Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 8

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

بھاٸی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا نہ ایسے کچھ۔۔۔ ردا کو ہانیہ کے بہتے آنسو۔۔۔ اور زیادہ پگھلا گیےتھے۔۔۔آپ چلو باہر۔۔ بابا چاہ رہے آپ سب کے ساتھ مل کر کھانا کھاٸیں۔
وہ تھوڑا جھجک رہی تھی کیوں کہ دو دن سے وہ اسی کمرے میں بند تھی۔۔۔۔
ردا نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے بیڈ سے اٹھنے پر اکسایا۔۔۔
وہ خاموشی سے چلتی ہوٸی ڈاٸینگ ہال میں آٸی تھی۔۔۔
احان کو جیسے ہی اس کی موجودگی کا احساس ہوا وہ فوراََ غصے سے کرسی دھکیل کے اٹھا تھا۔۔۔۔
ہانیہ ایک دم کرسی کی چرچراہٹ پہ طبق گٸی تھی۔۔۔۔
کوٸی بات نہیں بیٹے آپ آٶ۔۔۔ حیدر نے شفقت سے کہا اور کرسی کی طرف اشاراہ کیا۔۔۔
وہ تیزی سے اسے بنا دیکھے اس کے پاس سے گزر گیا تھا۔۔۔
تین دن جب وہ اس کے گھر میں تھی جس سے وہ بے خبر تھا۔۔۔ اس نے احان کو گھنٹوں دیکھا تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں پر وہ اس سےما نوس سی ہو گٸی تھی۔۔۔
اور اب نکاح کے بعدتو یہ احساس اور بھی گہرا سا ہو گیا تھا۔۔۔
مسز حیدر وہاں موجود نہیں تھیں۔۔ شاٸید ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔
کھانے کو بلکل دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ نہیں پتہ تھا جو کر بیٹھی ہے۔۔۔ یا ۔۔ جو اللہ نے اس کے ساتھ کر دیا ہے۔۔۔وہ اس کے حق میں بہتر ہے کہ نہیں۔۔۔
چھوٹے چھوٹےنوالے لیتے ہوۓ اس نے ان اجنبی چہروں کو دیکھا جو آج اس کے اپنوں سے بڑھ کے تھے۔۔۔۔
بس ایک وہی تھا جو اسے ایک لمحہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
وہ کھانا کھانے کے بعد پھر سے اسی کمرے میں بند ہو گٸی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔ احان ۔۔۔آجاٶ نہ۔۔۔ وہ سٹاف روم میں آیا تھا۔۔۔
ہانیہ کو آج سارا دن نہ دیکھنے کا وہ سوچ کر اور خود سے عہد کر کے آیا تھا۔۔۔ پر دوپہر کے 12 بجے سے ہی بے چینی شروع ہو گٸی تھی۔۔۔اتنے ضبط کے باوجود اس کے قدم اسے خود بہ خود ہانیہ کی ایک جھلک دیکھنے کی طلب میں یہاں تک لے آۓتھے۔۔۔
زبیر سمیت وہ سب لوگ خوش گپوں میں مصروف تھے۔۔۔۔ وہ بھی وہیں بیٹھی تھی جواس کو دیکھتے ہی تھوڑی سی سیدھی ہوٸی تھی۔۔ اور چہرہ ویسے ہی ہو گیا تھا۔۔۔
میز پرایک مٹھاٸی کا ڈبہ کھلا پڑا تھا۔۔۔
ڈاکٹر احان یہ آپ کے لیے۔۔ دیبا اسے کٶٸی کارڈ پکڑا رہی تھی۔۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیبا کی طرف دیکھا۔۔۔
میری شادی کا کارڈ۔۔۔۔ دیبا بہت خوش دکھا ٸی دے رہی تھی۔۔۔
آپ کو لازمی آنا ہے۔۔۔ دیبا نے پر طباق انداز میں کہا۔۔۔
وہ معضرت کرنے ہی والا تھا کہ دیبا کا اگلا فقرہ سن کے وہ رک گیا تھا۔۔۔۔
اور تم ہانیہ ۔۔۔ زبیر کہہ رہا ہے نہ وہ تمہیں پِک بھی کرے گا اور ڈراپ بھی۔۔۔دیباخفگی سے ہانیہ کی طرف مڑی تھی۔۔۔
احان کےکان کھڑے ہو گیے تھے۔۔۔
جی۔۔۔جی۔۔۔ کیوں نہیں بندہ حاضر ہے جناب۔۔۔ زبیر سینے پہ بڑی ادا سے ھاتھ رکھ کے جھک تھا۔۔۔۔۔
احان کو زہر لگا تھا۔۔۔ خبیث۔۔۔ احان نے دانت پیستے ہوۓ سوچا۔۔۔
ہاں نا ہانیہ تمھارے بنا کیا مزہ آۓ گا ۔۔ سعدیہ بھی ہانیہ کو خفگی دکھا رہی تھی۔۔۔
میں اس کے گھر کے سامنے جا کر اتنے ہارن بجاٶں گا۔۔۔ جب تک یہ باہر نہیں آۓ گی۔۔۔ ۔۔۔ زبیر نے بڑی ادا سے کہا تھا۔۔۔ سب لوگ ہنسنے لگے تھے۔۔۔
وہ ایکسکیوز کرتا ہوا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ عجیب گھٹن سی ہونے لگی تھی۔۔۔۔
زبیر تمہیں پک بھی کر گا اور ڈراپ بھی۔۔۔ بار بار دیبا کا کہا گیا فقرہ احان کے ذہن میں گونج رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چھت کو تقریباََ ایک گھنٹے سے بے مقصد گھور رہا تھا۔۔۔
ریحم کا آج مسیج آیا تھا۔۔۔ اس کی وہاب کے ساتھ بات پکی ہو گٸی تھی ۔۔۔
وہاب ریحم کا خالہ زاد تھا۔۔۔ ریحم کی خالہ کینڈا مقیم تھی اور تقریباََ ایک سال سے ریحم کے رشتے کے لیے اسرار کر رہی تھی۔۔۔ ماموں ممانی اپنی اکلوتی بیٹی کو اتنا دور نہیں بِہانا چاہتے تھے۔۔۔ ان کا احان کی طرف جھکاٶ زیادہ تھا۔۔۔ لیکن اس واقع کے بعد انھوں نے وہاب کے رشتے میں مزید تاخیر نہیں کی
آج یہ سب باتیں ریحم کی ماں نے ریحم سی کی۔۔۔ کہ وہ احان سے کرنا چاہتے تھے پر ۔۔۔۔۔
ریحم نےاسے طنز کے طور پر فون کر کےسب بتایا تھا۔۔۔ تب سے اب تک۔۔۔ وہ اپنے دل میں اٹھنے والی ٹیس کی تکلیف کو برداشت کرنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔
نہ وہ بلا اس کی زندگی میں آتی اور نا ریحم اس سے الگ ہوتی۔۔۔ اس کا دل کیا وہ اس کو نوچ کے اپنی زندگی کی کتاب میں سے نکال دے۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا۔۔۔ اس کمرے میں آیا تھا جہاں پندرہ سالہ ہانیہ۔۔ گھٹنوں میں سر دیے۔۔ بیڈ پہ بیٹھی تھی۔۔۔۔
تم کیوں آٸی میری زندگی میں وہ دھاڑا تھا۔۔۔وہ ریحم کے دور ہونے کی تکلیف کا بدلہ اس سے لینا چاہتا تھا۔۔۔ کیوں کہ وہی زمہ دار تھی اس سب کی۔۔۔
وہ سہم گٸی تھی۔۔۔ چادر میں چھپا سا چہرہ جسے وہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔۔۔
نکلو میری زندگی سے اور میرے گھر سے وہ چیخ رہا تھا اس پہ کھڑا۔۔۔
کیا ہو رہا یہاں حیدر کمرے میں اس کا دھاڑنا سن کر آۓ تھے۔۔۔
وہ غصے میں اسے پکڑ کر باہر لا رہے تھے۔۔۔ آج تو وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں تھا۔۔۔
ریحم کے مسیج نے۔۔اس کے اندرآگ ہی تو لگا دی تھی۔۔۔
وہ حیدر سے بری طرح الجھ بیٹھا تھا۔۔۔
ایک دم سے باہر شوروغل ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔
ہاۓ میرے اللہ۔۔۔۔ہانیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔
حیدر بری طرح اپنے بیٹےکے ساتھ گوتھم گوتھا تھے۔۔۔۔
رکے وہ تب جب بیمار مسز حیدر بڑی مشکل سے اٹھ کے باہر آٸی اور ان دونوں کو اس حالت میں دیکھ کے ایک زور دار آواز سے زمین پہ ڈھ گٸی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈریس کوٹ اپنے اوپر چڑھاتے ہوۓ۔۔ اپنے سراپے کو سامنے لگےآٸینے میں بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایک خبرو پروقار۔۔۔ خوبصورت شخص تھا وہ۔۔۔ وہ دیبا کی شادی کےلیۓ وقت سے پہلے تیار ہوا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے گاڑی کی چابی اٹھا کہ باہر نکلا تھا۔۔۔۔
گاڑی بڑی عجلت میں ڈراٸیو کر کے وہ ڈاکٹر زبیر کے گھر پر پہنچا تھا۔۔۔
احان۔۔۔۔ زبیر اسے گھر پہ دیکھ کے حیران ہو رہا تھا۔۔۔۔
ہاں وہ میں ۔۔۔ میری۔۔۔۔ کار تھوڑا مسٸلہ کر رہی تو میں نے سوچا ۔۔۔ تم سے لفٹ لیتا ہوں۔۔۔۔ وہ تھوڑا گڑ بڑایا تھا۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔ پوری طرح اعتماد میں تھا۔۔۔۔
زبیر کے ارمانوں پہ جیسے اوس سی پڑ گٸی ۔ہاں۔۔۔ہاں تو ٹھیک ہے نہ چلو پھر نکلتے ہیں۔۔۔ ہانیہ کو بھی ہاسٹل سے پک کرنا ہے۔۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔۔ اسے بھی لینا ہے۔۔۔۔ احان نے انجان بننے کی کوشش کی۔۔۔
ہاں چلو پھرنکلتے ہیں۔۔۔ مایوسی سے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوۓ۔۔ زبیر نے کہا۔۔۔۔
ہوں۔۔۔چلو۔۔۔ احان نے اٹھ کے اپنا کوٹ درست کیا۔۔۔
وہ لوگ ہانیہ کے ہاسٹل کے باہر کھڑے تھے۔۔۔۔
سیاہ رنگ کے بنارسی اتلس کی سادہ سی قمیض اور شلوار کے اوپر۔۔ کامدار گہرے گلابی رنگ کا دوپٹہ۔۔۔ دوپٹے کے چاروں طرف سہنری رنگ کی کرن مزین تھی۔۔۔۔ کھلے بال سر پر لیے دوپٹے میں سے ایک طرف کو نکال کے آگےکیے ہوۓ تھے۔۔۔ بالوں کے نیچے سلیقے سے کرل ڈالے ہوۓ تھے۔۔
سارہ نے اس کے نہ نہ کرتے بھی اسے اتنا تیار کر دیا تھا۔۔۔ سارہ اسکی رومیٹ تھی اور صرف وہی اس کی وہ واحد دوست تھی جو۔۔اس کے اور احان کے رشتے کو جانتی تھی۔۔۔
سارہ یار بس کر۔۔۔۔ نا۔۔۔ مجھے نہیں لگتا وہ آٸیں گے۔۔۔ ہانیہ نے بچوں جیسی شکل بنا کر کہاں۔۔۔
ہاۓ ایسے مت کہہ بدتمیز لڑکی۔۔۔ آج تو اس سنگ دل کے ھوش اڑانے۔۔۔ سارہ نے اسکے بال کے کرل آگے کرتے ہوۓ کہا۔۔اور شرارت سے آنکھ دباٸی۔۔۔ پھر دونوں ہنسنےلگیں ۔۔۔ چلو اب جانے دو مجھے ۔۔۔ ڈاکٹر زبیر نیچے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔
وہ جب نیچے اتری تو زبیر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ اس دشمنِ جاں کو دیکھ کے اسے بہت خشگوار حیرت ہوٸی۔
۔۔دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی۔۔۔ دوپٹےکو سر پرٹکاتی وہ ہر قدم۔۔ گاڑی کے سیٹ پہ بیٹھے اس شخص کے دل پہ رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
حسیں تجھ سابھی ہو گیا کیا کوٸی۔۔۔۔ بےساختہ احان کے دل نے ہانیہ کے حسن کی گواہی دی تھی
اسکی گھبراٸی سی شکل دیکھی۔۔۔ محترمہ کا بھی دل ٹوٹ گیا مجھے زبیرکے ساتھ دیکھ کے۔۔۔۔۔ احان نے دل میں سوچا۔۔۔ وہ پچھلی سیٹ پہ براجمان تھی۔۔۔۔۔۔
احان کی خوشبو نے اسکا استقبال کیا تھا جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی۔۔۔
دل خوشی سے اچھل اچھل کے باہر آ رہا تھا۔۔۔ اسے تو اس کے آنے کا بھی یقین نہیں تھا۔۔۔ اور وہ جناب۔۔ اپنے پورے جلوے لیے اس پر پہلی نظر ڈالنے والے محترم نکلے۔۔۔۔
اس نے۔۔ ہلکے سے سلام کیا تھا۔۔۔۔
جسکا بڑے شوخ انداز میں زبیر نے جواب دیا تھا۔۔۔۔
وہ میرج ھال کے آگے رکے تھے۔۔۔۔ تینوں چلتے ہوۓ وہاں پہنچے۔۔۔۔ دیبا کی دودھ پلاٸی کی رسم شروع ہوٸی تو سب لوگ سٹیج پر ہی چڑھ دوڑے تھے۔۔۔ کیونکہ اس دوران ہونے والی نوک جھونک سب کو ہی پسند ہوتی۔۔۔ وہ پہلے سے ہی۔۔ دیبا کے بلکل پیچھے صوفے پہ دونوں ہاتھ ٹکا کے کھڑی تھی۔۔۔۔
سب لوگ ہنس رہے تھے۔۔۔ مزاق کر رہے تھے۔۔۔ اچانک احان کی خوشبو اس کے اندر سی اتری۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ وہ تو بلکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔۔۔ اتنا پاس کے اگر وہ مڑتی تو اس کے پتھر جیسے سینے سے اس کا سر بری طرح ٹکرا جاتا۔۔۔۔
اففف۔۔۔ اس کی جان پسلیوں کے درمیان میں آکر دھڑکنے لگی تھی۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ہلکا ہلکا سا ارتھ اس کے اندر اتر کر اس کے دل پہ گدگدی کر رہا ہے۔۔۔ ۔
وہ سٹیج کی طرف نہیں اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب اس کی نظر اس لڑکے پر پڑی جو ہانیہ کو دیکھتا ہوا اس کے قریب جانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے آگے آیا تھا۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکا ہانیہ کے پاس پہنچتا وہ ہانیہ کے بلکل پیچھے آکر ایسے دیوار بن کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
کھڑا اب وہ حیران ہو کر یہی سوچ رہا تھا وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے ۔۔ہانیہ کے بلکل پیچھے کھڑا وہ ایسے ساکت کھڑا تھا جیسے وہ اس دیوی کو چھوتے ہی پتھر کا ہو گیا ہو۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: