Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 13

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

مریم کو دیکھ کے اسکے خیال میں وہ سارا منظر گھوم گیا۔۔۔۔
حیدر اسے کالج سے لینے آۓ تھے۔۔۔ احان کے باہر گۓ ہوۓ تین سال ہو گیے تھے۔۔۔ حیدر کبھی کبھی اسے ملنے آتے تھے۔۔۔۔
وہ کالج سے باہر نکلی تھی تو ایک لڑکی بابا کے پاس کھڑی تھی۔۔۔جینز کے اوپر شرٹ پہنی تھی۔۔۔ چھوٹے سے بالوں کی پونی ٹیل تھی۔۔ ۔۔
جب وہ ایک کار میں بیٹھ کے جا چکی تو۔۔۔ ہا نیہ نے بابا کے پاس آ کر پوچھا تھا۔۔۔۔
یہ کون تھی۔۔۔ بابا۔۔۔۔
ریحم تھی۔۔۔ احان کے ماموں کی بیٹی۔۔۔۔
اسے احان کی فون پہ کی ہوٸی باتوں میں سے۔۔ یہ نام یاد آیا جب وہ پیار سے بار بار یہ نام لیا کرتا تھا۔۔۔
کبھی وہ کسی بات پر جب روٹھ جاتی تھی تو وہ ریحم۔۔۔ ریحم کر کے اسے مناتا تھا۔۔۔
وہ گھنٹوں آ کر خود کو آٸینے میں دیکھتی ہی رہی۔۔۔۔
چہرہ کے خدوخال بہت جازبِ نظر تھے اس کے ۔۔۔ حسن اسکا ھوش ربا تھا۔۔۔ پر سٹاٸل کوٸی نہیں تھا۔۔۔
وہ بہت سادہ سی دوپٹہ اوڑھے رکھنے والی لڑکی تھی۔۔۔۔
اور آج ڈاکٹر مریم کو دیکھ کر اسے ریحم یاد آٸی۔۔۔۔
میں احان کی پسند کی لڑکیوں سے بہت مختلف ہوں۔۔۔۔۔۔
مجھے تو کبھی۔۔ پسند نہیں کر سکتے۔۔۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری تھی۔۔۔۔
وہ دونوِں احان کی پرسینلیٹی کو ڈسکس کر رہی تھیں۔۔۔۔
یار کیا ڈیشنگ پرسنلیٹی ہے۔۔۔ اففف۔۔ مریم دل پر ہاتھ رکھ کے جھومنے کے سے انداز میں لگی ہوٸی تھی۔۔۔
جب چلتا ہے۔۔۔ اور جب بولتا ہے۔۔۔ ہاۓ۔۔۔ قسم سے۔۔
مریم مسلسل احان کو ڈسکس کر رہی تھی۔۔۔ اور وہ اسے دیکھ کر بس یہی سوچ رہی تھی کہ یہ لڑکی احان کی پسند کی لڑکیوں کی طرح پرفیکٹ ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تیسرا دن تھا اس کی اوپریٹ ہو یا کوٸی اور ڈیوٹی احان کے ساتھ ہی لگ رہی تھی۔۔۔
وہ مینجمنٹ کے آفس میں گٸی تھی۔۔۔۔
میم ۔۔ آجکل ڈیوٹیز ڈاکٹر احان ہی لگاتے ہیں۔۔۔..
اسکا ماتھا بری طرح ٹھنکا تھا۔۔۔ اچھا تو احان حیدر اب آپ یوں مجھے ٹیز کرتے ہیں۔۔۔۔
وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ ہی رکھنے لگا تھا اپنی نظروں کے سامنے۔۔۔ اور پھر ان کا دیکھنا۔۔۔ ہانیہ کوٸی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر پاتی تھی۔۔۔۔ ایسے تو میں کچھ بھی نا کر سکوں گی۔۔۔۔
وہ بھاری ہوتے قدم اٹھاتی۔۔۔ احان کے آفس کے دروازے پہ کھڑی تھی۔۔۔
دروازے پہ دستک دی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ آٸیں۔۔۔ احان کی آواز اٸی تھی۔۔۔
کیسے بات کروں گی ۔۔۔ وہ دل میں الفاظوں کو ترتیب دیتی اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
اسکو دیکھتے ہی احان نے فاٸل ایک طرف کی۔۔۔ اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ خاموش ہی کھڑی رہی۔۔۔۔ احان نے پھر نظروں سے ہی سوالیہ کیا۔۔۔
اینی پربلم۔۔۔۔ ہانیہ۔۔۔ اسکی مردانہ وجاہت والی بارعب آواز۔۔۔ ابھری۔۔۔
آپ میری ڈیوٹی اپنے ساتھ مت لگایا کریں۔۔۔ مختصر ساکہا۔۔۔
کیوں۔۔۔۔ وہ اپنی سیٹ سے اٹھا تھا۔۔۔۔
مجھے ۔۔۔ پرابلم ہے۔۔۔وہ تھوڑی گڑ بڑا گٸی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اب وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کے بلکل اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
مجھ سے ہے پرابلم۔۔۔۔ احان کی آواز میں نمی آ گٸی تھی۔۔۔۔
ہلکے پیلے رنگ کے جوڑے میں وہ پاگل کر دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔دل تو کر رہا تھا۔۔۔ اس سے اپنی بے تابی بیان کر دے۔۔۔۔ پر وہ انکار نہ کردے۔۔۔ دل ڈرتا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ آپ سے ہی۔ پرابلم ہے۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں۔۔ وہ تھوڑی نڈر ہوٸی تھی۔۔۔۔
دل تو کچھ اور ہی سوچے جا رہا تھا اس کے سفید نرم ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسے اپنے قریب کر لے۔۔۔۔ پھر اسکی بڑی بڑی۔۔۔ یہ کھلی آنکھوں کو اپنے ھاتھ سے چھوتے ہوۓ بند کر دے۔۔۔پھر اپنی انگلی کی پوروں سے اس کی پلکوں کو چھو لے۔۔۔
عجیب سی ہی کوٸی طلسمی کشش تھی۔۔۔ کہ جب وہ پاس آتی دل دماغ کے اختیار سے بغاوت سی کرنے لگتا تھا۔۔۔
اففف کیوں دیکھے جا رہے ایسے۔۔۔۔۔۔ وہ احان کی نظروں سے کچھ سمجھ بھی تو نہیں پاتی تھی۔۔۔ وہ اس کی طرف اس دن سے دیکھتی ہی کہاں تھی۔۔
آپ پھر میری ڈیوٹی چینج کر رہے ہیں کہ نہیں۔۔۔۔ وہ اس کے خیالوں سے یکسر بے خبر کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
اور ۔۔۔ اگر۔۔ نا کروں ۔۔ تو۔۔۔ احان کی آواز اسکے خیالوں کی عکاسی کرتی ہوٸی بھاری سی ہو گٸی تھی۔۔۔۔
ہانیہ اس کے اس انداز پہ پریشان سی ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔
تو ۔۔۔ تو۔۔ میں۔۔ رزاٸن کر دوں گی۔۔۔وہ دو قدم پیچھے ہوٸی تھی۔۔۔ انھیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔ وہ احان کو دیکھ کر پریشان سی ہو رہی تھی۔۔۔
رزاٸن والی بات پہ احان ٹھٹکا تھا۔۔۔۔۔ اس کی طرف غور سے دیکھا۔۔۔ کیا اسے میں بلکل پسند نہیں۔۔۔
احان حیدر جو کچھ تم کرتے رہے ۔۔۔ وہ کیسے کرے پسند ۔۔۔ شروع دن سے تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے رہے۔۔۔
اوکے۔۔۔۔ میں چینج کر دیتا ہوں۔۔
ہانیہ کی دھمکی کام آ گٸی تھی۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ کسی کھاٸی سے آتی ہوٸی آواز تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ ہانیہ کمرے سے جاتی وہ تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور واقعی آج دوسرا دن تھا۔۔۔احان کی ڈیوٹی ہانیہ کے ساتھ پیر نہیں ہوٸی تھی۔۔۔۔
وہ زبیر سے کو ٸی کیس ڈسکس کرتی ہوٸی آ رہی تھی۔۔۔ جب اس کی نظر وارڈ کے بلکل سامنے کھڑے احان پر پڑی۔۔۔ وہ مریم کے ساتھ کسی گفتگو۔۔ میں مصروف تھا۔۔۔
اسکے قدم۔۔۔ آہستہ۔۔۔ ہو گۓتھے۔۔۔ زبیر نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا۔۔۔ تو۔۔۔ اس کے ہونٹ خود با خودبے آواز سیٹی بجانے لگے۔۔۔
ہانیہ ۔۔ ایک دم خجل سی ہوٸی تھی۔۔۔۔
پھر تیزی سے چلتی ہوٸی۔۔۔ وہاں سے چلی گٸی۔۔۔
زبیر آنکھوں میں شرارت بھر کر احان کے آفس کی طرف چل پڑا۔۔۔ ۔۔
اچھی ہے ڈاکٹر مریم۔۔۔
۔ احان کمرے میں آ کر اپنا کوٹ اتار رہا تھا۔۔۔ جب زبیر نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ اس بات کا۔۔۔ احان اپنی کرسی پہ بیٹھا۔۔۔۔
مطلب یہ کہ حسن کی دیوی کو وہ منظر اک نظر نہیں بھایا۔۔۔ جس میں آپ اپنے سارے جلوے لیۓ ڈاکٹر مریم کے اتنا قریب کھڑے تھے۔۔۔۔ بڑے ہی شوخ انداز میں ۔۔۔ زبیر نے احان کو یہ خوش خبری دی۔۔۔
احان کے ہونٹوں پر ایک شریر سی مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔۔۔۔
وہ دلکش مسکراہٹ سمیت اپنی کرسی کو داٸیں باٸیں گھوما رہا تھا۔۔ اس کی انکھوں کے آگے سے وہ کٸی لمحے گزر گۓ جب ہانیہ کا انداز اس کی محبت میں گرفتار ہونے کی گواہی دیتا تھا۔۔۔ تب جو کچھ باتیں اسے سمجھ نہیں آتی تھیں اب آنے لگی تھٕیں۔۔۔۔ ہانیہ کا وہ ابنارمل سا بی ہیو۔ کرنا۔۔۔۔وہ کڑی سے کڑی ملا رہا تھا
تو پھر ایسا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ احان راز کی بات کرنے کے انداز میں تھوڑا سا آگے ہوا تھا۔۔۔۔
اس حسن کی دیوی کو تھوڑا اور انگاروں پہ لوٹتے دیکھتے ہیں۔۔۔۔ احان کی آنکھیں آج دس سال پہلے والے احان کی آنکھوں کی طرح چمک رہی تھی۔۔۔
محترمہ۔۔۔ پریٹنڈ کرتی ہیں کہ وہ مجھ سے بہت نفرت کرتی ہیں۔۔۔۔۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔ جب میں تھوڑا سا پاس جاتا ہوں آنکھیں تک تو اٹھتی نہیں اسکی۔۔۔۔۔
اسے اسکی حالت یاد آٸی جب وہ اس کے پاس گیا تھا۔۔
چل پھر اٹھ زرا سٹاف روم کا چکر لگاتے ہیں مریم کی یاد بہت آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ احان نے بال درست کرتے ہوۓ شرارت کے انداز میں کہا۔۔۔
کیونکہ جس دن سے وہ اپنی ڈیوٹی چینج کروانے کا کہہ کر گٸی تھی۔۔ تب سے اس کا دل تھوڑا سابجھ سا گیا تھا۔۔۔
اب پھر سے کرن جاگی تھی۔۔۔ کہ اس کے دل میں بھی اس کے حوالے سے کچھ ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے ۔۔۔۔ مت پوچھو۔۔۔۔ کیا نالج ہے اس بندے کا۔۔ اور جب بولتا ہے ۔۔تب تو بس سنتے جاٶ۔۔ سنتے جاٶ۔۔۔ مریم لہک لہک کے اس کو اور سعدیہ کو آج اوپریٹ کی ساری داستان سنا رہی تھی۔۔۔ اس کی آج احان کے ساتھ ڈیوٹی تھی۔۔۔
اور جب جناب آپکے ہیرو صاحب غصے میں دھاڑتے ہیں نہ۔۔۔ سعدیہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓکہا۔۔۔
ارے یار ۔۔۔ ان پہ تو غصہ بھی سوٹ کرتا ہو گا۔۔۔ویسے میں نے ابھی تک دیکھا نہیں انکو غصے میں۔۔۔ ۔۔
ہانیہ کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔ ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ فیانسی۔۔۔۔ زبیر بڑے شوخ انداز میں اندر داخل ہوا اور پیار بھری نظروں سے سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
اسکے بلکل پیچھے اس پر نظریں گاڑے وہ دشمنِ جاں بھی کھڑا تھا۔۔۔ اپنے دلکش سراپے کے ساتھ ۔۔۔
اندر آتے ہی وہ مریم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
ڈاکٹر مریم۔۔ آپ کے آج کے ورک سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔۔۔۔ بڑی خوش دلی سے وہ کہہ رہاتھا۔۔۔
احان حیدر ۔۔۔جس نے آج تک کبھی خود کی تعریف نہیں کی تھی۔۔۔ وہ آج کسی نان ایکسپیرینس ڈاکٹر کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔
ہانیہ کی انکھٶں میں جلن ہونے لگی تھی۔۔۔۔
مریم بری طرح خوش ہو رہی تھی۔۔۔
میں کل آپ کو آفس بلاٶں گا۔۔۔ وہ لاٸیبہ والے کیس کو ڈسکس کریں گے۔۔۔ اس نے مریض کا نام لیا۔۔۔
احان نے بڑی اندازِ دلرباٸی سے کہا۔۔۔۔
مریم تو بے ہوش ہونے والی ہو گٸی تھی۔۔۔۔
جب کے اسکے دل پہ سانپ لوٹ رہے تھے۔۔۔ احان نے مزہ لینے کے لیے کن اکھیوں سے ہانیہ کو دیکھا۔۔۔
اسکی حالت دیکھ کر اسکے اندر تک سکون اتر گیا تھا۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا باہر آ گیا تھا۔۔۔۔
ہانیہ کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 8

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: