Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 7

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

باہر سے اسے آوازیں مسلسل سناٸی دے رہی تھی۔۔۔۔ مسز حیدر تھی۔۔ بول رہی۔۔۔
آپ نے حد کر دی حیدر۔۔۔ کون ہے کیسی ہے۔۔۔ فراڈ ہی نا ہو۔۔۔ پکڑ کے بہا لاۓ۔۔۔۔ میرے اتنے چھوٹے سے بیٹے کو۔۔۔۔۔ وہ نقاہت سے کہ رہی تھی۔۔۔
میں جانتا ہوں سب۔۔۔ حیدر کی بارعب آواز کا دبدبا تھا۔۔۔ مسز حیدر چپ سی ہو گٸی تھیں۔۔ لیکن اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔ جو با ر بار یہ کہہ رہا تھا۔۔یہ الزام ہے صرف۔۔۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیسے تھی گھر میں۔۔۔
بولاٸیں آپ اس لڑکی کو پوچھیں اس سے۔۔۔ وہ چیخ رہا تھا۔۔۔
خاموش۔۔۔۔ اب بس ایک بھی بات نہیں کرو گے تم۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔ حیدر کی گرج کے آگے بیس سالہ احان دب کہ رہ گیا تھا۔۔۔
حیدر کا رعب ایسا ہی تھا باہر بھی اور گھر پر بھی۔۔۔
ردا بیٹا۔۔ آپ جاٸیں اور بھابی کو۔۔ اپنے کپڑے دیں۔۔۔ حیدر نے کمرے کے دروازے کے پاس سہمی کھڑی اپنی بیٹی سے کہا۔۔۔۔
جی۔۔ بابا۔۔۔ وہ باہر نکلی۔۔۔
احان اس سے پہلے بجلی کی سی تیزی سے چلتا ہوا باہر نکلا۔۔۔۔
وہ گھر میں پاگلوں کی طرح اس پچھل پیری کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔
اماں بی۔۔۔ کہاں ہے وہ لڑکی۔۔۔ وہ ملازمہ پہ چیخ رہا تھا۔۔۔
اماں بی نے گھبرا کے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ زخمی شیر کی طرح۔۔۔ اس کے کمرے کی طرف گیا۔۔
وہ ابھی بھی۔۔ بیڈ پہ بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔ احان اس کے سر پر کھڑا چیخ رہا تھا۔۔۔۔
بولو کون ہو۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ وہ چادر میں لپٹی گندی ۔۔۔ میلی۔ سی۔۔ کوٸی لڑکی تھی۔۔۔ احان کو گھن آ رہی تھی اس سے۔۔۔
اس نے ہانیہ کا بازو پکڑ کے جھنجوڑ ڈالہ۔۔چلو۔۔۔ چلوابھی چلو میرے ساتھ۔۔۔۔
بابا کو جا کر سب سچ بتاٶ۔۔۔ چلو۔۔۔ وہ بے دردی سے اسکا بازو پکڑ کر اسے کھینچ رہا تھا۔۔۔
اففف اس کے مظبوط ہاتھ اس کے نازک سے بازو میں پیوست ہو کہ رہ گیے تھے۔۔۔
وہ تھا کہ جانوروں کی طرح لے کر جا رہا تھا اسے۔۔۔۔
احان کا موباٸل بجا تھا۔۔۔ موباٸل پہ ابھرتا ریحم کا نام دیکھ کر اس نے فوراََ ہانیہ کا جھٹکے سے بازو چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔ درد بھری آواز میں ہیلو کہتا ہوا وہ ایک طرف چلا گیا تھا۔۔۔
وہ جو بے دردی سے کھنچی چلی جا رہی تھی۔۔ اب اپنے دوپٹے اور کپڑوں کو درست کرنے لگی۔۔۔ پھر خاموشی سے واپس اسی کمرے میں آ گٸی جہاں سے احان اسے گھسیٹتے ہوۓ لے کر گیا تھا۔۔۔۔
میں نے تم سے کوٸی صفاٸی نہیں لینی۔۔۔ ریحم فون پہ چیخ رہی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں صرف اس لیے فون کیا ہے ۔۔ کہ تمہیں بتا دوں۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔ احان حیدر۔۔۔ تم نے میرے جزبات کا مزاق اڑایا ہے۔۔۔ میرے ارمانوں کا خون کر دیا ہے۔۔۔
ریحم پلیز میرا یقین کرو۔۔۔۔ میں اسے جانتا تک نہیں۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔ اس کی آواز رونے کی وجہ سے اتنی بھاری ہو گٸی تھی کہ با مشکل احان کو اس کی باتیں سمجھ آ رہی تھی۔۔۔۔
احان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔۔۔۔ اس کی محبت کی معصوم کلی کو پھول بننےسے پہلے ہی اس لڑکی نے روند دیا تھا۔۔۔
احان نے زور سے فون دیوار میں مارا۔۔۔ فون اڑتا ہوا جا کر دیوار میں لگا اور دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر زمین بوس ہو گیا۔۔۔
احان کی آنکھوں میں نمی تھی۔۔۔ خون تھا۔۔۔۔
ردا کمرے میں آٸی تو وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔ ردا نے اس کے پاس اپنے کپڑے رکھے اور باہر نکل گٸی۔۔۔
کپڑے پاس پڑے تھے۔۔۔ لیکن وہ ویسے ہی خاموش بیٹھی۔۔۔ قسمت کے کھیل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ پھر اچانک نماز کا خیال آیا۔۔۔
اس نے کپڑے اٹھاۓ کپڑے بدل کر وضو کیا۔۔۔ کعبہ کا تعین سمجھ نییں آرہا تھا۔۔۔ پھر جس طرف کو دل مانا۔۔۔ سجدہ ریز ہو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل تھوڑا سا لیٹ پہنچا تھا۔۔۔وارڈ میں اسکا راونڈ تھا۔۔۔۔ واٸٹ کوٹ پہنے۔۔۔ وہ وارڈ نمبر 5 کے باہر بڑے انداز سے کھڑی۔۔ زبیر کے ساتھ۔۔ مسکرا رہی تھی۔۔۔وہ منظر گزرتے گزرےے اس کے تن بدن میں آگ سی لگا گیا تھا۔۔۔
وہ راونڈ کے بعد اپنے آفس میں بیٹھا انگاروں پہ لوٹ رہا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد اس نے تیزی سے انٹرکام اٹھا کے کان کو لگایا تھا۔۔۔
ڈاکٹرہانیہ کو میرے کمرے میں بھیجیں پلیز۔۔۔۔۔۔فون کو رکھ کے پھر خود کو سرزنش کرنا شروع کر دیا۔۔۔
افف کیا مسٸلہ ہے میرے ساتھ ایسے کیوں بی ہیو کررہا ہوں کیوں برداشت نہیں ہو رہا مجھ سے۔۔۔ زبیر تو ہے ہی ایسا فلرٹی ٹھرک باز سا پہلے بھی تو وہ ایسے ہی کرتا تھا۔۔۔ لیکن اب کی بار ۔۔۔ ۔۔۔۔ اس نے سر کو پیچھے کی طرف کیا اور کرسی پہ گھومنا شروع کر دیا۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوٸٕی۔۔۔ دروازہ کھلا اور وہ دلکش حسینہ سلیقے سے سر پہ دوپٹہ سجاۓ کھڑی تھی۔۔۔
مۓ اٸی کم ان۔۔۔۔۔ وہی گھبراہٹ۔۔۔ وہی ہونٹوں کی کچلنے والی بے چینی۔۔۔۔ وہی دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑنا۔۔۔۔
اسے زہر لگی وہ۔۔۔۔ یہ سارا ڈرامہ وہ اسی کے ساتھ کیوں کرتی ہے۔۔۔ابھی کچھ دیر قبل۔۔۔ جب وہ زبیر کے ساتھ کھڑی تھی۔۔ تواس کا چہرہ کتنا مطمٸین تھا۔۔ میرے سامنے آتے ہی محترمہ کے بارہ کیوں بج جاتے ہیں۔۔۔۔
اففف کیا گھورے ہی جا رہا ہے کچھ کہہ کیوں نہیں رہا۔۔۔ہانیہ کہ دل لگتا تھا حلق کے رستے باہر نکل آۓ گا۔۔۔۔۔ جب بھی وہ ایسے فرصت سے اسے دیکھتا تھا۔۔۔ ہانیہ کا دل ڈر سا جاتا تھا کہ ابھی وہ اسے پہچان لے گا۔۔۔ کہ یہ وہی ہانیہ ہے۔۔۔ اور وہ کام جو دس سال پہلے کیۓ بنا اس نے ہانیہ کو دھکے مار کر گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔ ۔۔ اس وقت تو وہ ان معاملوں کے بارے میں اتنا شعور نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے گھرسے باہر دھکے دے کر نکال کے یہ سمجھا تھا کہ اس نےسب تعلق ختم کر دیا۔۔ لکین تعلق یوں تو نہیں ختم ہوا کرتا۔ اور اب دل ڈر جاتا تھا۔۔۔ کہ جسکو دس سال تک دل کی دھڑکنوں میں پروتی رہی وہ۔۔۔۔ اس کی ڈور کا سرا کہیں اس ظالم کو مل نہ جاۓ وہ تو ایک لمحے میں پکڑ کر ادھیڑ ڈالے گا اس کے سارے خواب۔۔۔
بیٹھیں۔۔۔۔احان نے اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا اب ان دونوں کے درمیان ایک میز حاٸل تھا۔۔۔
دل تو کر رہا تھا اس موم کی گڑیا کو جھونجوڑ ڈالے کہ تمھہیں مجھ سے کیا ڈر ہے۔۔۔ ساری دینا کی لڑکیاں میری ایک عناٸیت بھری نظر کو ترستی ہیں اور تم ھو کہ۔۔۔۔ ۔۔
کل سروے والی فاٸل کے بارے میں ڈسکس کرنا تھا۔۔۔ ماتھے پہ بل ڈالے کرسی کو داٸیں باٸیں گھوماتے وہ اس سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
جی۔۔۔ وہ اپنے مخصوص۔۔۔ کانپتے ہاتھوں اور دھڑکتے پھڑکتے دل کے ساتھ۔۔۔ سامنے پڑی فاٸلوں میں سے اس فاٸل کو تلاش کرنے کے ناکام کوشش کرنے لگی۔۔۔
ایک دم سے احان نے رکنے کے لیے کہنا چاہا تو ہانیہ کے ہاتھ کےاوپر اپنا ہاتھ رکھ چھوڑا۔۔۔اب فاٸلوں کے ڈھیر کےاوپر ہانیہ کا نازک سا ہاتھ تھا اور اسکے اوپر احان کا مظبوط ہاتھ ایسے پڑا تھا کہ اس کا ہاتھ تو چھپ چھپ سا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوٸی کہ ہانیہ کو لگا ابھی یہاں ڈھے جاۓ گی وہ۔۔۔۔
میں نے کہا آپکو یہاں تلاش کریں۔۔۔ دل تو کر رہا تھا۔۔ یہ ملاٸم سی کلاٸی کو موڑ کے اسے اپنی طرف کھینچے۔۔۔ اور پھر پوچھے اس ظالم حسینہ سے کہ کیوں اس کو یوں پاگل سا کر دیا ہے۔۔۔ کیوں اسکا سارے غرور اکڑ۔۔۔ کے خول کو پاش پاش کرنے پہ تل گٸی ہو۔۔۔
یہ پکڑیں فاٸل۔۔۔ اس نے ہانیہ کو فاٸل تھما دی۔۔۔ احان نے ھاتھ اٹھایا تو جیسے ہانیہ کی جان میں جان آٸی۔۔۔۔
وہ اس سےفاٸل کا کام کروا رہا تھا۔۔۔ کام تھا کہ ختم ہی نہیں ہو رہاتھا۔۔۔
آج تو خون کے آنسو رو رہی ہو گی۔۔۔۔ آج دو دن ہو گۓ ہیں اسکواور زبیر کو میں وقت گزارنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ایک کمینہ سا سکون اتر رہا تھا اس کے اندر ایک ضد سی کہ کیوں ہانیہ اس کے ساتھ نارمل نہیں ہوتی۔۔۔ اس کے مقابلے میں کیوں اس نے زبیر کو ترجیح دے رکھی ہے۔۔۔
اب اسے ہانیہ کی گھبراہٹ سےمزہ آنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
چلیں پھر اب چلتے ہیں وارڈ میں ۔۔۔ مجھے کسی مریض کی کنڈیشن ڈسکس کرنی آپ سے۔۔۔۔۔فاٸل کا کام ختم ہونے کے بعد احان نے کہا۔۔۔
اوہ میرے خدا آج تو یہ اپنی قربت سے میری جان ہی لے چھوڑے گا۔۔۔۔ہانیہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں ابھی لاہور نہیں جانا ہے سمجھے تم۔۔۔۔ حیدر احان کو پیار سے سمجھا رہے تھے اوربیس سالہ احان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ کھڑا ہو۔۔۔
میں ویسے بھی تمھارہ ایڈمیشن باہر کروا رہا ہوں۔۔۔ زیب تمہیں وہاں رکھے گی اپنے ساتھ۔۔۔۔ حیدر نے باہر مقیم اپنی بہن کا نام لیا۔۔۔
احان نے غصے سے اپنا کندھا چھڑوایا۔۔
ماتھے پہ بل ڈالے آنکھوں میں خون اتارے وہ ضبط سے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ لحاظ تھا تو اپنے بارعب باپ کا۔۔۔۔
کچھ دیر وہ لاہور جانے کی ضد لگا کر بیٹھا رہا۔۔۔ پھر پیر پٹختا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
ردا نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔۔۔ دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ سے کھلا تھا۔۔۔
ہانیہ ایک گٹھڑی کی طرح سمٹی بیڈ پہ بیٹھی تھی۔۔۔۔
ردا آہستہ چلتی ہوٸی اس کے پاس آٸی۔۔۔
ہانیہ نے چہرہ اوپر اٹھایا۔۔۔۔
افف۔۔۔۔ کس قدر حسین چہرہ تھا۔۔۔ ردا دیکھتی ہی رہ گٸی تھی۔۔۔۔ کیا بھاٸی نے اسے دیکھا نہیں ۔۔۔ اسے اپنے بھاٸی کی ذہنی حالت پہ شک ساگزرا۔۔۔
کیا نام ہے آپ کا۔۔۔ ردا اس کے بلکل پاس کھڑی پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ہانیہ۔۔۔ ایک معصوم سی دکھ بھری آواز براآمد ہوٸی۔۔۔۔
ردا کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ در آٸی۔۔۔۔
وہ بڑے پیار سے اس کے ساتھ بیٹھی۔۔۔۔ اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ وہ تھی ہی اتنی دلکش۔۔۔۔
لیکن گھبراٸی ہوٸی ۔۔۔ ہانیہ نے دوپٹہ کھینچ کے اور منہ کے آگے کیا۔۔۔ جیسے اس کی ساری کہانی وہ اس کے چہرے پر ہی پڑھ لےگی۔۔۔
کھانا لا دوں تمہیں۔۔ ردا نے پیار بھری آواز میں کہا۔۔۔
اس نے نہیں میں سر ہلا دیا۔۔۔
بھاٸی بہت اچھے ہیں۔۔۔ بس ان کو اچانک ایسے ۔۔۔۔ ردا کو بات کرنا نہیں آ رہی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: