Zandan Novel By Neha Malik – Last Episode 7

0
زندان از نیہا ملک – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

تم مجھے معاف کرسکتی ہو۔
آہل کی نظریں ہاتھ میں پکڑے کپ پر تھیں اور لہجے میں شرمندگی تھی۔
میں نے آپ کو اسی دن معاف کردیا تھا۔
پری نے مسکرا کر کہا۔
آہل پری سے ملنے آیا تھا اور اس وقت دونوں ٹیرس پر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔
تمھیں پتا ہے پری کے تم بہت اچھی ہو لیکن میں تمھاری قدر نہیں کرسکا۔
میں جب زینیہ سے شادی کر رہا تھا تب امی نے ایک بات کہی تھی کہ خوبصورت چہرہ نیک سیرت کے بغیر ایسا ہے جیسے خوشبو کے بغیر گلاب کا پھول۔اس وقت مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن اس سے شادی کے بعد میں اچھی طرح سے جان گیا ہوں کہ ظاہر سے ذیادہ آپکا باطن خوبصورت ہونا چاہیے۔
آہل نے پری کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔اسے بدلہ نہیں جاسکتا خیر یہ بتاؤ کہ زینیہ کیسی ہے اور اسے بھی ساتھ لے کر آجاتے۔
پری نے باتوں کا رخ بدلنا چاہا۔
وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئ ہے اور اسنے مجھ سے طلاق مانگی ہے۔
آہل نے افسردگی سے بتایا۔
کیا لیکن کیوں؟
پری کو یقین نہیں آیا۔
وہ سمجھتی ہے کہ میں ایک اچھا شوہر نہیں ہوں۔
اب تم کیا کرو گے۔
پری نے پوچھا۔
ایک دو دن میں طلاق کے پیپرز بھجوا رہا ہوں میں۔
آہل کی بات سن کر پری کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔
پری کیا تم مجھے ایک اور موقع دے سکتی ہو۔میرا یقین کرو میں تمھیں بہت خوش رکھوں گا۔
آہل نے پری کے ہاتھ تھام کر پر امید لہجے میں پوچھا۔
نہیں آہل میں اتنی اعلیٰ ظرف نہیں ہوں کہ اتنا سب ہونے کہ باوجود ایک اور موقع دوں اور اگر ہوسکے تو زینیہ سے بات کرو اور اسے پیار سے سمجھاؤ کیا پتا وہ سمجھ جائے۔
پری نے آہل کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالے اور آرام سے کہتی وہاں سے چلی گئ۔
********************­*******
پری کا گھر میں دم گھٹ رہا تھا تو تھوڑی دیر کے لیئے قریبی پارک میں چہل قدمی کے لیئے آگئ تھی۔
وہ بینچ پر بیٹھی سامنے کھیلتے بچوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
وہ اب اپنی زندگی سے مطمئن تھی ۔وہ ہر وقت اپنے رب کا شکر ادا کرتی تھی جس نے اسے سب کے سامنے سرخرو کیا۔
پری کو جب اپنے ساتھ کسی کا گمان ہوا تو اسنے چہرہ موڑ کر دیکھا تو حیران رہ گئ۔
کیسی ہیں آپ؟
احمد نے پری سے پوچھا لیکن اسکی نظریں سامنے کھیلتے بچوں پر تھیں ۔
میں ٹھیک ہو آپ کیسے ہیں۔
پری نے کہا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں۔
احمد نے مسکرا کر کہا۔
عالیان شیخ کی تدفین ہوگئ؟
پری نے پوچھا۔
ہہم۔اس کا کوئ رشتہ دار نہیں تھا تو حکومت نے خود ہی تدفین کر دی۔
احمد نے بتایا۔
اچھا۔
پری صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
ویسے میں آپ سے ملنے ہی آرہا تھا لیکن آپ مجھے یہاں دکھی تو سیدھا یہی آگیا۔
احمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کوئ کام تھا آپ کو۔
پری نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
جی بالکل بہت ضروری کام تھا۔کسی کی زندگی کا معاملہ ہے۔
احمد نے لہجہ سنجیدہ کرنا چاہا۔
کس کی زندگی کا معاملہ ہے۔آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
پری نے جھنجھلا کر کہا۔
میری زندگی کا معاملہ ہے پریہان۔اور اگر آپ نے انکار کیا تو زندگی کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔
احمد نے مسکراہٹ ضبط کی۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ۔صحیح سے بتائے۔
پری کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
مس پریہان چودھری کیا آپ احمد غازی سے شادی کرنا پسند کریں گی۔
ویسے تو مجھے پتا ہے میرے بجائے کسی بڑے کو آکر یہ بات کرنی چاہیئے تھی لیکن میری فیملی میں کوئ ہے نہیں کیونکہ میرے امی ابو دونوں کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ دونوں اکلوتے تھے اور اسی لیئے میرے کوئ چچا ماما نہیں ہیں تو اسی لیئے میں خود یہ بات کر رہا ہو۔
احمد نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن آخری بات پر افسردہ ہوگیا۔
آپکا دماغ تو ٹھیک ہے یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔دیکھے مسٹر احمد یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
پری نے مظبوط لہجے میں کہا۔
کیوں نہیں ہوسکتا ایسا کیا کمی ہے مجھ میں ۔
احمد نے پری کے انکار کی وجہ سمجھ نہیں آئ۔
کمی آپ میں نہیں مجھ میں ہے۔یہ دیکھے میری صورت ابھی بھی لوگ ہم دونوں کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔آپکا اور میرا کوئ جوڑ نہیں ہے میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے لوگ آپ کو ترس بھری نظروں سے دیکھیں۔
پری نے حتمی فیصلہ کیا۔
مس پریہان میں ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے والا نہیں ہوں۔اور جہاں تک بات ہے آپکی صورت کی تو وہ مجھے ہر حال میں پسند ہے کیونکہ میں نے آپ سے محبت کی کی ہے صرف آپکی صورت سے نہیں اور لوگوں کی پرواہ میں نہیں کرتا۔
احمد نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
محبت….
پری یہ لفظ سن کر حیران ہوئ تھی۔
مجھے نہیں پتہ پریہان کب کیسے لیکن مجھے آپ سے محبت ہوگئ ہے۔آپکے ظاہر کے ساتھ آپکا باطن بھی خوبصورت ہے۔اور صرف اپنے چہرے کے کی وجہ سے آپ انکار نہیں کرسکتی۔
احمد نے اسے سمجھانا چاہا۔
دیکھیں مسٹر احمد غازی آپکی اور میری منزل کبھی ایک نہیں ہوسکتی۔
پری کہہ کر رکی نہیں اور وہاں سے چلی گئ۔
احمد کی نظروں نے دور تک اسکا تاقب کیا۔
********************­**********
تین ہفتوں بعد………..
امی کیا ہوا کوئ بات ہے۔
پری نے ناشتہ کرتے ہوئے فاطمہ بیگم سے پوچھا۔
ہاں وہ باجی کا فون آیا تھا۔بتارہی تھیں کہ آہل نے زینیہ کو طلاق دے دی ہے۔کہہ رہی تھیں کہ آہل نے بہت کوشش کی زینیہ کو منانے کی لیکن وہ نہیں مانی اور اور مسلسل طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی اس وجہ سے آہل کو طلاق دینی پڑی۔
فاطمہ بیگم کی بات سن کر پری نے کچھ نہیں کہا۔
ویسے پری بیٹا تم نے احمد بیٹے کو انکار بھی کردیا تھا اور گھر بھی چینج کر لیا اور کسی کو بتانے بھی نہیں دیا ۔اسکی کوئ خاص وجہ۔
فاطمہ بیگم نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔
امی احمد کو انکار کرنے کی وجہ آپ جانتی ہیں اور جہاں تک گھر چینج کرنے کی بات ہے تو میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ بار بار ہمارے گھر آئے اور مجھے شرمندگی ہو اور میں چاہتی تھی کہ جلد از جلد وہ مجھے بھول جائے۔
پری نے کہا۔
اچھا امی میں مارکیٹ جا رہی ہو۔کچن کا سامان لینے آپ نے کچھ منگوانا ہے تو بتادیں۔
ناشتہ کے بعد پری نے فاطمہ بیگم سے پوچھا۔
نہیں بیٹا مجھے کچھ نہیں منگوانا اور تم بھی دیہان سے جانا۔
فاطمہ بیگم نے کہا۔
***********-********­********
افف اللہ آج تو اتنی گرمی ہے۔
پری جب گھر میں آئ تو سامنے بیٹھے شخص کو دیکھے بغیر اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی۔
آپ……..
پری نے جب سامنے احمد کو دیکھا تو حیرانی سے کہا۔
آپ کو کیا لگا تھا کہ اگر آپ گھر چینج کر لیں گی تو میں آپ کو ڈھونڈ نہیں سکتا۔
احمد نے اس کے مقابل آکر سکون سے کہا۔
آ۔آپ کو اس گھر کا کیسے پتہ چلا۔
پری کی حیرانی کم نہیں ہورہی تھی۔
ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو صرف آپ کو ڈھونڈنا تھا۔
احمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دیکھیں آپ جائیں یہاں سے۔مجھے آپ سے کوئ بات نہیں کرنی۔
پری نے سنجیدگی سے کہا۔
پری میں تمھیں کب سے پیار سے سمجھا رہا ہوں۔تمھیں میری بات کیوں سمجھ نہیں آتی۔
احمد نے لہجہ نرم رکھنے کی کوشش کی۔
آپکو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ میرے ساتھ آپکا مستقبل صرف تاریک ہے۔آپکو آپکی طرح کوئ بھی خوبصورت لڑکی مل جائے گی جس کے ساتھ آپ ہمیشہ خوش رہیں گے لیکن میرے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔۔
پری نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمھیں یہ کیسے پتا چلا کہ میں کسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ ہی خوش رہ سکتا ہوں۔پری میں جانتا ہوں میں تمھارے بغیر خوش نہیں رہ پاؤ گا۔تم سے محبت کرتا ہوں اور اسے ساری زندگی نبھاؤ گا۔
احمد نے پری کے ہاتھ تھام کر اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے لگا کر کہا۔
اگر تنگ آگئے تو؟
پری نے خدشہ ظاہر کیا۔
نہیں آؤ گا۔
احمد نے یقین دلایا۔
اگر چھوڑ دیا تو؟
ایک اور خدشہ۔
نہیں چھوڑوں گا۔
دوبارہ یقین دلایا گیا۔
اگر پچھتائے تو؟
تو تم میرا سر پھاڑ دینا۔
احمد کی بات سن کر پری مسکرا دی اور اسکی مسکراہٹ دیکھ وہ بھی مسکرادیا۔
فاطمہ بیگم جو چائے لے کر آئ تھیں دونوں کو مسکراتا دیکھ انکے اچھے نصیب کی دعا مانگنے لگیں۔
********************­********
دو سال بعد…….
آرام سے حمدان بیٹا گر مت جانا۔
پری نے اپنے ایک سال کے بیٹے کو کہا جو بال کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
ہمارا بیٹا اپنے باپ کی طرح بہادر ہے گرے گا تھوڑی۔
احمد نے مسکراتے ہوئے پری سے کہا جو پریشان نظروں سے حمدان کو دیکھ رہی تھی۔
خوش فہمی ہے آپکی۔
احمد کی بات سن پری نے کہا۔
وہ دونوں لائونچ میں صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور سامنے ہی انکا ایک سال کا بیٹا حمدان کھیل رہا تھا۔
خوش فہمی نہیں ہے بلکل حقیقت ہے۔اگر بہادر نا ہوتا تو تم جیسی جنگلی بلی کو شادی کے لیئے کیسے راضی کرتا۔
احمد نے اسکی ناک دبا کر کہا۔
اچھا وہ امی کا فون آیا تھا کہہ رہی تھیں کہ وہ لوگ پہنچ گئے ہیں۔
پری نے بتایا۔
چلو اچھی بات ہے ۔
احمد نے کہا۔
فاطمہ بیگم۔نفیسہ بیگم اور آہل عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔
حمدان ابھی چھوٹا تھا تو پری اور احمد کا اگلے سال جانے کا پروگرام تھا۔
اچھا ویسے ایک بات بتاؤ تم پہلے سے ذیادہ پیاری کیسے ہوگئ ہو۔
احمد نے ایک بازو پری کے گرد حائل کر کے سر اسکے کندھے پر رکھ کر کہا۔
میلی ماما ۔
اس سے پہلے پری کچھ کہتی حمدان آکر احمد کا بازو ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔
اوئے چھوٹے پیکٹ تمھاری مما سے پہلے یہ میری بیوی ہے ۔
احمد نے حمدان کو آنکھیں دکھائ جس کے بدلے میں حمدان بھی احمد کو گھور رہا تھا۔
بس کرو تم دونوں نظروں سے ہی ایک دوسرے کو کھا جانا ہے کیا
دو منٹ گزرنے کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کو گھورنا بند نہیں کیا تو پری نے ہنستے ہوئے کہا۔
اچھا یار آدھی تمھاری اور آدھی سے تھوڑی زیادہ میری اب ٹھیک ہے۔
احمد نے حمدان کو گود میں لے کر کہا۔
نوٹنکی باز دونوں باپ بیٹا۔
پری دونوں کو دیکھ کر مسکرا دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: