Zandan Novel By Neha Malik – Episode 5

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 5

–**–**–

ویسے پریہان تم جب اپنا چہرہ شیشے میں دیکھتی ہوگی تو تمہیں غصہ تو آتا ہوگا نہ کہ تمھارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔
زینیہ نے سامنے بیٹھی پری سے کہا۔
تھوڑی دیر پہلے ہی آہل اور زینیہ فاطمہ بیگم کے گھر آئے تھے۔
سب لوگ لاؤنچ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
زینیہ ہم نعمت ملنے پر شکر اور چھین جانے پر کفر کرتے ہیں حالانکہ انسان کو ہر حال میں شکر کرنا چاہیئے۔ہاں شروع میں ۔میں روئ تھی اور غصہ بھی آیا تھا لیکن اب مجھے یہ بات سمجھ آ گئ ہے کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ھی آزمائش میں ڈالتا ہے۔یہ دیکھنے کہ لیئے کہ وہ کتنا اس آزمائش پر پورا اترتا ہے۔
پری کے جواب نے زینیہ کی بولتی بند کردی تھی اور وہ پہلو بدل کر رہ گئ۔
پریہان مجھے بہت دکھ ہے تمھارے لیئے آئ مین تمھاری اور آہل کی بچپن سے منگنی تھی اور تمھارے ساتھ یہ سب ہوگیا تمھیں کتنا دکھ ہوا ہوگا نا۔
زینیہ نے افسوس ظاہر کیا۔
اس میں دکھ والی کون سی بات ہے۔یہ آہل کی لائف ہے اور اسے پورا حق ہے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا۔اور زینیہ بعض حادثے آپ کو اپنے اور پرائے کا فرق بتا دیتے ہیں۔
پری کی بات سن کر آہل نے نظریں چرائ۔
اچھا پری…….
زینیہ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
اس سے پہلے زینیہ پھر کچھ بولتی آہل نے اسکا ہاتھ دبا کر خاموش کروا دیا۔
********************­********
امی آپ تیار ہو گئ۔
پری نے فاطمہ بیگم کے روم میں آکر پوچھا۔
امی کیا ہوا؟
فاطمہ بیگم کو بیڈ پر لیٹا دیکھ پری فورا انکی جانب بڑھی۔
کچھ نہیں پری بس سر میں تھوڑا درد ہے تو اس وجہ سے اٹھا نہیں جا رہا تھا ۔تم روکو میں بس جلدی سے تیار ہو جاتی ہوں۔
فاطمہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا۔نقاہت انکے چہرے پر صاف واضح تھی۔
نہیں امی آپ آرام کریں ۔میں اکیلی چلی جاؤ گی۔
پری نے انھیں دوبارہ لٹایا۔
لیکن پری آج تو کورٹ کا پہلا دن ہے تم اکیلی کیسے جاؤ گی۔
فاطمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔
امی میں اکیلی کہاں ہوں ۔میرا رب میرے ساتھ ہے۔آپ آرام کریں اور میرے لیئے دعا کیجیئے گا۔
پری نے فاطمہ بیگم کا ہاتھ تھام کر کہا۔
میری ساری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں۔دیکھنا انشاء اللہ میری بیٹی ہی یہ کیس جیتے گی۔
فاطمہ بیگم نے اپنا ہاتھ پری کے سر پر رکھا۔
اچھا آپ بیٹھیں میں آپ کے لیئے دوائ لے کر آتی ہوں ۔
پری فاطمہ بیگم کو دوائ کھلا کر چلی گئ۔
********************­********
زینیہ میں نے منع کردیا تو کردیا۔
آہل نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا موبائل بیڈ پر پھینکا۔
تم ہوتے کون ہو مجھے منع کرنے والے۔یہ میری زندگی ہے اور میں اس میں کسی کی بھی مداخلت برداشت کرنے کروں گی۔
زینیہ نے آہل سے بھی تیز آواز میں کہا۔
دیکھو زینیہ مجھے اس طرح تمھارا پارٹی میں جانا باکل پسند نہیں ہے۔اگر تمھارا بہت دل چاہ رہا ہے باہر جانے کےلئے تو میں تمھیں لے جاتا ہوں۔
آہل نے اسے آرام سے سمجھانا چاہا۔
آہل میری سب فرینڈز آرہی ہیں اور میں تمھاری چھوٹی ذہنیت کی وجہ سے اپنی لائف اسٹائل کو ختم نہیں کر سکتی۔
زینیہ نے نخووت سے کہا۔
زینیہ دیکھو میں تمھارا شوہر ہوں اور پری کو بھی میری اس بات کا پتا تھا کہ مجھے یو لڑکیوں کا ایسے اکیلے پارٹیز وغیرہ میں جانا پسند نہیں ہے اور نا اسکی کوئ ایسی ایکٹیویٹیز تھیں اور نا اسے میری اس بات سے کوئ ایشو تھا۔
آہل نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔
یو نو واٹ آہل تم مجھے ڈیزرو ہی نہیں کرتے۔تمھاری شادی اسی مڈل کلاس پری سے ہونی چاہیئے تھی کیونکہ تم اسی کے لائق ہو اور میری ایک بات ذہن نشین کر لو کہ میں تمھاری فضول سی خواہشات کی وجہ سے اپنی لائف خراب نہیں کر سکتی۔
زینیہ نے کہہ کر چلی گئ۔
آہل نے جب دروازے کی جانب دیکھا تو وہاں نفیسہ بیگم کو کھڑا پایا جو یقیناً انکا شور سن کر ہی یہاں آئ تھیں ۔
نفیسہ بیگم نفی میں گردن ہلاتی ہوئ وہاں سے چلی گئ۔
آہل دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیڈ پر بیٹھ گیا۔
********************­********
آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے انشاء اللہ آپ کو انصاف ضرور ملے گا۔
احمد نے پری سے کہا۔
وہ دونوں اس وقت کورٹ روم میں جا رہے تھے۔
نہیں میں پریشان نہیں ہو۔
پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پری نے جب سامنے دیکھا تو اسے عالیان شیخ نظر آیا جو مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
مس پریہان آپ ایک منٹ ویٹ کریں میری ایپورٹنٹ کال آرہی ہے۔
احمد کہہ کر چلا گیا۔
سو مس پریہان چودھری آپنے اپنی ناکامی کو خود دعوت دی ہے۔اگر تم چاہو تو کچھ لے دے کر معاملہ رفع دفع کرسکتی ہو آگے تمھاری مرضی کیونکہ یہ کیس میں نے ہی جیتنا ہے۔
احمد کے جاتے ہی عالیان پری کی جانب بڑھا تھا۔
مسٹر عالیان شیخ مائنڈ اٹ کہ آپکی سوچ غلط ثابت ہونے والی ہے اور تمھارا غرور مٹی میں ملنے والا ہے۔
پری نے اطمینان سے کہا۔
اڑ لو جتنا اڑنا ہے۔لیکن سوچو کہ اگر میں تمھیں سب کی نظر سے بچا کر یہاں سے لے جاؤ تو
تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہو گی۔
عالیان نے پری کو دھمکانے کی کوشش کی۔
مسٹر عالیان شیخ آپ میری کلائنٹ کو ہریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اس سے پہلے پری عالیان کو جواب دیتی پیچھے سے احمد نے عالیان کے بازو پو ہاتھ رکھا۔
نو مسٹر احمد غازی میں تو انہیں نہایت پیار سے سمجھا رہا تھا لیکن بہت ضدی ہیں یہ پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی انہیں۔خیر میں چلتا ہوں میرا وکیل ویٹ کر رہا ہے۔
عالیان ایک نظر دونوں کو دیکھتا وہاں سے چلا گیا۔
********************­**********
ہمارے پاس تو کوئ ثبوت یا کوئ آئ وٹنس نہیں ہے ۔
پری نے مایوسی سے کہا۔
مایوسی گناہ ہے مس پریہان۔آپ دیکھیئے گا یہ کیس آپ ہی جیتیں گی۔
احمد نے کہا۔
وہ دونوں اس وقت کورٹ سے باہر نکلے تھے۔
جج نے تین دن بعد کںیس کی سلوائ رکھی تھی۔
کوئ ثبوت اور گواہ نا ہونے کی وجہ سے عالیان شیخ کے خلاف کوئ کاروائ نہیں کی گئ تھی۔
میں اس جگہ پر جا کر دیکھوں گا جہاں آپکہ ساتھ یہ سب ہوا تھا کیا پتا وہاں کچھ ایسا مل جائے جو ہمارے کیس کے لیئے فائدے مند ثابت ہو۔
احمد نے پر سوچ انداز میں کہا۔
اوکے میں چلتی ہوں اگر آپ کو کوئ بھی بات جاننی ہو تو آپ مجھے کال کر سکتے ہیں۔
پری کہہ کر چلی گئ۔
********************­*******
پری روڈ پر چل رہی تھی جب اسے ایسا محسوس ہوا کہ کوئ اسکا پیچھا کر رہا ہے۔
اس سے پہلے پری کچھ سوچتی تیز رفتار گاڑی نے آکر اسے ٹکر مار دی۔
ٹکر لگنے کی وجہ سے پری دور
جا کر گری اور دیکھتے ہی دیکھتے روڈ پر پری کا خون پھیلنے لگا۔
********************­*******
********************­*******
آنٹی آپ پریشان مت ہوں۔اللہ سب بہتر کرے گا۔
احمد نے فاطمہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو مسلسل روئے جا رہی تھیں۔
میری پری ……..
اس سے آگے فاطمہ بیگم سے کچھ بولا نہیں گیا۔رو رو کر انکا گلا رندھ گیا تھا۔
پری کے ایکسیڈنٹ کے بعد کچھ لوگ اسے ہسپتال لے آئے تھے۔
جب یہ بات فاطمہ بیگم کو پتا چلی تو انھیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں اور انھوں نے احمد کو فون کر کے بلا لیا جو اسی وقت ان کے پاس آگیا۔
وہ دونوں اس وقت اوپریشن روم کے باہر موجود تھے۔
خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پری کی حالت کریٹیکل تھی۔
احمد سر جھکائے کچھ سوچنے میں مصروف تھا۔وہ جانتا تھا یہ سب کس نے کیا ہوگا۔
وہ اپنی سوچو میں گم تھا جب ڈاکٹر اوپریشن روم سے باہر آئے۔
ک۔کیسی ہے میری بچی؟
وہ اور فاطمہ بیگم فورا ڈاکٹر کی جانب بڑھے۔
پیشنٹ کے سر پر گھری چوٹ لگی ہے۔ہم نے آپریشن کر دیا ہے لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ ابھی بھی خطرے میں ہیں آپ انکے لیئے دعا کریں ۔
ڈاکٹر کی بات سن کر فاطمہ بیگم کے رونے میں روانی آگئ۔
احمد نے انہیں بینچ پر بیٹھا کر پانی پلایا۔
پتا نہیں کب میری بچی کی زندگی میں سکون آئے گا۔جب میں سے میری بچی مسلسل تکلیفیں جھیل رہی ہے اور میں کتنی بے بس ماں ہوں اپنی بچی کے لیئے کچھ بھی نہیں کرسکتی ۔
فاطمہ بیگم نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔
آنٹی سب ٹھیک ہو جائے گا ۔آپ حوصلہ کریں اور مس پریہان کافی بہادر ہیں۔
احمد نے انھیں تسلی دی۔
واقع میری بیٹی بہت بہادر ہے ۔میں اپنے رب سے دعا کرتی ہوں کہ ساری بیٹیوں کو ایسے ہی بہادر بنائے اور وہ بھی اپنے حق میں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
احمد کو فاطمہ بیگم کے لہجے میں مان فخر صاف محسوس ہوا۔
بیٹا میری بچی یہ کیس جیت جائے گی نا؟
فاطمہ بیگم نے احمد کو مخاطب کیا۔
انشاء اللہ آنٹی۔آپ دعا کیجیئے گا۔
احمد کی بات پر فاطمہ بیگم نے آمین کہا۔
اچھا آنٹی مجھے کچھ کام ہے میں شام میں چکر لگاؤ گا اور کوئ بھی پریشانی کی بات ہو تو آپ مجھے فورا فون کر لیجیئے گا۔
احمد نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
اللہ تمھیں ہمیشہ خوش رکھے بیٹا ۔اس مشکل گھڑی میں تم نے میری بہت مدد کی ہے۔میں واقع بہت پریشان ہو گئ تھی۔
فاطمہ بیگم کی بات سن کر احمد ہلکا سا مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔
********************­********
امی سب ٹھیک ہے نہ۔آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں۔
آہل جب لاؤنچ میں آیا تو سامنے نفیسہ بیگم کو دیکھا جو بہت پریشان لگ رہی تھیں۔
ہاں بیٹا پریشانی کی تو بات ہے۔میری بہن کے گھر کو پتا نہیں کس کی نظر لگ گئ ہے۔
نفیسہ بیگم نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔
امی کیا ہوا خالہ کو۔
آہل کو تشویش ہوئی۔
پری کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔فاطمہ بہت رو رہی تھی۔
کیا پری کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔اب کیسی طبعیت ہے اسکی۔
آہل پریشانی سے گویا ہوا۔
ٹھیک نہیں ہے وہ۔فاطمہ بتا رہی تھی کہ پری کے سر پر گھری چوٹ لگی ہے اور اسے ہوش بھی نہیں آیا ابھی تک۔
نفیسہ بیگم بتاتی ہوئ پھر رونے لگ گئ۔
امی میں گاڑی نکال رہا ہوں آپ بھی جلدی سے آ جائیں۔ہمیں خالہ کے پاس ہونا چاہیئے انھیں ہماری ضرورت ہوگی۔
آہل نے چابی اٹھاتے ہوئے کہا۔
کیا ہو گیا ہے آپ سب کے منہ پر بارہ کیوں بج رہا ہے۔
زینیہ نے شوپنگ بیگ صوفے پر رکھتے ہوئے کہا جو ابھی باہر سے آئ تھی۔
تم گھر میں رہو تو تمھیں کچھ پتا ہوگا نا۔صبح سے تم گھومنے نکلی ہوئی ہو۔
آہل نے غصہ ضبط کیا۔
تم کیا ساسو کی طرح مجھے طعنا مار رہے ہو۔آہل میں تمھیں پہلے ہی بتا چکی تھی کہ میں تمھاری وجہ سے اپنا لائف اسٹائل اور فرینڈز ہرگز نہیں چھوڑنے والی ۔
زینیہ نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
زینیہ میں اس وقت بحث کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں۔پری کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے میں اور امی وہاں جا رہے ہیں تم بھی جلدی سے حلیہ درست کر کے آجاؤ۔
میں کیوں اپنا حلیہ درست کروں۔
آہل کی بات پر زینیہ نے اپنی ایک آئ برو اٹھائ۔
کیونکہ تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو۔خالہ بہت پریشان ہونگی۔
آہل نے اب کی بار اپنے لہجے کو نرم رکھا۔
یہ تھاری بھول ہے کہ میں تم لوگوں کے ساتھ جاؤ گی۔میں ابھی فیشل کروا کر آئ ہوں اور باہر بہت گرمی ہے تو میں تم لوگوں کے ساتھ بالکل نہیں جاؤ گی۔
زینیہ سکون سے صوفے پر بیٹھ کر اپنی شوپنگ دیکھنے لگی۔
اپنی دوستوں کے اشارے پر تم بھاگی چلی جاتی ہو ابھی میں تم سے کہہ رہا ہوں تو باہر گرمی ہو گئ۔
آہل کو زینیہ پر غصہ آنے لگا۔
آہل میرے سر میں ویسے ہی بہت درد ہے۔اور تمھیں تو شکر ادا کرنا چاہیئے جو تمھیں اتنی حسین بیوی مل گئ۔
زینیہ نے ایک ادا سے اپنے بال جھٹکے۔
یو نو واٹ زینیہ تم ایک بے حسی لڑکی ہو جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں ہے۔
آہل نے غصے سے کہا۔
واٹ ایور…….
زینیہ نے ناک سے مکھی اڑائ۔
بھاڑ میں جاؤ تم۔
آہل دروازہ زور سے مارتا چلا گیا۔
********************­********
احمد کھڑا آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں پری پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔لیکن اسے یہاں کچھ نہیں ملا ہتہکہ وہ بوتل بھی غائب تھی جس میں تیزاب تھا۔احمد کو اس چیز کا پہلے ہی اندازہ تھا کہ سارے ثبوت مٹا دیئے جائیں گے۔
اس نے آس پاس ساری دکانوں سے بھی پتا کروا لیا لیکن اس وقت ساری دکانیں بند تھیں۔
احمد نے جب سامنے دیکھا تو اسے سامنے دکان کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ نظر آیا اور وہ اس دکان کی جانب چل پڑا۔
السلام علیکم……میرا نام احمد اور میں ایک کیس کے سلسلے میں یہاں آیا ہوں۔
احمد نے دکان میں بیٹھے شخص کو مخاطب کیا۔
وعلیکم السلام…….فرمائیے­ کیسے مدد کروں میں آپکی۔
دکان کے مالک نے کہا۔
یہ جو باہر کیمرہ لگا ہوا ہے مجھے اسکی فوٹیج دیکھنی ہے۔
جی ایک منٹ روکیں۔
دکان دار نے لیپ ٹاپ احمد کی جانب بڑھا دیا۔
ایک بار ،دو بار…..
احمد نے کافی دفع اس دن کی فوٹیج چیک کی لیکن جس وقت پری پر تیزاب پھینکا گیا تھا اس وقت کی فوٹیج غائب تھی۔
شٹ……..
احمد نے غصہ سے مکہ میز پر مارا۔
آپکی دوکان میں کوئ آیا تھا جس نے آپکے لیپ ٹاپ کو استعمال کیا ہو۔
احمد نے پر سوچ انداز میں پوچھا۔
نہیں ایسا تو کوئ نہیں آیا لیکن اس واقع کے جب اگلے دن میں آیا تو میری دکان کا تالا ٹوٹا ہوا تھا لیکن سب کچھ اپنی جگہ پر موجود تھا یہاں تک کہ پیسے بھی سارے موجود تھے۔
دکان دار نے یاد کرتے ہوئے بتایا۔
بہت شکریہ آپکا۔
احمد واپس اسی جگہ پر آکر دیکھنے لگا۔
یقیناً عالیان شیخ کے بندوں نے ہی وہ فوٹیج ڈلیٹ کی ہوگی۔
کیا ڈھونڈا جا رہا ہے احمد غازی صاحب۔
احمد اپنی سوچوں میں گم تھا جب پیچھے سے اسے آواز آئ۔
جب اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عالیان مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
ویسے ایک بات کہو آپ اپنا صرف وقت برباد کر رہے ہیں ۔ملنا آپ کو کچھ بھی نہیں ہے۔
عالیان نے احمد کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
آپ کو میرے لیئے پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔بلکہ آپ کو اپنے لیئے پریشان ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ مجھے بہت جلد جیل میں بند نظر آئے گے۔
احمد نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
ہاہاہا….ویسے یار تمھیں وکیل کے بجائے کسی سرکس میں کام کرنا چاہیئے ۔لطیفے بہت اچھے سناتے ہو تم۔
عالیان نے قہقہہ لگایا۔
ہنس لو عالیان شیخ کیونکہ تمھاری ہنسی کی مدت بہت کم ہے۔
احمد نے سنجیدگی سے کہا۔
دیکھو احمد غازی جیتنا تو تم نے ہے نہیں تو بہتر یہی ہے کہ تم ان سب سے دور رہو۔
عالیان کا لہجہ بھی سنجیدہ تھا۔
بول لیا ۔تو اب سنو احمد غازی جس چیز کو تھان لے وہ کر کے رہتا ہے۔اور کون جیتے گا یہ تو وقت بتائے گا ۔اپنا خیال رکھنا۔
احمد ایک طنزیہ مسکراہٹ عالیان کی جانب اچھالتا چلا گیا اور وہ پیچھے دانت پیستا رہ گیا۔
********************************************
اب کیسی طبیعیت ہے آپکی ۔
احمد نے پری کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
جیسے ہی احمد کو پری کے ہوش میں آنے کا میسج موصول ہوا وہ فوراً ہسپتال آگیا تھا۔
جی بہتر ہوں۔
تکلیف کی وجہ سے پری مسکراہ بھی نہیں سکی۔
جس گاڑی سے آپ پر حملہ کیا گیا تھا آپ نے دیکھا تھا کہ گاڑی کون ڈرائیو کر رہا ہے۔
احمد نے پوچھا۔
نہیں۔مجھے ایسا لگا تھا کہ کوئ میرا پیچھا کر رہا ہے لیکن جب میں کچھ سوچتی اسی وقت گاڑی ٹکر مار کر گزر گئ۔
پری نے کہا۔
ہہہم ۔ویسے مجھے یقین ہے کہ اس سب کے کہ پیچھے عالیان شیخ کا کام ہے۔
آپ آرام کریں میں نے جج سے بات کر کے کچھ دن مذید مانگ لیئے ہیں۔
آپ اس جگہ پر گئے ۔کوئ ثبوت ملا آپکو۔
پری نے امید سے پوچھا۔
نہیں سارے ثبوت مٹا دیئے گئے ہیں۔خیر آپ پریشان مت ہوں کوئ نا کوئ ثبوت مل جائے گا۔
میں چلتا ہوں آپ اپنا خیال رکھیے گا۔
احمد نے ایک نظر پری کو دیکھا اور کمرے سے چلا گیا۔
یا اللہ میرے پاس کچھ نہیں ہے عالیان شیخ کے خلاف۔پلیز آپ میری مدد کردیں۔
پری نے روتے ہوئے کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: