Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 8

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 8

–**–**–

میرا دماغ تو خراب ہی ہے سوئیٹ ہرٹ تمھیں نہیں پتا وہ چیئر سے اٹھتے ہوئے بولی
شٹ اپ ۔۔۔ ہاشم مسکرایا
کیا یار کب سے بیٹھی ہوئی ہوں کہاں گم تھے وہ بیزاری سے بولی
بس فیملی کو ٹائم دینا پڑتا ہے وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا
فیملی اور دوستوں کا کیا اور بچپن کے دوستوں کی تو بات ہی الگ ہوتی ہے اور جو اتنا پیار کرنے والے ہوں ان کی تو سب سے الگ ۔۔۔مسٹر ہاشم ۔۔۔وہ اس کی ٹائی کو ہمیشہ کی طرح سیٹ کرتے ہوئے بولی
نہیں یہ حرکتیں اب مت کرنا ہاشم پیچھے ہٹا
کیوں تم کب سے شرمانے لگے
جب سے نکاح ہوا ہے۔۔۔۔
کس کا نکاح ۔۔۔کب ۔۔۔کیسے ۔۔۔کیوں ۔۔۔کہاں ۔۔۔اسںے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی
گھر چلنا ملوا دوں گا خیر یہ اچانک تم پاکستان کہاں سے آ گئی اور بزنس میں کب سے گھس گئی ہاشم نے اسے چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود کھڑا ہو گیا
تم تو یو ایس آئے ہی نہیں اس کے بعد میں نے سوچا خود چلی جاتی ہوں یہاں تو نکاح کا الگ ہی سین چل رہا ہے
سین نہیں ہے سچ ہے جتنا جلدی مان لو اور تم کب کر رہی ہو شادی ہاشم نے اسے چھیڑا
جب تم فری ہو جائو آرام سے کر لیں گے شادی۔۔۔
تمھارا دماغ ابھی تک سیٹ نہیں ہوا شاید ۔۔۔ہاشم تھوڑا سیریئس ہوا
میں اس بات پر مزید بحث نہیں کرنا چاہتی رہنے دو اس بات کو سوتن سے کب ملوا رہے ہو ۔۔وہ بلا جھجک بولتی چلی گئی
مجھے لگا تھا تم سدھر گئی ہو مگر میں غلط تھا ۔۔۔ ہاشم اس بار ناراضگی سے بولا
کم آن ڈارلنگ میں سدھر ہی گئی ہوں دیکھو تم جیسا کہتے تھے ویسی بن گئی ہوں اور تم نے نکاح کر لیا مجھے غصہ آ رہا ہے کچھ اٹھا کے سر میں دے ماروں گی میں اب ۔۔۔۔
واہ اب میری جان لو گی صحیح ۔۔۔ ہاشم مزاق میں دل پر لے گیا
اتنے میں رمشہ کوفی لیے اندر آئی ۔۔
ہاشم سر آپ کی کوفی۔۔۔ وہ اپنے ہاتھ سے دینے لگی تو گلِ نے اس کے ہاتھ سے کپ لے لیا
تھینکس اب جائو ۔۔۔ گلِ خود کوفی پینے لگی
رمشہ وہیں کی وہیں کھڑی تھی
منہ کیا دیکھ رہی ہو میرا جائو دیکھ نہیں رہی تم ہم بات کر رہے ہیں تم نوکرانی ہو ناں یہاں پر ۔۔۔ گلِ اس پر برس پڑی
میں ہاشم کی سیکرٹری ہوں تمیز سے بات کرو ۔۔اب کی بار رمشہ بھی بول پڑی
کیا بولی تو ہاشم ؟ ہاشم کا نام لیا تو نے ۔۔۔ گلِ نے اسے گلے سے پکڑ لیا
کیا کر رہی ہو چھوڑو اسے ۔۔۔ہاشم نے گلِ کو پیچھے کھینچا اور رمشہ لمبے لمبے سانس لینے لگی
جائیں آپ ۔۔۔ہاشم نے رمشہ کو جانے کا اشارہ کیا
نہیں سن تو آج کے بعد میرے سامنے نام سے پکارنے کی ہمت بھی مت کرنا منہ توڑ دوں گی زبان نکال کر ہاتھ میں دے دوں گی تیری ۔۔۔ گلِ نے رمشہ کو جاتے ہوئے دیکھا تو پیچھے سے بڑبڑائی۔۔۔
رمشہ غصے میں جھلستی ہوئی باہر چلی گئی
تمھیں ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت ہے ہاشم نے ایک فائل اٹھا کر پڑھتے ہوئے کہا
میں یہاں تم سے بات کرنے آئی ہوں اور تم کام کر رہے ہو ہاشم۔۔۔ گلِ نے اس کے ہاتھ سے فائنل کھینچ کر پھینک دی
تم سیریئس نہیں لے رہی زندگی مزاق نہیں ہے ۔۔۔ ہاشم نے نیچے سے فائل اٹھائی
اور تم نے جو کیا وہ ٹھیک ہے ۔۔۔ اب کی بار وہ بھڑک اٹھی
اتنے میں ہاشم کے فون کی رنگ ٹون بجی جس پر اریبہ کالنگ روشن ہو رہا تھا
ہاشم فون اٹھانے لگا تو گلِ نے جلدی سے فون اٹھا لیا اور اسپیکر پر ڈال دیا
ہاشم کو غصہ آیا پر وہ چپ کر گیا
بھیا بھابھی پوچھ رہی ہیں کب تک آئیں گے آپ اور سب خیریت تو ہے ۔۔۔
ابھی آفس میں بہت کام ہے ہاشم کو دیر لگ جائے گی وہ میٹنگ میں ہے ۔۔۔گلِ نے کہہ کر فون اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور اپنے بالوں کو کندھے سے ہٹاتے ہوئے باہر چلی گئی
اریبہ کے ساتھ حور نے بھی یہ سنا تھا اس لیے خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
میں آتا ہوں ابھی ۔۔۔ ہاشم نے جواب دیا پر کال کٹ چکی تھی
ہاشم نے سر پکڑ لیا۔۔۔۔
سر میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔احد نے دروازے پر کھڑے ہوئے پوچھا
ہاشم نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا
سر آپ ناراض ہیں مجھ سے ۔۔۔وہ عزت و احترام سے سر جھکائے بولا
نہیں میں اور ناراض کس لیے ۔۔۔۔
حور کی وجہ سے آپ کو مجبوراً اس سے نکاح کرنا پڑا اور
ایک منٹ کس نے کہا میں نے مجبوراً اس سے نکاح کیا ؟ میں نے کوئی مجبور ہو کر نہیں کیا اس کے کردار کو میں اچھے سے جانتا تھا اور مجھے خوشی ہوئی اسے اپنی زندگی میں لا کر اس کی جیسی لڑکی پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی مجھے میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں ۔۔۔ ہاشم نے فخریہ انداز میں کہا
احد کے دل پر ٹھیس ضرور آئی تھی آخر حور اس کی منگیتر تھی لیکن حور کو چھوڑنے کا فیصلہ بھی احد کا ہی تھا جب کہ گھر کے حالات جتنے خراب علیشاء نے کر رکھے تھے وہ حور کو واپس لانے پر رضامند بیٹھا ہوا تھا مگر ہاشم نے اس کے خیالات کی چٹنی بنا دی
تم جا سکتے ہو اور اس غلط فہمی میں مت رہنا میں نے حور پر کوئی احسان کیا نکاح کر کہ یہ میری خوش قسمتی ہے جو مجھے حور ملی ہے ۔۔۔
احد دل کو چیر دینے والی باتیں برداشت کرتا کمرے سے چلا گیا ۔۔۔۔
آفس سے فارغ ہو کر ہاشم اپنی کار میں بیٹھا تو گل پہلے سے ہی کار میں بیٹھی تھی
تم یہاں کیا کر رہی ہو گل نکلو کار سے ۔۔۔ ہاشم نے اسے دیکھا تو جلدی سے بولا
نہیں مطلب میں کیوں جائوں ؟ میں یہاں اکیلی لڑکی کہاں رکوں گی کچھ تو خیال کر لو ہاشم ۔۔۔۔
وہ تمھیں سوچنا چاہیے تھا گل میرے اور حور کے بیچ آنے کی کوشش بھی مت کرنا ذہن میں اس بات کو بٹھا لو ۔۔۔ ہاشم دن کی باتوں سے کافی سیریئس ہو گیا تھا
اوکے جی میں کچھ نہیں کہوں گی آپ کی حور پری کو ۔۔۔ وہ منہ بنا کر بولی
ہاشم نے سر کو جھٹکا دیا اور کار سٹارٹ کر دی
ویسے اتنا کیا خاص دیکھ لیا تم نے اس حور میں جو نکاح کیے بغیر رہا نہیں گیا ۔۔۔
اس بات سے تمھارا کوئی واسطہ نہیں ہے خاموش بیٹھو ۔۔۔
اففف ہاشم تم کتنے بدل گئے ہو ۔۔۔ یہ سب اس حور کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔
میں پھر سے کہہ رہا ہوں حور سے دور رہنا ۔۔۔ ہاشم نے کار گھر کے سامنے روکی اور اس کے اترنے سے پہلے ہی اتر گیا ۔۔۔
ارے رکو ناں ہاشم ساتھ چلتے ہیں ۔۔۔وہ زبردستی اسے چپکنے لگی ۔۔۔
ہاشم تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسے اگنور کرتے ہوئے جا رہا تھا ۔۔۔
آج حور نہیں چھوڑے گی کل رمشہ اور آج یہ ۔۔۔وہ ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے خود سے بڑبڑایا ۔۔۔۔
حور آج بھی لائونچ میں اریبہ اور بیگم فرذانہ کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔
ہاشم کے ساتھ گل کو آتے دیکھ کر حور اٹھی
بھائی تو گئے آج ۔۔۔ اریبہ نے امی کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
ارے گلِ بیٹا ۔۔۔ ہاشم کی امی اٹھی اور اسے ملی
جی امی آپ ہی خوش ہو رہی ہیں ورنہ کسی کو میرا آنا تو بہت برا لگا ۔۔۔ گل ہاشم کو دیکھتے ہوئے بولی
ہاشم نے ٹھنڈی آہ بھری اور حور کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کمرے کی طرف چلا گیا
حور بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلی گئی
ناراض نہیں ہونا حور سوری یار میں
سوری کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ چینج کر لیں پھر ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔ حور نے ڈریس نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا
مطلب آپ کو غصہ نہیں آیا ۔۔۔ ہاشم نے اپنی گرین آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا
نہیں میں کیوں کروں گی غصہ مجھے تو پتا ہے آپ میرے ہبی ہیں صرف میرے پھر غصہ کیوں کروں گی ۔۔۔ حور آج اچھے موڈ میں تھی ۔۔۔
اوہ صدقے جاؤں میری جان مجھے سمجھنے لگی ہے ۔۔۔ ہاشم شوخ لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
حور نے مسکراتے ہوئے اسے واش روم کی طرف اشارہ کیا مقصد تھا ٹائم ویسٹ ہو رہا ہے جلدی نکلو ۔۔۔
ہاشم مسکراتا ہوا چینج کرنے چلا گیا ۔۔
حور اس کا ویٹ کرنے لگی ۔۔۔اتنے میں گل اندر آئی ۔۔۔
وہ منہ بناتے ہوئے حور کو دیکھنے لگی
کچھ چاہیے تھا ۔۔۔ حور نے بھی اسی انداز میں کہا
ہاں ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی حور کے ساتھ پڑے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔
اوہ صحیح اور کیا چاہیے تمھیں۔۔۔ حور نے اپنا رخ اسکی طرف کیا اور بولی
ہاشم ۔۔۔ وہ مسکرائی اور کھڑی ہو گئی ۔۔۔
حور اسے حیرانی سے گھورنے لگی
ایسے کیا دیکھ رہی ہو میرا فرینڈ تھا کالج میں پھر پاکستان آ گیا اور تم نے اسے پھنسا لیا ۔۔۔
میں نے کسی کو نہیں پھنسایا اور نہ ہی میں ایسی ہوں الفاظ کا چنائو سوچ سمجھ کر کرو ۔۔۔
تم نے بہت عیاشی کر لی اب تمھارا الٹا وقت شروع تین دنوں کے اندر تم اس گھر سے باہر ہو گی ۔۔۔ وہ اس کے چہرے پر چٹکی بجاتے ہوئے بولی
تمھارا دماغ خراب ہے ۔۔۔حور کو غصہ آیا
بچی تمھارا واسطہ بہت خراب لڑکی سے پڑا ہے ۔۔۔ وہ اس کے گال کھینچتے ہوئے کمرے سے چلی گئی ۔۔۔
اب حور کا موڈ خراب ہو گیا تھا
حور غصے سے دوپٹا ہاتھ میں مسلنے لگی ۔۔۔
“”””تم نے بہت عیاشی کر لی اب تمھارا الٹا وقت شروع تین دنوں کے اندر تم اس گھر سے باہر ہو گی”””” یہ الفاظ اسے مزید غصہ دلا رہے تھے ۔۔۔
اتنے میں ہاشم چینج کر کے باہر آیا وہ گہری سوچ میں گم کھڑی تھی ۔۔۔۔
کیا ہو گیا ابھی تو ٹھیک ٹھاک چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔ ہاشم نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر پیچھے سے اسے حصار میں لیا
کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ وہ غصہ ہاشم پر نکالنے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔
پھر منہ کیوں سوجا رکھا ہے ۔۔۔
کیا ناں کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔حور جانے لگی تو ہاشم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
حور گلِ کو سیریئس مت لینا ۔۔ تم اچھے سے جانتی ہو میری محبت کو ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بولا ۔۔۔۔
حور کیسے بتاتی ابھی گل اسے کیا کیا سنا کر گئی ہے ۔۔۔ حور نے خاموشی اختیار کی اور ہاں میں سر ہلا دیا
ایسے نہیں ناں موڈ ٹھیک کرنا پڑے گا اچھا چلو ایک پرومس کرتے ہیں ۔۔۔
حور نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
ہاتھ ملائو پہلے ۔۔۔ہاشم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا
حور نے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ۔۔۔
میں یہ نہیں کہوں گا میں تمھارے لیے تارے توڑ کر لائوں گا ناں ہی میں یہ کہوں گا میں سب تمھارے قدموں میں بچھا کر رکھ دوں گا میں صرف اتنا کہوں گا جب تک یہ ہاشم زندہ ہے ناں اس کی ایک ایک سانس پر اس کی محبت حور کا حق ہو گا ۔۔۔
حور شرم سے مسکرا گئی اور ہاتھ چھڑا کر کمرے سے نکل آئی اس کے گالوں پر سرخی چھا گئی تھی ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کر رہی تھی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی چلی گئی ۔۔۔۔
بھاگنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔ ہاشم اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا ساتھ سے گزر گیا اور وہ مسکراتی ہوئی اس کے پیچھے چل دی ۔۔۔
آج چونکہ سب فری تھے اس لیے ایک ساتھ ڈنر کرنے کا پلان بنایا گیا تھا اور سب ڈائننگ ٹیبل پر آ چکے تھے ۔۔۔
ہاشم اپنی جگہ پر بیٹھ گیا حور اس کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھنے والی تھی کہ گلِ جلدی سے اس جگہ بیٹھ گئی جب کہ دوسری طرف بیگم فرذانہ بیٹھی تھی
حور نے ہاشم کی طرف دیکھا اور پھر سب ٹھیک ہے کا اشارہ کرتے دوسری چیئر پر بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاشم اپنی جگہ سے اٹھا اور اریبہ کو اٹھنے کا اشارہ کیا جو حور کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھی تھی
اریبہ حیرانی سے اٹھی اور ہاشم حور کے ساتھ بیٹھ گیا پانی کا گلاس پاس کرنا ۔۔۔ ہاشم نے حور کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔
حور نے ہنسی دبائی اور گلاس اس کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔
گل آنکھیں پھاڑے بیٹھی تھی اس کے حلق سے نیچے کچھ اتر ہی نہیں رہا تھا ۔۔
ہاشم نے گلاس پکڑتے ہوئے حور کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۔۔۔
چھوڑیں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔حور بڑبڑائی۔۔۔
اوہ غلطی سے ہوا ۔۔۔ ہاشم نے ہنستے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔
گلِ نے سامنے سے کھانے کی پلیٹ ہٹا دی اور کھڑی ہو گئی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: