Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 6

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

ہانیہ۔۔۔ احان نے اسے دھیرے سے پکارا۔۔۔۔
ڈاکٹر ہانیہ۔۔۔ تھوڑا سا والیم اونچا کیا تھا احان نے۔۔۔
لیکن وہ تو جیسے گدھے گھوڑے بیچ کے سوٸی پڑی تھی۔۔۔۔
کیا کروں کندھے سے ہلا دوں اسکو۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا۔۔۔
اس نے ہانیہ کو کندھے سے ہلایا تھا۔۔۔ ہانیہ۔۔۔ہانیہ۔۔۔۔
جی۔۔۔ جی۔۔ وہ گھبرا سی گٸی ۔۔۔ اور پھر شرمندہ سی ہو گٸی۔۔۔ خجل سی ہو کر اپنے مخصوص معصوم انداز میں ارد گرد دیکھا۔۔۔
کیا پہنچ گیۓ ہم۔۔۔ وہ اپنا دوپٹہ درست کر تے ہوۓ بولی۔۔۔
نہیں محترمہ ابھی تو کچھ کھانے کا پروگرام ہے۔۔۔ آٸیں گی آپ باہر۔۔ وہ اس کی ساٸیڈ کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ شرمندہ سی اتری۔۔۔ کتنا برا لگا ہو گا احان کو۔۔ میں کتنے مزے سے سو گٸی تھی۔۔۔ اسے خود پر غصہ آرہا تھا۔۔۔
دونوں چلتے ہوۓ ایک ریسٹورانٹ کی طرف بڑھے۔۔۔ وہ احان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
کتنا پروقار تھا وہ۔۔۔ کاش میں آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چلوں۔۔دل بھی عجیب عجیب سی خواہشیں کرتا تھا۔۔ ۔ ابھی تو وہ احتراماََ دو قدم پیچھے چل رہی تھی اس سے۔۔۔
بیٹھیں احان نے بیٹھتے ہوۓ ۔۔ سامنے والی کرسی کی طرف اشاراہ کیا۔۔۔
وہ بڑی احتیاط سے کرسی پر بیٹھی۔۔۔
کیا کھاٸیں گی آپ وہ مینیو کارڈ چیک کرتے ہوۓ مخاطب ہوا۔۔۔
میں۔۔۔ اس نے گھبرا کے کہا۔۔۔
نہیں یہ آپ کے ساتھ خالی کرسی پہ بیٹھی کسی بدروح سے کہہ رہا ہوں۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوۓ بولا ہونق کیوں بنی رہتی جب میرے ساتھ ہوتی باقی سب کے ساتھ بلکل نارمل بی ہیو کرتی ہے۔۔۔ احان نے چڑ کر سوچا۔۔
اتنا بھی کیا میں نے اسے ڈرا دیا ہے ۔۔۔ احان کا دل کرتا تھا وہ اب اس کے ساتھ باقی لوگوں کی طرح ہی بی ہیو کرے۔۔۔
وہ پہلے ہی اتنی شرمندہ تھی اب اور ہو گٸی تھی۔۔۔ جی۔۔ آپ کچھ بھی منگوا لیں۔۔ وہ نرمی سے گویا ہوٸی۔۔۔
احان نے ویٹر کو اشارہ کیا۔۔۔
اسے آڈر لکھوایا۔۔۔
سر بھابی کچھ نہیں لیں گی۔۔۔ ویٹر نے مسکرا کے بے تکلف ہونے کی کی۔۔۔
دونوں ایک دم چونکے۔۔۔ ۔
نہ۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔ احان خجل سا ہوا۔۔۔ روکو۔۔ وہ پلٹ کر جانے لگا تو۔۔ احان نے روکا۔۔ یہ بھابی نہیں ہیں۔۔۔ احان نے تنبہیہ کیا ۔۔۔۔
اوہ۔ہ۔ہ۔ہ ویٹر تھواڑا سا خجل ہوا۔۔۔ اور انکھوں میں شرارت بھر کے کان کے پیچھے کھجلی کی۔۔۔۔ سمجھ گیا سر۔۔۔۔
رکو۔۔ احان نے پھر سے روکا۔۔۔۔ یہ وہ بھی نہیں ہےاب کی بار ذرارعب سے کہا۔۔ اپنا کام کرو جا کہ۔۔۔۔
ویٹر اپنا سامنہ لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
بلا وجہ فری ہونے کی کوشش کرتےہیں یہ لوگ۔۔۔ احان منہ میں بڑبڑیا تھا۔۔۔۔
ہانیہ نے بڑی مشکل سے ہنسی روکی اپنی۔۔۔
فون کی بل بجی تھی۔۔بابا کی کال تھی۔۔۔ وہ ایک دم سے گھبراٸی۔۔۔
جی۔۔۔ بابا۔۔۔ ہلکی سے آواز میں کہا۔۔
ابھی تک وہیں ہو۔۔۔ حیدر کی آواز ابھری۔۔۔
جی بابا۔۔۔۔ مختصر جواب۔۔۔
اچھی بات ہے ۔۔۔ بابا خوش ہو رہے تھے۔۔ وہ خبیث کیاکر رہا ہے۔۔۔۔ انھوں نے شرارت سے کہا۔۔۔
کھانا کھا رہے ہیں۔۔۔ وہ آہستہ سے بولی۔۔۔ احان کی طرف دیکھاوہ اپنے فون پر مصروف تھا۔۔۔
گڈ ۔۔گڈ۔۔۔ خوش رہ میری بچی۔۔۔اللہ تم دونوں کو اپنی امان میں رکھے۔۔۔ جب اسلام آباد پہنچ جاٶ تو۔۔ ہاسٹل پہنچ کے مجھے انفارم کر دینا۔۔۔۔ وہ پیار سے اسے نصیحت کر رہےتھے۔۔۔
جی بابا آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔وہ مسکراٸی۔۔۔
فون بند کر کےساٸیڈ پہ رکھا۔۔۔
احان کا فون بجنے لگےتھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ اسلام علیکم۔۔۔ جی۔۔ جی۔۔
لگتا ہے اب بابا کی کال احان کو آٸی تھی۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔
کون ہے تمھارے ساتھ ۔۔۔ بابا احان سے پوچھ رہے تھے۔۔۔
بابا ایک ڈاکٹر ہی ہے ۔۔ وہ تھوڑا چڑ گیا تھا ان کے عجیب سے سوال سن کر۔۔۔
اوہ الو میں پوچھ رہا لڑکی ہے یا لڑکا۔۔ ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔ وہ قہقہ لگا رہے تھے۔۔۔
بابا لڑکا ہے۔۔۔ احان نے دانت پیس کےجواب دیا۔۔۔ اسے پتا تھا اگراس نے لڑکی کہا تو بابا نے اسے تنگ کرنا شروع کر دینا۔۔۔
ہانیہ ہنسی چھپانے کے لیے ارد گرد دیکھنے لگی۔۔۔ اسے کیا خبر تھی جو اسکے سامنے بیٹھی ہے۔۔۔ اور وہ جو اس سے بات کر رہے ہیں دونوں جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہا۔۔۔
کھانا کھا کے پھر سے واپسی کا سفر شروع ہوا۔۔۔
کہاں ڈراپ کرنا آپ کو۔۔۔ شہر پہنچ کر احان نے خاموشی توڑی۔۔
گرلز ہاسٹل۔۔۔ ہانیہ نے گلا صاف کیا اتنی دیر خاموش رہنے کے بعد۔۔آواز بیٹھ سی گٸی تھی۔۔۔
دل نہیں چاہ رہا تھایہ سفر ختم بھی ہو۔۔۔
وہ اتری اور بوجھل قدموں سے اندر چلی گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا۔۔میں آپکو بار بار کہہ رہا ہوں میں اس لڑکی کو بلکل نہیں جانتا۔۔ کون ہے کہاں سے آٸی ہے۔۔۔بیس سالہ احان چیخ چیخ کے اپنی سچاٸی کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
بکواس نا کرو میرے ساتھ ۔۔۔۔ حیدر کی گرج دار دھاڑ نے سب کچھ ساکت کر دیا ایک دفعہ ۔۔۔ ہانیہ بھی سہم گٸی تھی۔۔۔
احان بھاگتا ہوا کمرے میں گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ حیدر نے اس معصوم آواز والی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ہانیہ ایک دم سے حیدر کے پیروں میں گری تھی۔۔۔
یہ یہ کیا کر رہی ہو۔۔ پلیز میری مدد کریں انکل۔۔۔ مجھے بچا لیں ۔۔۔ خدا کا واسطہ مجھے بچا لیں۔۔۔
اٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔ ذرا ۔۔ حیدر نے اس روتی بلکتی۔۔ لڑکی کو اوپر صوفے پہ بیٹھایا۔۔۔ وہ ہچکیوں کے سا تھ رو رہی تھی۔۔۔
ہوا کیا ہے۔۔۔ مجھے بتاٶ۔۔۔ حیدر نے شفقت سے ہانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
ہانیہ ان کی ردا جتنی ہی تھی۔۔۔ ۔۔
اس نے اپنی ساری دکھ بھری داستان حیدر کے شفقت بھرے سایے کے نیچے بیان کر دی۔۔۔
انھوں نے فوراََ احان کے ماموں کو فون ملایا۔۔۔
احان کا نکاح ہے ابھی کچھ دیر میں تم آسیہ کو لے کر آجاٶ۔۔۔
تم آ جاٶ میں بتاتا ہوں سب ۔۔۔آگے سے کوٸی باز پرس کی گٸی تھی۔۔۔
اس کے بعد انھوں نے ایک دو اور جگہ پہ فون گھمایا۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوٸی تھی۔۔۔ پندرہ سالہ ہانیہ دبک کے حیدر کے پیچھے کھڑی ہو گٸ تھی۔۔۔
رکو بیٹی ڈرو مت۔۔۔ حیدر نے شفقت سے تسلی دی ۔۔ ہانیہ کو۔۔ اور خود ریوالور نکال کے باہر کی طرف بڑھے۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آۓ تو ساتھ ۔۔ اطہر تھے۔۔۔
شرمندہ سے۔۔۔ سر جھکاۓ۔۔۔ لٹی پٹی دنیا کی طرح۔۔۔
انھوں نے ایک نظر ہانیہ پہ ڈالی اور پھر حیدر کے اگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔
میری بچی کو اپنا لیں صاحب ۔۔۔ میری بچی کو لے جاٸیں ۔۔۔ آپ لوگ شریف لوگ ہیں ۔۔ وہ اونچی اونچی رو رہا تھا۔۔۔
ہانیہ بھی رو رہی تھی۔۔۔۔
حیدر نے اطہر کے جوڑےہوۓ ہا تھوں کو اپنے ھاتھوں میں لیا۔۔۔
آپ فکر نہ کریں آپکی بیٹی آج سے میری بیٹی ہے۔۔۔
اسکے بعد حیدر نے احان کو دروازہ توڑ کے باہر نکالا ۔۔۔ اسے بلکل یہ نا بتایا کہ انھیں اصل حقیقت پتا چل گٸی ہے کہ اس کا کوٸی قصور نہیں ہے۔۔۔۔
اسے ڈرا دھمکا کے چند لوگوں کی موجودگی میں احان اور ہانیہ کا نکاح پڑھا دیا گیا۔۔۔۔
اسکے فوراََ بعد وہ وہاں سے اسلام آباد کے لیے نکل گۓ تھے۔۔۔
گاڑی میں وہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھی تھی۔۔۔ گندے مٹی میں اٹے کپڑے۔۔ میلا سا کالی چادر میں چھپا چہرہ۔۔۔
احان باپ سے ڈر کر بپھرا بیٹھا تھا۔۔۔ آنکھوں میں لالی اتری ہوٸی تھی۔۔۔
حیدر ٹیکسی پر آۓ تھے لیکن اب وہ زاہد کی گاڑی اپنے ساتھ لے آے تھے۔۔۔
ریحم کی کال بار بار احان کے فون پر آ رہی تھی۔۔۔ جسے وہ بے دردی سے کاٹ رہا تھا۔۔
ظاہر سی بات ہے ۔۔۔ماموں زاہد نے اور ممانی نے جا کر سب گھر بتایا ہو گا۔۔۔۔
افف۔۔۔۔۔احان کا سر پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
حیدر نے نزیر کو گرفتار کروا دیا تھا۔۔ ساجدہ کو صرف ہانیہ کے کہنے پہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔ لیکن پھر بھی ان کا اب لاہور میں رہنا محفوظ نہیں تھا۔۔۔ کیونکہ نزیر کوٸی عام سا بندا نہیں تھا۔۔۔
اس وقت تو وہ۔۔ حیدر کی گَن سے ڈر کر چلتا بنا تھا ۔۔۔ لیکن وہ اتنی آسانی سے یہ سارے معملے سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔
ہانیہ کی آنکھیں بوجھل ہونے لگی تھیں۔۔ اتنے دن سے اسے چین کی نیند نہیں آٸی تھی۔۔ وہ پیچھے والی سیٹ پہ سر رکھ کے سو گٸ تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ گھر آیا تو کافی دیر ہو گٸی تھی۔۔۔
اسلم ۔۔۔بابا۔۔۔ سو چکے کیا۔۔۔ اسلم جو اس کے ھاتھ سے بیگ پکڑ رہا تھا اس سے سوال کیا۔۔۔۔
جی صاب۔۔۔۔ اسلم نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔۔۔۔
وہ بہت تھک گیا تھا سوچا تو یہ تھا کہ بستر پر گرتے ہی سو جا ۓ گا پر ایسا تو نا ہوا۔۔۔۔
بار بار عجیب عجیب سے خیال سر پر سوار تھے۔۔۔ ہانیہ کا چہرہ ۔۔ بار بار نظروں کے سامنے تھا۔۔۔ پھر جب وہ سوٸی ہوٸی تھی۔۔۔ انکھوں میں قید ہی تو ہو گیا تھا وہ لمحہ۔۔۔۔
اس نے کروٹ بدلی۔۔۔ پھر سے ہانیہ کا چہرہ۔۔۔ معصوم سا۔۔۔ گداز سا۔۔۔ خود پہ تو قابو تھا۔۔۔ خیال پہ کیا۔۔۔ خیال میں تو اس نے اس لمحے کو کچھ اور ہی رنگ میں دیکھ ڈالہ۔۔
ہانیہ کی چہرے کی لٹ کو اپنے ھاتھوں سے ہٹایا تھا۔۔۔
پھر آہستہ سے وہ اسکے چہرے کے قریب آیا تھا۔۔۔
پھر وہ جسارت جس جس کو وہ صرف سوچ ہی سکتا تھا۔۔۔
۔ اوہ ۔۔۔۔ کیا فضول سوچے جا رہا ہوں میں۔۔۔
اچانک ایک عجیب سا احساس ہوا۔۔۔ وہ تو زبیر کو۔۔۔۔
میں ایسے ہی پاگل ہو رہا ہوں اس نے خود کو سرزنش کیا۔۔۔۔
پر دل صاحب تو۔۔۔ اپنے انداز ہی بدل چکے تھے۔۔۔
وہ چڑ کے اٹھا تھا۔۔۔۔ ساٸیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا۔۔۔ اور غٹاغٹ چڑھا گیا۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اسے نیند آٸی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوٸی اسے ہلا رہا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھ کھلی تو کوٸی عورت تھی۔۔۔ بی بی اندر چلیں۔۔۔
وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ سوٸی ہوٸی تھی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھی چادر کو اپنے ارد گرد درست کیا اور گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔ گاڑی بڑے سے خوبصورت گیراج میں کھڑی تھی۔۔۔
وہ اس عورت کے پیچھے پیچھے چل پڑی تھی۔۔
وہ اسے ایک بڑے سے کمرے میں لے آٸی تھی۔۔۔
وہ چپ چاپ بیڈ پہ بیٹھ گٸی تھی۔۔۔۔ اسے اس طرح بیٹھے کتناہی وقت گزر گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: