Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 5

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 5

–**–**–

🌹🌹🌹🌹🌹🌹نکاح اسپیشل ایپیسوڈ 🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حور پریشان کھڑی تھی آخر ہاشم کر کیا رہے ہیں کیوں کر رہے ہیں وہ ایسا وہ ڈر کے مارے جیسے پاگل ہو رہی تھی
ہاشم اسے پریشان دیکھ کر اس کے پاس کھڑا ہو گیا
کیا ہوا کیوں پریشان ہو رہی ہیں آپ ۔۔۔۔ ہاشم نے ہلکی سرگوشی میں کہا
حور نے خفگی سے اسے دیکھا
بتائیے ۔۔۔
حور اسے ایک طرف لے آئی ۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آخر آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ، کیا صرف اسی لیے کہ آپ نے ان سے جزبات میں بہہ کر کہ ڈالا کہ آپ مجھے اپنائیں گے اور اگر یہی بات ہے تو آپ کو مجھ سے نکاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔حور اس پر برس پڑی
بے شک میں نے ان سے کہا تھا پر کوئی اور وجہ بھی ہے ۔۔۔ ہاشم نے جوابی کارروائی کی۔۔۔۔
کیسی وجہ ۔۔۔حور نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
پہلے نکاح کر لیں قازی صاحب کو انتظار کرانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ وہ اس وقت کھسکنے کے موڈ میں تھا مگر حور نے اسے روک لیا ۔۔۔
مجھے جواب دیں ۔۔۔ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
نکاح کے بعد بتا دوں گا آپ نے پہلے ہی ناں کر دیا تو مجھ پر کیا گزرے گی ۔۔۔ وہ معصومیت سے بولا۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔ حور نے اسے گھورا ۔۔۔
بتا دوں گا سب انتظار کر رہے ہیں چلیئے ۔۔۔
میں بول دوں گی مجھے قبول نہیں ہے ۔۔۔ مجھے بتائے بغیر آپ نہیں جا سکتے ۔۔۔
میں صرف اپنی محبت کو حاصل کر رہا ہوں ۔۔۔کہہ کر اس نے حور کا ہاتھ پکڑ لیا اور لائونچ میں آ گیا ۔۔۔
حور اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی جس نے بلا جھجک سب کہہ ڈالا تھا
وہاں ہاشم اس کشمش میں تھا کہ حور کیا کہے گی ہاں یا ناں ، ہاں میں اسے نا صرف نکاح قبول ہو گا بلکہ ہاشم کی محبت بھی جب کہ ناں میں جواب ناں تھا ہاشم پریشانی میں مبتلا ہو چکا تھا ۔۔۔
اریبہ نے حور کو صوفے پر بٹھایا اور ہاشم دوسری طرف بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
سب گھر والے حیران و پریشاں کھڑے تھے ۔۔۔
نکاح شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ حور اپنے پلو کو ہاتھ میں مسل رہی تھی ۔۔۔
حور بنتِ عبداللہ آپ کا نکاح ہاشم خان ولد راشد خان حق مہر دس لاکھ روپے طے پایا ، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔
حور کے پاس سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا اس نے خود کو بہت بڑی کشمکش میں پایا تھا ایک طرف احد تھا جس نے بغیر اس کی سنے نہ صرف علیشاء سے شادی کر لی تھی بلکہ اسے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا تھا دوسری طرف ہاشم تھا جس نے اس کے لیے سب سے لڑائی کی تھی اور اس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا تھا اور اپنی محبت کا اظہار بھی کر چکا تھا
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔ قازی صاحب نے جواب نہ ملنے پر پھر سے الفاظ دہرائے ۔۔۔
حور صحیح غلط کی کشمکش میں بری طرح پھنس چکی تھی ۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔ قازی صاحب نے تیسری بار پوچھا اور وہ بت بنے بیٹھی تھی ۔۔۔
سب گھر والے پریشان کھڑے تھے آخر یہ کیا ماجرہ ہے ۔۔۔
ہاشم سمجھ گیا تھا حور نہیں چاہتی یہ نکاح ہو وہ اٹھنے ہی والا تھا ۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔
کے الفاظ اس کے کانوں میں سنائی پڑے ۔۔۔۔
ہاشم خان کیا آپ کو حور بنتِ عبداللہ حق مہر دس لاکھ روپے اپنے نکاح میں قبول ہے ۔۔۔۔
ہاشم نے حور کی طرف دیکھا جو اس وقت پریشانی کے عالم میں گم سم بیٹھی تھی اس کے ہاتھ تھر تھر کانپ رہے تھے ۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔
کے ساتھ ہی سب نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
قازی صاحب کے جانے کے بعد سب فیملی کی طرف سے دونوں کو مبارکباد پیش کی گئی ۔۔۔
حور بے حد ڈری ہوئی تھی ۔۔۔۔سب ہوا ہی اتنا اچانک سے تھا کہ اسے وقت ہی نہیں ملا تھا ۔۔۔
دوسری طرف رمشہ ہاشم کے نکاح کی خبر اریبہ سے سن کر دوڑتی ہوئی آئی تھی ۔۔۔
سامنے حور اور ہاشم کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگا تھا ۔۔۔
صحیح وقت پر آئی ہو رمشو۔۔۔۔ چلو ابھی سب باہر ہیں ہم بھائی کا کمرہ ڈیکوریٹ کر دیتی ہیں دراصل سب اتنے اچانک سے ہوا کہ مجھے ٹائم ہی نہیں ملا ۔۔۔
رمشہ غصے سے حور کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
چل ناں ۔۔۔ اریبہ نے اسے کھینچا اور ہاشم کے کمرے میں لے گئی۔۔۔۔
یہ لو پھول ان کی پیٹلز بیڈ پر بکھیر دو میں کینڈلز لگاتی ہوں ۔۔۔ اریبہ نے اس کے ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری تھما دی ۔۔۔
رمشہ نے ٹوکری لے لی اور غصے سے پھولوں پر سے کلیاں کھینچنے لگی اور بیڈ پر ڈالنے لگی ۔۔۔
ہاشم صرف میرا تھا اس لڑکی نے مجھ سے ہاشم کو چھین کر اچھا نہیں کیا ، اسے سزا ملے گی جان لے لوں گی اس کی ۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑائی تھی ۔۔۔
ہاشم پر اس کی ہر ایک چیز پر میرا حق تھا تم نے ہمارے بیچ میں آ کر اچھا نہیں کیا ۔۔۔ یہ حق میرا تھا ۔۔۔ وہ بیڈ پر ہاتھ پھیر رہی تھی جب اریبہ نے اسے دیکھا ۔۔۔
جلدی سے کرو ناں بھائی اور بھابھی آتے ہی ہوں گے ۔۔
رمشہ نے زور سے پھول سے کلیاں ادھوڑی ، اور اس کے ہاتھ میں کانٹا چبھا ۔۔۔۔
اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی تو ہوتے ہیں ۔۔۔ دیکھتی ہوں کیسے سکون سے سوتے ہیں دونوں ۔۔۔ وہ انگلی سے کانٹا نکال کر مسکرائی ۔۔۔
اب پھولوں کے ساتھ وہ کانٹے بھی بیڈ پر ڈالنے لگی ۔۔۔
کانٹے ڈالنے کے بعد اس نے ان پر کلیاں بچھا دی تھی ۔۔۔
ہو گیا کیا اب یہ بچی ہوئی کلیاں مجھے دو تم یہ کینڈلز جلا دو ۔۔۔ اریبہ نے اس کے ہاتھ میں لائٹر تھما دیا اور کلیاں اٹھا کر باہر چلی گئی اور دروازے کے باہر کلیاں ڈال کر راستہ سجانے لگی ۔۔۔۔
پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا دل کرتا ہے تمھیں حور ۔۔۔ اور ایسا ہی ہو گا تمھیں جلا کر اذیت ناک موت دوں گی ۔۔۔ وہ لائٹر جلا کر مسکرائی اور کینڈلز جلانے لگی ۔۔۔
چلو ہو گیا اب چلتے ہیں باہر پوری فیملی مزے کر رہی ہے ہم بھی چلتی ہیں ۔۔۔ بھابھی سے ملو تم بھی ۔۔۔ اریبہ کمرے میں آ کر رمشہ سے مخاطب ہوئی
نہیں نہیں مجھے گھر جانا ہے میں کل آ کر ملوں گی حور سے ۔۔۔
ارے ایٹ لیسٹ بھائی کو مبارک تو دے دو سر ہیں تمھارے اور تمھاری دوست کے بھائی بھی آئی ہو ایسے چلی جائو گی مزہ نہیں آئے گا ناں اور مٹھائی کھائے بغیر میں تمھیں جانے ہی نہیں دوں گی ۔۔۔ کہہ کر وہ اسے لائونچ میں لے آئی جہاں پوری فیملی بیٹھی گپیں لگا رہی تھی ۔۔۔۔
سبھی دیکھو ۔۔۔ رمشہ آئی ہے ۔۔۔ اریبہ نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا ۔۔۔
رمشہ پھیکی سی مسکراہٹ سجائے نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔
مبارک ہو سر ۔۔۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر بولی تھی ۔۔۔۔
ہاشم نے بحثیت سر کے مبارک باد لے کر آگے کچھ نہ کہا جب کہ رمشہ اسے اور حور کو گھورتی رہی۔۔۔
مٹھائی لو ناں بیٹا تمھارے سر کا نکاح ہوا ہے ۔۔۔ ہاشم کی امی نے اس کی طرف مٹھائی کا ڈبہ بڑھایا ۔۔۔
نہیں آنٹی رہنے دیں مجھے نہیں لینی ۔۔۔۔ وہ دو قدم پیچھے ہو کر بولی ۔۔۔۔
لے لو ناں اریبہ کے بھائی تمھارے بھی بھائی ہی ہوئے اور ویسے بھی تم اس کی بہت اچھی دوست ہو مٹھائی تو کھانی ہو گی تمھیں ۔۔۔ ہاشم کی چچی جان نے کہا ۔۔۔
رمشہ کو کرنٹ سا لگا ۔۔۔ بھائی مائی فوٹ۔۔۔ وہ دل میں بولی ۔۔۔ اب اس کی برداشت کی حد جواب دے گئی ۔۔۔
میں چلتی ہوں مجھے کام ہیں گھر پر ۔۔۔
یہ مٹھائی لیتی جائو گھر پر سب کو کھلا دینا ۔۔۔ اریبہ نے اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھما دیا ۔۔۔اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی لے کر باہر نکلی اور کار میں پھینک کر گھر کی طرف روانہ ہو گئی ۔۔۔۔
تمھیں پچھتانا پڑے گا حور تم نے ہاشم کو مجھ سے چھین کر اچھا نہیں کیا ، تمھارا وہ حال کروں گی تم یاد رکھو گی اور آئندہ میرے اور ہاشم کے بیچ آنے کی جرات نہیں کرو گی ۔۔۔ وہ ڈرائیو کرتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

جان چھوڑ دیں اب اس دوپٹے کی ۔۔۔ ہاشم نے اس کے ہاتھ سے دوپٹے کا پلو نکالا جو وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ہاتھ میں الجھائے مسل رہی تھی
حور نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا
ڈرنا بند کریں میں وہی بندہ ہوں کوئی جن بھوت نہیں ہوں ۔۔۔
تت۔۔۔تو میں نے کیا کک کہا آپ کون ہیں ۔۔۔ وہ بے رخی سے بولی ۔۔۔۔
ڈر رہی ہیں آپ تو بلا وجہ ۔۔۔۔ میں بھی انسان ہی ہوں ۔۔۔
کیا باتیں چل رہی ہیں بھیا بھابھی ۔۔۔ اریبہ نے دونوں کی بات کاٹ ڈالی ۔۔۔
دونوں خاموش ہو گئے ۔۔۔
چلو بیٹا تھک گئے ہو گے دونوں گیارہ بج رہے ہیں آرام کرو جا کر ۔۔۔۔ ہاشم کی امی ( فرذانہ بیگم نے کہا)
حور کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔
ہاشم اٹھا تو مجبوراً حور کو بھی اٹھنا پڑا ۔۔۔
ہاشم نے حور کو آگے چلنے کا اشارہ کیا تو وہ ڈرتی ہوئی آگے چلنے لگی ۔۔۔
دونوں دروازے تک ہی گئے ہوں گے کہ اریبہ نے ان کو ٹوکا ۔۔۔
رکیں کوئی اندر نہیں جائے گا ۔۔۔ وہ دروازے کے آگے کھڑی ہو گئی اور بولی
اب یہ کونسا نیا ڈرامہ ہے ۔۔۔۔ ہاشم منہ بنا کر بولا
اتنی محنت سے کمرہ سجایا ہے بھائی کچھ دیں گے تو جانے دوں گی ۔۔۔
حور کو پسینے چھوٹ پڑے تھے۔۔۔
کس نے کہا تمھیں یہ سب کرنے کو۔۔۔ ہاشم حور کو پریشان دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
اب میں نے مکمل ساتھ دیا ہے آپ کا بھائی سب پہلے ہی ریڈی رکھا تھا آپ نے مجھے ایک بار کہا میں مان گئی یہ میں نے خود سے کر دیا تو کیا ہو گیا ۔۔۔
ہاشم نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔
ارے کرنا تو تھا اب کر دیا چلو نکالو پیسے اور جائو پھر ۔۔۔
یہ سب فالتو ہے ۔۔۔ ہاشم بھڑک پڑا ۔۔۔
پھر آپ گیسٹ روم میں سو جائیں ۔۔۔ بھابھی آپ میرے ساتھ آئیں ۔۔۔ اریبہ چالاکی سے بولی تھی۔۔۔
اوکے لے جائو بھابھی کو ۔۔۔ ہاشم نے لا پرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
حور نے اسے گھورا ۔۔۔۔
ارے جانے دو کیوں تنگ کر رہی ہو دونوں کو ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے کہا ۔۔۔۔
مماں پیسے تو دینے پڑیں گے ان کو ۔۔۔ ورنہ میں نے نہیں جانے دینا ۔۔۔۔
کتنے پیسے چاہیے ۔۔۔۔ ایک سکہ بہت ہے ۔۔۔ ہاشم نے اسے چھیڑا ۔۔۔۔
مماں ۔۔۔ وہ منمنائی ۔۔۔۔
اب دے دو جتنے چاہئے اسے ورنہ نہیں جانے دے گی ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے ہاشم سے کہا
یہ پکڑو چیک جتنے چاہئے لکھ کر لے لینا ۔۔۔
اریبہ نے جلدی سے چیک کھینچا ۔۔۔ ارے واہ مزے ۔۔۔
کتنی زیرو لگائوں ایک کے ساتھ بھائی ۔۔۔ وہ ہاشم کو چھیڑنے لگی ۔۔۔۔
سائن تو میں نے ہی کرنے ہیں جائو نکلو اب لے جائو ۔۔۔۔
اریبہ مسکراتی ہوئی چلی گئی اور اس کے ساتھ فرذانہ بیگم بھی چلی گئی ۔۔۔
حور نے دروازہ کھولا تو کمرے کی لائٹس آف تھی وہ اندھیرا دیکھ کر پیچھے ہٹی ۔۔۔
ہاشم اندر اینٹر ہوا اور لائٹس آن کر دی ۔۔۔
پورے کمرے کو سجا دیکھ کر ایک بات پھر حور گھبرائی ۔۔۔۔
سو جائیں ۔ ہاشم واچ اتارتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
حور نے اسے چونک کر دیکھا ۔۔۔
وہ کوٹ اتارتا ہوا کپڑے لے کر چینج کرنے چلا گیا ۔۔۔ حور سہمی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔
وہ باہر آیا تو حور کو صوفے پر بیٹھے دیکھا ۔۔۔
وہ آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
حور کو پسینے چھوٹ رہے تھے ۔۔۔
سب اچانک سے ہو گیا آپ کو ٹائم ہی نہیں مل سکا شاید اس لیے پریشان ہیں آپ ۔۔۔
حور نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔
اور کیا کرتا آپ ہی بتائیں مجھے ، ایک طرف ان سب کو دکھانا تھا کہ کہ وہ احد آپ کے لائق نہیں ہے ، اور آپ کا کردار بالکل صاف ہے اور دوسری طرف وہ بولتے ہوئے چپ ہو گیا۔۔۔۔۔
آپ نے اس لیے مجھے وہاں سے نکالا ، میں سوچ رہی تھی آپ بغیر مطلب کے یہ سب کر رہے ہیں پر میں غلط تھی ۔۔۔
کیسا مطلب ؟ میں نے سب کے سامنے نکاح کیا ہے آپ سے یہ مطلب نہیں ہے ۔۔۔
آپ اِسے پیار کا نام نہیں دے سکتے ۔۔۔ وہ بے رخی سے بولی ۔۔۔۔
آپ کو جو لگتا ہے لگنے دیں ۔۔۔ میرا کوئی مطلب نہیں تھا ان سب کے پیچھے ۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھا اور ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر کمرے سے چلا گیا ۔۔۔
حور صوفے پر ہی لیٹ گئی اور وہیں سو گئی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

صبح ہوتے ہی ہاشم گیسٹ روم سے نکلا وہ نہیں چاہتا تھا کوئی اسے وہاں دیکھے اپنے کمرے میں آیا حور صوفے پر سو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ کپڑے لے کر فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
باہر آیا ، ابھی تک حور نہیں اٹھی تھی ۔۔۔۔
وہ کافی دیر اس کے اٹھنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں اٹھ رہی تھی ۔۔۔
اس نے صوفے کی طرف قدم بڑھائے تو حور کی باتیں سن کر وہیں رک گیا ۔۔۔
حور ۔۔۔ اٹھو ۔۔۔ وہ وہیں کھڑا بولا ۔۔۔
مگر وہ ذرا بھی نہ ہلی ۔۔۔
حور اٹھو ۔۔۔
وہ تو ایسے سوئی تھی جیسے صدیوں کی نیند پوری کر رہی تھی۔۔۔
حور اٹھو ۔۔۔اس بار ہاشم نے اس کے کندھے کو ہلکا سا ہلایا ۔۔۔
وہ ویسے کی ویسے سو رہی تھی ۔۔۔
حور کیا ہوا ۔۔۔ اٹھو ۔۔۔ اس کے گال تھپتھائے ۔۔۔
یہ چہرہ اتنا گرم کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔ اس نے ہاتھ ہٹا کر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹیمپریچر دیکھا ۔۔۔
وہ بخار میں جل رہی تھی ۔۔۔۔
حور اٹھو ہوش میں آئو۔۔۔اسے جھنجھوڑا بھی لیکن وہ بے ہوش تھی ۔۔۔
ہاشم نے جلدی سے فیملی ڈاکٹر کا نمبر ڈائل کیا ۔۔۔۔
ڈاکٹر کچھ دیر میں آ گیا ۔۔۔
ڈائننگٹیبل پر بیٹھے سب گھر والے ڈاکٹر کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے تھے
ڈاکٹر ہاشم کے کمرے کی طرف بڑھا تو سبھی پیچھے پیچھے آ گئے تھے کہ رات تک تو سب ٹھیک تھا اچانک کیا ہو گیا ۔۔۔
ڈاکٹر نے حور کا معائنہ کیا ۔۔۔
بہت تیز بخار ہے ، اور ویکنیس بھی ہے ایسے لگ رہا ہے کافی دنوں سے کھانا نہیں کھایا کمزوری کی وجہ سے بخار ہو گیا ۔۔۔
انہیں کچھ کھلائیں اس کے بعد دوائی دے دیں اور خیال رکھیں ۔۔۔
ڈاکٹر دوائی دے کر چلا گیا ۔۔۔
کیا ہوا ہے بھابھی کو اچانک سے ۔۔۔۔ اریبہ نے پوچھا ۔۔۔
ہاشم رات والی بات سے اریبہ سے پہلے ہی غصہ تھا آخر وہ اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہے اور حور کی وجہ سے بھی پریشان تھا ۔۔۔۔
بتائیے بھائی کیا ہوا ۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ سب جائیں پریشانی کی بات نہیں ہے حور ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ہاشم اریبہ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
سبھی جانے لگے تو اریبہ بھی جانے لگی ۔۔۔
تم رکو ۔۔۔
وہ یکدم رکی ۔۔۔
اتنی لاپرواہی ، تم سے میں نے نہیں کہا تھا یہ سب کرنے کے لیے تم نے اپنی مرضی سے کیا اگر کچھ ہو جاتا اندازہ بھی ہے تمھیں ۔۔وہ غصہ اریبہ پر اتارنے لگا ۔۔۔۔
کیا ہو گیا بھائی ۔۔۔اس بیچاری کو کیا پتا تھا ۔۔۔
یہاں بیڈ پر پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی بچھا دیئے تم نے بچی نہیں ہو تم اریبہ ۔۔۔۔
کیا میں نے ۔۔۔اریبہ حیران ہوئی تب اسے رمشہ کا خیال آیا ۔۔۔
بھائی وہ میں نے نہیں کیا وہ تو ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: