Zandan Novel By Neha Malik – Episode 4

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 4

–**–**–

ہاہاہا……..
پورے ہال میں عالیان شیخ کی آواز گونجی ۔
اسکی آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھیں۔
کونے میں کھڑے اسکے وکیل اور سکیٹری کو اس سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
اب وہ معمولی سی لڑکی عالیان شیخ کے خلاف جائے گی۔
عالیان شیخ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجے گی۔
عالیان سیگریٹ پیتا ٹہل رہا تھا۔
لیکن سر اگر وہ یہ کیس جیت گئ تو۔
وکیل نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
ہاہا۔کیسے جیتے گی وہ کیس۔کیا اس کے پاس کوئ گواہ یا ثبوت ہے اور عالیان شیخ کبھی ہارا ہے جو اس دفع ہارے گا۔
اسکا لہجہ غرور سے چور تھا۔
سر اگر آپ کہیں تو میں ان ماں بیٹی کا دماغ درست کردوں۔
عالیان کے سکریٹری نے کہا۔
نہیں یہ کام تم نہیں کرو گے میں خود جاؤ گا انسے ملنے۔بہت پیار سے سمجھاؤ گا انہیں۔
عالیان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سر اگر وہ لوگ نہ مانیں تو……
وکیل نے دل میں آیا سوال کیا۔
تو……میں انہیں کیس لڑنے سے نہیں روکوں گا کیونکہ یہ کیس تو انھوں نے ہارنہ ہی ہے۔آخر انہیں بھی تو پتا چلے کہ انھوں نے کس سے پنگاہ لیا ہے۔وہ لوگ ایسی منہ کی کھائیں گے کہ آئندہ کوئ بھی میرے خلاف جانے سے پہلے دس دفع سوچے گا۔
اسنے ہاتھ میں موجود سیگریٹ جوتے سے مسل دیا۔
********************­********
پری جب گھر میں آئ تو رقیہ(پڑوسن )کو روتے دیکھ حیران رہ گئ۔
کیا ہوا رقیہ تم تو کیو رہی ہو۔
پری وہی اسکے ساتھ بیٹھ گئ۔
پری تم ہی سمجھاؤ اسے ۔بالکل پاگل ہو گئ ہے یہ۔
فاطمہ کہہ کر چلی گئ۔
اب بتاؤ کیا ہوا ہے تمھیں اور یہ چوٹ کیسے لگی۔
پری نے رقیہ کی کلائی پر بندھی پٹی پر اشارہ کیا۔
وہ میں نے اپنی کلائ کی نس کاٹ لی تھی۔
رقیہ نے شرمندگی سے اپنا چہرہ جھکالیا تھا۔
کیا….لیکن کیوں کیا تم نے ایسا۔
پری کو اس پر بہت حیرانگی ہوئی تھی۔
وہ آپ کو تو پتا ہے میرا گھر والا میرا بالکل خیال نہیں رکھتا۔کل بھی میرا اس سے جھگڑا ہوگیا تھا تو میں غصہ میں …….میرا بالکل دل نہیں کر رہا تھا زندہ رہنے کا۔کیا فائدہ ایسی زندگی کا کس میں سکون نا ہو۔
رقیہ بولتی ہوئ رو پڑی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں تمھیں کیا کہو۔تم اس قدر بے وقوف ہوگی مجھے اسکا اندازہ نہیں تھا۔تم کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کر سکتی ہو کیا اس چیز کا حق تمھیں تمھارے رب نے دیا ہے۔
زندگی تمھیں بوجھ لگ رہی ہے نا اسکی اہمیت کا تم اس شخص سے پوچھو جو ہسپتال
کے بستر پر اپنی آخری سانسیں گن رہا ہوتا ہے۔اس وقت وہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ کاش اسے تھوڑی اور زندگی مل جائے اور وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کر دے اس سے پوچھو تم زندگی کی اہمیت یا پھر تم اس سے پوچھو جو مر رہا ہوتا ہے اور اسے یہ فکر ہوتی ہے کہ اسکے پیچھے اسکے ماں باپ بیوی بچوں کا کون خیال رکھے گا۔اس وقت اس بندے سے پوچھنا کہ زندگی کتنی بڑی نعمت ہے۔
مرنا تو سب نے ہی ہے لیکن اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔
دیکھو رقیہ اگر تمھارا شوہر تمھارا خیال نہیں رکھتا تو تم اسے پیار سے سمجھاؤ نا کہ ایسی بے وقوفی کرو۔
پری نے اسے تحمل سے سمجھایا۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔میں ہی بے وقوف تھی میں نے اس سے بات کرنے کے بجائے ایک غلط قدم اٹھا لیا۔
رقیہ نے شرمندگی سے کہا۔
آپ……
رقیہ نے درازے کی جانب دیکھا تو اپنے شوہر کو کھڑا دیکھ حیران ہوئ۔
مجھے معاف کر دو رقیہ ۔اگر تمھیں مجھ سے شکایتیں تھیں تو مجھے بتاتی اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو میں کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاتا۔
ساجد اندر آیا اور رقیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
ساجد بھائی آپکا فرض ہے کہ آپ اسکا خیال رکھیں ۔یہ اپنا گھر ماں باپ سب کچھ چھوڑ کر آپکے پاس آئ تو اب اس کا خیال رکھنا آپکا فرض ہے۔
پری نے کہا۔
تم صحیح کہہ رہی ہو۔مجھ سے ہی غلطی ہو گئ
ساجد شرمندہ سا ہوا۔
چلو گھر چلیں ۔
ساجد نے رقیہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں پری کا شکریہ ادا کر کے چلے گئے۔
مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ میری بیٹی اتنی سمجھ دار ہے۔
فاطمہ بیگم نے پیار سے کہا۔
وقت اور حالات انسان کو سمجھ دار بنادیتے ہیں امی۔
پری نے کہا۔
اچھا یہ بتاؤ کہ وکیل سے بات ہوئ …..کیا کہا اسنے۔
فاطمہ بیگم نے پوچھا۔
کہنا کیا ہے امی آج کے زمانے میں سب لوگ بکے ہوئے ہیں۔لوگوں کو خدا سے ذیادہ انسانوں کا ڈر ہے۔۔
پری تلخی سے مسکرا دی ۔
تو اب کیا کرو گی ؟
فاطمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔
یہ ایک وکیل ہے۔کل اس سے جا کر بات کروں گی۔
پری نے بیگ سے کارڈ نکالا۔
اگر اس نے بھی انکار کردیا تو۔
فاطمہ بیگم پری کے ہاتھ سے کاڑد لے کر دیکھنے لگی۔
یہ نہیں تو کوئ اور سہی۔لیکن میں ہار نہیں مانو گی۔
پری نے ایک عظم سے کہا۔
اللہ تمھیں کامیاب کرے۔
فاطمہ بیگم نے دل سے دعا دی۔
********************­********
سامنے پڑی فائل بند کر کے اسنے سائڈ پر رکھ دی۔
تھکن اسکے وجیہہ چہرے پر صاف واضح تھی۔
سامنے گھڑی چھ کا ہندسہ دکھا رہی تھی۔
ساری فائلز ایک طرف جمع کر کے وہ کھڑا ہوا۔
اسکی آنکھیں کئ راتوں سے جاگنے کی چغلی کھا رہی تھی ۔
سر ……
پیون کی آواز پر اسنے اپنی بھوری آنکھیں اٹھا کر سامنے دیکھا۔
ہاں کہو۔
سر وہ ایک لڑکی آئ ہے اپنے کیس کے سلسلے میں لیکن آپ تو بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں اور آپ جا بھی رہے ہیں تو میں اسے منع کر دیتا ہوں اور کل آنے کا کہہ دیتا ہوں۔
پیون نے کہہ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
نہیں اسے بھیج دو۔
جی ٹھیک ہے۔
اسکا جواب سن کر پیون چلا گیا۔
ایسا ہی تھا وہ سب کو اپنےآپ پر ترجیح دینے والا۔
مے آئ کم ان۔
دروازے پر رک کر پری نے کہا۔
یس …..
آپ کا نام…….
پری نے کنفرم کرنا چاہا تھا کہ وہ صحیح بندے سے مخاطب ہے ۔
مائے نیم از احمد غازی۔
احمد نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
پریہان چودھری۔
اسنے بھی کانفیڈنس سے کہا۔
پری کو اسکی نظریں دیکھ کر تعجب ہوا تھا کیونکہ اب اس پر اٹھنے والی ساری نظروں میں صرف افسوس، ترس ڈر اور رحم ہوتا تھا لیکن ان نظروں میں ستائش صاف واضح تھی۔
ایک بات بولوں آپ کو۔
احمد نے اپنے ہاتھوں کی مٹھی بنا کر سامنے میز پر رکھی۔
جی ۔
پری نے چونک کر اسے دیکھا۔
مجھے آپ پر فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ایسے کیسسز میں زیادہ تر لڑکیاں یا تو خودکشی کر لیتی ہیں یا پھر مینٹلی ڈسٹرب ہو جاتی ہیں لیکن آپ کو دیکھ کر میں آپکی ہمت کو داد دیتا ہوں۔
احمد نے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
تھینکس ۔
پری بھی مسکرادی۔
سو کس کے خلاف آپ کیس لڑنے لگی ہیں۔
احمد نے پوچھا۔
عالیان شیخ۔
پری کو لگا تھا کہ اسکا نام سننے کے بعد وہ بھی باقیوں کی طرح کیس لڑنے سے منع کر دے گا۔
ہمم۔عالیان شیخ۔…….شیخ انڈسٹری کا مالک۔نام تو بہت سنا ہے اسکا۔
خیر یہ بتائیے کہ اسنے آپ پر ایسڈ کیو پھینکا تھا۔
احمد نے پوچھا۔
کیونکہ میں نے اس سےشادی سے انکار کر دیا تھا۔
پری نے بتایا۔
آپ نے انکار کیوں کیا تھا؟
ایک اور سوال پوچھا گیا۔
کیونکہ میں بچپن سے انگیجڈ تھی۔
دل میں کہیں پھانس سی چبھی۔
صرف یہ ہی وجہ تھی یا کچھ اور؟
ایک اور سوال۔
جی یہ بھی وجہ تھی اور یہ کہ میں ایک ایسے شخص سے شادی بالکل نہیں کر سکتی تھی جسے عورت کی عزت کرنا نا آتا ہو۔
پری نے کہا۔
کوئ ثبوت یا گواہ ہے آپ کہ پاس۔
احمد نے پوچھا۔
نہیں میرے پاس کوئ ثبوت یا گواہ نہیں ہے۔
پری نے نفی میں گردن ہلائ۔
جب یہ سب ہوا تو اس جگہ پر کوئ تو موجود ہوگا۔
احمد نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔
نہیں اس وقت وہاں کوئ نہیں تھا۔
پری نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے۔کل آپ چار بجے میرے آفس آجائیے گا۔
احمد نے گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
یعنی کہ آپ میرا کیس لڑیں گے۔
پری نے حیرت سے پوچھا۔
ظاہری بات ہے ۔آپ سب کو انصاف دلوانے کے لیے ہی میں یہاں موجود ہوں۔
احمد کہہ کر چلا گیا۔
یا اللہ تیرا شکر ہے کہ آپ نے میرے لیئے وسیلہ بنادیا۔
پری نے دل میں کہا۔
********************­*******
**
دروازہ بجانے کے لیئے جیسے ہی پری نے ہاتھ اٹھایا لیکن دروازہ کھلا دیکھ پری کو حیرت کا دھچکا لگا کیونکہ فاطمہ بیگم کبھی بھی دروازہ کھلا نہیں چھوڑتی تھیں۔
کچھ غلط ہونے کے احساس سے پری فورا گھر کے اندر گئ اور سامنے کا منظر دیکھ کر اسے سانسیں رکتی ہوئ محسوس ہوئ۔
سامنے صوفے پر فاطمہ بیگم دونوں ہاتھوں میں سر گرائے رو رہی تھیں اور عالیان انکی سر پر گن رکھے کھڑا ہے۔
امی……..
پری کی آواز پر دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔
آئیے آئیے آپ ہی کا انتظار تھا۔
عالیان آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا پری کی جانب بڑھا۔
رک جاؤ عالیان شیخ خبردار جو میری بیٹی کو ہاتھ بھی لگایا۔
فاطمہ بیگم نے چیخ کر کہا۔
ششش…….ایک دم خاموش ہو جاؤ بڑھیا ورنہ ایک گولی سے تمھیں ہمیشہ کے لیئے خاموش کروا دوں گا۔
عالیان غصے سے فاطمہ بیگم کی طرف بڑھا۔
دیکھوں عالیان تمھیں جو بات کرنی ہے مجھ سے کرو ۔میری ماں کو ان سب میں مت لاؤ۔
پری کی بات سن کر عالیان اسکے پاس پھنچا ایک اور ایک جھٹکے میں پری دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
عالیان کی سانسیں پری کا چہرہ جھلسا رہی تھیں۔
سنا ہے چڑیاں کے بہت پر نکل آئیں ہیں۔عالیان شیخ کے خلاف جانے کی حماقت کرنے لگی ہو۔تو سوچا کیوں نا پیار سے سمجھا دیا جائے کہ ہار کہ سوا کچھ نہیں ملنا۔
عالیان پری کی گردن پر گن رکھے طنزیہ ہنسا۔
تم کچھ بھی کہہ لو لیکن میں اپنے مقصد سے ایک انچ بھی نہیں ہلو گی۔
پری نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
جیسے تمھاری مرضی لیکن زرا سوچو کہ کچھ دن بعد اخبار میں یہ خبر آئے کہ ایک لڑکی کار ایکسیڈنٹ میں مر گئ یا پھر اس سے بھی برا۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔
فاطمہ بیگم نے روتے ہوئے کہا۔
یہ تو وقت بتائے گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔
عالیان نے آنکھوں پر چشمہ لگایا اور ہنستا ہوا چلا گیا۔
پری میری بچی۔
فاطمہ بیگم بھاگتی ہوئ پری کے پاس گئ اور اسے گلے لگا کر رونے لگیں۔
۔امی آپ پریشان مت ہوں ۔وہ کچھ نہیں کر سکتا پری نے فاطمہ بیگم کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: