Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 3

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

رات کے نو بجے باہر سے لاک کھلنے کی آواز آٸی تھی۔۔۔۔ شاٸید وہ لڑکا آ گیا ہو گا۔۔۔اس نےدل میں سوچا۔۔۔ آہستہ سے دبے قدموں وہ دو زینے اتر کر آٸی تھی۔۔۔ سیڑھیوں کی گرل کی اوٹ سے ہلکا سا نیچے جاھنکا۔۔۔۔
وہ لاونچ کے صوفے کے سامنے پڑے میز پر۔۔ کوٸی ڈبہ رکھ رہا تھا۔۔۔ شاٸید کوٸی کھانے کی چیز تھی۔۔۔
پھر ٹی وی آن کر کے وہ کھانے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ پیزا کا پیس اٹھا کر منہ میں ڈالتا۔۔۔ اور ساتھ کولڈرنک کے گلاس کو منہ لگاتا۔۔۔
کھانے کی خشبو نے اس کے پیٹ کی سوٸی ہوٸی بھوک کو بھی جگا دیا تھا۔۔۔
اسے یاد پڑا کہ اس نے کل رات کے بعد سے تو کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔۔۔
اففف۔۔۔۔ چکر سے آنے لگے تھے۔۔۔ پر وہ خاموشی سے بنا کوٸی آواز کٸے بیٹھی رہی۔۔۔
دو پیس ابھی بھی ڈبے میں ہی پڑے تھے۔۔ جن پر اس کی نظر تھی۔۔۔۔ بار بار نظر پھسل کر۔۔ ان پر پڑ رہی تھی۔۔۔ بھوک برداشت کرنے کی تو بہت ہمت تھی اس میں۔۔۔ ساجدہ اکثر سزا کے طور پر اسے بھوکا رکھتی تھی۔۔۔
پر آج اس کھانے کی خشبو نے اسے بیچین کر دیا تھا۔۔۔
وہ اب کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔۔۔ کبھی ہنس رہا تھا تو کبھی شرما رہا تھا۔۔۔ کبھی ٹانگیں اٹھا کر میز پہ رکھ چھوڑتا۔۔۔ تو کبھی نیچے لٹکا لیتا۔۔۔ اسے اس کی باتوں کی تو کوٸی خاص سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ البتہ یہ اندازاہ ضرور ہو گیا تھا۔۔ وہ کسی لڑکی سے بات کر رہا ہے۔۔۔ اور وہ لڑکی کوٸی عام لڑکی نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔
وہ اسے چھپی ہوٸی مسلسل دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
گھر میں سامان بہت کم تھا۔۔۔ شاٸید یہ گھر صرف اسی اکیلے کے رہنے کے مطابق سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔
آخر تین گھنٹے کے بعد اس نے کال بند کی تھی۔۔۔ ڈبے کے ڈھکن کے اوپر ہاتھ مار کر وہ اندر کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ اس کی چال سے ہی لگ رہا تھا اب وہ بس سونے جا رہا ہے۔۔۔۔
اس کے کمرے میں جانے کے بعد ایک دم ٹی وی کا شور بند ہونے کی وجہ سے۔۔ خاموشی ہو گٸی تھی۔۔۔۔۔
وہ ننگے پاٶں کے ساتھ نیچے اتری۔۔۔ جب اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ وہ سو گیا ہو گا۔۔۔۔
ڈبہ کھول کے اس نے جھپٹ کر ایک پیس اٹھایا اور پھر آہستہ آہستہ واپس اوپر آ گٸی۔۔۔۔
پیزہ کھایا تو جیسے بھوکے پیٹ کو سکون آ گیا۔۔۔ دل تو بہت اکساتہ رہا کہ وہ دوسرا پیس بھی اٹھا لاۓ۔۔۔ پر نہیں۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے دل کو سمجھایا۔۔۔
باتھ روم کے نل سے ھاتھوں میں ڈال ڈال کے پانی پیا۔۔۔ کچھ پانی اپنے منہ پہ بھی ڈالہ ۔۔ چادر سے منہ رگڑا۔۔۔
چارپاٸی پہ لیٹنے کے لیۓ بیٹھی تو اتنی عجیب سی آواز خاموشی میں ابھری ۔۔ وہ گھبرا کے اٹھی۔۔۔
پھر وہ زمین پہ۔ بازو کا تکیہ بنا کے۔۔ سمٹ کے لیٹ گٸی۔۔۔ اپنی ماں کو یاد کرتے کرتے اور اللہ سے دعاٸیں مانگتے مانگتے کس گھڑی اس کی آنکھ لگی اسے خبر نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر زبیر پلیز دیکھیں چینج کر دیں۔۔۔ وہ کاونٹر پر کھڑی فون سے ڈاکٹر زبیر سے بات کر رہی تھی۔۔۔ کہ وہ اس کی ڈیوٹی چینج کر دیں ۔۔۔ جو آج پھر احان کے ساتھ تھی۔۔۔۔
دیکھیں ڈاکٹر ہانیہ۔۔۔ یہ مینجمینٹ کے ہاتھ میں ہے۔۔ میں تو کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔ اور ڈاکٹر احان توایک بہت ہی قابل ڈاکٹر اور سرجن ہیں آپ کیوں نہیں کرنا چاہتی ان کے ساتھ کام۔۔۔۔
وہ مہ۔۔مہ۔۔ میں اسے کوٸی بات ذہن میں نہیں آرہی تھی۔۔۔
کیونکہ میں بہت بیوقوف ہوں۔۔اسکے عقب میں سے آواز ابھری۔۔۔وہ اسکے بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔اور یقینََ وہ فون میں سے ہلکی ہلکی آنے والی۔۔ آواز کو آسانی سے سن سکتا تھا۔۔۔
اوہ خدایا۔۔۔۔۔ وہ سکتے میں کھڑی کی کھڑی رہ گٸی۔۔۔۔ وہ اس آواز کو ہزاروں آوازوں کی بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔۔
دل حلق میں آ گیا تھا۔۔۔۔ وہ وہاں سے جا چکا تھا جبکہ وہ ہونق بنی وہیں پہ کھڑی تھی۔۔۔
اوہ خدایا یہ کب آیا یہاں پر اور میں واقعی بیوقوف ہی ہوں جس کو پتا بھی نہ چلا وہ میری بات سن رہا ہے۔۔۔ اب کیا کروں ۔۔۔کیا کروں۔۔۔۔ وہ بے چینی سے نچلا ہونٹ دانتوں سے کچلنے لگی۔۔۔۔
وہ آوپریٹ روم میں دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔ وہ بہت سنجیدہ انداز میں اوپریٹ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
مس ہانیہ ۔۔ اس نے ہانیہ کی توجہ اوپریٹ کی طرف دلاٸی کیا چیز تھا وہ۔۔۔ کیا چہرے پڑھ لیتا ہے۔۔۔ وہ جھنجلا گٸی تھی۔۔۔
آپ میرے کمرے میں آٸیں ذرا۔۔۔۔ وہ دستانے اتارتا ہوا۔۔۔ ہا نیہ کے قریب آیا تھا۔۔۔
افف اب کیا غلطی ہو گٸی۔۔۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے کمرے کے دروازے کے آگے۔۔۔ کھڑی تھی۔۔۔
ہمت کر کے اس نے دروازے پہ دستک دی۔۔۔
کم ان۔۔۔۔۔ بارعب آواز۔۔۔۔
وہ اندر داخل ہوٸی۔۔۔وہی اس کی۔۔ خشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوٸی تھی۔۔۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوٸی اس نے فاٸل پر سے نظر اٹھاٸی۔۔۔ اور ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔ وہ بغور اسے دیکھ رہاتھا۔۔۔۔
وہ لرزتے دل کے ساتھ اس دشمنِ جاں کے سامنے بیٹھ گٸی۔۔۔۔
وہ کچھ دیر کرسی کو داٸیں باٸیں گھما کر اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
افف کیا مصیبت ہے۔۔۔ بول بھی دے اب بیچینی سے اس نے نچلا ہونٹ دانتوں کے نیچے دبایا تھا۔۔۔۔۔
آپ۔۔۔۔ ڈسٹرب ہیں کیا ۔۔ ڈاکٹر ہانیہ۔۔۔ وہ اپنے گلاسز کی اوٹ سے اسکا بغور جاٸزہ لے رہا تھا۔۔۔
نہ۔۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔ ہانیہ نے ھونٹوں کے اوپر آۓ ہوۓ پسینے کو اپنے ھاتھوں کی پوروں سے صاف کیا۔۔
دیکھیں ۔۔ مس ہانیہ آپکا ایکڈیمک رکارڈ چیک کر رہا تھا میں۔۔۔۔۔احان نے فاٸل اس کے آگے کی۔۔۔۔
آپ ایک ذہین سٹوڈنٹ تھی۔۔۔ سب ٹھیک ہے آپکا لیکن ۔۔ آپ یہاں ابھی تک کوٸی بھی ایسی کارکردگی نہیں دکھا پاٸی ہیں ۔۔۔
وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہی تھی وہ سب کچھ سہی ہی تو کہہ رہا تھا۔۔۔۔ اب اسے کیا کہہ دیتی کہہ یہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔۔۔۔
آٸی۔۔۔آٸی۔۔۔ ایم سوری سر۔۔۔ وہ ایکچولی تھوڑی گھریلو پرابلم ہے۔۔۔ اس نے جھوٹ بولا۔۔۔۔
یس یہی تو میں آپ سے کہہ رہا ہوں۔۔۔ کہ آپ مینٹلی اپ سیٹ ہیں۔۔۔
سوری ٹو سے۔۔۔ پر ڈاکٹر ہانیہ۔۔۔ آپکی کسی بھی قسم کی غلطی اور کوتاہی۔۔۔ کسی بھی پیشنٹ کی جان لے سکتی ہے۔۔۔۔
اور میں ایسا ہر گز نہیں چاہتا۔۔۔۔
آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں میں۔۔۔ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا۔۔۔۔ اس کے لہجے سے صاف صاف ناگواری اور بیزاری واضح تھی۔۔۔۔
آپ کچھ دن کی لِیو لیں۔۔۔ آپنے گھر جاٸیں اور ریسٹ کریں۔۔۔۔
وہ شیشے کی میز پر پن گھوما رہا تھا ساتھ ساتھ۔۔۔۔
ہانیہ کا دل کٹ کے رہ گیا۔۔۔
اسی لیے ۔۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔ میں بابا کو کہتی رہی بابا مجھے نہیں جانا احان کے ھاسپتال میں۔۔۔ بس کرا دی زبردستی میری جاب۔۔۔وہ دل ہی دل میں بابا کو کوس رہی تھی۔۔۔
اب آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔۔ بڑے شاہانہ انداز میں کہا گیا۔۔۔۔
وہ اٹھی اور بوجھل قدموں سے باہر آ گٸی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔۔۔ آہستہ سے چلتی ہوٸی وہ نیچے آٸی تھی۔۔۔ وہ واقعی ہی جا چکا تھا ۔۔۔ کل بھی اس وقت گھر سے جا چکا تھا۔۔۔ وہ کچھ کھانے کو دیکھنے لگی۔۔۔ سامنے کچن میں فریج پڑا تھا۔۔۔
اس نے تیزی سے فریج کھولا۔۔۔ پھل۔۔ بریڈ۔۔۔ انڈے۔۔ کچھ سالن۔۔۔ اور ایک باول میں چاول پڑے تھے۔۔۔
اس نے دو کیلے اور ایک سیب اٹھایا۔۔۔ ارد گرد دیکھا کہ اس کی وجہ سے کوٸی چیز بے ترتیب تو نہیں ہو گٸی کہیں۔۔۔۔
اور پھر تیزی سے اوپر آگٸی۔۔۔۔
پھلوں کے کھانے کے بعد وہ پھر سے۔۔۔ اسی دیوار سے جا لگی۔۔ جو اس کے گھر کا حال دکھاتی تھی۔۔۔۔
گھر کے باہر آج نزیر کے آدمی مسلسل پہرا دے رہے تھے۔۔۔ ایک بڑی سی سفید گاڑی بھی۔۔۔ ان کے پورچ میں اسے نظر آ رہی تھی۔۔۔۔ وہ صبح سے شام تک بس یہیں کھڑی رہی۔۔ بس نماز کے لے جاتی اور پھر آجاتی۔۔۔ رات کو کھانے کے لیے کچھ پھل بھی وہ پہلے ہی لے آٸی تھی۔۔۔شام کے سات بجے اسے گیٹ میں سے باٸیک اندر کرتا ہوا وہ دیکھاٸی دیا۔۔۔۔
آج بھی اسکا وہی معمول رہا ۔۔ رات گٸے تک وہ کسی سے بات کرتا رہا تھا۔۔۔ وہ بھی خاموشی سے آکر بازو کا تکیہ بناۓ سو گٸی تھی۔۔۔
صبح اسکی آنکھ اسی وقت پر کھلی تھی۔۔ وہ چلا گیا ہوگا یہ سوچتے ہوۓ وہ بڑے آرام سے نیچے آٸی تھی۔۔۔۔
وہ جیسے دو دن سے کر رہی تھی بلکل ویسے ہی کر رہی تھی۔ نیچے آکر پہلے وہ سارے کمروں میں پھرتی تھی۔۔۔ پھر کچن میں جاتی تھی اور پھر اوپر چلی جاتی تھی۔۔۔۔
وہ اس کے سونے والے کمرے میں داخل ہوٸی۔۔۔۔۔ اوہ خدایا۔۔ باتھ روم سے شاور بند ہونے کی آواز آٸی اور پھر ایک دم سے باتھ روم کی کنڈی کھلنے کی آواز۔۔۔۔
اس کی جان حلق میں آ گٸی۔۔۔۔ اوہ میرے خدا۔۔۔۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے بیڈ کے نیچے چلی گٸی۔۔۔۔
وہ باتھ روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔ اس نے ٹاول باندھ رکھا تھا۔۔۔۔
اس نے آکر ۔۔ الماری میں سے کپڑے نکالنے شروع کر دیۓ۔۔
ہانیہ کی جان پہ بن آٸی تھی۔۔۔۔ اس نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔
شاٸید اسکا موباٸل بجا تھا۔۔۔۔
ہیلو۔ ۔۔۔ بڑے پیار سے کہا گیا۔۔۔۔ وہ بیڈ پہ ٹاول سمیت لیٹ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔
کیوں آوں۔۔۔ کیا تم یاد کر رہی ہو پہلے یہ بتاٶ۔۔۔ بڑی اپناٸیت اور مٹھاس سے وہ بات کر رہا تھا۔۔۔
اچھا چلو آجاتا ہوں ۔۔۔۔ مجھے بدلے میں کیا ملے گا۔۔۔ شوخی سے بھری آواز تھی اس کی۔۔۔۔
اس کے بعد پتا نہیں دوسری طرف سے کیا جواب آیا تھا۔۔۔ کہ بے ساختہ اس کا قہقہ نکل گیا تھا۔۔۔
زندگی سے بھرپور قہقہ۔۔۔۔
ایسا قہقہ جس میں کھنک تھی۔۔۔ خوشی کی چاشنی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بس تھوڑی دیر رکو میں چینج تو کر لوں آتا ہوں ابھی۔۔۔۔
وہ تیزی سے الماری سے کپڑے نکال کے بیڈ پہ پھینک رہاتھا۔۔۔
کیا پہنوں۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ وہ بڑے موڈ میں جھوم رہا تھا اور خود سے مخاطب تھا۔۔۔۔
پھر وہ تیار ہو کر با ہر نکل گیا تھا۔۔۔ سیٹی بجاتا ہوا ۔۔۔ کل کے دن آنے والی قیامت سے بے نیاز ہو کہ۔۔۔۔
وہ سکھ کا سانس لے کر بیڈ کے نیچے سے نکلی اور پھر سے اسی دیوار کے ساتھ جا کر چپک گٸی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: