Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 9

0
زیست کے ہمراہی از ہما وقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

اف یہ اتنا قریب کیوں آگیا۔۔۔ ہانیہ کی حالت غیر ہو رہی تھی اور وہ تھا کہ بت بنا کھڑا تھا۔۔۔ ہاتھ پہ پسینہ آگیا تھا۔۔۔ احان کے جسم سے اٹھنے والی گرم ہواٸیں اس کے بدن کو جلانے لگی تھی۔۔۔ دل تھا کہ اوپر نیچے ڈبکیاں لگانے لگا تھا۔۔۔
احان کا دل نے اس سے دغا کر کے سوچنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ ہانیہ کےکان کے قریب ہو کر سرگوشی کر دے۔۔۔ تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔۔۔
۔۔ مجھے اس صورت نے پاگل کر رکھا ہے۔۔۔ میں اب ایسی حرکتیں کر رہا ہوں جو میں نہیں کرتا تھا۔۔۔ کیوں بچوں کی طرح دل تمہی کےلیے مچلتا ہے۔۔۔
تیس سال کے اس مظبوط سے لڑکے کے دل کو گھٹنوں کے بل نیچے گرا چکی ہو تم۔۔۔ تم ہی وہ لڑکی ہو جس نے دس سال بعد احان کے مرے ہوے جزبات کو ان کی قبروں سے باہر نکال دیا ہے۔۔۔۔ تم ہی ہو جو دل کو دھڑکا دھڑکا دیتی ہو۔۔۔
تم ہی ہو۔۔ جس کو چھونےکو دل کرتا ہے۔۔۔
تم ہی ہو جسے خود میں بسانے کودل کرتا ہے ۔۔ تم ہی ہو جس کے اندر کہیں بس جانےکو دل کرتا ہے۔۔۔۔ تم ہی ہو۔۔ جس کو اپنے جزبات کے بہتے سمندر کی لہروں میں بہانے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
تم ہی ہو۔۔۔ صرف تم۔۔۔ وہ اسکےبپیچھے کھڑا پاگل ساہو رہا تھا۔۔۔
سب لوگ خوش گپوں میں مصروف تھے اور وہ دونوں تھے جن کے دل ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ دونوں کو ارد گرد کا کوٸی ہوش نہیں تھا بس وہ تو ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے۔۔۔
سب لوگ جوش میں ایک دم سے ہاتھ اوپر اٹھا کرچیخے تھے کیوں کہ دیبا کی بہن کو اس کی من چاہی۔۔ دودھ پلاٸی کی رقم ملی تھی۔۔۔۔
سب کے ایسے جوش میں آنے سے ہلکا سا دھکا لگا تھا۔۔ احان کا پورا وجود ہانیہ سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔
دونوں کی دھڑکنیں تک ٹکرا گٸی تھیں۔ ہانیہ۔۔کی پلکوں پہ جیسے کسی نے پتھر باندھ دۓ ہوں۔۔
گال تپنے لگے تھے۔۔ جان دل کے ساتھ جھولا ڈال کر جھولنے لگی تھی۔۔ کبھی نیچے ہوتی تو کبھی اوپر۔
اگر اب ایک لمحہ بھی ہانیہ وہاں رکتی تو کیا پتہ وہ اس ظالم کی باھوں میں ڈھیر ہوتی۔۔۔۔ ۔۔۔
مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔ وہ بڑی مشکل سے مڑی تھی۔۔۔ وہ تھا کے پیچھے بھی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
۔ وہ کیاجانے وہ تو ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔۔۔
ہانیہ کی آواز کسی کھاٸی سے آتی ہوٸی محسوس ہوٸی تھی۔۔۔۔
وہ تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس کی جان تھی کہ اب بس نکل ہی جانے والی تھی۔۔۔۔
احان ۔۔۔ مجھے۔۔۔ جانے دیں۔۔۔ اس نے پھر سے کہا۔۔۔
اوہ۔۔ ہاں۔۔۔ وہ خجل سا ہوا تھا اپنی ا س حالت سے۔۔۔
بہت دھیرے سے اس نہ تھوڑی سی جگہ دی تھی۔۔۔ جس سے وہ اپنا موم سا جسم اس سے ٹکراتی ہوٸی۔۔ وہاں سے بھاگنے جیسی حالت میں نکلی تھی۔۔۔۔
احان نے اچانک اپنے بری طرح دھڑکتے دل پر ھاتھ رکھ کر حیرانی سے دیکھا۔۔۔ کیا ہو گیا تھا اس کو۔۔۔ ایسے تو کبھی وہ ریحم کے لیے نہیں دھڑکا تھا۔۔۔ تب تو تھا بھی جزبات سے بھرا۔۔ جوانی کے عروج پہ۔۔۔
وہ حیران تھا۔۔۔ پریشان تھا۔۔۔۔ ارد گرد کے لوگ باری باری سٹیج سے اتر رہے تھا۔۔۔ وہ وہیں پہ کھڑا تھا۔۔۔۔
دیبا کی رخصتی کی تیاری شروع ہو گٸی تھی۔۔۔
وہ وہیں پہ کھڑا تھا۔۔۔۔
دیبا رخصت ہو کر۔۔۔ ھال کے دروازے سے نکل رہی تھی۔۔۔
وہ وہیں پہ کھڑا تھا۔۔۔
ھال خالی سا ہو گیا تھا۔۔۔ اکا دکا لوگ گھوم رہے تھے۔۔ لایٹس بند ہو رہی تھیں اور
وہ وہیں کھڑا تھا۔۔۔۔۔
احان ۔۔۔احان۔۔۔ زبیر کی آواز پہ وہ چونکا تھا۔۔۔۔
چل یار میں اور ہانیہ کب سے انتظار کر رہے ۔۔۔۔۔
وہ اسی مدھوشی کی سی حالت میں چلتا ہوا آ کر کار میں بیٹھا تھا۔۔۔اسے خبر نہیں کب ان لوگوں نے ہانیہ کو ہاسٹل اتارا کب وہ لوگ اس کے گھر کے آگے کھڑے تھے۔۔۔ وہ خاموشی سے اترا اور چلا گیا۔۔۔۔
بڑا ہی بے مروت ہے۔۔۔ چاۓ کا کیا پوچھنا تھا شکریہ بھی نا کہ سکا۔۔۔ زبیر بڑ بڑاتے ہوۓ گاڑی موڑ رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر بہت بارش ہورہی تھی۔۔.. وہ نماز پڑھنے کے بعد بھی بےمقصد ۔۔ جاۓنماز پر ہی بیٹھی تھی۔۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اسکو بہت سکون ملتا تھا۔۔۔۔
باہر سے ردا کی چیخوں کی آواز آٸی تھی۔۔۔ وہ ماربل کے بنے فرش پہ ننگے پاٶں بھاگتی باہر آٸی تھی۔۔۔
احان نے ردا کو گلے لگا رکھا تھا۔۔۔ اور وہ مما مما کہہ کر چیخ رہی تھی۔۔۔۔ ۔۔
آہ۔۔۔۔ ہانیہ کا دل دھک سا رہ گیا۔۔۔ مسز حیدر تین دن سے ایمرجینسی میں تھیں۔۔ اور آج احان ان کے گزر جانے کی خبر لے کر آیا تھا۔۔
وہ دونوں بہن بھاٸی۔۔ تڑپ تڑپ کے اپنی ماں کے لیے رو رہے تھے۔۔۔۔ اس کی انکھوں سے بھی آنسو ٹپک پڑے تھے۔۔۔۔
ردا کو حوصلہ دیتے دیتے احان کی نظر ہانیہ پر پڑی تھی۔۔۔
نماز کے سٹاٸیل میں دوپٹے کوگھوما کر اس نے ایسے لیا ہوا تھا۔ کہ دوپٹے کی ایک ساٸیڈ اسے کہ ادھے چہرے پر آرہی تھی۔۔۔
احان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھا تھا۔۔۔ چنگھڑاتا ہوا ہانیہ پہ جھپٹا تھا۔۔۔۔
نکلو باہر میرے گھر سے۔۔۔ تم میری ساری خوشیاں کھا گٸی ہو۔۔۔۔ کچھ نہیں بچا میرے پاس۔۔۔ وہ دھاڑ رہا تھا۔۔ اس کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوۓ باہر لے آیا تھا۔۔۔
اب وہ بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ تیز بارش نے چند لمحوں میں ہی دونوں کو بھگو کہ رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ چیخ رہا تھا اس پر اور اس کے کانوں میں حیدر کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔۔
یہ جو تم نے مجھے بتایا ہے یہ تم ابھی احان کو مت بتانا۔۔
اب جب وہ اسے گھسیٹتا ہوا مین گیٹ کی طرف لے کر جا رہا تھا تو ایک دم سے جیسے وہ اپنے حواسوں میں آٸی تھی۔۔۔۔
پلیز احان مجھے مت نکالیں ۔۔۔میں کہاں جاوں گی۔۔۔ میرا کوٸی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی گڑ گڑا رہی تھی۔۔۔ وہ نچڑنے کی حد تک بارش میں بھیگ چکی تھی۔۔۔
ننگے پاٶں۔۔ تھی
۔۔پر اس بے درد کو تو کوٸی ہوش تک نہیں تھا۔۔
اسے دھکے دیتے ہوۓ اس نے گھر سے باہر کر دیا تھا۔۔۔
حیدر گھر نہیں تھے۔۔۔ ابھی ھاسپٹل تھے۔
۔۔ ردا ویسے بھی حواس میں نہیں تھی۔۔۔۔
بارش اتنی تیز ہو رہی تھی۔۔۔ سارے ملازم بھی نہیں تھے بارش کی وجہ سے۔۔۔ وہ بری طرح گیٹ بجاتی رہی کہ کوٸی تو کھول دے لیکن کوٸی نہیں تھا۔۔۔۔
اس کا جسم سردی سے کانپنےلگا تھا۔۔۔۔ وہ کوٸی چھت تلاش کر رہی تھی تاکہ بارش کے تھپیڑوں سے بچ سکے۔۔۔۔
اففف ۔۔۔وہ جا کس طرف رہی تھی پر بارش کے ساتھ چلتی ہوٸی تیز آندھی اسے کسی اور رخ میں دھکیل رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی گھر سے تھوڑا دور ہی گٸی تھی۔۔ جب کسی گاڑی سے بری طرح ٹکراٸی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے کوٸی تین چکر لگا چکا تھا۔۔۔ سٹاف روم کے آگے سے۔۔۔ وہ اسے ایک دفعہ بھی نظر نہیں آٸی تھی۔۔۔
دل کو ہر دفعہ سرزنش کرتا اب اگلا چکر نہیں لگاۓ گا پر پھر کچھ دیر بعد وہیں ہوتا تھا۔۔۔۔ اپنے آفس میں تو ٹک بھی نہیں پا رہا تھا۔۔۔
اب کوٸی تیسری دفعہ وہ آیا تھا جب وہ اسے نظر آٸی تھی۔۔ وہ کسی وارڈ سے زبیر کے ساتھ ہنستے ہوۓ نکل رہی تھی
احان کے تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گٸی تھی۔۔۔
وہ ایک دم سے اسے دیکھ کر رکی تھی۔۔۔ پھر نظریں جھک گٸی تھیں۔۔۔ وہ خاموشی سے وہاں سے گزر گٸی تھی۔۔۔ جب کے زبیر وہاں کھڑا ہو کر ۔۔احان سے باتیں کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔
تو محترمہ کو اس دن شادی والی حرکت پہ ابھی تک غصہ ہے۔۔۔۔ احان کو گھٹن ہونے لگی تھی۔۔ منہ کو بگاڑتے ہوۓ وہ ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
زبیر نے نا سمجھ آنے والی اس کی حالت پر کندھے اچکاۓ۔۔۔۔
اور وہاں سے چلا گیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: