Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 1

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 1

–**–**–

ملواتے ہیں آپ کودو کرداروں سے
بریرہ:
ایک چپ چاپ سی لڑکی جو زیادہ تر اپنی دنیا میں مگن رہتی تھی. اس کا کوئی والی وارث نہیں تھا. بس ایک دوست زینب ہی تھی جس سے وہ اپنا دکھ درد بانٹ لیا کرتی تھی لیکن اب وہ بھی جانے والی تھی. اس کی شادی ہو رہی تھی.
سبحان:
ایک سلجھا ہوا شریف سا لڑکا تھا. وہ اپنی ماں کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا تھا. وہ ہر کسی کو خوش دیکھنا چاہتا تھا اسی لئے ہر طرف خوشیاں بکھیرتا رہتا تھا. اس کا بس چلتا تو وہ رنج والم کا نام ہی مٹا دیتا دنیا سے لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ جہاں صرف روشنیاں ہی روشنیاں ہوں وہاں لوگ تنگ آ کر کالے بادلوں کے لئے ترستے ہیں.
یہ کہانی میرے دل کے بےحد قریب ہے. اس کو میں نے بہت محنت کر کے آپ لوگوں تک پہنچایا ہے. اس کو لکھتے لکھتے میں کئ بار انہی کرداروں میں کھو گئی. امید ہے کہ آپ لوگوں کو بھی ان دو کرداروں کی کہانی پسند آئے گی.
ساتھ ہی ساتھ اس کہانی کے ذریعے میں نے ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے جو آپ کو پڑھ کر ہی سمجھ آئے گا.
*************************
روشن دان سے ہلکی ہلکی روشنی اُس لڑکی کے پررونق چہرے تک پہنچی جسکی وجہ سے اُسکے آرام میں خلل پڑا. روشنی سے بچنے کیلئے اُس نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیے لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ساتھ ہی اسکا فون بجنے لگا تھا. نیند خراب ہوتے ہی وہ جھٹ سے بستر پر بیٹھی اور فون اُٹھانے لگی پر دیر ہو گئی تھی کیونکہ کال اب بند ہو چکی تھی. اُس نے موبائل فون بستر پہ رکھا اور باتھ روم کی طرف بڑھی لیکن عین اسی وقت کوئی دروازہ کھٹکھٹانے لگا. وہ واپس پیچھے دروازے کی طرف مڑی اور دروازہ کھولا. سامنے اسکی دوست زینب کھڑی تھی جسکی ابھی ابھی کال آئی تھی.
“اُف حد ہے بریرہ کال کرو پک ہی نہیں کرتی ہو.” وہ دروازہ کھلتے ہی کمرے میں آئی.
“یار وہ بس….. “
“ڈونٹ ٹیل می ڈیت کہ تم ابھی تک سو رہی تھی” زینب نے بےترتیب چادر کو دیکھتے ہوئے بریرہ کی طرف آبرو اٹھائی. وہ چپ تھی اور اسکی خاموشی سب کہہ گئی تھی.
“یار آج میری شادی ہے اور تم سونے میں مصروف ہو… ” وہ تھوڑا بھرم ہوئی.
“تو کیا ہوا تمہاری شادی ہے میری نہیں” اس نے بات کو جیسے ٹالا تھا.
“واہ جی واہ…. جگری دوست سے اس بات کی امید ہر گز نہیں تھی” وہ برا مان گئی تھی.
“یار بات کا بتنگڑ تو مت بناؤ… بتاؤ کیوں آئی تھی؟”
“تمہارا رشتہ لینے….” بریرہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں. زینب کی لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی.
“ہا..ہا..ہا..پاگل کیا ہو گیا ہے؟..مزاق کر رہی تھی..تم تو سریس ہی ہو گئی”
“اف ایک پل کے لئے تو تم نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا”
“ہا..ہا. ہا.. اچھا چلو.. تم میرے ساتھ پارلر چل رہی ہو”
“یار میں کیوں..” بریرہ نے منہ بنایا.
“میڈم میں آپکی سڑی ہوئی شکل دیکھ کر اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گی.. سمجھی.. یہ میرا آرڈر ہے جو تمہیں ہر حال میں ماننا پڑے گا” اسکی دوست نے بھی اسے ساتھ لے جانی کی ٹھانی ہوئی تھی.
“اچھا ریڈی ہو آؤں؟ُ” اس سے لڑنا بےفائدہ تھا کیونکہ تاریخ گواہ تھی وہ دونوں جب بھی لڑی تھیں جیت ہمیشہ زینب کی ہی ہوئی تھی.
“ہاں..ہاں..جاؤ”
وہ کچھ کہے بغیر باتھ روم چلی گئی. اسکی دوست دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے خیالوں میں گم تھی. زینب ہمیشہ اسکے ٹالنے کے باوجود اسکو اِدھر اُدھر گھمانے کے لئے لے جایا کرتی تھی. کیونکہ وہ جانتی تھی کہ بریرہ جان پوچھ کر ایسا کرتی ہے. وہ ہر کسی کو ٹال کر اکیلے سیاہ کمرے میں بیٹھ کر پرانی یادوں کو یاد کر کر کے خود کو کوستی ہے. وہ چاھتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ بریرہ کو مصروف رکھے تاکہ وہ پرانی باتوں کو یاد کرکے دل کو اداس نہ کرے. وہ اسکی ایک سچی دوست تھی. اس پر یہ بات بلکل پوری اترتی تھی “دوست تو وہی ہے جو مصیبت میں کام آئے” اور بریرہ کی سب سے بڑی مصیبت اسکا ماضی ہی تھا اور وہ اسے اُسی سے دور رکھنا چاہتی تھی. وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ کسی نے اسکے سامنے آکر چٹکی بجائی. زینب کے خیالوں کا تسلسل وہیں سے ٹوٹا…
“بریرہ تم آگئی..” وہ تھوری حیرت زدہ تھی
“ہاں کب کی..” اس نے گلے کا دوپٹہ درست کرتے ہوئے بولا.
“تو پھر چلیں؟”
“ہاں ہاں.. چلو”
“اچھا سنو بیوٹی پارلر میں ہمیں دیر ہو جائی گی اسلئے میں نے تمہارے اور اپنے کپڑے وہیں پر بھجوا دیئے ہیں.. تم بھی وہیں بدل لینا” وہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولی.
“میرے کپڑے….؟” وہ حیرانگی سے زینب کی طرف مڑی.
“لاک تو لگا لو پہلے آرام سے…پھر بتاتی ہوں” بریرہ کو یاد آیا کہ وہ تالا لگا رہی تھی لیکن زینب کی بات نے اسے الجھا سا دیا تھا. ظاہر ہے کپڑے تو اسی نے بریرہ کے لئے لیے ہونگے پر نہ جانے کیسے رنگ برنگے لئے ہونگے. وہ تو رنگوں سے کتنے سالوں سے دور ہو چکی تھی. شوخ چیزیں تو اب اسے پسند ہی نہیں آتی تھیں. وہ جلدی سے پیچھے مڑی اور کمرے کو تالا لگایا.
“ہاں اب بتاؤ…” اس نے واپس پیچھے مڑتے ہی پہلا سوال کیا.
“ہاں تو میں نے تمہارے لئے کپڑے….خود کی پسند سے لے لئے ہیں”
“وہ مجھے پتہ ہے پر کیوں” اسکی نظروں میں سوالیہ نشان تھا.
“کیوں کیا.. تم میری دوست ہو اور میں نہیں چاہتی کہ میری دوست روکھے پھکے رنگوں کے کپڑے پہنے وہ بھی میری شادی کے دن” وہ صحیح تھی
“یار میں رنگین جوڑا نہیں پہنوں گی”
“یہ ہم پارلر میں طے کر لیں گے…اب چلیں…؟” وہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی. اس نے بریرہ کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا. وہ چپ چاپ کھڑی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی. ایک بار پھر سے زینب لڑائی جیتنے والی تھی لیکن اُس نے بھی اِس بار ٹھان لی تھی کہ وہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گی شاید اسی وجہ سے وہ جیت جائے اور رنگین کپڑے پہننے سے بچ جائے. وہ سوچتی ہوئی اسکے پیچھے پیچھے جانے لگی.
**********************
ماں کی گود میں لیٹا وہ اپنی سر کی مالش کروا رہا تھا. کتنا سکون ہوتا ہے نہ ماں کی گود میں. سبحان سوچوں میں گم اپنی ہی خیالی دنیا بنا رہا تھا جہاں نہ کوئی دکھ تھا نہ ہی کوئی غم. بس وہ تھا اور اسکی ماں تھیں. اس کی یہ دنیا مکمل تھی لیکن حقیقت سے بہت دور تھی. وہ حقیقی دنیا کی غلاظت کو اپنی پاک صاف دنیا میں ہر گز شامل نہیں کرنا چاہتا تھا. اسکی دنیا بےشک حقیقت پہ مبنی نہ ہو پر اس کے لئے وہی ایک انمول تحفے جیسی تھی. وہ سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اسکی ماں نے اسے پکارا.
“سبحان بیٹا”
“جی.. جی امی”
“تمہیں جانا نہیں ہے؟”
“ایک تو آپ کو چھوڑ کر جانے کا دل ہی نہیں ” گودی سے اُٹھتے ہی اس نے منہ بنایا.
“ارے میرا بچہ…کتنے پیار سے بلایا ہے تمہیں زینب نے اپنی شادی پر”
“ہاں لیکن آپ بھی چلیں نہ” وہ بچوں کی طرح ضد کر رہا تھا.
“میرے بہت سے کام ہیں ورنہ چلتی.. اور تمہیں تو پتہ ہے لمبے سفر سے میرے گھٹنوں میں درد ہوتا ہے.. اب کہاں لاہور اور کہاں اسلام آباد”
“ہاں کہہ تو آپ ٹھیک ہی رہی ہیں.. چلیں میں نکلتا ہوں کچھ دیر میں… رات کا فنکشن ہے پہنچ ہی جاؤں گا.”
“صحیح ہے میں تمہارا سامان وغیرہ پیک کر دیتی ہوں”
“جی امی کر دیں..” وہ کہتا ہوا چارپائی سے اوپر اٹھا اور باتھ روم چلا گیا. اسکی ماں نے ایک بڑا سا بستہ نکالا اور سبحان کی ضرورت کی چیزیں اس میں ڈالنے لگیں. وہ تقریباً تھوڑی ہی دیر بعد باتھ روم سے نکل آیا تھا. ماں نے بیٹے کی طرف دیکھا اور اسکے پاس آئیں.
“جانے کے لئے تیار ہو گئے؟..اچھے لگ رہے ہو..”
“جی سوچا کہ بس نکل جاتا ہوں کہیں دیر نہ ہو جائے اور جہاں تک اچھے لگنے کی بات ہے…” وہ رکا اور ماں کی آنکھوں میں دیکھا “تو آپ کا بیٹا ہوں اچھا تو لگوں گا” ماں کی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی. ساتھ ہی آنکھیں نم بھی تھیں. انہوں نے اپنی بھیگی پلکوں کو چھپانے کے لئے بیٹے کو باتوں میں مصروف کیا.
“چلو ڈائیلاگ نہ مارو ماں کے سامنے… اور بھاگو”
“ہاں جا رہا ہوں اللہ حافظ” اس نے جلدی میں ماں کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور بھاگتا ہو ا گھر سے باہر نکل گیا. اسکی ماں اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھیں. آنکھوں سے بہتے آنسو اب صاف واضح تھے. وہ ہمیشہ ایسے ہی کیا کرتی تھیں. اپنے دل کا بوجھ چھپانے کے لئے اسے کوئی نہ کوئی بات کر دیا کرتی تھیں اور وہ ماں کا لاڈلا اسی وجہ سے انکی ڈھکی چھپی بھیگی پلکوں کو بھانپ نہیں پاتا تھا. شاید وہ سب جانتا تھا اور جان پوچھ کر انجان بنا رہتا تھا. یا شاید اسکا یہی انداز تھا دکھ درد کو جڑ سے مٹانے کا کیونکہ اِسے جتنا کریدو اتنا ہی بڑھتا ہے اور پرانی باتوں کو یاد کرا کر اور رنجیدہ کرتا ہے. درد کا کمال ہے یہ صاحب الٹا پڑھو کہ سیدھا رہتا وہ درد ہی ہے
******************
دلہن مہندی کا جوڑا پہنے کرسی پہ بیٹھی تھی. آئینہ اسکے سامنے تھا. ایک لڑکی پاس کھڑی اس کا برش کے ذریعے میک اپ کر رہی تھی. اس نے ایک نظر اٹھا کر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا. کتنی پیاری لگ رہی تھی نہ وہ. شادی پہ لڑکیاں کس قدر حسین لگتی ہیں. وہ سوچوں میں گم دل ہی دل میں اپنی تعریفیں کر رہی تھی. خود کو آئینے میں دیکھتے دیکھتے اسکی نظر پیچھے کھڑی اپنی دوست پر پڑی جو ہاتھ میں اپنا جوڑا لئے اسکو غور غور سے دیکھ رہی تھی
“کیا ہو گیا ہے بریرہ..؟ اتنا غور سے کیا دیکھ رہی ہو؟”
“یہ کیا ہے میں ایک رنگ کے کپڑوں سے بھاگ رہی تھی اور یہ شرٹ..دوپٹہ..لہنگا سب الگ الگ رنگ کا ہے.. وہ بھی اتنے شوخ شوخ”
“تو کیا ہوا ہے…؟” اس نے ہاتھ کے اشارے سے بیوٹیشن کو وہاں سے جانے کو کہا جو دو منٹ بعد وہاں سے چلی گئی تھی.
“کیا ہوا ہے… میں یہ نہیں پہن سکتی” اس نے سنجیدہ لہجے مہں بولا.
“کیوں نہیں پہن سکتی؟ یہ آج کل کا سٹائل ہے یار”
“جو بھی ہے لیکن میں یہ ہر گز نہیں پہنوں گی” اسکے لہجے میں سختی تھی. زینب اپنی دوست کی طرف مڑی
“کیوں سب کو دکھاتی ہو کہ تم خوش نہیں ہو؟”
میں ایسا نہیں کرتی.. میں دنیا کی طرح بناوٹی نہیں ہوں… میں جب ہوں ہی نہیں اندر سے مطمئن تو اس میں دکھانے والی کیا بات ہے؟” اپنی دوست کی بات اسے اچھی نہیں لگی تھی.
“یار پر کوشش تو کر سکتی ہو نہ خوش رہنے کی؟”
“کیوں کروں؟”
“اپنے لئے.. اگر اپنے لئے نہیں بھی کرتی تو میرے لئے کرو.. میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی. کم از کم میری شادی کے دنوں تک بھول جاؤ پرانی باتیں اور کھل کر میری شادی انجوائے کرو” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر ایک بہترین دوست کے جیسے سمجھا رہی تھی. لیکن اسکے سامنے کھڑی لڑکی بالکل چپ تھی. خیالوں میں ڈوبی ہوئی تھی.
“کیا ہوا ہے چپ کیوں لگ گئی؟..اگر تم نہیں پہننا…” زینب نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جملہ مکمل کرنے کی کوشش کی لیکن اسکا جملہ کاٹ دیا گیا.
“نہیں نہیں میں پہن لیتی ہوں تمہاری خوشی کے لئے..” بریرہ نے جھٹ سے بولا. زینب جواباً مسکرا دی. اس نے ایک نظر زینب پہ ڈالی اور پھر چینجنگ روم میں چلی گئی. آج پہلے بار زینب نے اس سے لڑ کر بات نہیں منوائی تھی بلکہ ایک دوست کے جیسے سمجھایا تھا اور اپنی خوشی کے لئے کچھ مانگا تھا. اسکی زندگی کا آج بڑا دن تھا تو کیسے بریرہ اس کا یہ دن خراب کرتی وہ بھی اُسے ناراض کر کے؟ زینب نے اس دن پر بھی صرف اور صرف بریرہ کی خوشی مانگی تھی اور جس اپنائیت اور محبت سے مانگی تھی بریرہ اسکو ٹھکرا نہیں سکتی تھی. کچھ دیر بعد وہ کپڑے پہن کر کمرے سے نکلی. زینب سامنے کھڑی اپنے بال ٹھیک کر رہی تھی پر بریرہ کو دیکھتے ہی وہ ایک دم اسکے پاس آئی.
“ماشااللہ..ماشااللہ..کتنی پیاری لگ رہی ہو.. آؤ ادھر بیٹھو”
اس نے بریرہ آئینے کے سامنے پڑی کرسی پر بٹھایا. اس کی تب جاکر خود پہ نظر پڑی. وہ واقعی خوبصورت لگ رہی تھی. شاکنگ پنک کلر کی شرٹ اس پر کافی جچ رہی تھی. ساتھ ہی سی گرین کلر کا لہنگا اس کے حسن پر چار چاند لگا رہا تھا. اور وہ پیلے رنگ کا چمک دار دوپٹہ جسے اس نے نزاکت سے کندھے پہ اوڑھا ہوا تھا. وہ تو اور ہی اسکے حسن کو دوبالا کر رہا تھا. جو بھی تھا اسکی دوست کی پسند لاجواب تھی. وہ سوچ ہی رہی تھی کہ زینب کی آواز اسکے کانوں میں گونجی..
“سنیے زرا ادھر آئیں میری دوست کا بھی میک اپ کر دیں” وہ بیوٹیشن کو بلا رہی تھی.
“میرا میک اپ….” پر اسکی بات کاٹ دی گئی.
“چپ کرو ہلکا سا کرواؤں گی..سافٹ سافٹ سا”
“اچھا..” اس نے اپنی دوست کو کہہ جو دیا تھا کہ اسکی خوشی کے لئے سب کری گی تو اب وہ اسے کیسے ٹال سکتی تھی؟
اتنے میں بیوٹیشن آئی اور بریرہ کا میک اپ کرنے لگی.
***********************
وہ ویگن میں بیٹھا اپنی منزل کا انتظار کر رہا تھا. اسلام آباد کچھ ہی میلوں دور تھا. اسکی زینب سے ملاقات لاہور کے ہی کسی مال میں ہوئی تھی. وہ سامنے سے آرہی تھی اور انکی زوردار ٹکر ہوئی تھی. سبحان کو پرانی باتیں یاد آئیں
“آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے..”
“دیکھ کر چلتا تو یقیناً آپ سے نہ ٹکراتا”
“تو نیکسٹ ٹائم زرا دیکھ کر چلئے گا” اس نے طنزیہ نگاہ سبحان کے چہرے پہ ڈالی تھی جو اسکو آج تک یاد تھی
“دیکھ کر تو سب چلتے ہیں میں تھوڑا وکھرا قسم کا بندہ ہوں” زینب کی شکل پہ بارہ بج گئے تھے وہ کس طرح کا بندہ تھا جو بلاوجہ فری ہوئے جارہا تھا.
“ارے ارے میں نے تو ایسی ہی بات کر دی.. آپ تو سریس ہی ہوگئیں. میں معزرت…. ” لیکن وہ لڑکی کچھ سنے بغیر وہاں سے جارہی تھی.
“ارے سنیں تو..” وہ اسکے سامنے آیا تھا
“کیا ہے رستہ چھوڑو”
“میں نے تو صرف جنرل بات کی تھی. آپ تو ناراض ہو کر جا رہی ہیں…” وہ بوکھلا گیا تھا. اسکی اندر کی سچائی اسکی آنکھوں سے جھلک رہی تھی جو زینب دیکھ چکی تھی.
“اچھا ہٹو تو..”
“نہیں.. میں آپ کو تب تک جانے نہیں دونگا جب تک آپ مجھے معاف نہیں کریں گی” وہ بچوں جیسے منہ بنا کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا تھا. وہ نفرتیں نہیں پھیلانا چاہتا تھا کیونکہ وہ ان سب چیزوں سے نفرت کرتا تھا. زینب کو اسکے انداز پہ ہنسی آئی. وہ کیسے منہ بنا کر کھڑا ہو گیا تھا.
“نام کیا ہے تمہارا..؟” اس نے لبوں پہ مسکراہٹ لئے اس لڑکے سے پوچھا.
“ہیں….؟” وہ حیران تھا پر اگلے ہی لمحے اس نے جواب دیا “سبحان عالمگیر”
اسکے بعد سے انکی دوستی شروع ہوئی تھی اور آج تک برقرار تھی بھلا ہو اس سوشل میڑیا کا. آج وہ اُسی لڑکی کی شادی میں شرکت کے لئے جا رہا تھا جس سے وہ تقریباً دو مہینے پہلے ملا تھا. وہ سوچوں میں گم اِدھر اُدھر بھی دیکھ رہا تھا. گاڑی رکی اور مسافر گاڑی سے اترنے لگے. وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی منزل آگئی تھی. اس نے اپنا بستہ اٹھایا اور گاڑی سے باہر نکلا. اس نے جلدی سے گاڑی کے ڈرائیور کو کرایہ پکڑیا اور سامنے اس خوبصورت سے شہر پر نظر ڈالی. اسلام آباد کتنا بدل چکا تھا. چھوٹا سا تھا جب وہ پہلی بار یہاں آیا تھا. اب تو وہ اچھا خاصا بڑا ہو گیا تھا. اس نے ہاتھ کے اشارے سے ٹیکسی کو روکا اور زینب کے گھر کی طرف رخ کیا. گھر کا پتہ زینب نے رات کو ہی اسے میسج کے ذریعے بتا دیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ شادی تک وہ زینب کے گھر میں ہی ریے گا. وہ صحیح معنوں میں ایک اچھی دوست تھی. تھوری دیر بعد ڈرائیور نے گاڑی روکی.
“صاحب آپ کی منزل آ گئی ہے” سبحان نے اسے کرایہ دے کر فارغ کیا اور سامنے اُس عالیشان کوٹھی پہ نگاہ ڈالی. وہ بہت بڑی اور خوبصورت کوٹھی تھی. اس کو معلوم تھا کہ زینب امیر تھی پر اس قدر امیر تھی اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا. لیکن اُسکی بھی غلطی نہیں تھی زینب نے خود بھی کبھی ذکر نہیں کیا تھا. یا شاید وہ پیسوں کا رعب کسی پر نہیں جھاڑتی تھی. اس نے جاکر دروازہ کھٹکھٹایا. ایک بزرگ آدمی نے دروازہ کھولا.
“وہ میں…” وہ اپنا نام بتانے لگا.
“آپ سبحان عالمگیر تو نہیں ہیں؟”
“جی وہی ہوں…” وہ حیران ہوا.
“زینب بی بی نے بتایا تھا کہ آپ آئیں گے..اندر آئیے” ملازم نے اسے اندر آنے کے لئے راستہ دیا. یہ کوٹھی باہر سے جتنی پیاری تھی اندر سے اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی.
“میں نے آپ کا کمرہ درست کر دیا ہے…” نوکر اسے کمرے تک لے کر گیا اور کمرا دکھایا. سبحان نے کمرے پہ ایک نگاہ ڈالی سب کچھ سلیقے طریقے سے اپنی جگہ پر پڑا تھا.
“وہ تو ٹھیک ہے سب گھر والے کہاں ہیں”
“زینب بی بی اپنی دوست کے ساتھ پارلر گئ ہیں اور باقی سب ابھی ابھی شادی ہال کے لئے نکلے ہیں. آپ بھی تیار ہو جائیں. ڈرائیور آپ کو لینے کے لئے آتا ہو گا..”
“اچھا او-کے” ملازم جواب سن کر وہاں سے چلا گیا. سبحان کمرے کے اندر آیا. تھوڑی دیر بستر پر بیٹھ کر کمرے کا نظارہ کیا. مہندی کا فنکشن شروع ہونے میں کم ہی وقت تھا. وہ اٹھا اور موقع کی مناسبت سے کپڑے نکالنے لگا. اس نے نیوی بلیو (Navy Blue) رنگ کی شیروانی نکالی جسکے نیچے سفید شلوار تھی. وہ کپڑے لے کر باتھ روم چلا گیا. پہن کر واپس آیا تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگا. جب وہ مکمل طور پر تیار ہو گیا تو باہر آیا. سامنے کالے رنگ کی گاڑی میں بیٹھا ڈرائیور اسی کا ہی انتظار کر رہا تھا. وہ کچھ کہے بغیر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی چلا دی گئی.
————————————
ہرے, نیلے, پیلے اور نہ جانے کتنے رنگوں سے شادی کا ہال سجا ہوا تھا. دلہن پیلے اور ہرے رنگ کے کپڑے پہنے سٹیج پہ بیٹھی تھی. سب کی نظریں اس پر تھیں اور ساتھ بیٹھی اسکی دوست پر جو نہایت نزاکت کے ساتھ اپنی دوست کا دوپٹہ درست کر رہی تھی. لوگوں کی آمد جاری تھی. کافی لوگ اسکی شادی میں شریک تھے لیکن پھر بھی دلہن کی نظریں کسی کی تلاش میں تھیں.
“کسے ڈھونڈ رہی ہو..؟ جیجو کو؟” دوپٹہ ٹھیک کرتے بریرہ نے آخر پوچھ ہی لیا.
“نہیں دولہے والوں کو ابھی دیر ہے”
“تو پھرکسے ڈھونڈ رہی ہو؟”
“یار میرے ایک دوست کو آنا تھا پتہ نہیں آیا ہے کے نہیں” زینب کی نظریں ابھی بھی اسے ہی تلاش کر رہی تھیں.
“وہ لاہور والا؟”
“ہاں وہی..بڑی بات ہے تمہیں یاد ہے”
“ہاں ذکر جو کیا تھا تم نے..اور آ جائے گا راستے میں ہو گا”
“مجھے لگتا ہے وہ آیا ہی نہیں.”زینب کا منہ بن گیا. بریرہ نے اسکی طرف دیکھا پھر اسکے بدلتے تاسرات کو وہ اب مسکرانے لگی تھی. اسکے لبوں سے بے ساختہ نکلا..
“آگیا ہے وہ.. وہ دیکھو” بریرہ نے زینب کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس طرف دیکھا تھا. وہ انٹرنس سے اندر آ رہا تھا. بلیو رنگ کی شیروانی, لبوں پہ مسکراہٹ اور چہرے پہ بچپنہ..وہ کافی ہنڈسم تھا. داڑھی کی وجہ سے تھوڑا بہت رعب دار بھی لگ رہا تھا. وہ سامنے کی طرف بڑھتا ہوا سٹیج کے پاس سے گزرا اور زینب نے اُسے آواز دی
“سبحان” اس نے زینب کی طرف دیکھا. نظر ساتھ بیٹھی لڑکی پہ بھی پڑی جو نیچے دیکھ رہی تھی
“او.. کیسی ہو؟ میں تمہاری مما سے مل کر تمہاری طرف ہی آ رہا تھا پر تم نے روک لیا..” وہ سٹیج پہ چڑھا.
“ہاہاہا..چلو کوئی نہیں بعد میں مل لینا.. پہلے اس سے ملو یہ میری دوست ہے..”زینب نے بریرہ کو کہنی ماری اور وہ اوپر دیکھنے لگی. اسکے اوپر دیکھتے ہی سبحان اس کے چہرے میں کھو سا گیا. بڑی بڑی آنکھیں لیکن ان آنکھوں میں بہت زیادہ درد تھا. گلابی ہونٹ جو اس وقت چپ تھے پر وہ چلانا جاہتے تھے. گڑگڑانا چاہتے تھے. اسکے چہرے سے معصومیت ٹپکتی تھی پر جان پوچھ کر چہرے کو سنجیدہ کیا ہوا تھا. سانولی رنگت لیکن کمال کی کشش تھی اس میں. پر نہ جانے وہ اس قدر بجھی بجھی سی کیوں تھی. سبحان نے اپنے تمام تر خیالات کو پیچھے کرتے ہوئے اس لڑکی سے مخاطب ہونا چاہا
“ہیلو…”
“ہائے..” اسکے ہونٹوں نے حرکت کی. چہرے کے ساتھ ساتھ اسکی آواز بھی پیاری تھی.
“ویسے زینب تم تو بہت اچھی لگ رہی ہو پر تمہاری دوست بھی عمدہ لگ رہی ہے” اس نے زینب کو دیکھ کر بریرہ کی تعریف کی.
“ارے ہاں..اس نے کتنی دنوں بعد ایسے کپڑے پہنے ورنہ یہ سادہ لڑکیوں میں سے ہے” زینب نے برہرہ کی طرف دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی
“یہ تو اور ہی اچھی بات ہے کیونکہ..” سبحان نے بریرہ کی طرف دیکھا
“اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے.. سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے” اس کا جملہ مکمل ہوتے ہی بریرہ نے حیرانگی سے اوپر ٹھیک اسکی آنکھوں میں دیکھا. وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا پتہ نہیں کب سے. دو سیکنڈ کے لئے انکی نظریں ملیں
آنکھ انکی لڑی یوں میری آنکھ سے
دیکھ کر یہ لڑائی مزہ آگیا
“ڈرامے باز تمہارے ڈائیلاگ مارنے کی عادت گئی نہیں” زینب کی آواز سنتے ہی سبحان کو ہوش آیا اور اس نے اپنی نظریں ہٹائیں. بریرہ نے بھی ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا.
“ہاہاہا..نہیں” سبحان نے فوراً انکار کر دیا اور وہ دونوں ہسنے لگے لیکن بریرہ چپ تھی.
“مجھے ذرا کام ہے میں آتی ہوں زینب” بریرہ نے انکی ہنسی کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا.
“اوکے” زینب کے جواب دینے پر وہ اُٹھ کر چلی گئ. اسکے جاتے ہی سبحان دلہن سے باتیں کرنے لگا.
****************
بریرہ پیچھے جا کر کسی کونے میں بیٹھ گئی. اسے کوئی کام نہیں تھا. اس نے بس اپنی دوست سے جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان بیٹھنا نہیں چاہتی تھی کیسے وہ ہنسے جا رہے تھے. اسے ان سے کوفت ہو رہی تھی. اگر وہ اُداس تھی تو اُنکو ایسے ہنسنا نہیں چاہیئے تھا. چلو اس لڑکے کو تو نہیں پتہ تھا پر اسکی دوست تو سب کچھ جانتی تھی. ٹھیک ہے اس نے زینب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خوش رہی گی لیکن کیسے رہے؟ اس نے پارلر میں وقتی طور پر اقرار تو کر لیا تھا پر کیسے وہ اب اسے عملی جامہ پہنائے؟ وہ اندر سے مکمل بجھ چکی تھی. اب واپس آنا مشکل تھا. اسکی نظر دور بیٹھی ایک چھوٹی سی بچی پہ پڑی جو زاروقطار رو رہی تھی. اُسے دیکھ کر بریرہ کو کوئی اور بچی یاد آنے لگی.
… وہ چھوٹی چھوٹی بھیگی پلکیں. وہ ننھا سا چہرہ جو آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا. وہ پانچ سالا بچی صندوق میں بند, آہستہ آواز میں رو رہی تھی. اسکی آنکھوں میں درد کے سوا کچھ نہ تھا. ساتھ ہی اسکے کانوں میں دو مختلف بندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں…
“چلو کام ہو گیا ہے”
“لیکن وہ بچی کدھر ہے؟”
“اُسے ڈھونڈنے کا وقت نہیں.. جلدی کرو نکلتے ہیں” تیز قدموں کی آواز آئی اور پھر مکمل سناٹا چھا گیا تھا…
بریرہ کے سامنے ایک بار پھر سے اسکا وہ ماضی گھوم گیا جس سے وہ دور بھاگ رہی تھی. اُس روتی بچی نے اسے اِس بچی کی یاد دلائی. وہ بےگناہ بچی جس کا کوئی قصور ہی نہیں تھا یا شاید تھا. بریرہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے وہ پھر سے اپنے ماضی کو کوسنے لگی.
یاد ماضی عزاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: