Zandan Novel By Neha Malik – Episode 2

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 2

–**–**–

بیٹا آج تم آفس مت جاؤ۔
پریہان جو آفس جانے کے لیئے بالکل تیار کھڑی تھی۔فاطمہ بیگم کی بات پر حیران ہوئ۔
لیکن کیوں امی؟
بیٹا میں نے باجی سے بات کی تھی اس ہفتے تمھارا اور آہل کا نکاح ہے۔تھوڑی دیر تک آہل تمھیں پک کر لے گا شاپنگ پر لیجانے کے لیئے۔
فاطمہ بیگم نے کہا۔
اچھا۔
پری صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
امی مجھے ابو کی بہت یاد آ رہی ہے۔کاش وہ زندہ ہوتے اور اگر وہ ہوتے نا تو ہمیں بھی عالیان شیخ جیسے لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نا ہوتی۔
پری فاطمہ بیگم کی گود میں سر رکھے نم لہجے میں کہہ رہی تھی۔
بس بیٹا جیسے خدا کی مرضی۔اس معاملے میں ہم انسان بہت بے بس ہیں۔
فاطمہ بیگم کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔
دروازہ بجنے کی آواز پر پری نے اپنے آنسوں صاف کیئے اور دروازہ کھولا۔
اوئے بندریا روئ ہو تم۔
پری کے ساتھ اندر آتے آہل نے کہا۔
میں رونے نہیں رولانے والوں میں سے ہوں۔
پریہان نے تھوڑا اکڑ کر کہا۔
آگیا میرا بچا۔جاؤ پری آہل کے لیئے اچھی سے چائے بنا کر لاؤ۔
فاطمہ بیگم نے آہل کو بٹھاتے پری سے مخاطب ہوئیں۔
جی امی۔
پری کہہ کر کچن میں چلی گئ۔
………………….
اوئے بندریا آج چائے غلطی سے اچھی بن گئ ہے۔
آہل نے سامنے بیٹھی پری سے کہا آخر کہا برداشت تھا اس سے کہ پری چپ کر کے بیٹھ جائے۔
یہ غلطی ہر روز مجھ سے ہوتی ہے اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے۔
پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہہم۔یہ بات تو ہے ۔ویسے خالہ جان ہمارے نکاح والے دن ہماری بندریا پورے 21 سال کی ہو جائے گی۔
آہل بظاہر فاطمہ بیگم سے مخاطب تھا لیکن اسکی نظریں پری پر ہی تھیں۔
یہ بار بار بندریا کس کو کہہ رہے ہو حالانکہ شکل سے تو تم بندر لگتے ہو۔
پری نے آہل کو گھورا۔
بری بات پری ۔پورے چار سال بڑا ہے یہ تم سے لیکن زرا تم لحاظ کرو۔
اس سے پہلے آہل جوابی کاروائی کرتا فاطمہ بیگم نے پری کو ڈبٹا۔
اب تم دونوں بھی جاؤ ۔شام ہونے والی ہے۔
جی میں اپنا پرس لے آؤ۔
پری اپنے کمرے میں چلی گئ۔
********************­********
پورا کمرہ سیگریٹ کے دھوے سے بھرا ہوا تھا ۔
اسکی آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھیں۔بال ماتھے پر بے ترتیب بکھرے ہوئے تھےپر ۔سوچ لکیریں اس کے وجیہہ چہرے پر تھیں۔
اسکا عالیشان کمرہ بھی بکھرا ہوا تھا۔
کون؟؟؟
دروازہ بجنے کی آواز پر عالیان نے جھنجھلا کر پوچھا۔
تم کیا کر رہی ہو یہاں؟
اندر آتے وجود کو دیکھ عالیان نے ہاتھ میں پکڑا سیگریٹ غصے سے ایش ٹرے میں مسل دیا۔
میں تمھیں صبح سے کال کر رہی ہوں اور تم ہو ایک دفع بھی اٹینڈ کرنے کی زحمت نہیں کی۔
الوینہ نی عالیان کا ہاتھ پکڑ شکوہ کیا جسے عالیان نے فورا جھٹک دیا۔
کیا ہوا ہے عالیان تم کچھ پریشان لگ رہے ہو۔
الوینہ نے عالیان کا پریشان چہرہ دیکھ کر کہا۔
جب تک مجھے پریہان چودھری نہیں ملتی تب تک مجھے سکون نہیں ملے گا۔
عالیان کے لہجے میں ضد کا عنصر شامل تھا۔
کیا ہو گیا ہے عالیان تم ایک 28 سال کے میچور مرد ہو پھر ایسی ٹین ایجر والی حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔تم ایک دو ٹکے کی لڑکی کے لیئے اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو۔
الوینہ کے لہجے میں پریہان کے لیئے صرف حقارت تھی۔
الوینہ تم صرف میری ایک دوست ہو اور میرے معاملے میں بولنے کی اجازت میں نے آج تک کسی کو نہیں دی ہے تو آئندہ سوچ سمجھ کر بولنا۔
عالیان نے غصے سے کہا۔
جا رہی ہوں میں۔
الوینہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئ۔اسے پتہ تھا کہ اس سے بحث بیکار ہے۔
سر مجھے کچھ بتانا تھا۔
عالیان کے سکریٹری نے آکر اسکے کان میں کچھ کہا۔
کونسے شاپنگ مال۔
عالیان نے پوچھا اور شیطانی ہنسی ہنس دیا۔
********************­********
اوئے بندریا وہ والا ڈریس دیکھو اچھا لگے کا تم پر۔
آہل نے سامنے لگا پیچ رنگ کے ڈریس کی طرف اشارہ کیا۔
آہل اب اگر تم نے مجھے بندریا کہا نا تو میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی۔
پری نے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگز آہل کے کندھے پر مارے۔
کسی نے یہ منظر بڑی ناگواری سے دیکھا۔
یار اب میں تھک گئ ہوں چلو کہیں بیٹھ کر کچھ کھالیں۔
پری کی بات سن کر آہل اسے قریبی ریسٹورنٹ میں لے آیا۔
اس سے پہلے وہ چیئر پر بیٹھتے ایک ویٹر پری سے ٹکرا گیا اور اس کے ہاتھ میں موجود جوس پری کے کپڑوں پر گر گیا۔
سوری میم۔
ویٹر نے معذرت کی۔
اٹس اوکے۔آہل تم بیٹھو میں اسے واش کرکے آتی ہوں۔
پری کہہ کر واشروم کی جانب بڑھ گئ۔
********************­******
کھٹکے کی آواز پر پری چونک کر پیچھے مڑی اور اس کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔
ہائے مائے لو۔
عالیان آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا پری کی جانب بڑھا۔
اگر تم ابھی کہ ابھی یہاں سے نہیں گئے تو میں شور مچا کر سب کو جمع کر لوں گی۔
پری نے پیچھے کی جانب قدم بڑھاتے اسے دھمکی دی۔
کیوں اپنا تماشہ بنوانا چاہتی ہو جان من۔میرے ساتھ چلو بہت خوش رکھو گا تمھیں ۔تمھارے اس لنگور منگیتر میں کیا رکھا ہے۔
عالیان نے اپنی سیگریٹ کا دھواں پری کے منہ پر چھوڑا۔
میں اپنے منگیتر سے محبت کرتی ہوں اور تم سے شادی سے اچھا ہے کہ میں موت کو گلے لگا لو۔
پری نے نخووت سے کہا۔
تمھیں پتا ہے کہ تم بہت خوبصورت ہو اور خوبصورت چیز میں کبھی چھوڑتا نہیں اور تمھیں تو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔تمھیں تو میں اپنے ساتھ لے کر ہی جاؤ گا کیونکہ اب تم میری ضد ہو۔
عالیان نے آگے بڑھ کر پری کا ہاتھ پکڑا۔
چٹاخ………
عالیان نے حیرت سے اپنے گال پر ہاتھ رکھا جہاں پری کا انگلیاں چھپ گئ تھیں۔
میں تم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی عالیان شیخ۔آئندہ میرا راستہ روکنے سے پہلے یہ تھپڑ یاد کر لینا۔
پری نے عالیان کی سرخ آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور سائڈ سے نکل کر چلی گئ۔
یہ تم ن اچھا نہیں کیا پریہان چودھری۔اب دیکھنا میں تمھارا وہ حشر کرو گا کہ تم موت کی دعا مانگو گی ۔کسی کے لائق نہیں چھوڑوں گا میں تمھیں۔
بہت ناز ہے نا تمھیں اپنے حسن پر تو اسے میں ختم کردوں گا۔
تباہ کردوں کا میں تمھیں پریہان چودھری یہ میرا وعدہ ہے۔
عالیان نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر زور سے دیوار پر ماری۔
******************************
********************­**********
ہاں باجی ساری تیاریاں ہوگئ ہیں۔آپ بالکل پریشان نہیں ہوں۔نہیں باجی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔چلیں ٹھیک ہے ۔خدا حافظ۔
کس سے بات کر رہی تھیں آپ۔
جیسے ہی فاطمہ بیگم نے فون بند کیا اسی وقت پری آکر انکے پاس بیٹھ گئ۔
وہ باجی کا فون تھا۔آہل آ رہا ہے نکاح کا جوڑا لے کر۔خیر سے کل میری بیٹی کا نکاح ہے ۔اللہ میری بیٹی کا نصیب اچھا کرے۔
فاطمہ بیگم نے محبت سے پری کا ماتھا چوما۔
امی جب میری شادی ہو جائے گی تو آپ تو بالکل اکیلی ہو جائیں گی نا۔
پری نے آنکھوں میں نمی لیئے سوال کیا۔
ایک دن تو ایسا ہونا ہی ہے بیٹا اور میں کیوں اکیلی ہو جاؤ گی تم آیا کرنا مجھ سے ملنے اور جب میرا دل کرے گا میں تم سے ملنے آ جاؤ گی۔
فاطمہ بیگم نے پری کی آنکھوں کی نمی صاف کی۔
امی میں خالہ جان سے کہو گی کہ وہ آپ کو بھی ہمارے ساتھ رکھیں۔
پری نے چہک کر کہا۔
نہیں بیٹا میں اپنا گھر چھوڑ کو کہی نہیں جاؤ گی ۔اس گھر میں تمھارے بابا کی بہت سی یادیں ہیں اور ……….
ہیلو بیوٹیفل لیڈیز۔
اس سے پہلے فاطمہ بیگم آگے کچھ کہتی اسی وقت آہل ہاتھ میں بیگز لیئے اندر آیا۔
تھوڑی دیر باتوں کے بعد فاطمہ بیگم نماز پڑھنے چلی گئی اور آہل پری کو لے کر ٹیرس پر آگیا جہاں وہ دونوں چائے پیتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
تمھیں پتا ہے پری کل میری زندگی کا بہت بڑا دن ہے۔
کل تمھارا نام میرے نام سے جڑ جائے گا ہمیشہ کے لیئے۔
آہل نے محبت سے کہا۔
آہل تم مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کرتے رہو گے نا۔
پری نے پوچھا۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں پری کے میں تم سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کروں گا ۔چاہے جیسے بھی حالات ہوں یا چاہے جتنا بھی مشکل وقت ہو تم ہمیشہ مجھے اپنے پاس پاؤ گی۔
آہل کی بات سن کر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ پری کے چہرے پر بکھر گئ۔
********************­********
یہ کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔
فاطمہ بیگم نے پری کے روم میں آکر پوچھا جہاں وہ تیار ہو رہی تھی۔
امی میں آفس جا رہی ہوں۔
دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا کل تمھارا نکاح ہے اور تم آفس جا رہی ہوں اور تم نے تو مجھے کہا تھا کہ تم نے آفس سے چھٹیاں لے لی ہیں۔
پری کی بات فاطمہ بیگم کو طیش دلا گئ تھی۔
ارے میری پیاری سے مما۔اتنا غصہ صحت کے لیئے اچھا نہیں ہے ۔میں بس تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤ گی ۔دراصل بات یہ ہیکہ آفس سے تو میں نے چھٹیاں لے لی تھیں لیکن ایک فائل کا تھوڑا مسئلہ ہو گیا ہو۔بس میں جلدی سے اسے
نبٹا کر آتی ہوں۔
پری……….
پری کہہ کر جانے لگی تو فاطمہ بیگم نے پکارا۔
جی امی۔
پری واپس انکی جانب آئ۔
بیٹا مت جاؤ ۔میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ فاطمہ بیگم کی آواز میں بیچینی تھی۔
کیا ہوگیا ہے امی۔آپ پریشان مت ہو میں بس تھوڑی سی دیر میں آجاؤ گی۔ پری فاطمہ بیگم کے گلے لگ کر چلی گئی۔
********************­*******
افف۔اتنا سا کام تھا لیکن پھر بھی مجھے بلوایا حد ہے۔
پری مسلسل بڑبڑاتے ہوئے چل رہی تھی۔
آج یہ جگہ اتنی سنسان کیوں لگ رہی ہے۔
پری نے آس پاس دیکھا جہاں اس کے سوا کوئ نہیں تھا۔
مغرب بھی ہونے والی ہے امی بھی پریشان ہو رہی ہوں گی۔
یہ سوچ آتے ہی پری نے اپنے قدموں کی رفتار بڑھادی۔
آہ۔ہ…….
پری چل رہی تھی جب پیچھے سے کسی نے اسکی کلائ پکڑ کر کھینچی۔
اپنے سامنے عالیان کو کھڑا دیکھ پری کے جسم میں غصے کی لہر ڈور گئ۔
لگتا ہے اس دن کا تھپڑ تم بھول گئے ہو جبھی دوبارہ میرے سامنے آگئے ہو۔
پری نے ایک جھٹکے میں ایک کلائ چھڑوائ۔
نہیں بالکل نہیں وہ تھپڑ میں بالکل نہیں بھولا پریہان چوہدری۔
عالیان نے پری کے گرد چکر لگاتے ہوئے کہا۔
دیکھو عالیان شیخ کل میرا نکاح ہے تو بہتر یہی ہے کہ تم میرا پیچھا چھوڑ دو ۔خود بھی سکون کی زندگی گزارو اور مجھے بھی گزارنے دو۔
پری کہہ کر جانے لگی لیکن اسکی کلائ ایک بار پھر عالیان کی گرفت میں آگئ۔
آخر کیا چاہتے ہوں تم عالیان شیخ۔
پری نے غصے سے ہاتھ چھڑوانا چاہا لیکن مقابل کی گرفت مظبوط تھی۔
تم نے پوچھا نا پری کے میں کیا چاہتا ہوں ۔میں تمھاری بربادی چاہتا ہوں ۔میں تمھیں کسی کے لائق نہیں چھوڑوں گا ۔میں تمھیں بتاؤ گا کہ عالیان شیخ کو تھپڑ مار کر تم نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے۔
عالیان کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا جس نے پری کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔
پری کو اپنے گرد خطرہ منڈلاتا دکھا اس سے پہلے وہ بھاگتی عالیان نے ہاتھ میں موجود تیزاب کی بوتل پری کے چہرے پر پھینک دی۔
آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔………..­….
یا اللہ…………….
پری کی درد ناک چیخیں اس سنسان جگہ پر گونجنے لگیں۔آس پاس کے درخت اور پرندوں کی بھی آنکھیں نم ہوگئ اور وہ بےحس بنا مزے سے یہ قیامت خیز منظر دیکھ رہا تھا۔
پری اپنا چہرہ تھامے چیختی ہوئ زمین پر بیٹھتی چلی گئ ۔اسکی چیخوں میں اتنا درد تھا کہ پتھر بھی رو پڑتا۔
تم اسی لائق تھی پریہان چودہری ۔
عالیان نے ایک نظر نیم بے ہوش پریہان کے وجود کو دیکھا اور اپنی کار میں بیٹھ کر چلاگیا۔
ام…امی….آپ…..ک­ی….پری……مر….­.. رہی….. ہے۔
پری نے کہا اور حوش و حواس سے بے گانہ ہوگئ۔
********************­********
فاطمہ حوصلہ کرو۔اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو پری کو کون سنبھالے گا۔
نفیسہ بیگم نے فاطمہ بیگم سے کہا جو تھوڑی دیر میں بالکل نڈھال ہو گئ تھیں۔
باجی می۔۔میری بچی……باجی وہ ب۔بہت تکلیف میں ہے ۔اسنے مجھے پکارہ ہوگا…..میں کیوں نہیں تھی اسکے پاس کیوں……
فاطمہ بیگم کی حالت دیکھ کر وہاں سے گزرنے والوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئ تھیں۔
……………….
انھیں ہسپتال سے فون آیا تھا کہ کچھ لوگ وہاں سے گزر رہے تھے تو انھیں پری بےہوش حالت میں ملی تو وہ اسے ہسپتال لے آئے اور پری کے بیگ میں موجود موبائل سے فاطمہ بیگم کو کال کر کے بلالیا۔
…………
آہل بالکل سپاٹ چہرہ لیئے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا۔
ک۔کیسی ہے میری بچی۔
ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھ فاطمہ بیگم فورا اسکی جانب بڑھی۔
پیشنٹ کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن…..
لیکن کیا؟
ڈاکٹر کے چپ ہونے پر فاطمہ بیگم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
انکی لیفٹ سائڈ ایسڈ کی وجہ سے خراب ہو گئ ہے لیکن آپ شکر کریں کے آنکی آنکھیں سلامت ہیں۔لگتا ہے جب ان پر ایسڈ پھینکا جا رہا تھا تو اپنے بجاؤ کی کوشش کی ہوگی۔جبھی انکا چہرہ ذیادہ حد تک خراب نہیں ہوا ورنہ ایسے کیسز میں وکٹم کی آنکھیں اور چہرہ کافی حد تک ڈیمج ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر کہہ کر چلی گئ۔
فاطمہ……
فاطمہ بیگم کو بے حوش ہوتے دیکھ نفیسہ بیگم اور آہل انکی جانب بڑھے۔
********************­*********************
پورے 24 گھنٹے بعد انھیں پری سے ملنے کی اجازت ملی تھی ۔
فاطمہ بیگم جب کمرے میں آئ تو پری خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔
کیسا ہے میرا بچہ؟
فاطمہ بیگم اپنے آنسوؤں پر بہت مشکل سے قابو رکھ رہی تھیں۔
ام۔امی مجھے ب۔بہت تکلیف ہو رہی ہے۔میں نے آپ کو بہت پکارہ تھا امی۔آپکی پری بہت تکلیف میں تھی ۔
روتے روتے پری کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
بس میرا بچہ صبر کرو ۔دیکھنا تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔
فاطمہ بیگم نے پری کے چہرے سے نظریں چرائی۔انھیں لگا اگر انھوں نے اسکا چہرہ مذید دیکھا تو انکا دل بند ہو جائے گا۔
کیا میں آسکتا ہوں۔
پری نے جب سامنے دیکھا تو آہل دروازے میں کھڑا تھا۔
آؤ بیٹا بیٹھو میں ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔
فاطمہ بیگم کہہ کر چلی گئ۔
کیسی ہو؟
آہل نے پری کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
زندہ ہوں۔
پری تلخی سے مسکرا دی۔
پری کا چہرہ دیکھ آہل نے زور سے آنکھیں بھینچ لیں۔
پری میں تمھیں کوئ لمبی وضاحت نہیں دوں گا۔میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں ہرشخص کی طرح میرے بھی کچھ خواب ہیں میرے لائف پارٹنر کے حوالے سے۔تم سمجھ سکتی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
آہل نے اپنی منگنی کی انگوٹھی پری کے ہاتھ میں تھمائ اور بغیر اسکی طرف دیکھے وہاں سے چلا گیا۔
پری آنکھوں میں نمی لیئے اس انگھوٹی کو دیکھ رہی تھی ۔
“پری تمھیں پتا ہے آئ ایم سو لکی اگر تم اتنی پیاری نا بھی ہوتی نا تو میں تم سے ہی شادی کرتا کیونکہ تم خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت بھی ہو۔”
…….
“میں تم سے وعدہ کرتا ہوں پری کہ میں تم سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کروں گا۔چاہے جیسے بھی حالات ہوں چاہے جتنا بھی مشکل وقت ہو تم ہمیشہ مجھے اپنے پاس پاؤ گی”۔
آہل کے کہے گئے الفاظ پری کو یاد آئے اور وہ شدت سے رو دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: