Zandan Novel By Neha Malik – Episode 6

0
زندان از نیہا ملک – قسط نمبر 6

–**–**–

م۔معاف کر دیں صاحب ۔ہم نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔،
وہ تین لمبے چوڑے لوگ۔جن کو دیکھ کر کوئ بھی ڈر جائے اس وقت خود ڈر سے کانپ رہے تھے اور اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔
جب میں نے کہا تھا پریہان چودھری کے مرنے کی خبر مجھے چاہیئے تو وہ زندہ کیسے بچی۔
عالیان اپنی تمام تر وجاہت لیئے سکون سے بیٹھا سیگریٹ پی رہا تھا لیکن اسکی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔
ہم نے اسے مارنے کی پوری کوشش کی تھی مالک لیکن پتا نہیں وہ کیسے بچ گئ۔آپ ہمیں ایک اور موقع دیں ۔اس دفع ہم ضرور کام پورا کریں گے۔
ایک آدمی نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔
تم لوگ شاید یہ بات بھول گئے ہو کہ عالیان شیخ کی ڈکشنری میں دو لفظ بالکل نہیں ہیں ایک معافی اور دوسرا ایک اور موقع۔
مالک ہمیں معاف کردیں ۔ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
وہ تینوں عالیان شیخ کے قدموں میں گرے رونے لگے۔
چچچ……میں نے تم لوگوں سے پہلے ہی کہا تھا کہ غلطی کی کوئ گنجائش نہیں ہے۔لیکن تم لوگوں نے میری بات کو سیریس نہیں لیا۔
عالیان نے گن لوڈ کرتے ہوئے کہا۔
پل۔پلیز مالک ہمیں چھوڑ دیں۔ہم نے تو پوری کوشش کی تھی۔ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ہمیں جانے دیں۔
ان تینوں کو اپنی موت سامنے دکھ رہی تھی اور وہ اپنی زندگی کی فریادیں کر رہے تھے۔
دوسروں کی زندگی چھینٹے وقت کچھ نہیں ہوتا اور اپنی ذندگی کے لیئے کیسے گڑگڑا رہے ہیں۔
حال کے کونے میں کھڑے ملازم نے ان تینوں کو دیکھ کر تاسف سے سوچا۔
ٹھاہ…ٹھاہ…..ٹھاہ­۔
تین فائر ہوئے تھے عالیان کی گن سے اور وہ تینوں زمین بوس ہو گئے۔
ان تینوں کا خون تیزی سے زمین پر پھیلنے لگا۔
اور وہاں کھڑے ملازم جو ہاتھ میں عالیان شیخ کے شراب کا گلاس پکڑے کھڑا تھا یہ منظر دیکھ اسکے ہاتھ کانپنے لگے۔
ہاہاہا۔میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عالیان شیخ سے معافی کی امید نا رکھنا لیکن ان بیوقوفوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔
عالیان نے نخوت سے کہا اور سامنے کھڑے ملازم کو اشارے سے اپنی جانب بلایا۔
ملازم نے کانپتے ہاتھوں سے مشروب کا گلاس عالیان کی جانب بڑھایا لیکن کانپنے کی وجہ سے وہ عالیان کے کپڑوں پر گر گیا۔
عالیان نے خونخوار سے اسے گھورا جو اپنے دونوں ہاتھ عالیان کے سامنے جوڑے کھڑا تھا۔
معاف کردیں مالک…….
اگلے ہی لمحے عالیان کے پڑنے والے تھپڑ سے وہ ضعیف ملازم منہ کے بل زمین پر گرا۔
عالیان لگاتار اپنے جوتوں سے اسے مار رہا تھا اور وہ روتے ہوئے معافی مانگ رہا تھا۔
عالیان جب تھک گیا تو اس پر تھوک کر چلا گیا۔
تم پر خدا کا عذاب نازل ہو عالیان شیخ۔
وہ غریب جھولی اٹھا کر رونے لگا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں بند ہو گئ۔
********************­*******
یا اللہ میں جانتی ہوں آپ بہت رحیم ہیں۔مجھ پر بھی رحم کرنا میرے مالک۔میں آپ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یااللہ۔پلیز کوئ معجزہ کر دیں میرے مالک۔
پری جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی۔آنسوں لڑیوں کی صورت میں اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
پری بیٹا جلدی کرو احمد بیٹا بھی آگیا ہے۔وہ جب سے انتظار کر رہا ہے۔
جی امی آئ۔
فاطمہ بیگم کی آواز سن کر پری نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیئے اور جائے نماز جگہ پر رکھ کر جلدی سے عبایا پہنا۔
آج پری کے کیس کی آخری سلوائ تھی۔آج فیصلہ ہو جانا تھا لیکن ابھی تک ان کو عالیان شیخ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔
لیکن پھر بھی کوئ نا امید نہیں تھا۔ان سب کو اپنے رب پر پورا بھروسہ تھا۔
میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں آپ لوگ جلدی سے آجائیں۔
احمد گلاسس لگاتا باہر نکل گیا۔
امی اگر عالیان شیخ بچ گیا۔اگر اسے سزا نا ملی تو……
پری نے دل میں آیا خدشہ بیان کیا۔
خدا نے چاہا تو میری بچی کو ضرور انصاف ملے گا۔تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اوپر بیٹھا سب دیکھ رہا ہے اور اسکی لاٹھی بے آواز ہے۔
فاطمہ بیگم نے پری کو تسلی دی اور وہ دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے۔
……..
احمد گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جب ایک لڑکا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔
سر مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔
لڑکے نے آس پاس دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
ہاں کہو کیا بات ہے۔
احمد بھی اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔
آپ ایک منٹ میرے ساتھ وہاں چلیں ۔
لڑکے نے سامنے قدرے سنسان گوشے کی طرف اشارہ کیا۔
چلو …..
احمد اس کے ساتھ چل پڑا۔
********************­********
جب وہ تینوں عدالت پہنچے تو عالیان شیخ وہاں پہلے سے موجود تھا۔
اطمینان اس کے چہرے پر صاف واضح تھا۔
کیسے ہیں مسٹر احمد غازی۔
عالیان نے احمد کے پاس آکر کہا۔
میں بالکل ٹھیک۔
احمد نے مسکرا کر کہا۔
آپ سب کے چہرے دیکھ کر لگتا ہے کہ کچھ خاص ثبوت ملا نہیں آپکو۔
عالیان نے پری کے جانب دیکھتے ہوئے تمسخر اڑایا۔
آپ لوگ اندر چلیں میں بھی تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔
احمد نے عالیان کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔پری اور فاطمہ بیگم کو اندر بھیج دیا۔
ہاں ہیلو۔آج عالیان شیخ کے کیس جیتنے کی خوشی میں گھر میں دعوت کا انتظام کیا جائے۔
کسی بھی چیز میں کمی نہیں رہنی چاہیئے۔جشن ایسا ہونا چاہیئے کہ سارا زمانہ دیکھے اور ہر ایک کو پتا چلے کہ عالیان شیخ کتنا نیک انسان ہے۔
عالیان فون پر کسی کو کہہ رہا تھا۔
عالیان کی بات سن کر احمد مسکراتا ہوا نفی میں گردن ہلاتا ہوا سے چلا گیا۔
********************­**********
پری اور فاطمہ بیگم جب اندر آئ تو آہل اور نفیسہ بیگم پہلے سے موجود تھے۔
پری کو بھت گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
ان دونوں سے مل کر پری اپنی جگہ پر بیٹھ گئ۔
تھوڑی دیر بعد احمد بھی آکر ایک نظر پری کو دیکھتا اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
پری اور عالیان کو کٹھیرے میں بلایا گیا اور سوالات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
پری کو اپنا آپ ہارتا ہوا محسوس ہوا کیونکہ ابھی تک عالیان کے خلاف کوئ ٹھوس ثبوت نہیں ملا
تھا جس کی بدولت اسے سزا ملتی۔
پری کے مقابلے احمد کافی پر سکون تھا اور بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
سوالات کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا۔
جج اب اپنے قلم سے کچھ لکھ رہا تھا۔
عالیان پرسکون کھڑا پری کو دیکھ رہا تھا۔اسکی آنکھیں پری کو بہت کچھ باور کروا رہی تھی۔
پری نے پریشان ہو کر احمد کی جانب دیکھا جس نے آنکھوں سے اسے تسلی دی اور دروازے کی جانب دیکھنے لگا۔
جج نے گلا کھنکار کر سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
سب کی نظریں جج کی جانب تھیں۔
فیصلے کا وقت آ چکا تھا۔ایک آنسوں ٹوٹ کر پری کی آنکھ سے گرا۔
تمام ثبوت اور گواہوں کو مدد نظر رکھتے ہوئے عالیان شیخ کو باعزت…….
ایک منٹ رکیں……..
دروازے کی جانب سے آنے والی آواز پر سب دروازے کے طرف دیکھنے لگے۔
ایک پرسکون مسکراہٹ احمد کے لبوں پر پھیل گئی۔
********************­*******
********************­*******
کبھی جلتی ہوں آگ میں
کبھی روتی ہوں برسات میں
مجھ بنت حوا کو کیا سمجھ رکھا ہے
اے ابن آدم تیری ذات نے ….
(نیہا ملک)
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا کورٹ روم میں داخل ہو ۔سب لوگوں کی نظریں اسی کی جانب تھیں۔
وہ تقریباََ 22 سال کا لڑکا تھا۔وہ گھبرا رہا تھا لیکن اپنے آپ کو مظبوط ظاہر کر رہا تھا۔
احمد اٹھ کر اس لڑکے کی جانب بڑھا اور اسے لے کر جج کی جانب بڑھا۔
اس لڑکے کا نام ندیم ہے اور یہ مس پریہان چودھری کے واقع کا چشمدید گواہ ہے اور اس کے پاس ثبوت بھی ہے۔
احمد نے کہہ کر لڑکے کے ہاتھ سے سی۔ڈی لے کر جج کی جانب بڑھائ۔
احمد کی بات سن کر عالیان نے تمسخر سے ائ برو اٹھائ۔
سب کی نظریں سامنے موجود اسکرین پر تھیں جہاں کچھ ہی دیر میں ویڈیو چلنے والی تھی۔
عالیان پرسکون کھڑا تھا جب کہ اسکا وکیل ماتھے سے پسینے صاف کر رہا تھا۔
پری کی بھی نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں اپنے رب کو مدد کے لیئے پکار رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ۔
کیونکہ اب اس میں وہی ویڈیو چل رہی تھی جس میں عالیان نہایت بے رحمی سے پری پر تیزاب
پھینک رہا تھا۔
فاطمہ بیگم سے مذید نہیں دیکھا گیا اور انھوںنے نم آنکھیں جھکا لیں۔بیٹی کے ایسا ہوتا دیکھنے کی آخر کس ماں میں ہمت ہوگی۔
احمد نے بھی غصے سے مٹھی بند کی ۔
جہاں پری عالیان شیخ کے خلاف ثبوت دیکھ شکر کے سجدے میں گری وہی عالیان کو لگا کسی نے اس کے سر پر آسمان گرا دیا ہے۔
عالیان نے سرخ آنکھیں اٹھا کر احمد کی جانب دیکھا تو احمد کے چہرے پر ویسی ہی مسکراہٹ پھیل گئ جیسی تھوڑی دیر پہلے عالیان کے چہرے پر تھی۔
اتنی بے رحمی دیکھ سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔
تمام گواہوں اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالیان شیخ کو دفع 326 کے تحت دس سال کی سزا سنائی جاتی کے۔
جج کا فیصلہ سن کر فاطمہ بیگم نے پری کے پاس جا کر اسے گلے لگالیا۔
ایک سکھ بھرا سانس احمد نے لیا۔
عالیان خونخوار نظروں سے اپنے وکیل کو گھور رہا تھا جس نے جانے میں ہی عافیت جانی۔
پری اور فاطمہ بیگم ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی تھیں لیکن یہ خوشی کے آنسوں تھے ۔یہ شکرانے کے آنسوں تھے۔
عالیان کے قریب پولیس پہنچی تو اس نے سامنے کھڑی پری کو دیکھا اور ھتکری لگے ہاتھوں سے اسکی جانب بڑھا۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ پریہان چودھری مجھے تم پر تیزاب پھینکنے کے بجائے مار ہی دینا چاہیئے تھا۔تم دیکھنا بس کچھ دن صرف کچھ دن میں جب میں باہر نکلوں گا تو تمھارا موت سے بدتر حال کرو گا
عالیان نے زہر خند لہجے میں کہا۔
رسی جل گئ لیکن بل نہیں گیا۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے عالیان شیخ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔وہ اپنے بندوں کو ڈھیل دیتا ہے لیکن ایک وقت تک لیکن جب بندے اپنی حدود سے نکل جائے پھر اس کا عذاب تم جیسوں پر نازل ہوتا ہے۔وہ مہلت دیتا ہے کہ شاید اسکا بندہ سدھر جائے لیکن تم جیسے کبھی نہیں سدھر سکتے ۔
اس سے پہلے عالیان پری کے جواب میں کچھ کہتا اسی وقت پولیس اسے لے گئ۔
********************­**********
بیٹا تمھارا بہت بہت شکریہ ۔تم نے ہماری اتنی مدد کی ۔میں تمھارا جتنا شکریہ ادا کروں اتنا کم ہے۔
فاطمہ بیگم نے سامنے بیٹھے احمد سے کہا ۔
آنٹی آپ یہ کہہ کر مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔یہ میرا فرض تھا اور مس پریہان نے انصاف کے لیئے آواز اٹھائی تھی اور ہمارا خدا تو بہتر انصاف کرنے والا ہے۔
احمد نے مسکرا کو جواب دیا۔
ویسے آپ کے پاس وہ ویڈیو کہا سے آئ تھی۔
پری نے احمد کے سامنے چائے رکھتے ہوئے پوچھا۔
فاطمہ بیگم احمد کو زبردستی گھر لے آئ تھیں ۔اب وہ تینوں حال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
اس دن جب میں باہر آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا تو ایک لڑکا میرے پاس آیا تھا۔
……………..
ہاں کہو کیا بات ہے۔
احمد نے لڑکے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
سر میرا نام ندیم ہے اور میرے پاس عالیان شیخ کے خلاف ثبوت ہے۔
لڑکے نے ایک سی ڈی احمد کی جانب بڑھائ۔
کیا ہے اس میں؟
احمد نے سی ڈی لیتے ہوئے پوچھا۔
سر اس میں ایک ویڈیو ہے جس میں عالیان شیخ ایک لڑکی کے اوپر تیزاب پھینک رہا ہے اور یہ لڑکی وہی ہے جس کے حق میں آپ کیس لڑ رہے ہیں۔
ندیم نے بتایا۔
لیکن یہ ویڈیو تمھارے پاس کہاں سے آئ۔
احمد نے جاننا چاہا۔
سر جب عالیان شیخ اس لڑکی پر تیزاب پھینک رہا تھا تو میں بھی اس جگہ پر موجود تھا اور میں نے جلدی سے یہ ویڈیو بنائ تھی۔
جب یہ ثبوت تمھارے پاس پہلے سے موجود تھا تو تم نے یہ مجھے پہلے کیوں نہیں دیا اور اب دینے کا مقصد۔
احمد نے کہا۔
سر میرے والد عالیان شیخ کے گھر میں کام کرتے تھے۔وہ میرے والد کے مالک تھے۔جب میں نے یہ ثبوت حاصل کیا تو پہلے میں نے سوچا کہ میں یہ آپ کو دے دوں لیکن پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اگر عالیان شیخ کو یہ بات پتا چل گئ کہ یہ ثبوت میں نے آپ کو دیا ہے تو وہ میرے والد کو کوئ نقصان پھنچا سکتا ہے لیکن کل اس نے میرے والد کو بہت برے طریقے سے مارا ہے صاحب اور وہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے ہیں ۔اسی وقت میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں عالیان شیخ کو ضرور سزا دلواؤ گا ۔
ندیم نے آنکھوں میں آئے آنسوں صاف کیئے۔
………………..
احمد نے جب بات پوری کر کے سامنے دیکھا تو پری اور فاطمہ بیگم دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔
میرا رب کبھی بھی اپنے بندے کو مصیبت کے وقت اکیلا نہیں چھوڑتا ۔وہ کوئ نا کوئ وسیلہ بنا دیتا ہے۔
فاطمہ بیگم نم آنکھوں سے مسکرائ۔
ایکسکیوز می۔
موبائل بجنے کی آواز پر احمد اٹھ کر کر سائڈ پر چلا گیا۔
………..
کیا ہوا بیٹا تم پریشان لگ رہے ہو۔
احمد جب واپس آکر بیٹھا تو فاطمہ بیگم نے کہا۔
عالیان شیخ ہلاک ہو گیا ہے۔
لیکن کیسے؟
فاطمہ بیگم اور پری نے حیرت سے پوچھا۔
عالیان کو جب جیل لے جایا جا رہا تھا تو اس کے بندوں نے پولیس کو چکما دیا اور عالیان کو کار میں بیٹھا کر بھگا لے گئے تھوڑے آگے جاتے ہی کار ڈس بیلنس ہوگئ اور سامنے درخت سے جا ٹکرائی اور دھماکے کے ساتھ کار میں آگ لگ گئ۔سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔لاشیں اتنی بری طرح سے جل چکی ہیں کہ شناخت بھی نہیں ہوسکتی۔
احمد نے بتایا۔
یہ میرے خدا کا انصاف ہے۔برے لوگوں کا برا ہی حال ہوتا ہے۔
پری نے آنسوں صاف کیئے اور شکرانے کے نفل پڑھنے چلی گئ۔
********************­********
یہ کیا کر رہی ہو تم؟
آہل جب کمرے میں آیا تو زینیہ سے پوچھا جو الماری سے کمرے نکال کر سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی۔
میں امی کے گھر جا رہی ہوں۔
زینیہ نے بغیر اسکی طرف دیکھے جواب دیا ۔
تم ایسے کیسے جا سکتی ہو۔واپس رکھو سب میں تمھیں نہیں جانے دوں گا۔
آہل نے زینیہ کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔
تم مجھے نہیں روک سکتے آہل ۔میں اب تمھارے ساتھ مذید نہیں رہ سکتی۔
زینیہ نے بازو چھڑوایا۔
لیکن کیوں زینیہ۔میں نے ساری زندگی تمھاری خوشی کا خیال رکھا ہے ۔تمھاری خواہشات کا احترام کیا ہے اور تم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔میں نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر۔
آہل نے بے بسی سے کہا۔
نہیں آہل میں اب تمھارے ساتھ نہیں رہ سکتی اور جہاں تک بات ہے میرے بغیر رہنے کی تو تم۔آرام سے رہ سکتے ہو کیونکہ جب تم اپنی بچپن کی محبت کو اتنی آسانی سے چھوڑ سکتے ہو تو تمھارے لیئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اور میں اپنی لائف تمھارے ساتھ مذید ضائع نہیں کرسکتی۔۔
زینیہ کہہ کر رکی نہیں اور اپنا سوٹ کیس اٹھا کر چلی گئ۔
آہل وہی بیٹھا اپنے خالی ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: