Zandan Novel By Neha Malik – Episode 1

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 1

–**–**–

پلیز آہل پلیززززز……
وہ اپنی نیلی آنکھوں میں معصومیت سموئے اسکی منت کرنے لگی۔
پری مجھے تنگ مت کرو اور میں تم سے ناراض ہوں تم شاید یہ بات بھول گئ ہو۔
آہل نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو میز پر پٹخا۔
یار دیکھو اس میں ناراض ہونے والی کوئ بات نہیں ہے۔تمھیں پتا ہے سیگریٹ صحت کے لیئے کتنی خراب ہے اگر میں نے تمھاری سیگریٹ پینے کی عادت کے مطالق خالہ جان کو آگاہ کر دیا تو اس میں خفا ہونے والی کون سی بات ہے۔
پریہان نے معصومیت سے اپنے آپ کو بری الزمہ کیا۔
ہاں اور تمھاری اس حرکت سے امی کے ہاتھوں جو میری شامت آئی اسکا کیا۔
آہل نے خفگی سے کہا۔
اچھا سوری اب پلیز میری مدد کردو۔
پریہان نے کان پکڑ کر کہا۔
بولو کیا مدد چاہیئے۔
آہل نے احسان کیا۔
اممم۔وہ دراصل کل میرے آفس میں ایک اہم میٹنگ ہے اور جن لوگوں سے میٹنگ ہے وہ جیپنیس ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے جیپنیس آتی ہے تو اب سر نے کہا ہے کہ کل کی یہ میٹنگ میں اٹینڈ کرو گی اور ان
لوگوں سے جیپنیس میں کنورزیشن کروں گی تاکہ اچھا ایمپریشن پڑے تو…….
تو کیا؟
آہل نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
اب تم اتنے بھولے بھی مت بنو ۔تمھیں جیپنیس آتی ہے اور اب تم مجھے یہ سکھاؤ گے ۔سمپل۔
پریہان نے چٹکی بجا کر کہا۔
اب تم مجھے سیکھاؤ گے سمپل۔
جیپنیس سیکھنی ہے انڈا بنانا نہیں سیکھنا جو ایک دن میں سیکھ جاؤ گی۔
آہل نے پری کی نکل اتاری اور پھر آخر میں سنجیدہ ہوا۔
پلیز کچھ تو کرو ورنہ میری بےعزتی ہو جائے گی۔
پری نے رونی صورت بنائ۔
اچھا بھئ کل میٹنگ میں جانے سے پہلے بلوٹوتھ لگا لینا پھر میں سوال سن کر اسکے جواب تمھیں بتاتا رہو گا ۔ٹھیک ہے۔
آہل نے حل بتایا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔تھینک یو۔
پریہان نے چہک کر کہا۔
ویسے پری میں کچھ سوچ رہا تھا۔
آہل نے پری کے چہرے کو نظروں میں لیتے ہوئے کہا۔
کیا؟
یہ کہ اب بچپن کی منگنی شادی میں بدل جانی چاہیے۔آج ہی امی سے بات کرو گا تمھارا کیا خیال ہے۔
آہل کی آنکھوں میں شرارت صاف واضح تھی۔
آہل کی بات سن کر پریحان کا گلابی چہرہ اور گلابی ہو گیا اور وہ اسکی بات کا جواب دیئے بنا وہاں سے بھاگ گئ ۔
ارے جواب تو دے دو۔
آہل پیچھے سے چیخا لیکن پری جا چکی تھی۔
پری کل بہت مزہ آنے والا ہے۔
آہل نے ہنستے ہوئے کہا لیکن شیطانی ہنسی۔
********************­*******
پری بیٹا دیر ہو گئ ہے آج آفس نہیں جانا کیا۔
فاطمہ بیگم نے کمرے کے پردے ہٹاتے ہوئے کہا۔
فاطمہ بیگم کی آواز سن کر پریحان نے فورا آنکھیں کھولیں اور ٹائم دیکھ کر بیڈ سے فورا چھلانگ لگا کر اتری۔
افف۔آج تو اتنی ایپورٹنٹ میٹنگ ہے اور میں لیٹ نا ہو جاؤ۔
پریہان کہتے ہوئے فورا فریش ہونے چلی گئ۔
ایک تو یہ لڑکی ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے۔
میں ناشتہ بنا رہی ہو جلدی سے آجاؤ۔
فاطمہ بیگم کہتی ہوئ کمرے سے چلی گئ۔
……….
ماشاءاللہ میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔
فاطمہ بیگم نے سامنے سے آتی پریہان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
بلیک رنگ کی سمپل سی فراک میں بلیک حجاب میں اسکا دودھ جیسا رنگ اور چمک رہا تھا۔نیلی آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر پنک لپسٹک لگائے وہ واقع ایک پری ہی لگ رہی تھی۔
امی مجھے ویسے ہی بہت دیر ہو گئ ہے میں ناشتہ نہیں کرو گی۔
پریہان نے عجلت میں چائے کا کپ اٹھا کر ایک ہی سانس میں ختم کیا اور فاطمہ بیگم کو اللہ حافظ کر کے فورا بھاگ گئ۔
کیا ہوگا اس لڑکی کا۔
فاطمہ بیگم سر پکڑ کر رہ گئیں۔
********************­********
مس پریحان مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ یہ میٹنگ اچھے سے اٹینڈ کر لیجیئے گا اور یاد رہے یہ بہت امپورٹنڈ کلائنٹس ہیں تو کوئ گڑبر نہیں ہونی چاہیے۔
جی سر۔
پریحان نے کہا اور درود پڑھتی ہوئ وہ میٹنگ روم میں چلی گئ۔
سامنے تین جیپنیس لوگ اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
Riki romomei kashiku fumodo.
(ہائے کیسی ہیں آپ۔)
پریہان کے بیٹھتے ہی مسٹر یونگ نے کہا۔
کیا کہہ رہا ہے یہ۔
پری نے بظاہر مسکراتے ہوئے کال پر کنیکٹڈ آہل سے کہا۔
تم مت پوچھوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے بس میں جو بولو تم وہ بولنا۔
آہل نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔
Ki temo’tomochi meikatochi chimo chikutata fumodo.
(میں آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔)
پری نے مسکراتے ہوئے آہل کا بتایا ہوا جملہ مطلب جانے بغیر فورا کہا۔
وہاں آہل کو ہنسی ضبط کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
پری کی بات سن کر ان تینوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔پھر مسٹر یونگ نے سنبھل کہا۔
Mome takuchiari arichikashichi chiriku rinkukuchikitoji.
(اوکے پھر میٹنگ اسٹارٹ کرتے ہیں۔)
“Ki mototafu metomomei rimomei chimo arichikashichi Ka kutojikitoku۔”
(مجھے صرف انجن اسٹاڑٹ کرنا آتا ہے۔)
پری نے آہل کا بتایا ہوا جملہ کہا۔
پری کا یہ کہنا تھا اور وہاں آہل کا چھت پھاڑ کہکہا پورے کمرے میں گونجا۔
********************­**********
آج میں اس آہل کے بچے کو نہیں چھوڑوں گی ۔سر سے اتنی بےعزتی ہو گئ اس بدتمیز کی وجہ سے۔پتا نہیں ایسا کیا بلوایا اسنے کے وہ سارے چنی آنکھوں والے میٹنگ سے ہی بھاگ گئے۔
پری غصے میں بولتی ہوئی گھر میں داخل ہوئ۔
اس سے پہلے وہ آہل کی ساری کارستانی فاطمہ بیگم کو بتاتی پری کو وہ بہت ٹینشن میں لگیں۔
امی کیا بات ہے۔
پریہان نے فاطمہ بیگم کے پاس جا کر پوچھا جو دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھامیں بیٹھی تھیں۔
کیا ہونا ہے آج پھر آیا تھا وہ ۔دھمکی دے کر گیا ہے کہ اگر تیری شادی اس سے نا کروائی تو ………
فاطمہ بیگم اتنا کہہ کر رونے لگ گئ۔
خدا کی قسم اب اگر وہ میرے سامنے آیا تو میں اسے چھوڑوں گی نہیں۔پتا بھی اسے کہ میں کسی کی منگیتر ہوں اور آپ رونہ بند کریں کچھ نہیں کرے گا وہ۔
پری نے ان سے ذیادہ خود کو تسلی دی۔
******************
******************
خالہ جان ………خالہ جان۔
پریہان نے نفیسہ بیگم کے گھر میں قدم رکھتے ہی چیخنا شروع کر دیا۔
کیا ہو گیا ہے پری آہستہ بولو۔
پیچھے آتی فاطمہ بیگم نے اسے ٹوکا۔
ارے میری بیٹی آئ ہے ۔
نفیسہ بیگم کچن سے نکل کر فورا اسکی طرف بڑھی۔
خالہ جان میں آہل سے کبھی بات نہیں کرو گی۔
پریہان نے انکے گلے لگ کر شکوہ کیا۔
کیا کردیا اب اس نکمے نے ۔
نفیسہ بیگم پری کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولی۔
بس کرو پری ایک مزاق ہی تو کیا تھا بچے نے۔
پریہان کی حیران نظریں دیکھ فاطمہ بیگم نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔
امی یہ آپ کو مزاق لگ رہا ہے ۔خالہ آپکو پتہ ہے اسکی وجہ سے میرے چنی آنکھوں والے کلائنٹس بھاگ گئے۔پتا نہیں اس بدتمیز نے مجھ سے جیپنیس میں ایسا کیا کہلوایا کہ وہ لوگ مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے میں خلائی مخلوق ہوں اور پھر انھوں نے آؤ دیکھا نا تاؤ فورا میٹنگ سے ہی بھاگ گئے اور سر سے میری الگ بےعزتی ہو گئ۔
پری نے آنکھوں میں آئے نہ دیدہ آنسوں صاف کیئے۔
بہت بگڑ گیا ہے وہ۔اچھی والی کلاس لو گی میں اسکی ۔ہر وقت میری بیٹی کو تنگ کرتا رہتا ہے۔
نفیسہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا جب کہ انکو پری کی باتیں سن کر ہنسی تو بہت آئ لیکن وہ ضبط کر گئ تھیں۔
ویسے موصوف ہیں کہا میں خود ٹھیک کرو گی اسے ۔کل سے میری کال بھی نہیں اٹھائی اسنے ڈر کے مارے۔
پری نے کہا۔
اپنے کمرے میں سو رہا ہے۔
نفیسہ بیگم کی بات سن کر پریہان فورا آہل کے کمرے کی طرف چلی گئ۔
یہ لوگ نہیں سدھریں گے۔
فاطمہ بیگم کی بات کر نفیسہ بیگم نے ہاں میں سر ہلایا۔
********************­*******
پری نے آہستہ سے آہل کے کمرے میں قدم رکھا۔
سامنے آہل مزے سے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا۔
کتنے مزے سے سو رہے ہیں یہ موصوف۔۔ابھی بتاتی ہوں اسے تو۔
پری نے سامنے پڑا پانی کا جگ اٹھایا اور پورا آہل پر الٹ دیا۔
کون ہے۔……
آہل ہربڑا کر اٹھ بیٹھا۔
تمھاری موت۔
پری دونوں ہاتھ کمر رکھے اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔
تم کب آئ ۔
آہل کو اب واقع اپنی موت نظر آ رہی تھی پری کے ہاتھوں ۔ایک منٹ لگائے بغیر وہ بیڈ کی دوسری سائڈ سے اترا۔
کیوں کیا تم نے ایسا۔
پری نے پاس پڑا ڈنڈا اٹھایا۔
یا اللہ مجھے پچالے اس چڑیل۔
آہل نے دل میں کہا کیونکہ منہ پر بولنے کا وہ اس وقت رسک نہیں لے سکتا تھا۔
دیکھو پری اس میں میرا کوئ قصور نہیں تھا۔
آہل نے مظلوم صورت بنائ۔
اچھا پھر کس کا قصور تھا۔
پریہان ڈنڈا لے کر آہل کی طرف بڑھی۔
یار قسم سے غلطی ہو آگئ پلزززز مجھ شریف پلس غریب بندے کو معاف کردو۔
آہل کہتا ہوا کمرے سے بھاگ گیا۔
آج میں اس شریف پلس غریب لڑکے کو نہیں چھوڑو گی۔
پری بھی کہتی ہوئ اسکے پیچھے بھاگی اپنے ڈنڈے کے ساتھ۔
********************­**********
امیییی بچاؤؤ……….
آہل بھاگتا ہوا سریوں سے نیچے اترا۔
دیہان سے گر نا جانا۔
فاطمہ بیگم نے فورا کہا۔
خالہ آپکی وہ پری کے روپ میں چڑیل بیٹی میری خون کی پیاسی ہوگئ ہے پلیز مجھے پچا لیں اس سے۔
آہل فاطمہ بیگم کے پیچھے چھپ گیا۔
آج میں تمھیں نہیں چھوڑو گی ۔باہر نکلو چوہے۔
پری نے ڈنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔
شرم کرو پری ۔بڑا ہے وہ تم سے۔
فاطمہ بیگم نےسامنے کھڑی پری کو ڈانٹا جو آنکھوں سے ہی آہل کو سالم نگلنے کا ارادہ کیئے ہوئے تھی۔
خالہ دیکھا آپ نے, امی ہمیشہ اسکی سائڈ لیتی ہیں۔
پریہان منہ بسور کر نفیسہ بیگم کے ساتھ بیٹھ گئ جب کے اسکی نظریں آہل کو ہی گھور رہی تھیں۔
میں ہوں نا آپنی بیٹی کے ساتھ اور فاطمہ مجھ سے اب اور صبر نہیں ہوتا بس جلدی سے میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر میں لانا چاہتی ہوں۔میں تو سوچ رہی ہو اسی مہینے کے آخر میں ان دونوں کا نکاح کردیا جائے اور اگلے مہینے رخستی
۔تمھارا کیا خیال ہے۔
نفیسہ بیگم پرسوچ انداز میں بولی۔
میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔
فاطمہ بیگم نے کہا۔
میں سب کے لیئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔
پری کو اب آہل کی نظریں برداشت کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
پری کے جانے کے تھوڑی دیر بعد آہل بھی نا محسوس انداز سے اٹھ گیا۔
********************­*******
کیا کر رہی ہو۔
آہل نے پری کے کان کے پاس آکر زور سے کہا۔
یا اللہ…..
پری ڈر کر اچھلی۔
آہل کے بچے۔میں تمھارا سچ میں خون پی جاؤ گی۔
تمھیں پتا ہے باہر ہمارے نکاح کی باتیں ہو رہی ہیں۔
پری نے آہل کی بات کا کوئ جواب نہیں دیا۔اسے پتا تھا اگر اسنے کچھ کہا تو آہل نے شروع ہو جانا ہے۔
یار میں تم سے بات کر رہا ہوں۔
آہل نے پری کا رخ اپنی جانب کیا۔
ہاں پتا ہے مجھے اور آہل مجھے کام کرنے دو۔
پری کو اب شرم محسوس ہو رہی تھی۔
پری تمھیں پتا ہے ۔آئ ایم سو لکی۔یو نو اگر تم اتنی پیاری نا بھی ہوتی نا تو میں تم سے ہی شادی کرتا کیونکہ تم خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت بھی ہو۔اور آخری بات آئ لو یو سو مچ۔
آہل کہہ کر فورا کچن سے نکلا کیونکہ اسے پتا تھا اگر اسنے مذید کچھ کہا تو اسکا سر ہوگا اور پری کا ڈنڈا۔
********************­********
بس بھائ یہی روک دو۔
فاطمہ بیگم نے رکشہ گھر کر سامنے رکوایا۔
پری تم اندر چلو میں کرایہ دے کر آتی ہوں۔
فاطمہ بیگم نے چابی پری کو پکڑائی اور خود پیسے نکالنے لگیں۔
کیا ہوا پری تم ابھی تک ایسے ہی کھڑی ہو۔
فاطمہ بیگم نے پری سے کہا جو آبھی تک گیٹ کے پاس کھڑی تھی۔
امی ….دروازہ تو پہلے سے ہی کھلا ہے۔
پری نے پریشانی سے کہا۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہو میں نے تو اپنے ہاتھوں سے اسے بند کیا تھا۔
فاطمہ بیگم بھی حیران ہوئ۔
کیا پتا امی آپ بھول گئیں ہو۔
شاید ……
فاطمہ بیگم نے کہا اور دونوں اندر بڑھ گئیں۔
جیسے ہی دونوں اندر آئ حیران رہ گئیں۔
پری نے فورا فاطمہ بیگم کا ہاتھ پکڑا۔ڈر کی وجہ سے اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا۔
کیا کر رہے ہو تم یہاں؟
فاطمہ بیگم نے سامنے بیٹھے وجود سے پوچھا
۔غصے سے انکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں ہاتھ میں سیگریٹ پکڑے وہ بے باکی سے پری کو دیکھ رہا تھا۔
ارے ساسو میں ماں غصہ چھوڑیں آپکا ہونے والا دماد اپنی پری سے ملنے آیا ہے۔
وہ چلتا ہوا انکے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
دیکھو عالیان شیخ۔میری بیٹی کسی کی منگیتر ہے اور جلد اسکا نکاح ہونے والا ہے خدا کے لیئے بخش دو ہمیں۔
فاطمہ بیگم نے باقاعدہ اپنے ہاتھ جوڑے۔
ہاہاہا……..
یہ بات اپنے ذہن میں بٹھالو بڑھیا کہ پری صرف عالیان شیخ کی ہے اور اگر یہ میری نا ہوئ تو اسے کسی کے لائق بھی نہیں چھوڑوں گا۔
اپنا خیال رکھنا جان من۔
عالیان نے پری کے جانب ہاتھ بڑھایا اور پری نے نخوت سے چہرہ پھیر لیا۔
پھر ملیں گے۔
عالیان کہہ کر لمبے لمبے دگ بھرتا چلا گیا۔
کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں ہم۔
فاطمہ بیگم روتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئیں۔
امی اگر اس نے کچھ۔
پری نے جملہ بیچ میں چھوڑ دیا ۔
میں کل ہی باجی سے بات کرو گی کے اسی ہفتے ہم سادگی سے تمھارا نکاح کریں گے۔
فاطمہ بیگم کو اس مشکل کا یہی حل نظر آیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: