Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 7

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 7

–**–**–

یہیں اتریں ۔۔۔ وہ کار سے نکل گئی ۔۔۔
ارے بارش ہے باہر۔۔۔۔ رکو بخار ہو جائے گا ۔۔۔وہ بھی اس کے پیچھے کار سے اترا۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر آنکھیں بند کر کے بارش میں بھیگنے لگی ۔۔۔۔
ہاشم اسے دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا ۔۔۔
ٹھنڈ لگ جائے گی پھر سے بخار ہو جائے گا مجھے کام کرنے پڑیں گے بس کرو حور ۔۔۔
میں نہیں جائوں گی وہ ہاتھوں میں بارش کے پانی کو اس کی طرف پھینک کر بولی ۔۔۔
کیا کر رہی ہو بچی ہو کیا ۔۔۔
اتنے ٹائم بعد میں یہ سب کر رہی ہوں مجھے بہت مزہ آ رہا ہے کہتے ہوئے وہ بارش کے کھڑے پانی میں کودی۔۔۔۔
یہی رہ گیا تھا کیا ۔۔۔ وہ پیچھے ہٹا ۔۔۔
آپ کو کیا پتا کتنا مزہ آتا ہے یہ بچپنا کرنے میں ۔۔۔ آپ ٹھہرے صاف ستھرے کھڑوس بزنس مین ۔۔۔
ایسی بات ہوتی تو میں کار سے نہ نکلتا ۔۔۔ آپ کے ساتھ کھڑا ہوں چشمہ لگا کر دیکھیں ۔۔۔۔
ہاہاہا ۔۔۔۔ آپ میرے ساتھ رہ کر میرے جیسے ہو جائیں گے ۔۔۔
اور آپ کیسی ہیں ۔۔۔ وہ مسکرایا ۔۔۔۔
پاگل ہوں میں دیکھ لیا ہو گا مجھے آپ نے ۔۔۔۔
صرف پاگل ہو ؟ یہ تماشا گھر بھی لگا سکتی تھی آپ ۔۔۔
سڑک پر شرارت کرنے کا الگ مزہ ہے ۔۔۔ اب ادھر آئیں ۔۔۔ حور اس کا ہاتھ پکڑے چلنے لگی ۔۔۔
اب ہو گیا حور چلیں بخار ہو جائے گا ۔۔۔
ہمم چلتے ہیں بس ایک اور کام ۔۔۔
اب کیا رہ گیا ہے ۔۔۔
وہ ۔۔۔ حور نے آئس کریم والے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
نو ۔۔۔ زکام ہو جائے گا ایک تو ٹھنڈ ہے ۔۔۔
میں نے پوچھا نہیں ہے میں نے بتایا ہے چلیں ۔۔۔۔
نہیں جا رہا میں ۔۔اور آپ بھی ایک تو طبعیت خراب ہے اوپر سے آئس کریم ۔۔۔
میں یہاں تماشا ڈال دوں گی ۔۔۔ جائیں لے کر آئیں ابھی ۔۔۔
حور طبعیت بگڑ جائے گی ۔۔۔
میں پہلے بھی کھاتی ہوں جائیں جلدی سے میں خود چلی جاتی لینے پر میں بھیگی ہوئی ہوں مجھے پاگل سمجھے گا ۔۔۔
میں بھی پاگل ہی لگ رہا ہوں ۔۔۔ ہاشم نے اپنے بھیگے ہوئے کپڑے دیکھ کر منہ کا زاویہ بگاڑا ۔۔۔
حور منہ پر ہاتھ رکھ کر قہقہہ لگا کر ہنسی ۔۔۔
حد ہے یہ تو ۔۔۔ کہہ کر وہ آئس کریم لینے چلا گیا ۔۔۔
کیا میں احد کے ساتھ اتنی خوش رہتی۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ اسے دیکھ کر مسکراتی رہی ۔۔۔ احد کو ضرور کھویا تھا اس نے پر اس سے بہتر مل گیا تھا اسے ہاشم کی شکل میں اتنا پیار بھی کوئی کر سکتا ہے اتنا بچپنا کون برداشت کرتا ہے، اسے ایک اچھا دوست مل گیا تھا وہ اسے آتے ہوئے دیکھ کر مسکرا کر بولی
لائیں ادھر دیں ۔۔۔حور نے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
پہلے کار میں بیٹھو ورنہ کوئی اور رولا ڈال دینا ہے آپ نے ۔۔۔۔
ہاہا نہیں ڈالتی ۔۔۔ اب گھر ہی جائیں گے ۔۔۔ پکا ۔۔۔ ادھر دیں ۔۔۔
ہاشم نے آئس کریم اسے دی اور وہ لے کر سڑک کی سائیڈ پر بیٹھ کر کھانے لگی ۔۔
حورررر۔۔۔ گھر چلیں ۔۔۔
یہ تو کھانے دیں۔۔۔۔
اتنی شرارتیں کرتی ہیں آپ مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ میں نے ایک ننھی منی بچی سے محبت کر ڈالی۔۔۔
وہ آئس کریم ختم کرنے کے بعد انگلی چاٹنے لگی ۔۔۔
بس کر دو ہاتھ کھانا ہے کیا ۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر ہنسی ۔۔۔
اففف حور لگتی بالکل نہیں ہو اتنی شرارتی آپ ۔۔۔
وہ ہاتھ اکڑا کر اٹھی ۔۔۔
اب یہ کیا ہے ۔۔۔
ٹشو چاہیے۔۔۔
کار میں ہے چلیں بس ہو گیا اب ۔۔۔
چل تو رہی ہوں ۔۔۔
وہ کار میں بیٹھی ہاشم نے اسے ٹشو نکال کر دیا اور وہ ہاتھ منہ صاف کرنے لگی ۔۔۔
ہاشم نے کار سٹارٹ کر دی ۔۔۔
بہت مزہ آیا ۔۔۔ شکریہ آپ کا۔۔۔
شکریہ کیسا ۔۔۔اگر میں آپ کو یہاں نہ لے آتا تو مجھے کیسا پتا لگتا آپ اتنی شرارتی قسم کی لڑکی ہیں وہ مسکراتے ہوئے بولا
اتنے عرصے بعد اتنا مزہ کیا ہے ۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا میں اتنی بڑی ہو کر کبھی یہ بچپنا پھر سے کر پائوں گی۔۔۔
کوئی بات نہیں آپ کر سکتی ہیں بچپنا ۔۔۔ پر صحت کا خیال رکھتے ہوئے۔۔۔۔
آآآآآآآچھ۔۔۔۔۔۔ او نو سردی لگ رہی ہے ۔۔۔
ہو گیا زکام ۔۔۔ چلیں جلدی سے چینج کریں اور پھر میڈیسن لے کر سو جائیں ۔۔۔
دونوں کار سے اترے گھر میں گُھسے اور خاموشی سے کمرے میں چلے گئے مگر رمشہ نے دونوں کو دیکھ لیا تھا ۔۔۔
جلدی جائیں ٹھنڈ لگ جائے گی ورنہ ۔۔۔
جا رہی ہوں وہ کمرے سے نکلی ۔۔۔
کدھر ۔۔۔
آتی ہوں ۔۔۔کہہ کر وہ اریبہ کے کمرے میں گئی خاموشی سے ڈریس اٹھایا اور واپس آنے پر رمشہ سے ٹکرائی ۔۔۔۔
او دیکھ کر ۔۔۔ سائیڈ ہونا ۔۔۔ حور اسے ایک طرف کر کے چلی گئی اور وہ اسے پیچھے سے گھورتی رہی ۔۔۔
ہاشم چینج کر کے لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا جب حور چینج کرنے چلی گئی ۔۔۔۔
مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔۔ اور آپ کے کیا حالات ہیں ۔۔۔ ہاشم نے حور سے پوچھا۔۔۔۔
وہ اس سے پہلے کچھ بولتی اس کی چھینک سب کہہ گئی ۔۔۔
ہاشم اٹھا اور دوائی اٹھا کر میز پر سے پانی کا گلاس بھرا اور حور کی طرف بڑھایا۔۔۔
حور نے مسکراتے ہوئے دوائی اور پانی لے لیا اور دوائی کھا لی ۔۔۔
بیڈ پر سو جائیں میں صوفے پر سو جاتا ہوں۔۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ اٹھا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
حور کو ویسے بھی ٹھنڈ لگ رہی تھی وہ بڑے سکون سے جا کر بیڈ پر سو گئی اور دوائی کھانے کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔۔۔۔
ہاشم بھی کام کرتے ہوئے وہیں سو گیا تھا ۔۔۔
کمرے کی لائٹس آن تھی ۔۔۔ اتنے میں کھڑکی سے کوئی کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
ہاشم کی آنکھ کھلی اور وہ اٹھ گیا ۔۔۔
کھڑکی کھلی تھی اور اس کے پردے ہوا کے باعث اڑ رہے تھے ۔۔۔۔
ہاشم نے پورے کمرے میں نظر گھمائی حور بڑے آرام سو منہ پر بلینکٹ ڈالے سو رہی تھی۔۔۔
مجھے ایسا کیوں لگا تھا کمرے میں کوئی اور تھا یہ پھر یہ وہم ہو گا ۔۔۔وہ واپس جا کر لیٹ گیا اور آنکھیں موندے سو گیا ۔۔۔
وہ جول کوئی بھی تھا حور کو کافی دیر کھڑا دیکھتا رہا اور پھر واپس کھڑکی سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی ہاشم اٹھا اور تیز قدم اٹھاتے ہوئے کمرے سے نکلا اس کا ارادہ اسے راستے میں پکڑنے کا تھا ۔۔۔
وہ باہر نکل گیا تھا اور اسے بس اس کی پرچھائی دکھائی دے جو اندھیرے میں سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔
ہاشم اس وقت حور کو چھوڑ کر جانے والا بھی نہیں تھا اس لیے واپس کمرے میں آیا اور سونے کے بجائے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
وہ آخر تھا کون جو اس وقت ہاشم کے کمرے میں آنے کی ہمت کر سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ سوچنے لگا سوچتے سوچتے اس کا ذہن احد کی طرف گیا کیا یہ احد تھا وہ گہری سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔ اتنی ہمت احد کہاں کر سکتا ہے ۔۔۔ ہاشم ان سب کے دوران سب سے بڑی مصیبت کو بھول چکا تھا جس کا نام ریان تھا ۔۔۔۔
وہ جاگتا رہا اتنے میں صبح ہو گئی تھی۔۔۔
اس نے آج آفس جانا بھی کینسل کر دیا تھا ۔۔۔حور اٹھی تو وہ سو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر باہر آئی ۔۔۔ ٹائم دیکھا تو اٹھ بج رہے تھے ۔۔۔ پھر ہاشم کی طرف دیکھا جو بڑے آرام سے سو رہا تھا جیسے صدیوں کی نیند پوری کر رہا ہو ۔۔۔۔
آپ نے آفس نہیں جانا کیا ۔۔۔ حور نے اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی ۔۔۔۔
نہیں جانا سونا ہے مجھے ۔۔۔ کروٹ بدلی تو صوفے سے نیچے گر پڑا ۔۔۔
حور نے منہ پر ہاتھ دے کر ہنسی کو روکا ۔۔۔مگر ہنسی نہ روکی گئی اور وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑی ۔۔۔
ہنسو دل کھول کر ۔۔۔ وہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا ۔۔۔
سوری ہنسی آ گئی کیا کرتی روکی نہیں گئی ۔۔۔
کوئی بات نہیں ہنس لو ۔۔۔ وہ اٹھا اور مسکراتا ہوا کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
حور ریڈی ہو کر باہر چلی گئی۔۔۔
ناشتے کی میز پر سبھی موجود تھے سوائے رمشہ اور اریبہ کے ۔۔۔
اریبہ کہاں ہے امی ۔۔۔ حور نے اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
بیٹا ۔۔۔وہ اور رمشہ ابھی نہیں آئی باہر ۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔ حور بریڈ پر جیم لگانے لگی اتنے میں ہاشم بھی آ گیا ۔۔۔
تم نے بھائی اور بھیا کے بیڈ پر کانٹے ڈالے تھے ۔۔۔ اور اب تم کہہ رہی ہو تمھیں پتا ہی نہیں غلطی سے ہو گیا ۔۔۔۔ اریبہ اندر رمشہ پر برس پڑی تھی۔۔۔۔
مجھے سچ میں نہیں پتا تھا ، میں نے جلدی میں پیٹلز ڈالے تھے ساتھ کانٹے گر گئے مجھے کیا پتا تھا کہ کانٹے گر جائیں گے اور حور کو لگ جائیں گے ۔۔۔
جی نہیں تھینک گاڈ حور کو نہیں لگے بھائی نے بچا لیا اسے ورنہ بھابھی کو لگ جاتے ۔۔۔ اریبہ نے اس کے تصورات کی چٹنی بنا ڈالی ۔۔۔
رمشہ اسے گھورنے لگی ۔۔۔یہ تو اچھی بات ہے حور کو نہیں لگے ۔۔۔وہ ہونٹ بھینچ کر بولی۔۔۔
اریبہ کمرے سے چلی گئی اور رمشہ کندھے اچکاتے ہوئے اس کے پیچھے چلی گئی ۔۔۔
دونوں ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کے لیے بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاشم اور حور دونوں ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔
ہاشم سر آپ جاتے ہوئے مجھے آفس کے لیے پک کر لیں پلیز مجھے دیر ہو جائے گی ورنہ رمشہ نے ہاشم کی طرف دیکھا اور کہا جو سکون سے ناشتہ کر رہا تھا
میں تو آفس نہیں جا رہا آج آپ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائیں آپ کو آفس تک چھوڑ دے گا ہاشم نے بغیر دلچسپی لیئے جواب دیا
حور ہلکی سی مسکرائی تھی پر پھر خاموش ہو گئی اس نے کل ہاشم کو رمشہ کا اچھا طعنہ جو دیا تھا
رمشہ خاموش ہو گئی تھی
کچھ دیر بعد اس سے رہا نہ گیا تو اس نے پوچھ لیا سر آپ کیوں نہیں جا رہے آفس
اوہ ہاں امی میں بتانا بھول گیا حور کے گھر جانا ہے اور راستے میں آتے ہوئے حور کو شاپنگ کرنی ہے رات تک آ جائیں گے گھر ہم ہاشم نے فرذانہ بیگم سے کہا اسی بہانے رمشہ کو بھی جواب مل گیا
اچھا بیٹا یہ اچھی بات ہے فرذانہ بیگم نے جواب دیا
حور کب سے بریڈ لیے بیٹھی تھی وہ کسی چڑیا کی طرح کھا رہی تھی
حور ٹھیک سے ناشتہ کرو کیا کچھ اور چاہیے تو بتائو ہاشم نے اسے بور دیکھا تو پوچھا
نہیں نہیں میں کھا رہی ہوں حور نے بریڈ اٹھا کر کہا
ناشتے سے فارغ ہو کر ہاشم اور حور گھر کے لیے نکل پڑے تھے
آج بھی موسم ویسا ہی تھا ہلکی سی بارش ہو رہی تھی موسم کافی خوشگوار تھا
میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ سب اب کیا کہیں گے جو پرسوں آپ پر بات کرتے کرتے تھک نہیں رہے تھے ہاشم نے ڈرائیو کرتے ہوئے بات چھیڑ دی
مجھے تو ڈر لگ رہا ہے حور نے کنفیوز ہو کر کہا
میں آپ کے ساتھ ہوں کس بات کا ڈر ہے آپ کو ہاشم نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا
حور مسکرا گئی اور شرم سے ہاتھ واپس کھینچ لیا
ہاشم کے فون پر آفس سے کال آنے لگی پر وہ اگنور کرتا ہوا ڈرائیو کر رہا تھا
آپ کا فون حور نے اسے یاد دلانا چاہا
ہاں دیکھا ہے گھر پہنچ کر سنتا ہوں۔۔۔
حور کے گھر کے سامنے ہاشم نے کار روکی اور دونوں کار سے اترے
حور ڈور بیل بجانے میں ہچکچا رہی تھی تو ہاشم نے ڈور بیل بجائی
دروازہ حور کی ماں نے کھولا اور دوبارہ اسے دیکھ کر چونک پڑی
ہاشم حور کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہو چکا تھا
یہ کیا بد تمیزی ہے اپنے عاشقوں کو اب تم اپنے گھر لے آئو گی حور کی ماں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی
دیکھیں امی آپ نے بالکل صحیح نام دیا ہے مجھے پر میں عاشق کے ساتھ ساتھ آپ کا داماد اور حور کا شوہر ہوں اس لیے خیال سے میرے سامنے میری بیوی کی انسلٹ میں برداشت ہرگز نہیں کروں گا ہاشم نے حور کا ہاتھ چھڑا کر اپنے ہاتھ میں پیار سے تھامتے ہوئے کہا
حور کی ماں حیرانی سے دونوں کے منہ تکنے لگی
امی جان ان سب کو ضرور بتا دیجیے گا کہ حور آئی تھی اپنے شوہر کے ساتھ ہاشم نے باہر پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا اور حور کو بھی ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ حور نے سرگوشی کی
ساس ہیں میری تم کیوں فکر کرتی ہو انجوائے کرو میری جان وہ شوخ لہجے میں بولا
حور نے چہرے کو پیچھے کر کے ایک بار اسے دیکھا جو شرارت کرنے کو تیار بیٹھا تھا
کیا مطلب ہے تمھارا تم بولو گے میں مان لوں گی اس لڑکی کی اوقات نہیں ہے تم اس سے نکاح کیسے کر سکتے ہو حور کی ماں نے بھڑک کر کہا
ہاشم نے فون نکال کر نکاح کی فوٹوز حور کی ماں کے حوالے کی اور وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
اب داماد اور بیٹی آئے ہیں تھوڑا چائے ناشتہ تو بنتا ہے امی جان ہاشم نے فون لیتے ہوئے کہا
حور کی ماں جو حیران و پریشاں کھڑی تھی ہاں میں سر ہلا کر کچن کی طرف بھاگی
حور انہیں کچن تک جاتے ہوئے دیکھتی رہی
کیا دیکھ رہی ہو آپ خوامخواہ ڈرتی ہو دیکھو امی تو بہت اچھی ہیں
حور نے منہ کا زاویہ بگاڑا
ہاشم اس کے شکل بنانے پر ہنس پڑا
دروازے پر دستک ہوئی تو حور دروازہ کھولنے کے لیے اٹھی کیونکہ اس کی امی کچن میں تھی
تھوڑی چینی تو دے دو باہر سے اسی عورت کی آواز آئی تو ہاشم جلدی سے کھڑا ہوا
نہیں ۔۔ حور دروازے کے آگے کھڑی ہو گئی وہ جانتی تھی ہاشم اب اسے ذلیل کرے گا جس طرح پرسوں حور کو ذلیل کیا گیا تھا
ارے ہٹو آگے سے ہاشم مسکرایا
کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹھیں اپنی جگہ پر حور نے اسے ڈانٹا
ارے ان کو چینی چاہیے مجھے مصالحہ بھی دینا ہے ان کو تھوڑا سا ۔۔۔ اور ہاشم نے اسے سامنے سے ہٹاتے ہوئے دروازہ کھول دیا
حور نے سر پکڑ لیا
تم یہاں اور یہ لڑکی وہ دیکھتے ہی منہ پر ہاتھ دیتے ہوئے حیرانی سے بولی
آئیں بیٹھیں مٹھائی منگواتے ہیں ہاشم نے اسے کرسی کی طرف اشارہ کیا
کیا بد تمیزی ہے تم دونوں اب گھر تک آ گئے کس نے آنے دیا تمھیں اندر بے شرمی کی انتہا کردی
ہاشم نے ان کے سامنے حور کا ہاتھ پکڑ لیا
اللہ معاف کرے تمھیں تمیز تک نہیں سکھائی کسی نے وہ ہکلاتے ہوئے بولی
اتنے میں حور کی ماں ہاتھ میں چائے لیا وہاں آ گئی
ہاشم نے چائے کا کپ اٹھا لیا
یہ کیا بے حودگی ہے تم نے ان دونوں کو اندر کیسے آنے دیا تمھیں اپنی عزت کی پرواہ نہیں ہے کیا اب یہ لڑکی اپنے عاشقوں کے ساتھ یہاں آئے گی اور تم انہیں چائے پلائو گی اب کی بار وہ حور کی ماں پر برسی
امی جان تعارف کروا دیجیئے ہاشم کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا
یہ یہ۔۔۔ حور ۔۔۔ یہ میرا داماد ہے وہ ہڑبڑا کر بولی
حور نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی کو روکا پرسوں تک جو ماں اسے بیٹی کہنے کو تیار نہیں تھی آج ہاشم کو داماد بول رہی تھی
گڈ امی جان اور آنٹی جی میں نے صرف کہا نہیں تھا میں نے کر کے دکھایا ہے اور حور تو بہت ہی سلجھی ہوئی لڑکی ہے بہت اچھے سے گھر سمبھال رہی ہے ماشاءاللہ سے ہاشم نے حور کی ماں کو سنایا
وہ عورت آنکھیں پھاڑ کر حور کی ماں کو دیکھنے لگی جس نے یہ سب باتیں خود ان سے کہی تھی
اچھا تو ہم چلتے ہیں چلو حور اور امی جان چائے اچھی تھی ہاشم نے کپ رکھتے ہوئے حور کا ہاتھ پکڑا اور گھر سے باہر نکل گیا
حور مسکراتے ہوئے اس نے ساتھ چل رہی تھی
اتنے میں ایک بار پھر ہاشم کے فون کی رنگ ٹون بجی
اوہ یہ تو بھول ہی گیا تھا ایک منٹ ہاشم نے کال ریسیو کی
سر آج کی میٹنگ آپ ۔۔۔۔
میں نے کہا تھا کینسل کر دو ہاشم نے بات کو کاٹ دیا
سر ہم نے تو کینسل کر دی تھی پر ایک میڈم نے تماشا بنا دیا ہے آپ کی چیئر پر بیٹھ گئی ہیں اور بول رہی ہیں آپ آئیں جلدی سے ۔۔۔
کیا ۔۔ہاشم چونکا
حور نے حیرانی سے ہاشم کی طرف دیکھا
کیا ہوا ۔۔۔
کچھ نہیں ہاشم نے فون رکھ دیا اور اسے ساتھ لیے کار میں بیٹھ گیا
کیا ہوا بتائیے ناں ۔۔حور نے پھر سے پوچھا
کچھ بھی نہیں یار جلدی سے شاپنگ مال سے ہوکر آفس جانا ہے مجھے
سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔حور نے پریشان ہو کر پوچھا
ارے یار آپ اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو سب ٹھیک ہے ۔۔
حور کو اب بری فیلنگ آ رہی تھی ۔۔۔
چلو ہاشم نے شاپنگ مال کے سامنے کار کھڑکی کی اور اسے لیے اتر گیا
حور اس کال کے بعد پریشان سی ہو گئی تھی اس لیے یاشم نے اس کی ساری شاپنگ اپنی مرضی سے کی
جیولری کولیکشن دیکھتے ہوئے ہاشم نے ایک یونیک سا نیکلس اس کی طرف بڑھایا
اچھا ہے ۔۔۔حور پریشان تھی اس نے بس اتنا ہی کہا
ہاشم نے وہ اس کے گلے کی زینت بنا دیا اور وہ اسے سامنے کھڑے مرر میں دیکھنے لگی جب مرر میں اسے ریان کا عکس دکھائی دیا اور وہ جلدی سے پیچھے پلٹی
کیا ہوا ۔۔ہاشم نے پیچھے مڑ کر دیکھا
کک۔۔کچھ نہیں پلیز چلیں یہاں سے ۔۔۔
پر کیوں اچانک کیوں ۔۔۔
پلیز چلیں ہاشم ۔۔۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے ہاشم کا ہاتھ پکڑا
ہاشم نے اس کے ہاتھوں کو کانپتے دیکھا تو پریشان ہو گیا
ارے بتائو کیا ہوا اچانک ایسا کیا دیکھ لیا
حور زبردستی اسے کھینچتے ہوئے شاپنگ مال سے باہر نکلی اور گھر جانے کی ضد کرنے لگی
ہاشم نے کار کو گھر کے راستے پر ڈال دیا
حور کو گھر ڈراپ کر کے وہ آفس کی طرف چلا گیا جہاں ایک نیا ہی تماشا دیکھنے میں آیا تھا ۔۔۔
غصے میں وہ تیز تیز قدم رکھتا ہوا اپنے روم میں داخل ہوا تو وہ بڑے عیش و عشرت سے اسے پیٹھ دکھائے اس کی چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی
دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا ۔۔۔وہ غصے میں بولا
وہ یکدم پیچھے مڑی اور گلاسس اتارے ۔۔
اسے دیکھ کر ہاشم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: