Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Episode 9

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – قسط نمبر 9

–**–**–

ارے بیٹا کھانا تو کھا لو بیگم فرذانہ نے اسے جاتے دیکھ کر اسے ٹوکا
میری بھوک ختم ہو گئی ہے وہ اکھڑے انداز میں کہتی ہوئی چلی گئی
حور نے ہاشم کی طرف دیکھا اور ہاشم نے مسکراتے ہوئے آئی بروز اُچکا دیئے ۔۔
حور نے سر کو جھٹکا دیا اور ڈنر کرنے لگی
گل کی اچھی خاصی بے عزتی ہو گئی تھی اس نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور بیڈ سے سب کچھ نیچے الٹ دیا
کیا سمجھتی کیا ہے وہ لڑکی خود کو مجھے سیریئس نہیں لے رہی وہ کتنی بڑی غلطی کر رہی ہو حور تم مجھے ابھی جانتی نہیں ہو جب اندازہ ہوا تمھیں ناں کہ میں کتنی بڑی مصیبت ہوں تمھیں نیند تک نہیں آئے گی وہ چیختے چلاتے بیڈ پر بیٹھ گئی اور پھر مسکرانے لگی
تین دن دیئے ہیں کرنے دو عیاشی گلِ ریلیکس بالکل ریلیکس ، کرنے دو مزے پھر تو سڑکوں پر نکل آئے گی حور ۔۔۔ وہ قہقہ لگا کر ہنسی ۔۔۔
وہاں ڈنر سے فارغ ہو کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ۔۔۔
رات گیارہ بجے کا وقت تھا جب گلِ فریج سے پانی لے کر کمرے کی طرف جا رہی تھی کہ اسے حور کے کمرے کی کھڑکی سے کوئی اندر جاتا دکھائی دیا
گلِ نے جلدی سے پانی رکھا اور اپنے پرس سے کچھ اٹھائے جلدی سے باہر کی طرف لپکی ۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔ یہاں کیا کر رہے تھے ۔۔۔ کوئی چالاکی نہیں گولی سے بھیجا اڑا دوں گی ۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے دروازے سے گزرنے والے کی گردن پر گن رکھ دی
وہ ہاتھ اوپر کر چکا تھا ۔۔
گلِ اسے کھینچ کر باہر لے آئی ۔۔۔
بولو کون ہو تم حور کے کمرے میں کیا کر رہے تھے ہمت کیسے ہوئی تمھاری یہاں چوری کرنے کی ۔۔۔ ہاشم کو جانتے نہیں تم ۔۔۔
وہ خاموش کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
بول ورنہ گولی چلا دوں گی اور کہوں گی چور سمجھ کر اڑا دیا میں نے ۔۔۔
تمھاری ہمت کی داد دینی پڑے گی تم نے چوھدری ریان پر گن تان دی ہے ۔۔۔ وہ بغیر کسی فکر کے بولا ۔۔۔۔
جو بھی ہو کہاں کے چوھدری ہو تم جو یہاں چوری کرنے آ گئے تم ۔۔۔۔
سن لڑکی چوری کرنے نہیں آیا تھا میں ۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ گلِ نے گن نیچے کی ۔۔۔
تو کون ہے یہ بتا اور اتنی ہمت کہاں سے آئی تجھ میں جو تو نے مجھ پر گن تان دی جہاں تک میں ہاشم کے خاندان کو جانتا ہوں تم ان میں سے نہیں ہو ۔۔۔۔
اچھی خبر رکھی ہے سب کی تم نے مگر میری خبر بھی رکھنی چاہیے تھی تمھیں ہاشم میرا فرینڈ ہے اور دوسرے لفظوں میں میرا ہونے والا شوہر ۔۔۔۔
ارے واہ لڑکی تم اتنا نہیں جانتی کہ ہاشم کا نکاح ہو گیا ہے ۔۔۔ ریان ہنسا
نکاح کو طلاق میں بدلتے مجھے کتنا وقت لگے گا کچھ ہی دن رہ گئے ہیں بیچاری کے خیر تم نے کیوں نظر رکھی ہے ہاشم اور پوری فیملی پر ۔۔۔
پھر تو ہاتھ ملا لینا چاہیے ہمیں مجھے حور چاہیے اور تمھیں ہاشم ۔۔۔۔ ریان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا
میں کیسے یقین کر لوں تم غداری نہیں کرو گے ۔۔۔ گلِ شاطر انداز میں بولی
دل کا معاملہ ہے غداری کیسی ۔۔۔
گلِ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اس نے ہاتھ ملا لیا ۔۔۔
مجھے کچھ انفورمیشن چاہیے حور کی تم وہ نکالو میں جو کچھ تمھارے لیے کر سکتی ہوں وہ مجھے بتائو ۔۔ کم ٹو دی پوائنٹ ۔۔۔
ٹھیک ہے تمھیں جو چاہیے مجھے بتا دو اور مجھے جو چاہیے وہ میں لے لوں گا تمھارا کام ہے حور اور ہاشم کو الگ کرنا ۔۔۔
ابھی جائو کل ملتے ہیں اس وقت کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی۔۔
ریان جاتے ہوئے اسے اپنا کارڈ دے گیا اور چلا گیا
اب کیسے بچو گی حور پہلے تو صرف میں تھی اور اب دیکھو ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی کارڈ اٹھائے اپنے کمرے میں چلی گئی اور ریان کا نمبر سیو کر دیا ۔۔۔
پھر سو گئی اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔
صبح گھر میں اچھا خاصا شور و غل تھا گل آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھی اور باہر نکلی
افف یہ بڑھیا پھر آ گئی وہ منہ سوجائے نیچے اتری
سبھی ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے
گلِ خاموشی سی ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی
گل بیٹا دادی سے کیسی ناراضگی ہے بات کرو۔۔۔ بیگم فرذانہ نے کہا
کیسی ہیں آپ۔۔ گلِ تنگ دلی سے بولی
دادی نے جواب نہ دیا وہ شروع سے ہی اس لڑکی کو نا پسند کرتی تھی وجہ صرف اس کا برا رویہ اور تمیز نہ ہونا تھی
گلِ نے جواب نہ ملنے پر منہ مروڑا ۔۔
بیٹا مجھے تو بتایا ہی نہیں کہ نکاح ہوا ہے میرے بچے کا اور اتنی حسیں لڑکی سے ۔۔۔ دادی ہاشم سے مخاطب ہوئی
ارے بس دادو جلدی میں ہو گیا بتانا بھول گیا تھا ۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے میری بہو کو کہیں لے کر بھی گئے ہو یا گھر میں بند کر رکھا ہے ۔۔۔
حور کا گلاس منہ پر ہی رک گیا وہ ہاشم کو دیکھنے لگی
ہاں ناں دادو لے جاتے ہیں اچھا ہوا آپ نے یاد دلا دیا کچھ دن گھوم پھر لینا اچھا ہوتا ہے ۔۔۔ہاشم حور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو اسے پریشانی اور غصے سے دیکھ رہی تھی
کیا ضرورت ہے ان سب کی ہاشم اور آفس میں کتنا کام پڑا ہے تم اس وقت تو نہیں جا سکتے ۔۔۔گلِ نے دادی کی بات کو کاٹ دیا
کیوں نہیں جا سکتا بالکل جا سکتا ہے اور شادی کے بعد وہ جاتے ہیں ناں کیا ہوتا ہے ۔۔۔ دادی سوچنے لگی
دادی ہنی مون ۔۔۔ اریبہ نے قہقہہ لگایا
ہاں ہاں وہی ۔۔ دادی نے گلِ کے جزبات کا اچار ڈالتے ہوئے کہا
حور کا کھانا دوبھر ہو گیا تھا اس نے مشکل سے گلے سے جوس اتارا اور گلاس میز پر رکھا ابھی تو وہ ہاشم کو سمجھنا شروع کر رہی تھی اور اب یہ مصیبت ۔۔۔ حور تو بری پھنسی ہے ۔۔۔ وہ تھوک نگلتے ہوئے خود سے بڑبڑائی۔۔۔۔
ابھی کہاں پھنسی ہیں آپ ۔۔۔ ہاشم نے اسے چڑھایا ۔۔۔
حور نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔ سن لیا آپ نے ۔۔۔ وہ اکھڑ کر بولی
ہاں میں نے سن لیا پر دادی کو بھی سنا دیں ۔۔۔ ہاشم نے اسے کنفیوز کرتے ہوئے کہا
میں نہیں بولوں گی آپ ہی بہانہ بنا دیں ۔۔۔ حور ہنسی دبا کر بولی
میں آپ کے لیے جھوٹ بولوں ۔۔۔ناں قطعاً نہیں ۔۔۔ وہ کان کو ہاتھ لگا کر ہنس پڑا ۔۔۔
یہ کیا کھسر پھسر چل رہی ہے جا کر پیکنگ کرو ۔۔۔ دادی نے دونوں کو ڈپٹا
حور نے ہاشم کی طرف دیکھا تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دیے
حور چیئر سے اٹھی اور اسے گھورنے لگی ۔۔
جا تو رہی ہو میری پیکنگ بھی کر دینا۔۔۔ ہاشم نے اسے ایک اور طعنہ مارا
بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئی کمرے کی طرف چلی گئی اور ہاشم بھی بس میں نے بھی کھا لیا کہہ کر اس کے پیچھے چلا گیا ۔۔۔
گلِ نے ٹیبل سے فون اٹھایا اور اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔
ریان کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے وہ ٹہلتے ہوئے انتظار کرنے لگی ۔۔۔
ریان اس وقت تک سو رہا تھا فون کی رنگ ٹون بجی تو وہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھا اور فون کان سے لگایا
کون ہے کس کو مصیبت ہے سونے دو مجھے ۔۔۔۔ وہ لاپرواہی سے بولا
مصیبت تم پر آنے والی ہے حور اور ہاشم ہنی مون پر جا رہے ہیں ۔۔۔ وہ چیخی
ریان جو بڑے سکون سے لیٹا ہوا تھا یکدم اٹھا ۔۔۔
جو بھی کرنا ہے کرو ہاشم اور حور نہیں جا سکتے ۔۔۔
ہاتھ پاؤں ٹوڑ دوں گا اس کتے کے میں میری حور کے ساتھ جائے گا ۔۔۔ وہ گن اٹھاتے ہوئے بولا اور بیڈ سے اترنے لگا
میں مار ڈالوں گی تمھیں اگر ہاشم کو کچھ ہوا ۔۔۔ گلِ غصے سے بولی
کب جا رہے ہیں وہ ۔۔۔ ریان خود کو سنبھالتے ہوئے بولا
کل جا رہے ہیں شاید ۔۔۔ گلِ کو خود بھی اندازہ نہیں تھا
وہ کہیں نہیں جا سکتے ۔۔۔کہہ کر ریان نے فون رکھ دیا
بے وقوف ہے جاہل ۔۔۔ گل نے فون بیڈ پر پھینک دیا ۔۔۔
میں نہیں جائوں گی ۔۔۔ کسی کی ہمت ہے مجھے زبردستی لے جائے ۔۔ حور نے کپڑے بیڈ پر ڈال دیئے اور منہ بنا کر بیٹھ گئی ۔۔۔
بڑا آیا ۔۔۔ مجھے لے کر جائے گا ایویں لے کر جائے گا دیکھتی ہوں میں بھی ۔۔۔ اب کیا کروں وہ ناخن ہونٹوں میں دبائے یہاں وہاں دیکھنے لگی
ہاشم دروازے میں کھڑا سب سن رہا تھا اور اس کی نادانی پر ہنس رہا تھا
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ وہ سر پکڑتے ہوئے ایکٹنگ کرنے لگی
سر درد ہے تو ٹیبلیٹ لے لو ۔۔۔ وہ یہی کہے گا ۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑائی کچھ اور سوچتی ہوں۔۔۔
ہاں مجھے بخار ہے ۔۔۔ وہ خوامخواہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولی ۔۔۔۔ ارے سر زرا بھی گرم نہیں ہے اففف ۔۔۔ وہ کب سے خود سے بڑابڑا رہی تھی
کیا کروں ۔۔۔ سوچ حور سوچ ۔۔۔ورنہ ۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے سر کو جھٹکا دے کر بولی ۔۔۔۔
صحیح ۔۔۔۔ ہاشم مسکراتا ہوا اندر اینٹر ہوا
حور اچھل پڑی ۔۔۔۔
مم میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ وہ نظریں چراتے ہوئے بولی
اتنی ڈرپوک ہو مجھے تو پتا ہی نہیں تھا ۔۔۔ میں تو سٹرونگ سمجھتا تھا ۔۔۔ ہاشم نے بیڈ پر بکھرے کپڑے اکٹھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
مم میں ڈرپوک نہیں ہوں ۔۔۔ حور بظاہر ہمت کرتے بولی
اچھا پھر ڈر کیوں رہی ہو ۔۔۔ ہاشم نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھ کر پوچھا
میں نہیں ڈر رہی کس نے کہا میں ڈر رہی ہوں ۔۔۔ وہ رخ بدلتے ہوئے بولی
ہائے اللہ مجھے بخار ہے ۔۔۔میرے سر میں درد ہے ۔۔۔ ہاشم نے حور کے انداز میں کہا
حور شرمندگی سے چپ ہو گئی ۔۔۔
اگر نہیں جانا چاہتی تو کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔ وہ کپڑے واپس وارڈروب میں رکھتے ہوئے بولا
حور نے ہاشم کی طرف دیکھا جو مسکراتا ہوا چہرہ لیے اس کے بکھیرے گئے کپڑے واپس رکھ رہا تھا
آپ کو برا لگے گا ۔۔۔ حور نے اس کے جزبات کا جائزہ لیا
مجھے برا نہیں لگے گا میں نہیں چاہتا آپ پریشان ہوں میری وجہ سے ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے جواب دے رہا تھا اور کپڑے رکھ کر وارڈروب بند کر چکا تھا
میں نہیں جانا چاہتی ۔۔۔ حور نے ایک بار پھر اسے آزمایا
کوئی بات نہیں پریشان نہیں ہونا میں خود دادی سے کہہ دیتا ہوں آفس میں کام ہے ۔۔۔۔
حور نے جواب دینے کے بجائے اسے ایک بار پھر گھورا جو دل سے کہہ رہا تھا
میں کہہ کر آتا ہوں ریلیکس بالکل۔۔۔۔ ہاشم کہہ کر کمرے سے چلا گیا
دادی اس وقت فرذانہ بیگم کے ساتھ لائونچ میں بیٹھی تھی جب ہاشم آ کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا
ہو گئی پیکنگ تم لوگوں کی ۔۔۔۔ دادی نے ہاشم سے سوال کیا
نہیں دادو وہ آفس سے کال آئی تھی کلائنٹس نے آنا ہے ہم پھر کبھی چلے جائیں گے ۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے ۔۔۔ دادی نے ناراضگی کا اظہار کیا
بس دادی پیکنگ ہو گئی ہے ہم جا رہے ہیں یہ مزاق کر رہے ہیں ۔۔۔ حور نے بات کاٹ کر کہا ۔۔۔
ہاشم نے مڑ کر دیکھا ۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی آ کر ہاشم کے ساتھ بیٹھ گئی مگر اس کی طرف نہ دیکھا
ہاشم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ابھی اس نے خود منع کیا تھا اور اب ۔۔۔
اچھا بیٹا کب جا رہے ہو ۔۔۔ دادی نے سوال کیا اتنے میں گل بھی آ گئی تھی
ہم کل جا رہے ہیں دادی ۔۔۔حور نے جواب دیا
بیچاری کے خوابوں پر پانی پھر جائے گا ۔۔۔گل مسکراتی ہوئی دوبارہ کمرے میں چلی گئی
ہاشم نے حور کو پائوں مارا ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔حورنے حیرانی سے اسے دیکھا
ہاشم نے آئی بروز اچکائے ۔۔۔
حور اسے منہ چِڑھاتے ہوئے اٹھی اور کمرے کی طرف جانے لگی ۔۔۔
ہاں ہاں تم بھی جائو ہمارے ساتھ کہاں بیٹھتے ہو ۔۔۔ دادی نے ہاشم کو اٹھتے دیکھ کر کہا
ہاشم مسکراتا ہوا حور کے پیچھے چلا گیا ۔۔۔
یہ اچانک کونسا یو ٹرن لیا ہے آپ نے مسز ہاشم ۔۔۔۔ وہ اندر آتے ہی پوچھنے لگا
مسٹر ہاشم میں آپ کے صبر کا امتحان لے رہی تھی ۔۔۔ حور مسکراتے ہوئے پیکنگ کرنے لگی
اور پھر میں پاس ہوا یا پھر اللہ حافظ ہے ۔۔۔۔
اللہ حافظ ہے ۔۔۔ حور ہنس پڑی ۔۔۔
تو سنیں محترمہ ۔۔۔ میں بے شک پاس نہیں ہوا لیکن جب بھی آپ میرے صبر کا امتحان لیں گی حور کے لیے محبت سب سے زیادہ دیکھائی دے گی شدت سے ۔۔۔۔
حور سن کر اسے دیکھنے لگی جس نے آج پھر بے جھجھک کہہ ڈالا تھا ۔۔۔
میں تو کہتا رہتا ہوں آپ کب کہییں گی ۔۔۔
میں کیوں کہوں ۔۔۔ حور ہنسی دبا گئی ۔۔۔
صحیح میرے لیے اتنا بھی بہت ہے کہ میری جان میرے سامنے ہے ۔۔۔
آپ فلرٹ کر رہے ہیں اب ۔۔۔ حور شرما گئی ۔۔۔
فلرٹ بیوی سے ۔۔۔ ہاشم اسے شرماتا دیکھ کر مسکرا دیا ۔۔۔
ہٹیں۔۔۔۔ حور اسے راستے سے ہٹاتے ہوئے باہر چلی گئی ۔۔
ارے بات تو سنیں ۔۔۔ وہ پیچھے سے مسکرایا ۔۔۔
نہیں سننی ۔۔۔وہ مسکراتی ہوئی چلی گئی ۔۔۔
بہت ہنس رہی ہو ہنس لو سب برباد نہ کر دیا تو میں گل نہیں ہوں ۔۔۔ گل دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی اور حور کو ہنستے دیکھ کر بولی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: