Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 6

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 6

–**–**–

بھائی وہ میں نے نہیں کیا وہ تو ۔۔۔
حور کو اٹھتے دیکھ کر ہاشم اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو ناں ۔۔۔ اٹھو مت لیٹی رہو ۔۔۔ ہاشم اس کی کیئر کر رہا تھا اور وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
پوچھتی ہوں رمشہ سے میں ۔۔۔کہہ کر اریبہ باہر چلی گئی۔۔۔۔
مجھے اٹھنا ہے ۔۔۔
ہاشم نے اسے سہارہ دینا چاہا مگر حور نے اس کا ہاتھ ہٹا لیا اور خود اٹھنے لگی ۔۔۔۔
مگر وہ خود اٹھ ہی نہیں سکتی تھی اسے چکر آ رہے تھے ۔۔۔
ہاشم پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔
خود نہیں اٹھ سکتی آپ ، اتنا بھی برا نہیں ہوں جتنا سمجھ رہی ہو مجھے ۔۔۔
مجھے کسی کی ہیلپ نہیں چاہیے ۔۔۔۔ وہ خود مشکل سے اٹھی ۔۔۔
ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔ ہاشم کمرے سے چلا گیا ۔۔۔
اریبہ ۔۔۔ وہ کمرے سے نکلا ہی تھا کہ حور نے اریبہ کو آواز دی ۔۔۔
ہاشم اریبہ کے پاس گیا ۔۔۔
میں آفس جا رہا ہوں حور کے پاس رہنا اسے کچھ چاہیے تو دے دینا ایک کام کرو کچن سے ناشتہ لو اسے کھلا دو اور دوائی دے دینا ۔۔۔۔
میں ؟ پر وہ آپ کی بیوی ہے یہ سب آپ کو کرنا چاہیے ۔۔۔
میں اتنا اچھا نہیں ہوں ۔۔۔ کہہ کر وہ چلا گیا ۔۔۔
کیا ۔۔۔ لگتا ہے لڑائی ہوئی ہے ۔۔۔ وہ کندھے اچکاتے ہوئے اٹھی اور حور کے پاس چلی گئی ۔۔۔
مجھے چینج کرنا ہے اریبہ ،۔۔۔۔
ہاں بھابھی میں ڈریس لے آتی ہوں پھر بعد میں آپ کے لیے شاپنگ کر لیں گے بہرحال آپ میرا ڈریس لے لیں ۔۔۔
وہ جان بوجھ کر بلیک ڈریس لے آئی تھی جو ہاشم کا فیورٹ کلر تھا ۔۔۔
حور اٹھی اور ڈریس لے کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔
فریش ہونے کے بعد وہ کافی اچھا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
بھابھی پہلے ناشتہ کر لیں پھر کنگھا کر لینا ویسے بھی آپ کو ایک گھنٹہ لگے گا کنگھا کرنے میں اتنے لمبے بالوں میں ۔۔۔وہ ناشتے کی ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
حور نے ناشتہ شروع کیا تو ہاشم کا سوچ کر رک گئی ۔۔۔
ہاشم کہاں ہے ۔۔۔۔
بھائی آفس چلے گئے ۔۔۔
کیا ناشتہ کیا انہوں نے ۔۔۔
نہیں بھائی نے ناشتہ نہیں کیا ۔۔۔ وہ ناراض سے لگ رہے تھے بس اتنا کہہ کر چلے گئے کہ آپ کو ناشتہ کرا دوں اور دوائی دے دوں آپ کا خیال رکھوں ۔۔۔۔
حور نے ٹرے کو سامنے سے ہٹا لیا ۔۔۔
بھابھی ناشتہ کر لیں بھائی بہت ڈانٹیں گے مجھے ورنہ ۔۔۔۔
ابھی کال کرو انہیں اور میری بات کرائو ۔۔۔
اریبہ نے ہاشم کا نمبر ملایا ۔۔۔
وہ اس وقت میٹنگ میں جا رہا تھا جب کال آئی ۔۔
اس نے کال ریجیکٹ کر دی ۔۔۔
بھائی فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔ شاید کام میں بزی ہوں گے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کر کے دیکھنا اور یہ لے جائو مجھے نہیں کرنا ۔۔۔۔
اریبہ نے ٹرے اٹھا لی ۔۔۔
دونوں عجیب ہیں ایک دوسرے کے پیچھے پیار جتا رہے ہیں حد ہے ۔۔۔ اریبہ ٹرے لیے باہر نکل گئی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

سر یہ فائل چاہیے تھی آپ کو ۔۔۔رمشہ فائل لیے اندر آئی جہاں ہاشم گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے بیٹھا تھا ۔۔۔
ہممم۔۔۔یہی ہے یہاں رکھ دو ۔۔۔
سر کوئی پریشانی ہے ؟ آپ سٹریسڈ لگ رہے ہیں ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔۔
میں کوفی لے آتی ہوں آپ کی ایک منٹ ۔۔۔
نہیں رہنے دیں میں نے ناشتہ نہیں کیا کوفی نہیں چاہیے ابھی ۔۔۔
کیا سر آپ نے ناشتہ نہیں کیا کیوں ؟ میں لے آتی ہوں ۔۔۔
نہیں اٹس اوکے رہنے دیں میں کر لوں گا بعد میں ۔۔۔۔
ایسے کیسے بس ایک منٹ میں لے آتی ہوں ۔۔۔کہہ کر وہ باہر چلی گئی اور کچھ دیر بعد وہ ناشتے کے ساتھ کوفی لیے اندر آئی۔۔۔
ٹیبل پر سب رکھ دیا۔۔۔
کھا لیں سر مجھے تعجب ہوا حور کو خیال رکھنا چاہیے آپکا ۔۔۔ بغیر ناشتہ کروائے بھیج دیا آپ کو آفس ۔۔۔ حد ہے کتنی لاپرواہ ہے۔۔۔۔
ہاشم نے کوئی جواب نہ دیا ہاتھ بڑھا کر ناشتہ کرنے ہی والا تھا کہ اریبہ کا فون آنے پر رکا ۔۔۔
آپ کھائیں ناشتہ میں بات کر لیتی ہوں ۔۔۔ رمشہ نے فون اٹھا لیا ۔۔۔۔
ہاشم ناشتہ کرنے لگا اور رمشہ ایک سائیڈ ہو کر فون سننے لگی ۔۔۔
سوری ، میں نے کچھ زیادہ ہی بد تمیزی کر دی میں نے ناشتہ نہیں کیا آپ واپس آ جائیں ، اگر آپ نہیں آئے تو میں ناشتہ نہیں کروں گی اور نہ ہی دوائی لوں گی ۔۔۔
حور کی آواز سن کر رمشہ مسکرائی ۔۔۔۔ اور فون کاٹ دیا ۔۔۔
رمشہ نے فون ہاشم کے ساتھ رکھ دیا۔۔۔
اریبہ کہہ رہی تھی حور نے ناشتہ کر لیا آپ بھی کر لیں ۔۔۔
ہاشم یہ سن کر تھوڑا اداس ہوا مگر پھر ناشتہ کرنے لگا
سر ایک بات کہوں آپ سے ۔۔۔ کیا آپ کو لگتا ہے آپ نے حور نے نکاح کر کے ٹھیک کیا ۔۔۔
ہاشم رکا اور اس کے سوال پر اسے گھورا ۔۔۔۔
آئی مین کہ وہ آپ کی کیئر نہیں کرتی تو۔۔۔
آپ ان سب باتوں میں آ کر خود کا ٹائم ویسٹ کر رہی ہیں ۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھا اور باہر چلا گیا ۔۔۔
رمشہ مسکرائی اور ناشتے کی ٹرے لیے چلی گئی ۔۔۔
کیا ہوا بھابھی بات ہوئی بھائی سے آپ کی ۔۔۔ اریبہ نے حور کو اداس دیکھا تو پوچھا
نہیں کاٹ دیا انہوں نے سن کر ۔۔۔یہ لو فون۔۔۔ حور نے اس کی طرف فون بڑھا دیا
شاید بزی ہوں گے ۔۔
حور نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔
بھابھی آپ تو کر لیں ناشتہ دوائی لینی ہے آپ نے طبعیت بگڑ جائے گی۔۔۔
مجھے نہیں کرنا ۔۔۔۔ حور بیزاری سے بولی ۔۔۔
اریبہ فون لے کر چلی گئی۔۔۔
حور واپس آ کر لیٹ گئی ۔۔۔
اتنی بھی کیا ناراضگی ، معافی مانگی پھر بھی کاٹ دیا ۔۔۔ وہ لیٹ کر سوچنے لگی ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ہاشم آفس سے نکل ہی رہا تھا جب باہر احد مل گیا
سر سر ۔۔۔ وہ ہاشم کو دیکھ کر دوڑ کر آیا ۔۔۔
ہاشم بھی رک گیا تھا
سر حور کیسی ہے اور وہ کہاں ہے میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ شاید میں نے۔۔۔
تم میری وائف سے کیوں بات کرنا چاہتے ہو ۔۔۔
احد کے ہوش اڑ گئے ۔۔۔ کیا سر ۔۔۔
بتانا بھول گیا آئی تھنک تمھیں کل نکاح ہوا ہمارا ۔۔۔
آج تو نہیں آ پائے ہم رسم کے لیے پر کل ضرور آئیں گے ۔۔۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا اور پھر کار میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔
احد حیران کھڑا تھا۔۔۔
ہاشم راستے میں ہی تھا کہ روڈ پر رمشہ کو دیکھ کر کار روکی ۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں اس وقت ۔۔۔ وہ کار سے اترا ۔۔۔
کار خراب ہو گئی سر بس جا ہی رہی ہوں کوئی گاڑی نہیں مل رہی ۔۔۔
چلیں میں چھوڑ دیتا ہوں گھر آپ کو ۔۔۔۔
نہیں سر میں نے اپنی فرینڈ کو کال کی تھی گھر مماں نہیں ہیں تو میں اس کے گھر جا رہی ہوں ایک گھنٹا ہو گیا پتا نہیں ابھی تک نہیں آئی ۔۔۔
موسم خراب ہے بارش ہونے والی ہے چلیں آپ اریبہ کے ساتھ رک جانا آج ۔۔۔
تھینک یو سو مچ سر ۔۔۔ وہ آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
ہاشم کار میں آ کر بیٹھا اور کار سٹارٹ کر دی
ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی ۔۔۔
کافی لیٹ ہو گئے آپ سر سوری میری وجہ سے ۔۔۔ رمشہ نے بات شروع کی
آپ کی وجہ سے نہیں آفس میں کام تھا اس لیے ۔۔۔
حور ناراض ہو گی آپ لیٹ ہو گئے ۔۔۔ اس نے جان بوجھ کر حور کا نام لیا ۔۔۔
ہاشم خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔
سر حور کی فیملی کہاں رہتی ہے ۔۔۔
احد کو جانتی ہوں گی آپ جس کی ریسینٹلی شادی ہوئی ہے ۔۔۔
جی سر جانتی ہوں ۔۔۔
حور کی سسٹر سے ۔۔۔
اوہ۔۔۔ صحیح ۔۔۔ رمشہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
ہاشم نے گھر کے سامنے کار روکی ۔۔۔
دونوں ساتھ ہی اترے تھے اور ساتھ ہی اندر اینٹر ہوئے تھے ۔۔۔
حور فرذانہ بیگم کے ساتھ لائونچ میں بیٹھی تھی جب دونوں اندر اینٹر ہوئے۔۔۔
کہاں تھے بیٹا اتنی دیر لگا دی حور کب سے انتظار کر رہی ہے تمھارا ۔۔۔ فرذانہ بیگم نے اسے ڈانٹ لگائی ۔۔۔
وہ آنٹی مجھے پک کیا اور لیٹ ہو گئے میری کار خراب ہو گئی تھی ۔۔۔ رمشہ نے اسے بولنے ہی نہ دیا ۔۔۔
اوہ ۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں آج یہیں رک رہی ہو کیا؟
جی آنٹی میں تو راستے پر کھڑی ہوتی اگر ہاشم سر ہیلپ نہ کرتے ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں جائو اریبہ کمرے میں ہی ہو گی ۔۔۔
جی آنٹی ۔۔۔ تھینکس ہاشم سر ۔۔۔ کہہ کر وہ مسکراتی ہوئی اریبہ کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
حور اٹھی اور کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔
ہاشم اس کے پیچھے جا رہا تھا کہ فرذانہ بیگم نے اسے بلایا
جی امی ۔۔۔
صبح سے کچھ نہیں کھایا حور نے تمھارا انتظار کرتی رہی جا کر کچھ کھلا دو اور دوائی بھی دے دینا ۔۔۔ تھوڑا تو احساس کیا کرو بیوی ہے اب تمھاری اسے برا تو لگے گا رمشہ کے ساتھ آنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں کھایا ؟ پر اریبہ نے فون کیا تھا کہ اس نے کھا لیا کھانا ۔۔۔۔
کچھ نہیں کھایا جائو اب تم ۔۔۔
ہاشم تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کمرے میں اینٹر ہوا تو حور رو رہی تھی اسے دیکھ کر اس نے آنسوں صاف کر لیے تھے ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اس نے سب سے پہلے واچ اتاری ۔۔۔
حور جواب دینے کے بجائے جا کر صوفے پر لیٹ گئی اور اوپر بلینکٹ اوڑھ کر سو گئی ۔۔۔
ہاشم چینج کرنے چلا گیا ۔۔۔
حور نے سر نکال کر باہر دیکھا پر وہ کمرے میں نہیں تھا۔۔۔۔
وہ پھر سے منہ پر بلینکٹ ڈال کر سو گئی ۔۔۔۔
ہاشم باہر نکلا تو وہ سونے کا ڈرامہ لگائے سو رہی تھی ۔۔۔
وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
اسے بھی اندازہ ہوا تھا کہ ہاشم اس کے ساتھ بیٹھا ہے ۔۔۔
مگر وہ آنکھیں موندے سوئی رہی ۔۔۔۔
اچھا یار سوری اٹھو اب ۔۔۔ وہ اس کے چہرے سے بلینکٹ ہٹا کر بولا ۔۔۔
ایک سوری سے کہاں اس کا غصہ ٹھنڈا ہونا تھا ۔۔۔ وہ سوئی رہی ۔۔
کان پکڑوں کیا اب ۔۔۔
حور نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔۔۔
ہاں چھپ کر دیکھنا بھی ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ مسکرایا ۔۔۔
جائیں ناں اس رمشہ کے پاس میں کون ہوں بھلا ۔۔۔ وہ منہ پھلائے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
آپ کون ہیں ؟ آپ میری محبت ، میری عاشقی ، میری زندگی ، میرا جہاں ، میرا خیال ، میرا احساس ، میرا سکون ، میری خوشی ۔۔۔ اور میری وائف ۔۔۔ وہ مسکرایا ۔۔۔
پتا ہے کتنا ویٹ کرایا آپ نے ؟ حور نے بیزاری کا اظہار کیا۔۔۔۔
مجھے کہاں پتا تھا آپ میرا انتظار کر رہی ہیں اگر پتا ہوتا ایک منٹ میں گھر آ جاتا ۔۔۔
آپ کو کال کرتی رہی آپ نے سن کر بھی اگنور کر دیا اور کال کاٹ دی۔۔
میں نے ۔۔۔ ہاشم نے حیرانی سے کہا
جی ہاں آپ نے ، کہا تھا میں نے ناشتہ نہیں کیا دوائی بھی نہیں لی اگر آپ نہیں آئے تو میں نہیں کروں گی ۔۔۔میں مانتی ہوں صبح بد تمیزی کر دی تھوڑی ۔۔۔ پر اتنا برا بھی نہیں مانتے ۔۔۔۔
کیا رمشہ نے جھوٹ بولا مجھ سے۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑایا۔۔۔
میں نے برا نہیں منایا آپ نے کوئی بد تمیزی نہیں کی اتنی سی بات پر کون برا مناتا ہے ۔۔۔
سوچ لیں کان پکڑنے پڑیں گے آپ کو اب ۔۔۔ حور نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔
اوکے یہ لیں پکڑ لیئے کان اور حکم کریں ۔۔۔ اس نے کان پکڑ لیے ۔۔۔
پکڑے رہیں اب نہیں چھوڑنے کان جب تک لال نہیں ہو جاتے ۔۔۔ وہ مسکرا کر اٹھی ۔۔۔
پھر کھانا کیسے کھائوں گا میں ۔۔۔ وہ بھی کان پکڑ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
آپ کیوں کھائیں گے بھوک تو مجھے لگی ہے ۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔
جھوٹ ۔۔۔ کتنا کچھ کھایا ہو گا آفس میں آپ نے ۔۔۔
کچھ بھی نہیں کھایا سچ میں ۔۔۔
پکا ۔۔۔ حور نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
وہ سب ٹھیک ہے یہ کلر کیوں پہنا آپ نے آج ۔۔۔ہاشم نے اس کے ڈریس پر فوکس کیا ۔۔۔۔
کیوں بری لگ رہی ہوں ۔۔۔
بہت ۔۔۔ ہاشم نے اسے چڑھایا ۔۔۔
حور نے منہ کا زاویہ بگاڑ دیا ۔۔۔۔
مزاق کر رہا ہوں ۔۔۔ اب کان چھوڑوں ؟ درد ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔
نہیں چھوڑنے ۔۔۔ وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
اوکے نہیں چھوڑتا ۔۔۔
مجھے کھانا کھانا ہے ۔۔۔
اس کے لیے مجھے کان چھوڑنے پڑیں گے ۔۔۔ ہاشم مسکرایا ۔۔۔
چھوڑ دیں ۔۔۔
اس نے کان چھوڑے ۔۔۔
میں کچھ لے آتا ہوں ۔۔۔ وہ باہر نکل گیا حور بھی اس کے پیچھے چلی گئی ۔۔۔
اتنی رات کو کیا ہو گا کھانے کو ۔۔۔ حور نے سوال کیا۔۔۔
بنا لیتے ہیں ۔۔۔ وہ شرٹ کے بازوں پیچھے موڑ کر کھانا بنانے لگا ۔۔۔
آپ کو کھانا بنانا بھی آتا ہے ۔۔۔حور نے اسے حیرانی سے کام کرتے دیکھا۔۔۔
بنا سکتا ہوں پر صرف خود کے لیے یا آپ کے لیے ۔۔۔ بیٹھ جائیں یہاں پر ٹھہرے رہنے سے تھک جائو گی ۔۔۔
حور ساتھ پڑی چیئر پر بیٹھ گئی ۔۔۔
سوری ۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر بولی ۔۔۔
کس لیے سوری ۔۔۔۔ وہ بازوں سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میں نے بد تمیزی کی اور آپ کو سمجھی بھی نہیں آپ تو بہت کیئر کرتے ہیں میری ۔۔۔ وہ ہلکی سی مسکرائی تھی ۔۔۔
اچھا تو اب آپ کو بھی سزا ملنی چاہیے جیسے مجھے ملی ۔۔۔ وہ کام کرتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔
کان پکڑ لوں گی اس سے زیادہ نہیں ۔۔۔
پکڑ لیں پھر میں احسان نہیں رکھنا چاہتا آپ کا ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے پیچھے مڑا ۔۔۔
حور نے کان پکڑ لیے ۔۔۔ اتنا ظلم ۔۔۔
ہاں اب ایسے کان پکڑ کر پیچھے آئیں میرے ۔۔۔ وہ ہاتھ میں کھانا لیے کچن سے نکلا ۔۔۔۔
حور نے ویسا ہی کیا ۔۔۔۔
وہ اسے لے کر ٹیرس پر چلا گیا ۔۔۔
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور ساتھ ہلکی پھلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی ۔۔۔
وائو۔۔۔ حور موسم دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔
کان نہیں چھوڑنے ۔۔۔ ہاشم بھی مسکرایا ۔۔۔۔
اب بارش تھوڑی تیز ہو گئی تھی ۔۔۔ پر دونوں کو بارش پسند تھی ۔۔۔
بیٹھو ۔۔۔ ہاشم نے ٹیبل پر کھانا رکھا اور ایک کرسی پیچھے کھینچ کر اسے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔
حور کان پکڑے ویسے ہی بیٹھ گئی ۔۔۔
کتنا اچھا موسم ہے ناں مجھے بارش بہت پسند ہے ۔۔۔۔حور نے چہرہ اوپر کر کے بارش کی بوندوں کو چہرے پر محسوس کر کے کہا ۔۔۔۔
ہاں پیارا موسم ہے پر پھیکا پھیکا سا ہوتا ایک شخصیت کے بغیر ۔۔۔۔ کان نہیں چھوڑنے ۔۔۔ جب تک میں نہیں کہتا ۔۔۔۔
حور اس کا اشارہ سمجھ گئی ۔۔۔
ہاشم اپنے ہاتھ سے اسے کھانا کھلانے لگا اور وہ کان پکڑ کر بیٹھی اسے پیار بھری نگاہوں سے دیکھتی رہی ۔۔۔۔
پتا ہے آپ کو جب میں چھوٹی تھی پاپا کے ساتھ بارش میں ہم بہت مزے سے کھیلتے تھے اور باہر جاتے تھے ۔۔۔ بہت یاد آتی ہے پاپا کی اب وہ سب نہیں رہا ۔۔۔۔۔
کھانا کھا لو پھر چلتے ہیں ہم باہر۔۔۔۔۔۔
نہیں اب تو بہت لیٹ ہو گیا شکریہ مجھے اچھا لگا آپ نے اتنا ہی کہا ۔۔۔
اب آپ اپنے کان چھوڑ سکتی ہیں ۔۔۔۔کھانا کھانے کے بعد مسکرا کر بولا
آپ نے کان پکڑنے کو اس لیے کہا تاکہ آپ مجھے کھانا کھلا سکیں وہ مسکرائی ۔۔۔اور کان چھوڑ دیئے ۔۔۔
بارش تیز ہو گئی ۔۔۔
چلو اب ۔۔۔ہاشم۔اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹیرس سے اترا کمرے سے کار کی چابی اٹھائی اور اسے لیے گھر سے نکلا ۔۔۔
ارے کیا ضرورت تھی ۔۔۔ میں نے ویسے ہی کہا تھا ۔۔۔ حور اسے روکتی رہی پر وہ اسے زبردستی کار میں بٹھا کر کار سٹارٹ کر کے روڈ پر لے آیا ۔۔۔۔
بارش تیز تھی اور موسم بہت سہانا تھا ۔۔
اب بتائیں کہاں چلنا ہے ۔۔۔ ہاشم نے ڈرائیو کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
رکیں ۔۔۔ وہ یکدم بولی اور ہاشم نے کار روکی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: