Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

عجیب طرح کی گھٹن ہو رہی تھی اسے یہ سوچ سوچ کے کہہ۔۔۔ ہانیہ اور زبیر آپس میں۔۔۔۔۔۔
اچانک گاڑی کی رفتار اس نے تیز کر دی تھی۔۔۔
کیسی ہے اب آپ کی گھریلو پرابلم۔۔۔۔ بڑے طنزیہ انداز میں پوچھا گیا۔۔۔ میرا مطلب اب آپ کافی ریلکس نظر آتی ہیں۔۔۔۔ دل عجیب طریقے سے جلن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔وہ تھوڑی حیران ہوٸی تھی اس کی بات پہ کیوں کہ اس نے کبھی کام کی بات کے علاوہ کوٸی بات بھی تو نہیں کی تھی۔۔۔
جی۔۔ جی۔۔ بلکل ٹھیک ہے اب سب۔۔۔ ہانیہ نے گھبراتے ہوۓ ہاتھوں کو جوڑ کے خود کو خود کا سہارا دیا۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔۔۔ احان نے دونوں ہونٹوں کو بھینچتے ہوۓ کہا۔۔۔ گاڑی کے سٹیرنگ پر احان کی گرفت مظبوط ہو گٸ تھی۔۔۔۔
کافی لمبا راستہ تھا۔۔۔ ان کو کسی دیہاتی علاقے میں سروے کے لیے جانا تھا۔۔۔
تین گھنٹے کی مسلسل ڈراٸیو کے بعد وہ لوگ وہاں پہنچے تھے۔۔۔
ہانیہ کا تو دل کر رہا تھا یہ سفر کبھی ختم نا ہو۔۔۔ یونہی وہ احان کے ساتھ بیٹھی رہے۔۔۔ اسے دیکتھی رہے۔۔۔۔ کتنا پیارا سا احساس تھا اس کے ساتھ کا۔۔۔ اسکا دل گدگدا دینے والا۔۔۔
بابا کا فیصلہ غلط بھی نہیں تھا۔۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا دی تھی۔۔۔۔ بڑے ناز سے وہ اس دشمنِ جان کے پہلو میں بیٹھی تھی۔۔۔ اس نے چور نظروں سے احان کو دیکھا۔۔۔۔
افف کتنا ۔۔۔ پیارا ہے یہ شخص۔۔ اس کی ساری دنیا سمٹ کے کہیں اسی ظالم میں تو بستی تھی۔۔۔۔ پتہ نہیں اس نے کس طرح یہ دس سال اس کے لیے تڑپ تڑپ کے گزارے تھے ۔۔۔
انہھیں تقریباََ سارادن لگ گیا تھا۔۔۔ وہاں۔۔۔ احان نے دیکھا وہ اتنی بھی بیوقوف نہیں تھی جتنا وہ اسکو سمجھتا تھا۔۔۔۔
وہ بہت اچھے طریقے سے مریضوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ بڑے پیار سے۔۔۔ بڑی توجہ سے۔۔۔
کتنی دلکش ہے یہ۔۔۔۔ وہ بار بار ہانیہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ زبیر کا لٹو ہونا تو بنتا ہی ہے۔۔۔۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔
شام کے سات بج گۓ تھے ان دونوں کو کام ختم کرتے کرتے۔۔۔
واپسی پہ وہ کافی تھک چکی تھی۔۔۔ سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا تھا اس نے۔۔۔
احان نے ہلکا سا میوزک پلے کر رکھا تھا۔۔۔
ایک تو دل اسکی قربت میں پرسکون تھا۔۔۔ اوپر سے رات کا اندھیرا ۔۔۔ مدھر سی موسیقی۔۔۔ کچھ پتہ نا لگا کب وہ نیند کی وادیوں میں کھو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔۔۔ جب اسے ساجرہ نظر آٸی جو نزیر کو اور اسکو بابا کو اس گھر کی طرف اشارے کرتی دیکھاٸی دی۔۔۔ وہ لوگ تیزی سے ساجدہ کی بات سن کر باہر نکلے تھے۔۔۔
ہانیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ جیسے ہی اس نے گیٹ کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ لڑکا بھی کسی آدمی کے ساتھ گھر کے اندر ہی آنے والا تھا۔۔۔
اسکی جان پہ بن گٸی۔۔۔ وہ دوڑتی ہوٸی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔ اور پھرداخلی دروازے تک پہنچی ۔۔ دماغ بلکل شل تھا۔۔۔ کرے تو کرے کیا۔۔۔۔
وہ یونورسٹی سے واپس آکر ابھی پورچ میں کھڑا ہی ہوا تھا۔۔ جب اسے اپنے پیچھے۔۔ ٹیکسی رکتی دیکھاٸی دی۔۔۔۔
۔ اس نے غور سے دیکھنے کے لیے اپنے قدم اگے بڑھاۓ۔۔۔۔۔
اوہ بابا۔۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا۔۔۔۔
آپ کیسے۔۔۔ یہاں آپ نے بتایا بھی نہیں۔۔۔ وہ ان کے ہاتھ سے بیگ پکڑتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔۔۔
ابھی وہ پورچ سے گزرتے ہوۓ۔داخلی دروازے تک پہنچے ہی تھے۔۔ کہہ ایک شور اسے عقب میں سناٸی دیا۔۔۔
تین لوگ آکر اسے گھونسے اور موکے جڑنے لگے۔۔کیا ھوا کون لوگ ہو تم۔۔۔۔ وہ حواس باختہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
یہی حال حیدر وحید کا تھا۔۔۔۔ کیوں مار رہے ہو میرے بیٹے کو۔۔۔۔۔ وہ مسلسل احان کو چھڑوانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اس کے گھر میں ہے میری بیٹی۔۔۔۔ ان سب میں سے ایک۔۔۔آدمی نے دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔ لیکن باقی سب۔۔ احان کی ایک بھی بات سنے بنا اسے مارنے میں مصروف تھے۔۔
کیا مطلب بیٹی ہے آپکی۔۔۔۔ حیدر حواس باختہ ہو گۓ تھے۔۔
انھوں نے اپنے بیس سال کے بیٹے کی طرف حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔ میرا بیٹا ایسا نہیں ہے۔۔۔۔ سب رک گۓ تھے۔۔۔
کھولو دروازہ ابھی پتہ چل جاۓ گا سب ۔۔۔کھولو دروازہ۔۔۔
ان میں سے ایک ادمی زیادہ جوش میں آگے بڑھا۔۔۔
احان کھولو دروازہ۔۔۔۔ حیدر نے۔۔ گرج دار آواز میں کہا۔۔۔۔ بیس سالہ احان لرز گیا باپ کے خوف سے۔۔۔۔
بابا میں کہہ رہا ہوں نہ اندر کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ احان بار بار اپنے باپ کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
کھولو تم۔۔۔۔۔ حیدر نے پھر سے دھاڑنے والے انداز میں کہا۔۔
احان نے جیسے ہی داخلی دروازے کا لاک کھولا۔۔۔
تو حیدر کے پاٶں کے نیچے سے زمین نکل گٸی۔۔۔۔۔
سیاہ چادر میں منہ آدھے سے زیادہ چھپاۓ۔۔۔ ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔۔۔ جو غالبََ پندرہ۔ چودہ۔۔ سال کے لگ بھگ لگ رہی تھی۔۔۔
انھوں نے خون خار نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ حواس باختہ کھڑا اس لڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو لوگ تھوڑی دیر پہلے احان کو مار مار کے ادھ موا کر رہے تھے۔۔۔
ایک دم سے اس لڑکی پر جھپٹے تھے۔۔۔۔۔ بغیرت کیاکر رہی تو تین دن سے یہاں۔۔۔۔ لڑکی بمشکل اپنی چادر کو سر سے سرکنے سے بچا رہی تھی۔۔۔۔۔
اطہر اسے بار بار مار رہے تھا۔۔بتا مجھے کیا کر رہی تھی یھاں ۔۔۔۔
پیار کرتے ہیں ہم۔۔۔ ایک گھٹی سی معصوم سی آواز چادر میں سے نکلی۔۔۔۔
وہ اٹھی اور بھاگتی ہوٸی۔۔ حیدر کے سامنے کھڑی ہو گٸ۔۔۔ میں اور آپ کا بیٹا ایک دوسرے کو پیار کرتے ہیں۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو تم ۔۔۔۔ احان دور کھڑا چیخ رہا تھا۔۔۔ اسکے دونوں بازو دو لڑکوں نے جکڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
۔
جھوٹ بول رہی ہے یہ۔۔۔ احان حیدر۔۔ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گٸ تھی۔۔۔ میں تو جانتا تک نہیں اسے۔۔۔۔ احان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کرے تو کرے کیا۔۔۔۔ کوٸی بھی اسکی بات کا یقین نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔ کون تھی وہ اور ایسے کیوں اس پر اتنا بڑا الزام لگا رہی تھی۔۔۔۔
اوروہ تھی کہ اتنا بڑا جھوٹ بول کے رو ایسے رہی تھی جیسے ۔۔۔ سارا قصور احان کا ہو۔۔۔ دوپٹے میں منہ آدھے سے زیادہ چھپا ہوا تھا۔۔ اور مسلسل وہ ناک رگڑ رہی تھی۔۔۔ روتے ہوۓ۔۔۔
حیدر کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔ وہ آگے بڑھے۔۔ اور اپنے بیٹے کے منہ پہ ایک زناٹے دار چماٹ جڑ دیا تھا۔۔۔۔ یہ تربیت کی تھی تمھاری۔۔ کہ تم یہ گل کھلاٶ گےاکیلے رہ کے۔۔۔ احان۔۔ ہل کے رہ گیا تھا ۔۔
با با آپ میرا یقین کریں یہ لڑکی سراسر جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔احان چیخ رہا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھی آخر کو اسکے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
احان کے سر پر حیرت کے پہاڑ گر رہے تھے۔۔۔۔ جس لڑکی کو وہ دیکھ آج رہا ہے۔۔ جس کا نام تک وہ نہیں جانتا۔۔۔وہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔۔۔ وہ تین دن سے ایک ساتھ ایک گھر میں تھے۔۔۔۔ اور وہ آج نکاح کرنے والے تھے۔۔۔
تم کیوں جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ احان کا سر پھٹنے پہ آ گیا تھا۔۔۔۔ وہ تیزی سے اسکی کی طرف بڑھا۔۔۔ اسے حیدر نے بڑی مشکل سے روکا۔۔
میں تجھے مار دوں گا جان سے بیغیرت لڑکی۔۔۔ اطہر۔۔ غصے میں آ کر اس لڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔ اور اسکا گلا دوبوچ ڈالا۔۔۔
چھوڑیں اسے۔۔۔حیدر ۔۔۔ نے اگے بڑھ کے۔۔ لڑکی کو بچایا۔۔
میں ڈی۔سی۔پی۔۔۔ حیدر وحید۔۔۔۔ حیدر نے اپنا ریوالور اگے کیا تھا۔۔۔ ۔۔ سب ڈر کے ایک دم پیچھے ہو گۓ تھے۔۔۔
چھوڑیں اسے۔۔ میں اسی وقت اسکا نکاح اپنے بیٹے سے کرتا ہوں۔۔۔حیدر نے دو ٹوک انداز میں بپھرے کھڑے ۔۔اطہر کو کہا۔۔
آپکا اس سے کوٸی تعلق نہیں یہ ان دونوں کا شرعی حق ہے۔۔۔۔ اپنی مرضی سے شادی کریں۔۔۔
بابا ۔۔۔ بابا۔۔ احان انھیں روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
بابا میں نہیں جانتا اس لڑکی کو۔۔۔
بکواس مت کرو تم۔۔۔ تم نے ہمارے سامنے گھر کا دروازہ کھولا یہ لڑکی اس میں سے نکلی۔۔۔ یہ کیسے تھی وہاں۔۔۔
بابا میں نہیں جانتا۔۔۔ پر ۔۔۔۔ احان کی بات منہ میں ہی تھی۔۔۔۔اسکے گھر والے کہہ رہے ہیں وہ تین دن سے گھر سے غاٸب تھی۔۔۔۔ حیدر کو ایک لمحے کہ لیے بھی۔۔ احان پر یقین نہیں تھا۔۔۔۔
تم کہاں تھے یہ تین دن ۔۔۔ حیدر نے خون خار نظروں سے۔۔۔ احان کو دیکھا۔۔۔۔
مہ ۔۔۔مہ۔۔ میں گھر پہ تھا بابا۔۔۔ وہ گڑ بڑا ہی تو گیا تھا۔۔۔ شل دماغ تھا۔۔۔ ۔۔
وہ دوپٹے کی اٶٹ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو اسے اس وقت کوٸی انسان تو ہر گز نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ کوٸی بلا ہی تو لگ رہی تھی۔۔۔ وہ گھر میں موجود کیسے تھی۔۔۔ وہ خود حیرت کے سمندر میں غوتہ زن تھا۔۔۔
اور وہ تھی کہ پر سکون کھڑی تھی۔۔۔ اب تو اسکا رونا بھی تھم گیا تھا۔۔۔۔
وہ سر پکڑ کر رہ گیا۔۔۔ چلو گھر۔۔۔ چلو بیٹی تم بھی۔۔ انھوں نے اس لڑ کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ جو پہلے ہی حیدر کے پچھے چھپی کھڑی تھی۔۔ جلدی سے ان کے ساتھ چل دی۔۔۔۔
حیدر رکے تھے۔۔ پیچھے کی طرف مڑ کے دیکھا۔۔۔ شام کو نکاح ہے آپکی بیٹی کا میرے بیٹے کے ساتھ۔۔۔۔ اپ لوگ شرکت کریں گے تو مجھے خوشی ہو گی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈراٸیو کرتے کرتے اچانک اس کی نظر ہانیہ پہ پڑی ۔۔محترمہ سو رہی تھی۔۔۔ گردن تھوڑی سی ایک طرف کو ڈھلکی ہوٸی تھی۔۔۔
تھکاوٹ تو اسے بھی بہت ہو رہی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔۔ کہیں رک کر کچھ کھا لینا چاہیے بھوک تو ہانیہ کو بھی لگی ہو گی اس نے دل میں سوچا۔۔ اور موٹر وے کے اگلے قیام و طعام پہ رکنے کا سوچا۔۔۔
وہ گاڑی اسلام آباد موٹروے کے قیام و طعام پہ روک چکا تھا۔۔۔
لکین اب اس کو کیسے اٹھاٶں ۔۔۔ وہ سوچتے سوچتے اس نے ہانیہ کی طرف بغور دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔
ایک ہلکی سی لٹ اس کے رخسار کی زینت بنی ہوٸی تھی۔۔۔
اسکی بڑی بڑی اوپر کو اٹھی ہوٸی پلکیں دل کو بھارہی تھیں۔
بھرے بھرے نرم ہونٹ اب آنکھوں کے بعد گستاخ نظر اسکے ہونٹوں پر پھسل آٸی تھی۔
کتنی دلکش تھی وہ۔۔۔ اس کو چھونے کو دل بےقرار سا ہونے لگا تھا۔۔۔۔
کیا سوچے جا رہا ہوں میں اس نے اپنے دل کو سرزش کیا۔۔۔
اہمم۔۔۔۔۔ اس نے گلے کو کھنکارہ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: