Zandan Novel By Neha Malik – Episode 3

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ فاطمہ بیگم کے ساتھ گھر میں داخل ہوئ۔
اسے اب تک محلے والوں کی نظریں یاد آرہی تھیں جن میں اس کے لیئے ترس اور ہمدردی تھی۔
وہ اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہ رہی تھی لیکن باوجود کوشش کے وہ اپنے آنسوں روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی۔
بیٹا تم آرام کرو میں تھوڑی دیر میں کھانا لے کر آتی ہوں۔
فاطمہ بیگم نے پری کے ماتھے پر بوسا دیا اور اسے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئ۔انھوں نے اپنے آپ کو کیسے سنبھالا ہوا تھا یہ ان سے بہتر کوئ نہیں جانتا تھا۔
پری نے کمرے میں قدم رکھا تو اسکی نظر سامنے بیڈ پر رکھے نکاح کے جوڑے پر گئ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس طرف گئ اور آنکھوں میں حسرت لیئے جوڑے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔یکدم اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
میں نے تمھیں سچے دل سے معاف کیا آہل کیونکہ اس میں تمھارا کوئ قصور نہیں تھا۔تم بھی تو ایک عام مرد تھے۔تم بھی تو ایک حسین زندگی کے خواہشمند ہو اور میری وجہ سے تمہیں شاید وہ زندگی کبھی نہیں ملتی۔
پری نے جوڑا رکھا اور اپنے قدم سامنے لگے آئینے کی طرف بڑھا دیئے۔
ہسپتال میں اسنے جب فاطمہ بیگم سے آئینہ مانگا تو انھوں نے اسکی بات ٹال دی تھی۔
جب اسنے نظر اٹھا کر سامنے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھا تو اسنے بے اختیار اپنے گال کو چھو کر دیکھا۔
نہیں…………
پورا کمرہ اسکی درد ناک چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔
وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے روتے ہوئے نفی میں گردن ہلارہی تھی۔
وہ چہرہ جس کو دیکھ کر گلاب بھی شرما جاتا تھا آج وہ چہرہ جلے ہوئے کاغذ سے بڑھ کر کچھ نا تھا۔
یا اللہ۔
وہ مسلسل روتے ہوئے اپنے رب کو پکار رہی تھی جب اسکی نظر سامنے میز پر پڑی چھری پر گئ۔ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر اسنے چھری اٹھا کر اپنے ہاتھ کی نبض پر رکھ دی۔
اللہ اکبر….. اللہ اکبر
اس سے پہلے وہ کوئ غلط قدم اٹھاتی آذان کی صدا آنی شروع ہو گئی تھی۔
اللہ سب سے بڑا ہے.
اس نے زیر لب کہا اور ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود چھری پر ڈالی اور اسے کھینچ کر دیوار میں مار دیا۔
وہ اپنے گھنٹوں پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
دل ہلکا ہونے کے بعد جب اس نے سر اٹھایا تو اسکی آنکھیں بالکل ساخت تھی۔ٹھرے ہوئے سمندر کی مانند۔سب کچھ جلا کر راکھ کر دینے والیں۔اپنے مجرم کو ختم کر دینے والی نظریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں گے اور ظلم سے اسکا ہاتھ نہیں روکیں گے،تو قریب ہے اللہ ان سب پر اپنا عذاب عام کر دے۔”
اس کو یہ حدیث یاد آئ۔
ہاں میں اٹھاؤں گی ظلم کے خلاف آواز اپنے آپ سے عہد کر کے وہ وضو کرنے چلی گئ۔
آئینہ دیکھ کر رو پڑی ہوں میں
تیرے ظلم کی داستان بنی ہوں میں
تو نے کیا سمجھ رکها ہے مجھ کو
ہر ظلم کا حساب دینا پڑے گا تجھ کو. …..
********************­*******
پری جب نماز پڑھ کر باہر آئ تو سامنے فاطمہ بیگم کو دیکھا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
کیا سوچ رہی ہیں؟
پری انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
کچھ نہیں ۔
فاطمہ بیگم نم آنکھوں سے مسکرائی۔
امی خالہ کیوں نہیں آئ۔
پری نے پوچھا۔
بیٹا….وہ دراصل کچھ مصروف تھیں۔
فاطمہ بیگم کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہیں۔ایک دم بدلتے رویئوں پر حیرت تو انھیں بھی ہوئ تھی۔
امی آپ میرا ایک کام کریں گی۔یہ انگھوٹی آپ خالہ کو واپس کر دیجیئے گا۔
پری نے ہاتھ میں پہنی آہل کے نام کی انگھوٹی فاطمہ بیگم کو تھمائ۔
لیکن پری۔
فاطمہ بیگم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
آہل نے انگھوٹی ہسپتال میں مجھے واپس کر دی تھی۔اب ہمارا بھی تو فرض ہے کہ ہم بھی انکی واپس کر دیں۔ورنہ وہ لوگ کیا سوچیں گے پری تو چور ہے ہماری انگھوٹی واپس ہی نہیں اسنے۔
پری نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔
پری میری جان۔
فاطمہ بیگم نے روتے ہوئے اسے خود میں بھنچ لیا۔
امی آپ ایک وعدہ کریں مجھ سے۔
پری نے بھرائی ہوئ آواز میں کہا۔
بولو میری جان۔
فاطمہ بیگم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
امی مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا۔امی سب نے مجھے چھوڑ دیا امی۔خالہ نے آہل نے سب نے ۔ آہل نے تو اتنے بڑے بڑے وعدے کیئے تهے لیکن سب جهوٹے تهے اگر آپ بھی مجھ سے تنگ آجائیں تو بھلے مجھے مار دیجیئے گا میں اف تک نہیں کہوں گی لیکن امی آپ چھوڑنا مت پلیز ورنہ آپ کی پری مر جائے گی۔
پری فاطمہ بیگم کے گلے لگی شدت سے رو دی۔
نہیں میری جان ایسا کبھی نہیں ہوگا۔میں اپنی جان کو کبھی نہیں چھوڑو گی۔تمھاری ماں ہمیشہ تمھارے پاس رہے گی اپنی آخری سانس تک۔
پری کی حالت دیکھ فاطمہ بیگم کو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔
امی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا امی آخر میری کیا غلطی تھی۔میرا دل کرتا ہے شکوہ کرنے کا۔
پری نے ہلکی آواز میں کہا۔
نہیں بیٹا چاہے کچھ بھی ہو اپنے رب سے کبھی شکوہ نہیں کرنا میری جان۔آپکو یاد ہے وہ حدیث جو بچن میں نے سنائ تھی۔
فاطمہ بیگم کی بات سن کر پری نے نفی میں گردن ہلائ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس بندے پر بھی ظلم کیا گیا اور اسنے صبر کیا تو اللہ تعالیٰ” اسے عزت و شرف میں مزید بڑھا دیں گے اور جس بندے نے بھی سوال کا دروازہ کھولا تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر (غربت کا) دروازہ کھول دیں گے۔”
ہاں میں میں کوئ سوال کوئ شکوہ نہیں کروں گی۔
پری نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اور اٹھ کر بیٹھ گئ۔
امی میں جا رہی ہوں۔تھوڑی دیر تک آجاؤ گی۔
لیکن بیٹا تم جا کہاں رہی ہو۔
فاطمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔
امی میں پولیس اسٹیشن جا رہی ہوں. عالیان شیخ کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے.
پری نے تحمل سے کہا.
تمهارا دماغ خراب ہو گیا ہے. تم اس شخص کے خلاف جا رہی ہو جس نے تمہاری یہ حالت کردی ہے پری.
وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے.کیوں اپنے اور میرے لیئے مشکلات کهڑی کر رہی ہو.تمهارے سوا میرا ہے ہی کون.اگر تمہیں بهی کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہو گا.
فاطمہ بیگم نے بے بسی سے پری کا ہاتھ تهاما.
امی عالیان شیخ اس سے ذیادہ برا کیا کر سکتا ہے.اور امی میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں ظلم کے خلاف ضرور آواز اٹھاو گی.میں نہیں چاہتی کہ پهر کوئ عالیان شیخ کسی پریہان چوہدری کے ساتھ ایسا کرے.
پری نے فاطمہ بیگم کو سمجهانہ چاہا.
لیکن پری وہ بہت طاقتور ہے. وہ تمہیں کبهی کیس جیتنے نہیں دے گا.
فاطمہ بیگم نے پهر کوشش کی.
امی وہ جتنا بهی طاقتور کیوں نا ہو لیکن مجهے اپنے رب پر پورا بهروسہ ہے.وہ مجهے مایوس نہیں کرے گا.
پری کہہ کر چلی گئ.
********************­*******
امی یہ زینیہ کی تصویر ہے.کل آپ میرے ساتھ اسکے گهر چلیئے گا میرے رشتے کے لیئے.
آہل نے ایک تصویر نفیسہ بیگم کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا.
تمهارا دماغ تو درست ہے آہل کیا کہہ رہے ہو تم.کل تم نے مجهے فاطمہ کے گھر بهی جانے نہیں دیا اور اب تم یہ بول رہے ہو یہ جانتے ہوئے بهی کہ تمہاری اور پری کی منگنی بچن کی ہے.
نفیسہ بیگم نے ہاتھ میں موجود تصویر غصے سے ٹیبل پر پٹخی.
امی میری بات دیہان سے سنیں. میں پری سے محبت بالکل کرتا تها اس میں کوئ شک نہیں لیکن آپ بهی تو سوچیں میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کیسے کر سکتا ہو جو میرے لیئے باعث شرمندگی ہو.میں اس کے ساتھ اپنی لائف کیسے گزار سکتا ہوں اور میں منگنی ختم کر کے آچکا ہوں.
اور رہی بات زینیہ کی تو یہ مجھ سے کالج کے ٹائم سے محبت کرتی ہے اور کافی دفع پرپوز بهی کر چکی ہے لیکن پری کی وجہ سے میں نے ہمیشہ منع کر دیا تها .اب پری میرے لائق نہیں ہے تو میں نے اس کو ہاں کہہ دیا ہے.کم سے کم یہ میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل تو سکے گی.
آہل کی آواز میں تکبر صاف واضح تها.
آہل مجهے لگتا یے میری ہی تربیت میں کمی رہ گئ تهی اور میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا خوبصورت چہرہ نیک سیرت کے بغیر ایسا ہے جیسے کہ خوشبو کے بغیر گلاب کا پهول.
آہل نفیسہ بیگم کی بات سن کر لمبے لمبے دگ بهرتا وہاں سے چلا گیا.
********************­***************
جی میڈم بولیئے کیا بات ہے.
مجھے ایک شخص کے خلاف ایف آئی آر کٹوانی ہے.
پری نے بغیر کسی ڈر و خوف کے اپنی بات مکمل کی.
اچها کس سلسلے میں میڈم جی.
پولیس والے نے رجسٹر کهولتے ہوئے پوچھا.
مجھ پر تیزاب پهینکے کے سلسلے میں.
پری نے تحمل سے کہا.
نام کیا ہے اسکا؟
پولیس والے نے پین کی نوک رجسٹر پر رکهی.
عالیان شیخ.
پری نے بتایا.
شیخ انڈسٹری کے مالک؟
پولیس والے نے نظر اٹها کر پری کی جانب دیکها اور اسکے ہاں میں گردن ہلانے پر طنزیہ ہنس دیا.
جاو بی بی جی اپنا اور ہمارا وقت ظائع مت کرو.
پولیس والے نے رجسٹر اٹها کر سائد پر رکھ دیا.
کیا مطلب؟
پری الجهی تهی.
دیکهو میڈم ہم اتنے بڑے شخص کے خلاف ایف آئ آر نہیں کاٹ سکتے.ہمیں ہماری نوکری بہت عزیز ہے اور آپ کو آپکی زندگی بهی یقینن عزیز ہوگی. اتنے بڑے لوگوں سے دشمنی اچهی بات نہیں ہے.جو ہونا تها ہو گیا چنانچہ آپ سب بهول کر اپنی زندگی گزاریں.
مطلب آپ ایف آئ آر نہیں کاٹیں گے.
پوری بات سننے کے بعد پری نے صرف اتنا پوچها.
نہیں.
پولیس والے نے نفی میں گردن ہلائ.
کیا ہو رہا ہے یہاں.
ایس ایچ او نے آکر پوچها.
سر وہ.
پولیس والا گهبرا گیا تها.
میں یہاں ایف آئی آر کٹوانے آئ تهی لیکن انهوں منع کردیا کہ میں اتنے بڑے شخص کے خلاف نہیں جا سکتا.مجهے نہایت افسوس ہیکہ ہمارے معاشرے میں پیسے کی طاقت انصاف سے بڑهہ کر ہے.
پری نے کہہ کر ایک نظر پولیس والے پر ڈالی جو نظریں جهکائے کهڑا تها.
انسپکٹر جمشید میں یہ کیا سن رہا ہوں.وہ جو کوئ بهی ہے آپ اسکی ایف آئ آر کاٹیں ابهی اور اسی وقت.
ایس ایچ او کہہ کر چلا گیا.
جی کیا نام ہے آپ کا.
پولیس والے نے رجسٹر میز پر پٹخا اور دانت پیس کر پوچها.
پری نے دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا جس نے اسکے لیئے آسانی پیدا کی.
***************************
********************­*******
اسلام علیکم امی۔
پری جب گھر واپس آئ تو اسنے فاطمہ کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام۔
فاطمہ بیگم کی آواز میں ناراضگی کا عنصر شامل تھا۔
ہمم۔میری پیاری سی امی ناراض سی لگ رہی ہیں۔
پری نے فاطمہ کو پیچھے سے گلے لگایا۔
پیچھے ہٹو پری۔کر آئ نااپنی مرضی تو اب مجھ سے بات بھی مت کرو۔
فاطمہ نے غصے سے کہا۔
امی ابو اور آپ نے ساری زندگی مجھے سچائ اور حق پر رہنے کا کا سبق پڑھایا ہے۔اور امی یقین جانیں اگر میں مر بھی گئ نا تو مجھے اس بات کا بالکل افسوس نہیں ہوگا بلکہ مجھے اس بات کی تسلی رہے گی کہ میں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
پری کی بات سن فاطمہ بیگم نے اسے گلے لگا لیا۔
میں دیکھ کر آتی ہوں کون ہے۔
دروازہ بجنے کی آواز پر پری کہتی ہوئ چلی گئ۔
باجی آپ۔
پری کے ساتھ نفیسہ بیگم کو آتے دیکھ فاطمہ بیگم انکی جانب بڑھی۔
کیسی ہو میری جان۔
نفیسہ بیگم نے پری کا چہرہ تھامتے ہوئے پوچھا۔
آپ سے ناراض ۔آپ کل مجھ سے ملنے بھی نہیں آئیں جب کہ میں نے آپکا کتنا انتظار کیا تھا۔
پری نے ناراضگی کا اظہار کیا جب کہ دل میں نفیسہ بیگم کو سامنے دیکھ بہت خوش تھی۔
بس تھوڑی مصروف تھی۔پلیز اپنی خالہ کو معاف کردو۔
چلیں کیا یاد کریں گی۔
پری مسکراتے ہوئے انکے ساتھ بیٹھ گئ۔
خیریت کیسے آنا ہوا۔
فاطمہ بیگم چاہ کر بھی اپنی ناراضگی چھپا نہیں پائیں ۔آہل کی حرکت نے انھیں بہت تکلیف پہنچائ تھی۔
وہ میں آہل کی شادی کا کارڈ دینے آئ تھی۔اسی ہفتے اسکی شادی ہے۔
نفیسہ بیگم نے دونوں سے نظریں چرائ تھیں۔۔
بہت بہت مبارک ہو خالہ۔ہم ضرور آئیں گے۔آہل کو بھی میری طرف سے مبارک باد دینا۔
پری نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن صرف کھوکھلی مسکراہٹ۔
جب کے فاطمہ بیگم شکایتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
آپ بیٹھیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔
پری کو لگا اگر وہ مذید بیٹھی تو اپنا ضبط کھو دے گی۔
نہیں بیٹا میں چلتی ہوں مجھے اور بھی گھروں میں جانا ہے۔
نفیسہ بیگم جانے کے لیئے کھڑی ہوں گئ۔
اچھا امی میں سونے جا رہی ہوں میرے سر میں تھوڑا درد ہے۔
نفیسہ بیگم کے جانے کے بعد پری نے کہا۔
فاطمہ بیگم جانتی تھیں بظاہر تو وہ مسکرا رہی ہے لیکن اس کے اندر توڑ پھوڑ مچی ہوئ ہے۔
ٹھیک ہے۔
فاطمہ بیگم کے پاس اسکی تسلی کے لئے بھی الفاظ نہیں تھے۔
……………
کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی پری اس کے ساتھ زمین پر بیٹھتی چلی گئ۔
آنسوں سیلاب کی طرح اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
اتنی جلدی کیوں آہل ۔ابھی میرے تھوڑے زخم تو بھرنے دیتے۔مجھے تھوڑا سا سنبھلنے تو دیتے۔مرنے والے کے لیئے بھی تین دن کا افسوس ہوتا ہے تم نے تو ایک دن بھی صبر نا کیا۔باوجود کوشش کے نہیں سنبھال پا رہی میں خود کو یا اللہ۔۔
پری دونوں ہاتھ منہ پر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ہچکیاں تھیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
اسکی آواز میں اتنا درد تھا کہ باہر کھڑی فاطمہ بیگم بھی رو دیں جو کسی کام سے آئیں تھیں لیکن انھوں نے اسے نہیں روکا وہ جانتی تھیں جب دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے نکلے گا تو خود با خود صبر آ جائے گا۔
********************­*******
پری بیٹا تیار ہوگئ؟
جی امی بس دو منٹ میں آئ۔
فاطمہ بیگم کی آواز پر پری نے جلدی سے آپنے آنسوں صاف کیئے۔
آج آہل کی برات تھی۔فاطمہ بیگم نے جانے سےانکار کر دیا تھا لیکن پری نے انھیں یہ کہہ کر منا لیا تھا کہ نا جاکر اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔
جب وہ لوگ شادی حال پہنچے تو سامنے اسٹیج پر آہل اور زینیہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
سامنے کا منظر دیکھ پری کو اپنے قدم من من بھاری لگ رہے تھے لیکن اسے اپنے احساسات چھپانے آتے تھے کیونکہ وہ پریہان چودھری تھی۔
لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
بہت بہت مبارک ہو آہل۔
پری نے آہل کو گفٹ پکڑاتے ہوئے کہا۔
خیر مبارک۔
آہل نے بھی مسکرا کر گفٹ لیا۔
او تو یہ تمھاری کزن۔
زینیہ نے اوپر سے نیچے تک پری کا جائزہ لیا۔
ہممم۔اچھا زینیہ وہ دیکھو وہ میرے بچپن کی دوست ہے ۔اور وہ……۔۔
آہل نے زینیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے سامنے کی طرف اشارہ کر کے بتانے لگا۔
پری کو وہاں رکنا بے کار لگا اسی لیئے وہ اسٹیج سے اتر کر فاطمہ بیگم کے پاس جا کر بیٹھ گئ۔
…………..
ارے وہ دیکھو ۔یہ لڑکی آہل کی بچپن کی منگیتر ہے۔اتنی خوبصورت تھی یہ لیکن بچاری کے چہرے پر کسی نے تیزاب پھینک دیا اور اب دیکھو آہل نے منگنی ہی توڑ دی۔
پری کو اپنے پیچھے عورتوں کی آوازیں صاف آرہی تھیں لیکن وہ ضبط کیئے بیٹھی رہی۔
تکلیف کے آثار تو فاطمہ بیگم کے چہرے پر بھی تھے۔
فاطمہ تم یہاں کیوں بیٹھی ہو آؤ اسٹیج پر تصویریں بنوا لو۔
نفیسہ بیگم نے آکر کہا۔
نہیں باجی میرے گھٹنوں میں درد ہو رہا ہے۔
فاطمہ بیگم نے رسان سے منع کردیا ورنہ تو انکا دل چاہ رہا تھا کہ کہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کو برباد ہوتے دیکھ کیسے خوش ہونگی۔
رخستی کے وقت پری نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی محبت کو کسی اور ہوتا دیکھا تو ایک آنسوں اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر بے مول ہو گیا۔
********************­*******
امی میری دوست نے مجھے ایک وکیل کے بارے میں بتایا ہے۔
آج میں جاکر اس سے بات کرتی ہوں میرا کیس لینے کے بارے میں۔
کھانا کھاتے وقت پری نے فاطمہ بیگم سے کہا۔
پری تمھیں لگتا ہے عالیان شیخ تمھیں یہ کیس جیتنے دے گا۔
فاطمہ بیگم نے دل میں آیا خدشہ بیان کیا۔
امی مجھے پتا ہے لیکن جہاں برائ ہے وہاں اچھائ بھی تو ہے اور مجھے یقین ہے میں ضرور جیتوں گی۔
پری نے پر امید لہجے میں کہا۔
اچھا امی میں چلتی ہوں۔
پری جانے کے لیئے کھڑی ہو گئ۔
میری ساری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں میری جان۔
فاطمہ بیگم نے نم لہجے میں کہا
********************************************
زینیہ یار بس بھی کرو۔ایک گھنٹہ سے تم اپنا منہ گھسنے میں لگی ہوئ ہو۔مجھے تو لگ رہا ہے تھوڑی دیر بعد تمھاری منہ کی کھال تمھارے ہاتھ میں آجائے گی۔
آہل نے ڈریسنگ ٹیبل
کے سامنے کھڑی کلینزنگ کرتی ہوئ زینیہ سے کہا جو مسلسل ایک گھنٹے سے مختلف چیزیں اپنے چہرے پر مل رہی تھی۔
کیا ہو گیا ہے آہل آپ کو پتا تو ہے میں اپنے فیس کے بارے میں کتنی کونشیئس ہوں۔ابھی بھی ایک پمپل نکل آیا ہے فیس پر اتنی ٹینشن ہو رہی ہے مجھے۔
زینیہ کی بات سن کر آہل کو ایک دم پری کا خیال آیا ۔
آہل نے کبھی پری کو ایسا کچھ کرتے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔اور وہ تھی بھی اتنی خوبصورت کہ اسے کبھی کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں تھی۔
آہل صاحب آپ کو بڑی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔
رضیہ(ملازمہ) نے کمرے میں آکر کہا۔
زرا شرم و لحاظ ہے تم میں یا نہیں۔ایسے کوئ بغیر اجازت کسی کے کمرے میں آتا ہے اگر آئندہ تم نے ایسی حرکت کی تو میں تمھارا منہ توڑ دوں گی۔
زینیہ نے ساری تمیز بلائے تاک رکھتے ہوئے سامنے کھڑی ملازمہ سے کہا جس کا چہرہ اس ہتک آمیز رویے سے جھکا ہوا تھا۔
کیا ہو گیا ہے زینیہ ۔تم یہ بات آرام سے بھی تو کہہ سکتی تھی۔
آہل کو زینیہ کا انداز ایک آنکھ نھیں بھایا۔
آہل ایسے لوگوں کو انکی اوقات پر رکھا جاتا ہے۔ورنہ سر پر چڑھ کر ناچتے ہیں۔
زینیہ نے نخووت سے کہا۔
آہل نفی میں گردن ہلاتا کمرے سے چلا گیا۔
********************­*******
پہلی بات تو یہ کہ آپ انکے خلاف جیت نہیں سکتی اور دوسرا یہ کہ میں عالیان شیخ کے خلاف مقدمہ نہیں لڑو گا۔
مجھے میری اور میرے گھر والوں کی جان بہت پیاری ہے۔
سامنے بیٹھے وکیل کی بات سن کر پری نے تاسف سے سر ہلایا۔
آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں۔یہ سوٹ پہن کر آپ کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔
پری نے اسے شرم دلانی چاہی۔
میڈم جی یہ انصاف بہت مشکل چیز ہے۔یہ کوئ ڈرامہ نہیں حقیقت ہے اور حقیقیت میں انصاف صرف پیسے والوں اور بڑے لوگوں کو ملتا ہے آپ جیسے اور ہمارے جیسے صرف دھکے کھاتے ہیں لیکن ہار ہی مقدر ٹھہرتی ہے۔
وکیل نے کہا۔
سب سے بڑی ذات اوپر بیٹھی ہے اور آپ بھی دیکھیئے گا اس دفع ایسا نہیں ہوگا۔
پری کہہ کر چلی گئ۔
میڈم جی…….
پری جیسے ہی آفس سے باہر آئ چوکیدار بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آیا۔
میڈم جی آپ یہ کارڈ رکھیں ۔یہ بہت بڑے وکیل ہیں اور مجھے پکا یقین ہے یہ آپکا کیس ضرور لڑیں گے۔بہت ایماندار اور سچے وکیل ہیں یہ۔
چوکیدار کارڈ پری کو پکارا کر چلا گیا۔
احمد غازی…….
کارڈ پر لکھا نام پری نے زیر لب کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: