Zakham e ishq Novel By Zoya Liaqat – Last Episode 16

0
زخمِ عشق از زویا لیاقت – آخری قسط نمبر 16

–**–**–

گولی چل گئی تھی ہاشم پیچھے مڑا گل زمیں پر گر چکی تھی جب کہ دوسری طرف ریان گر چکا تھا
عین اس وقت پر جب ریان نے گولی چلائی گل نے سامنے آ کر اس پر گولی چلا دی تھی
ہاشم گل کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔
معاف کر دینا ہاشم مجھے میں مر گئی اور تم نے معاف نہیں کیا تو بہت افسوس رہے گا
تم نہیں مر رہی ہم ابھی ہاسپیٹل جائیں گے ۔۔۔
نہیں ٹائم نہیں ہے اتنا میں تو خوش ہوں ہاشم پتا ہے کیوں ۔۔۔ میں نے تمھیں
تمھیں ۔۔۔ پانے کے لیے کتنے گھٹیا کام کیے میرا انجام تو یہی تھا بس افسوس اس بات کا ہے مجھے جب سمجھ آئی بہت دیر ہو چکی تھی مر تو میں تب ہی گئی تھی جب میری وجہ سے تمھیں چوٹ پہنچی ۔۔۔۔ معاف کر دیا ناں تم نے مجھے ۔۔۔ گل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ہاشم نے حور کی طرف دیکھا جو گل کے ساتھ بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
حور خوش رکھو گی ناں ہاشم کو بہت پیار کرتا ہے تم سے ۔۔۔ مجھ سے بھی زیادہ ۔۔۔
بس آج میری محبت رسوا ضرور ہوئی ہے ۔۔۔ لیکن محبت جب جنون بن جائے ۔۔۔ ت ۔۔۔ تو پھر نقصان خود کا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ معاف کیا ناں تم دونوں نے مجھے ۔۔۔
ہاشم اپنی بچپن کی دوست نہیں کھو سکتا ۔۔۔ تمھیں کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ ہم ابھی ہاسپیٹل جائیں گے ۔۔۔ ہاشم ہیلپ کریں میری ۔۔۔ حور اسے اٹھانے لگی ۔۔۔
تم بہت اچھی ہو حور پر ۔۔۔پ پر آج اس بے تکی محبت کا ختم ہونا بہت ضروری ہے ۔۔۔
ہاشم نے حور کے ساتھ اسے سہارہ دے کر اٹھایا ۔۔۔
ہا ۔۔۔ہا شم آپ اپنا ہاتھ دد دو ح ۔۔۔حور تت تم بھی ۔۔۔
دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دے کر وہ مسکرائی ۔۔۔
جلدی چلیں ہاشم ۔۔۔ گل آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
دونوں نے گل کو کار میں پیچھے لٹایا حور اس کے ساتھ بیٹھی ہاشم ڈرائیو کر رہا تھا
کوئی فائدہ نہیں جینے کا ہاشم ۔۔۔ چھوڑ دو ۔۔۔مت بچائو یار۔۔۔ گل مسکرا رہی تھی
کچھ نہیں ہو گا آپ کو ۔۔۔۔اپ نے ہاشم کو بچایا ہم آپ کو کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔۔ حور نے اسے تسلی دی
ہاسپیٹل پہنچ کر دونوں جلدی سے اسے ہاسپیٹل میں لے گئے ۔۔۔ ڈاکٹرز آپریشن میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔
حور ہاشم کے کندھے پر سر رکھے رو رہی تھی
کچھ نہیں ہو گا حور ۔۔۔ جتنا برا اس نے تمھارے ساتھ کیا اس کے باوجود تم اس کے لیے رو رہی ہو ۔۔۔
ہاشم آپ کو بچایا ہے اس نے ۔۔۔ میں نہیں چاہتی وہ مرے ۔۔۔
مجھے پولیں کو اطلاع کرنی ہو گی ریان کے بارے میں ۔۔۔ ہاشم اٹھا اور فون نکال کر چلا گیا
ڈاکٹرز کچھ دیر بعد آپریشن روم سے باہر آئے تو حور جلدی سے کھڑی ہو گئی ۔۔۔
وہ ٹھیک ہے ناں ڈاکٹر ۔۔۔
ڈاکٹر خاموش تھے ۔۔۔
بتائیں ڈاکٹر ۔۔۔مجھے بتائیں ۔۔۔
وہ ٹھیک ہیں خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔
میں اندر جا سکتی ہوں کیا ۔۔۔
جی پر انہیں سٹریس سے دور رکھیں ۔۔۔
حور اندر چلی گئی ۔۔۔
گل اسے دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔
حور اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔
مجھ۔۔۔مجھے معاف کر دیا ۔۔۔ نا۔۔ وہ مسکرائی
تم نے ہاشم کو بچایا ہے گل میں معاف کر چکی ہوں تمھیں ۔۔۔ تم جلدی سے ٹھیک ہو جائو بس ۔۔۔
اتنے میں ہاشم بھی آ گیا ۔۔۔
کیوں مر نہیں سکتی تھی تو ہاں ۔۔۔ ہاشم نے اسے چھیڑا ۔۔۔
نہیں ناں یار ابھی دوستی نبھانی باقی ہے ۔۔۔
پیار کا بھوت اتر گیا ۔۔۔ گڈ ہو گیا ۔۔۔
ہاں بس اب مجھے پیار نہیں کرنا ۔۔۔ تجھ جیسے کو قدر ہی نہیں ہے ۔۔۔
ہاہا ۔۔۔ حور سن رہی ہو فلرٹ کر رہی ہے تمھارے سامنے مجھ سے ۔۔۔ہاشم نے حور سے کہا جو مسکراتی ہوئی دونوں کی باتیں سن رہی تھی
فلرٹ نہیں کر رہی ایک دوست کی حیثیت سے مزاق کر رہی ہے ۔۔۔ حور مسکرائی
ہاں حور ایک دوست کی حیثیت سے ۔۔۔
ہاشم صرف تمھارا ہے ۔۔۔ کوئی نہیں چھین سکتا تم سے ہاشم کو ۔۔۔
تینوں مسکرا دیئے ۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ایک سال بعد :-
ہاشم جلدی کریں ناں بہت ہو گیا دیر ہو جائے گی اٹھیں آفس جانا ہے آپ نے ۔۔۔ حور نے اس پر سے بلینکٹ کھینچ کر گلہ پھاڑ کر اس کے کان میں کہا
ہاشم ہڑبڑا کر اٹھا ۔۔۔
اوئے پاگل آج سنڈے ہے ۔۔۔ہاشم آنکھیں مسلتے ہوئے بولا
اوہ پھر سو جائو ۔۔۔ حور بھاگنا چاہتی تھی ۔۔۔ اور دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔
رکو نیند حرام کر کے کہاں جا رہی ہو ہاں ۔۔ ہاشم بیڈ سے اتر کے اس کے پیچھے بھاگا
حور بھاگتی ہوئی لائونچ میں آ گئی جہاں پوری فیملی بیٹھی تھی
ارے کیوں صبح صبح بھاگم بھاگ لگا رکھی ہے ۔۔۔ ہاشم کی امی نے دونوں کو ڈانٹا ۔۔۔
امی یہ نیند حرام کر کے کہتی ہے سو جائو کیسے سوئوں آپ بتائیں ۔۔۔ ہاشم نے حور کی طرف دیکھ کر منہ سوجائے کہا
ارے امی مجھے لگا کہ آفس جانا ہو گا مجھے کیا پتا تھا سنڈے ہے ۔۔۔ حور نے دادی کے پیچھے چھپتے ہوئے کہا
دادی اسے پکڑ لیں ۔۔۔ ہاشم نے دادی سے کہا
نہیں دادو ہماری کٹی ہو جائے گی ۔۔۔ مجھے بچائیں انہیں کہیں جائیں یہاں سے ۔۔۔
اچھا صحیح رکو پھر ۔۔۔ہاشم صوفہ پھلانگتا ہوا اس کی طرف بھاگا ۔۔۔
حور سیڑھیوں کی طرف بھاگی ۔۔۔
ہاشم نے آخر کمرے میں اسے پکڑ لیا ۔۔۔
سوری سوری چھوڑیں سانس پھول رہا ہے ۔۔۔ حور نے ہانپتے ہوئے کہا ۔۔
بہانے مت بنائو سزا ملے گی اب تمھیں ۔۔۔
ارے آپ یہ گول گول کیوں گھوم رہے ہیں۔۔۔ ایک جگہ رکیں ناں ۔۔۔ حور نے ہنستے ہوئے کہا
کیا ۔۔۔ دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا ۔۔۔ ہاشم نے اس کے گال تھپتھائے جو سوتی جا رہی تھی ۔۔
حور اوئے کیا ہوا ۔۔۔ اب وہ بے ہوش ہو کر لڑکھڑا گئی تھی لیکن ہاشم نے اسے تھام لیا تھا
ہاشم اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹاتے ہوئے پریشانی سے ڈاکٹر کا نمبر ڈائل کرنے لگا
کچھ ہی دیر میں فیملی ڈاکٹر آ گئی ۔۔۔
ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی
کیا ہوا ڈاکٹر حور ٹھیک ہے ناں ۔۔۔ ہاشم نے پریشانی سے پوچھا
نہیں ۔۔ڈاکٹر نے افسردگی سے کہا
تو پھر کیا ہوا ہے حور کو ۔۔۔ ہاشم نے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے دیکھنے لگا جو اچھی تک بے ہوش تھی
پوری فیملی پریشان ہو گئی تھی ۔۔۔
حور بھی ٹھیک ہیں اور آپ کا بے بی بھی ۔۔۔
کیا کیا کیا ۔۔۔ اریبہ اچھل پڑی ۔۔۔
دادی نے خوشی سے فرذانہ بیگم کو گلے لگا لیا ۔۔
مبارک ہو ہاشم ۔۔۔ گل بھی آ گئی تھی اور مسکرا رہی تھی
ہاشم حور کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا
جلدی کر فرذانہ مٹھائی بانٹ پورے محلے میں جلدی پتا تو چلے سب کو ۔۔۔دادی جوش و خروش سے بولی
فرزانہ بیگم اور دادی باہر چلی گئی
میں اپنے فرینڈز کو بتاتی ہوں۔۔۔اریبہ فون اٹھائے باہر نکل گئی
ہاشم حور کا ہاتھ تھامے مسکرا رہا تھا ۔۔۔
بہت خوش ہو ناں۔۔۔۔ گل نے حور کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
بہت ۔۔۔ ہاشم مسکرا کر بولا
مجھے خوشی ہوئی دیکھ کر تم اور حور خوش ہو اور ریان جیسے مصیبت تم دونوں کی لائف سے چلی گئی اب سب ٹھیک ہے بس میں ۔۔۔
تمھیں تو ہونا ہی تھا ہمارے بیچ نہیں آخر حور جا خیال کون رکھے گا ہاشم نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاہاہا ہاں دیکھو میں خالہ بننے والی ہوں ۔۔۔ گل مسکرائی ۔۔۔
اتنے میں حور نے آنکھیں کھولی اور اٹھنے لگی ۔۔۔
اچھا بیٹھو میں بعد میں آتی ہوں ۔۔۔ گل مسکراتی ہوئی چلی گئی
حور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاشم مسکرا رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔ ہنس کیوں رہے ہو ۔۔۔ حور نے آئی بروز اچکائے۔۔۔ اور منہ بنا کر اسے دیکھا ۔۔۔
ایک منٹ ایسے ہی بیٹھی رہنا ۔۔۔ہاشم نے فون نکالا اور اس کے بگڑے ہوئے منہ کی فوٹو کلک کی
کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ حور نے منہ چھپا کر کہا
کاش ایک ایسی ہی ننھی سی حور پری مجھے مل جائے ۔۔۔ ہاشم نے مسکراتے ہوئے کہا
کیا ۔۔۔ حور کو سمجھ نہ آیا ۔۔۔
بتاتا ہوں کان ادھر کرو ۔۔۔ ہاشم مسکرائے جا رہا تھا
حور نے جان اس کے قریب کیا ۔۔۔
میں پاپا بننے والا ہوں ۔۔۔ اور تم مماں ۔۔۔ وہ سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو کو چوم گیا تھا
حور نے حیرانگی سے اسے دیکھا
آپ خوش ہیں ؟ حور نے نظریں چرا کر پوچھا
تمھیں کیا لگتا ہے ۔۔۔
ہممممم شاید ۔۔۔ حور مسکرائی ۔۔۔
میں نے تو نام بھی سوچ لیا ۔۔۔
کیا ابھی سے ۔۔۔ اور آپ کو کیسے پتا ۔۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے پوچھا
مجھے پتا ہے ایک شرارتی سی ننھی سی پری ہو گی ۔۔۔ بالکل مماں کی طرح ۔۔ہاشم نے اس کے گال کھینچتے ہوئے کہا
اور اگر ایک شرارتی باگڑ بِلا آ گیا بابا کی طرح تو ۔۔۔ حور نے قہقہ لگایا
ہاشم بھی ہنسا ۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

دو سال بعد:-

نیند میں ہاشم نے کروٹ بدلی اور نیند میں ہاتھ اٹھا لیا تھا
حور نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔
ہاشم نے آنکھیں کھول دی
کیا ہوا ہاتھ کیوں پکڑ رہی ہو ۔۔۔ بڑا پیار آ رہا ہے ۔۔۔ ہاشم منمنایا ۔۔۔
اوئے مسٹر میری پری پر ہاتھ رکھ رہے تھے آپ ۔۔ سنبھل کر اوکے ۔۔۔ حور نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر کہا
اوہ اچھا یہ پری کب سے میرے چہرے پر ہاتھ رکھے سو رہی ہے میں نے کچھ کہا کیا ۔۔۔
یہ بچی ہے آپ بچے نہیں ہیں بابا بن کر بھی شرارتیں کم نہیں ہوئی آپ کی ۔۔۔۔ خیال سے سوئیں میری پری پر ہاتھ نہ رکھ دینا ۔۔۔
اچھا جناب نہیں رکھتے ۔۔۔ ہاشم نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ بیٹھا
کیا ہوا اٹھ کیوں گئے۔۔۔
دیکھو بالکل تم پر گئی ہے ۔۔۔ وہی آنکھیں ۔۔۔وہی ناک ۔۔۔وہی ہونٹ اور وہی شرارتیں ۔۔۔ ہاشم نے اس کا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا جو ہاشم کی انگلی پکڑے سو رہی تھی ۔۔۔
حور مسکرائی ۔۔۔۔
یونہی مسکراتی رہا کرو مجھے سکون ملتا ہے ۔۔۔۔
اور آپ یونہی دیکھتے رہا کریں مجھے بھی سکون ملتا ہے ۔۔۔حور شرما سی گئی۔۔۔
ہاشم نے حور کا ہاتھ پکڑا ہی تھا کہ بچی رونے لگ گئی۔۔۔
دیکھو مماں کی سائیڈ لے رہی ہے پہلے مماں بھاگتی تھی مجھ سے اب بچی بچا رہی ہے مماں کو ۔۔۔ ہاشم نے ہنستے ہوئے بچی کو اٹھایا اور وہ چپ کر گئی۔۔۔
ارے واہ بابا کے پاس جاتے کی چپ ہو گئی ۔۔۔ حور نے ہاشم کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
جناب یاد ہو تو ساسو ماں نے بلایا تھا آپ کو کل ۔۔۔۔
اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی امی نے بلایا ہے کل آپ مجھے آفس جاتے ہوئے امی کے پاس چھوڑ دینا ۔۔۔
اوکے اور حکم ۔۔۔ ہاشم نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا
ہاں چھوٹا سا حکم ایک اور بھی ہے ۔۔۔
بولیں ۔۔۔ حکم کریں ۔۔۔
اسی طرح مجھے پیار کرتا رہیئے گا ۔۔۔
اس کے لیے حکم کی ضرورت نہیں یہ بڑھتا جائے گا کم نہیں ہو گا ۔۔۔ مسز ہاشم ۔۔۔
حور مسکرائی ۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: