Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 4

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

ہونٹ ان کے کیا کہیۓ۔۔۔۔ پنکھڑی گلاب کی سی ہیں۔۔۔۔ زبیر نے دل پہ ہاتھ رکھ کے اچھے بھلے شعر کا ستیا ناس کیا۔۔۔ ۔۔ ڈرنک پیتے ہوۓ احان کو اس کی نظروں کا طعاقب کرنا پڑا۔۔۔
احان نے رخ موڑ کے دیکھا۔۔۔
ہانیہ ۔۔۔ لاٸیٹ سے پنک کلر کے ڈریس میں کوٸی اپسرا لگ رہی تھی۔۔۔۔ بڑے سلیقے سے سر پہ دوپٹہ جماۓ۔۔۔ ہلکے پھلکے میک اپ۔۔کو چہرے پہ سجاۓ۔۔۔ کانوں میں چھوٹی سی گولڈن جھمکی۔۔۔۔ پہنے۔۔۔ وہ سعدیہ ااور دیبا کے ساتھ اندر داخل ہوٸی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹراظہر کے گھر ان سب کی گیٹ ٹو گیدر تھی۔۔۔ وہ سب میں اپنے منفرد انداز کے ساتھ نمایاں تھی۔۔۔۔
یار کیا حسین دوشیزہ ہیں یہ ڈاکٹر ہانیہ۔۔۔ زبیر کا ہاتھ ابھی بھی اس کے دل پی ہی تھا۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے احان نے اپنی نظروں کو ہانیہ کے جلوے پر سے ہٹایا۔۔۔
اسے زبیرکی یوں ہانیہ پر عنایت ایک آنکھ نا بھا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس پہ فدا ہی ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔
ہاں حسین تو بہت ہیں محترمہ لیکن انتہا کی بیوقوف ہیں۔۔۔۔
ایسی خوبصورتی کا کیا کرنا جس کے پیچھے عقل نام کی کوٸی چیز نہ ہو۔۔۔ عجیب زہر خندہ لہجے میں کہا تھا۔۔ احان نے۔۔۔
یار چل نہ ان کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔ زبیر پہ تو جیسے اس کی باتوں کا کوٸی اثر تک نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
تو جا مجھے کوٸی شوق نہیں۔۔۔۔ پتہ نہیں کس چیز کا غصہ آ رہا تھا احان کو۔۔۔ دل کر رہا تھا۔۔ منہ توڑ کے رکھ دے زبیر کا۔۔۔۔ پر کیوں پہلے بھی تو وہ اکثر اس کے سامنے اسی طرح لڑکیوں کوڈسکس کرتا تھا۔۔۔ پر آج پتہ نہیں کیوں اسے الجھن ہو رہی تھی۔۔۔۔
جیسے ہی وہ پارٹی میں داخل ہوٸی۔۔ تو سب کی نظروں کا مرکز بن گٸی تھی۔۔۔ اسے اب اس سب کی عادت ہو گٸی تھی۔۔۔
وہ جہاں بھی جاتی تھی لوگ اسے یونہی دیکھتے تھے۔۔۔ لیکن وہ عام لوگوں کی جگہ پر تو نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں کی تپش خود پہ محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔
خجل سی ہوتی وہ وہاں کھڑی تھی۔۔۔ جب ڈاکٹر زبیر چلتے ہوۓ ان کے گروپ کے پاس آے۔۔۔
وہ ادھر ا’دھر کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔
ڈاکٹر زبیر بار بار ہانیہ سے بات کر رہے تھے۔۔۔ وہ ان کو جواب دے رہی تھی۔۔۔
احان نا چاہتے ہوۓ بھی مسلسل اس طرف ہی دیکھے جا رہا تھا۔۔۔. ۔۔۔
اسے زبیر کا یوں ہنس کر بات کرنا عجیب سی گھٹن کا شکار کر رہا تھا۔۔۔۔ اسے کوفت ہونے لگی۔۔۔ اور پتہ نہیں کس لمحے وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ بڑے انداز میں آ کر سلام کیا۔۔۔۔
جی۔۔ ان سے ملٸے۔۔۔ لیڈیز ۔۔۔ یہ ہیں ہمارے۔۔۔ ایچ ۔ڈی ہاسپٹل کے ایم ڈی۔۔۔ ڈاکٹر احان۔۔۔۔ حیدر۔۔۔ زبیر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بڑے شوخ انداز میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔
احان بار بار ہانیہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ بے رحم یہ کہاں جانتا تھا۔۔ اس کی یہ بار بار پڑتی نظر اس نازک سی لڑکی کے دل کا کیا حشر کر رہی تھی۔۔۔۔
زبیر چلیں پھر۔۔۔ احان نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
چلتے ہیں یار۔۔۔ کچھ دیر تو ۔۔ سایہِ یار میں رہنےدے۔۔۔ زبیر نے آہستہ آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی اور جیسے ہی اس نے دیکھا اس کی طرف زبیر نے شرارت سے آنکھ مار دی۔۔۔۔
ایک دم سے جیسے آگ لگی ہو۔۔۔ احان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
چلو یہاں سے ۔۔۔ اس نے تھوڑا غصے کے انداز میں کہا۔۔۔سارے ایک دم اس کے انداز پہ حیران ہوۓ۔۔۔
کیا مسٸلہ ہو رہا مجھے اگر زبیر بات کر رہا ان سے۔۔۔۔۔۔احان نے۔ اپنے دل سے سوال پوچھا۔۔۔
اور اگر کہیں دل کو بولنا آتا ہوتا تو یقیناََ یہ جواب دیتا۔۔۔
”ارے جناب احان حیدر صاحب ۔۔۔ ہانیہ آپکی شریک حیات ہے۔۔۔ “ اس پر کوٸی اور حق جماۓ یہ کہاں گوارا کسی بھی شوہر کو۔۔۔۔
میں جا رہا ہوں۔۔۔ ایک عجیب سی حالت ہو رہی تھی۔۔۔ احان حیدر جس نے دس سال سے کسی لڑکی کو کبھی آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں تھا۔۔ آج وہ ہانیہ کے حسن کے آگے ڈھیر ہو رہا تھا۔۔۔ یہ اس کے اندر کے مظبوط مرد کو کہاں گوارا تھا۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر اظہر سے کسی کام کا بہانا کر کے باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
ہانیہ کی نظر بار بار احان کو تلاش کرنے میں لگی ہوٸی تھی۔۔ اور وہ کہیں تھا ہی نہیں۔۔۔۔
اسکا دل بیٹھ سا گیا تھا۔۔ اس کی نظروں میں رہنا اتنا پرسکون لگ رہا تھا۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوٸی ہلکے ہلکے اس کے دل پہ گدگدی کر رہا ہو۔۔۔
تمہیں کیا ہوگیا۔۔۔ ایسے ایک طرف آ کر کھڑی ہو گٸی ہو۔۔۔ دیبا اور سعدیہ اسے تلاش کرتی ہوٸیں اس کے پاس آٸی تھیں۔۔ جب وہ احان کو تلاش کرتے ہوۓ یہاں پہنچ گٸی تھی۔۔۔
کہ۔۔کہہ۔۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔ وہ بجھے دل سے بولی۔۔۔۔ اور ان دنوں کے ساتھ چل دی۔۔۔۔
کیامزہ۔۔۔ محفل میں ۔۔۔ جب جانِ محفل ہی وہاں نا ہوں۔۔۔ سعدیہ نے شرارت سے کہا۔۔۔۔
دیبا اور سعدیہ کا قہقہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو۔۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی اور خجل سی ہو کر ارد گرد دیکھنے لگے۔۔۔
ویسے تو حضرت روز ہی ہماری دل کی سلطنت کو روندتے ہوۓ گزر جاتے ہیں۔۔۔ پر آج تو غضب ہی ڈھا رہے تھے۔۔ احان حیدر صاحب۔۔۔ ۔۔ سعدیہ شوخ ہو رہی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکن اسکا تھا۔۔ وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے اسکی آنکھوں میں اداسی در آٸی تھی۔۔۔ ” اسے اگر میری حقیقت کی خبر ہو جاۓ تو۔۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجدہ تمنا کو مسلسل پیٹ رہی تھی۔۔۔۔ بتا نہیں تو ترا خون پی جاٶں گی۔۔۔۔ ساجدھ کی گدھ جیسی آنکھوں پہ خون سوار تھا۔۔۔ ارے او کمبخت۔۔۔ تیرے ابا کو اپنے ساتھ لے گۓ ہیں وہ لوگ۔۔۔ کل تجھے بھی اٹھا کے لے جاٸیں گے۔۔۔
ایک طرف کھڑے اس کے تین چھوٹے بہن بھاٸی خوف سے ڈر گۓ تھے۔۔۔۔ ۔۔۔
اماں آپا کو مت مارو۔۔۔ میں بتا تی ہوں ہانی آپا کہاں ہے۔۔۔ روتی ہوٸی زری نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
بتا بتا ۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔ ساجدہ نے پاگلوں کی طرح جھونجوڑ ڈالہ۔۔۔۔
معصوم سی۔۔۔۔ زری نے انگلی اٹھا کے ساتھ والے گھر کی چھت کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔۔۔
جب ہانیہ درخت پہ چڑھ کےدوسری طرف پھلانگ رہی تھی۔۔ زری نے اسے دیکھ لیا تھا۔۔۔ لیکن وہ اتنی سمجھ تو رکھتی تھی کہہ بتانا نہیں ہے۔۔۔ لیکن آج بہن کو اتنا مار کھاتا دیکھ کر اسکی بہن کی محبت۔۔۔ سوتیلی بہن کی عزت پر حاوی آگٸی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سٹاف کے روم کے پاس سے گزرا تو۔۔۔ اسکا شیشے کا دروازہ سارا اندر کا منظر دکھا رہا تھا۔۔۔۔
زبیر سعدیہ ،ہانیہ،اور دیبا کے ساتھ بیٹھا گپیں لگا رہا تھا۔۔۔
ہانیہ زبیر کی کسی بات پہ ہنستے ہوۓ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔
یہ منظر احان کو ایک آنکھ نا بھایا تھا۔۔۔۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا
اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
ڈیوٹی رجسٹر چیک کرتا ہوا اچانک وہ ٹھٹکا تھا۔۔۔۔
تین دن سے مسلسل ہانیہ کی ڈیوٹی زبیر کے ساتھ آ رہی تھی۔۔۔ ایک دم احان کو گھٹن سی محسوس ہونے لگی۔۔۔۔ اس نے پھڑکتی نسوں پہ کنٹرول کرتے ہوۓ۔۔۔۔ اپنی ٹاٸی کی ناٹ کو ڈھیلا کیا۔۔۔۔۔
غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔ طیش میں آ کر وہ اٹھاتھا۔۔۔۔۔
تیز تیز قدم اسے سٹاف روم کی طرف لے کر جا رہے تھے۔۔۔۔
اسے سٹاف روم میں دیکھ کے سارے ایک دم سے چپ ہوۓ تھے۔۔۔۔
وہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
ہانیہ کا بھی دل حلق میں آ گیا۔۔۔۔
میں سروے کے لیے جا رہا ہوں۔۔ کسی ڈاکٹر کو میرے ساتھ جانا ہو گا سٹاف میں سے۔۔۔ وہ غصے کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔۔۔۔
سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے
ہانیہ آپ کیوں نہیں چلتی۔۔۔ آپ کو ویسے بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ احان نے ایک دم سے ہانیہ کی طرف رخ موڑ کے کہا۔
مہ۔مہ۔میں۔۔ ہانیہ نے بے یقینی میں اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ہاں تو آپ ہی ہیں مجھے تو اور کوٸی ہانیہ نام کی لڑکی یہاں نظر نہیں آ رہی۔۔۔وہ دانت پیستے ہوۓ کہہ رہا تھا۔۔۔۔
چلو میں بھی چلتا ہوں۔۔۔ زبیر بڑے ریلکس انداز میں کھڑا ہو کہ بولا۔۔۔
احان کی رگین تن گٸ۔
نہیں ڈاکٹر زبیر آپ یہں رہیں ۔۔۔سینیر ڈاکٹر کا ہاسپٹل میں موجود رہنا بھی ضروری ہے۔۔۔۔ بڑی ناگواری سے کہا گیا۔۔۔۔
زبیر ایک دم سے چپ ہوا۔
میں باہر انتظار کر رہا ہوں آپکا ۔۔۔ وہ ہانیہ کو دیکھ کر کہتا ہوا۔۔۔ باہر نکل گیا۔
ایک دم سے احان کے تڑپتے دل کو سکون سا آگیا تھا۔۔ وہ پرسکون انداز میں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
لیکن اچانک دل نے سرزش کی اس نے آخر کو یہ کیا ہی کیوں۔۔۔۔ اسے اس سب سے مسٸلہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ خود ہی کر کےسب اب خود کو ہی ڈانٹ رہا تھا خود کو
وہ اپنے سر پہ دوپٹہ درست کرتی ہوٸی چھوٹےچھوٹے قدم اٹھاتی ہوٸی کار کی طرف آ رہی تھی۔۔۔
احان کو ہر قدم اپنے دل پر پڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس نے جھنجلا کے اپنے خیال کو جھٹکا تھا۔۔۔۔
وہ پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول رہی تھی۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔ مس ہانیہ۔۔۔ احان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا۔۔۔
میں ڈراٸیور نہیں ہوں آپکا۔۔۔ بڑٕے روکھے انداز میں کہا گیا تھا۔۔۔۔
احان نے فرنٹ ڈور کھولا۔۔۔ وہ خاموشی سے اندر بیٹھی۔۔۔۔
آج کا سارا دن بگاڑ دیا نا محترمہ کا۔۔۔ احان دل میں۔۔ اس کے اور زبیر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
احان کی خشبو۔۔۔ وہ دیوانی تھی۔۔۔ اس خشگوار مہک کی جو احان کے وجود سے اٹھتی تھی۔۔۔۔ اس کے ھوش اڑا دیتی تھی۔۔۔
وہ آج وہاں بیٹھی تھی۔۔۔ جہاں بیٹھنا اس کا حق تھا۔۔۔۔
دل اس قربت میں جس طرح پاگل سا ہو جاتا تھا اب بھی وہی حالت تھی اس کی۔۔۔۔
وی بلکل خاموش تھا۔۔۔۔ سنجیدہ سا۔۔۔۔۔
کتنی اداس ہو گٸی ہے نہ۔۔۔ اسے اس کے ساتھ آنا پڑا جس سے یہ دور بھاگتی ہے۔۔۔ اسے اس دن والی بات یاد آ گٸی جب یہ زبیر کو کال کر کے اس کی ڈیوٹی چینج کرنے کی بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ایک طنزیہ سی مسکراہٹ احان کے ہونٹوں پر تھی۔۔۔۔
تو محترمہ کو کوٸی گھریلو پریشانی نہیں تھی۔۔ بلکہ زبیر کے ساتھ۔۔۔۔اسے عجیب سی جیلسی سی ہو رہی تھی۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔ احان کے دماغ نے جیسے کڑی سے کڑی ملانی شروع کر دی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: