گولڈن لہنگے میں وہ اس قدر حسیں لگ رہی تھی کہ ہاشم کی نظریں اسی پر ٹھہر گئی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: