Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 2

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 2

–**–**–

سٹیج پہ بیٹھا سبحان زینب سے گپیں لگا رہا تھا. وہ دونوں ہنس رہے تھے. اسی دوران سبحان کو زینب کی دوست کا خیال آیا. وہ کیوں اتنا چپ چپ رہتی تھی؟ اس لڑکی کی آنکھوں میں اتنا درد کیوں تھا؟ اس نے تجسس میں زینب سے آخر پوچھ ہی لیا.
“یار وہ تمہاری دوست..”
“بریرہ نام ہے اسکا”
“پیارا نام ہے.. پر وہ اتنی چپ چپ اور اداس کیوں رہتی ہے؟”
“ایسا تو نہیں ہے..” زینب نے چھپانا چاہا.
“اسکی آنکھوں سے صاف دکھتا ہے”
“چھوڑو اور اسکے سامنے اس بات کا ذکر مت کرنا”
“کیوں؟”
“کیونکہ وہ چڑتی ہے”
“اچھا”
“تم سناؤ ٹھیک ہو نا؟” زینب نے بات پھیری
” مزے میں ہوں” اسکے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی.
” پکہ نہ؟ کوئی پریشانی تو نہیں”
“ارے نہیں….” لبوں کی مسکراہٹ اب تک برقرار تھی. زینب نے مزید کوئی سوال نہ کیا. سبحان بیٹھا لوگوں کو آتے جاتے دیکھتا رہا تھا پھر اسکی نظر اس لڑکی پہ پڑی. اسکی آنکھوں میں آنسو تھے. نہ جانے وہ کیوں گہماگہمی میں منہ لٹکائے رو رہی تھی. سبحان کو آنسوؤں سے بالکل لگاؤ نہیں تھا. وہ کسی کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا.
“زینب میں آتا ہوں تمہاری مما سے مل کر” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا.
“اچھا” جواب سنتے ہی وہ بریرہ کی طرف جانے لگا. مما کے پاس جانے کا اس نے صرف بہانا کیا تھا.
*******************
وہ آنکھوں میں آنسو لئے فرش پر دیکھ رہی تھی. وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اسے اس فنکشن پہ بیٹھے روتا دیکھے پر اسے کیا معلوم تھا کہ کوئی پہلے سے دیکھ چکا تھا. وہ نیچے فرش پہ نطریں لگائے بیٹھی تھی کہ کسی کی آواز اسکے کانوں میں پڑی.
“آہم…” اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کرنے چاہے
“ایسے نہیں ہونگے صاف.. یہ لیں ٹشو..” بریرہ نے اوپر دیکھا. سبحان اسکے سر پہ کھڑا ٹشو پکڑا رہا تھا.
“میں ٹھیک ہوں ایسے ہی..” اس کے لبوں سے بس اتنا سا نکلا. وہ چاہتی تھی کہ وہ وہاں سے چلا جائے لیکن وہ ڈیرہ جما کر ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گیا تھا.
“اگر آپ برا نہ مانیں تو میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
“نہیں آپ بالکل نہیں پوچھ سکتے.. میں آپکو بتانے کی قائل نہیں.” وہ اُٹھ کھڑی ہوئی لیکن سبحان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا. وہ حیران تھی کوئی اس قدر بھی فری ہو سکتا ہے؟ وہ پیچھے مڑی اور اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا.
“او سوری میں ایسا نہیں چاہتا تھا.” اس نے فوراً اسکا ہاتھ چھوڑا کیونکہ وہ اسکا اشارہ سمجھ گیا تھا. وہ جانے لگی.
“رکئے.. بات تو سن لیں..” سبحان نے اسے روکنا چاہا. اسکی پیٹھ سبحان کی طرف تھی. وہ اسکی آواز سن کر رکی.
“میں معزرت چاہتا ہوں مجھے آپکا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہئے تھا”
“اٹس اوکے اور کچھ” وہ بنا مڑے بولی.
“جی..آپ کیوں یہاں سے جا رہی ہیں؟ میں آیا تھا یہاں پہ آپ بیٹھیں اپنی جگہ” وہ کہتا ہوا چلا گیا. بریرہ اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ وہ کتنا بیوقوف ہے ایک تو کسی لڑکی سے رونے کی وجہ پوچھی اور پھر دوسرا یہ کہ اُسی کا ہاتھ بھی پکڑ لیا. اسے اپنے کئے پر پچھتاوا ہو رہا تھا. اسکے جاتے ہی بریرہ اپنی کرسی پہ بیٹھی اور اپنی سوچوں میں گم ہو گئی.
*******************
بریرہ مہندی کے تھالوں کو ترتیب سے رکھ رہی تھی. زینب کی کوئی بہن نہیں تھی اور یہ سب کام اسی کے ذمے تھے. اس نے تھال میں گلاب کے پھولوں کوسجایا. وہ جتنی بھی اداس ہو گلاب دیکھ کر چہک اٹھتی تھی. جب سجا کر فارغ ہوئی تو اسکی نظر ایک تھال پہ پڑی اسکا دیا بجھ چکا تھا. اس نے ماچس ڈھونڈنی چاہی لیکن ملی ہی نہیں. اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو سٹیج کے ایک کونے میں اسے ماچس دکھی. اس نے جھٹ سے تھال کو اٹھایا اور سٹیج کی طرف جانے لگی.
سبحان موبائل پہ میسج ٹائپ کرتا ہوا آگے کی طرف بڑھ رہا تھا. اسکا دھیان مکمل موبائل کی طرف تھا. بریرہ بھی تیزی سے آگے جا رہی تھی اسکی ذہن میں ماچس کے علاوہ کچھ نہ تھا. وہ تیز تیز آگے بڑھی لیکن اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ کسی سے ٹکرا گئی. ساتھ ہی تھال بھی الٹا اور گلابوں کی بارش ہونے لگی. سبحان نے اوپر دیکھتے ہوئے کچھ بولنا چاہا پر بریرہ کو دیکھ کر اسکی بولتی بند ہو گئی. وہ اسکی نظروں میں ڈوب گیا تھا. وہ بڑی بڑی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی. دونوں کی نظروں نے ایک دوسرے کو قید ہونے پر مجبور کر دیا تھا. ساتھ ہی ان پر گلاب برس رہے تھے اور عین اسی وقت یہ گانا پلے ہوا تھا.
“میرا نام…. تیرا نام…میرا نام عشق” دونوں کے کانوں میں گانے کی آواز پہنچی.. گانے کے بول نے انہیں وہاں کھڑے رہنے پر مجبور کر دیا. وہ اور ہی ڈوب گئے ایک دوسرے میں.
“یہ لال عشق.. یہ ملال عشق.. یہ عیب عشق.. یہ بیر عشق” وہ کھوئے ہوئے تھے. وہ سبحان کی نیلی آنکھوں میں اور وہ بریرہ کی ہلکی بھوری رنگ کی آنکھوں میں. اتنے میں گانا تبدیل ہوا. شاید ڈی-جے نے غلطی سے وہ گانا لگا دیا تھا.
“لیمبرگینی چلائی جانے او.. سانو وی چوٹا دے دو.. کتھے کلے کلے جائی جانے او..” دوسرے گانے کی آواز کانوں میں پڑتے ہی دونوں ہوش میں آئے. وہ دونوں کافی حیران تھے لیکن پھر بھی بریرہ نے ہمت کی اور آگے سٹیج کی طرف بڑھی. سبحان بھی اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا لیکن ذہن اسی واقعے کی سوچ میں اٹکا ہوا تھا.
**********************
وہ کرسی پہ بیٹھی اسی واقعے کے بارے میں سوچ رہی تھی. کیا عجیب سی کشش تھی اسکی آنکھوں میں جس نے اسے وہیں کھڑے رہنے پہ مجبور کیا. اور وہ گانا بھی تو اسی وقت اچانک سے بجا تھا. اسکے ذہن میں گانے کا ایک ہی لفظ جگمگا رہا تھا…”عشق”
“..نہیں عشق تو دھوکا ہے..”
“عشق فریب ہے.. وہ کئی لوگوں کو ڈوبا دیتا ہے…”
“عشق نے ہی تمہیں تمہاری اوقات دکھا دی ہے.. تم تو کہیں منہ دکھانے کے لائق ہی نہیں رہی..”
“عشق تو وہ سبز باغ ہے جس کا ہر پھل زہریلا ہے بریرہ..”
اس لفظ کے لبوں پہ آتے ہی بریرہ کے کانوں میں بہت سی پرانی آوازیں گونجیں. اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیا. سر میں بھی شدید درد ہو رہا تھا.
“کچھ نہیں ہو گا.. سب کچھ گزر چکا ہے بریرہ..” اس نے خود کو تسلی دینا شروع کی.
“بیٹا… بیٹا…” آواز سنتے ہی بریرہ اپنے ماضی سے نکل کر حال میں آئی. سامنے زینب کی ماں سکینہ بیگم کھڑی تھیں.
“جی جی آنٹی کوئی کام تھا کیا؟” اس نے فوراً پوچھا.
“نہیں بیٹا میں تو تمہیں لینے آئی تھی.. پر تم تو پریشان لگ رہی ہو”
“نہیں نہیں آنٹی کچھ نہیں.. پر لینے کیوں؟”
“زینب نے بولا تھا کہ تم شادی تک ہمارے ہی ساتھ رہو گی اب چونکہ فنکشن ختم ہو گیا ہے تو اسلئے تمہیں لینے آئی ہوں.”
“نہیں آنٹی میں رہ لونگی.” بریرہ تھوڑا حیران تھی.
“بیٹا ماں نہیں پر ماں جیسی تو ہوں اور ماں کا کہنا نہیں مانو گی؟”
سکینہ بیگم نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا. بریرہ کی آنکھوں میں آنسو آئے.
“اب ایسی کہیں گی پھر تو چلنا ہی پڑے گا” وہ آنکھوں
میں آنسو لئے مسکرائی تھی. سکینہ بیگم بھی جواباً مسکرائیں. ساتھ ہی انکی آنکھیں بھی نم تھیں.
“دیکھو تو سہی کتنی پیاری لگ رہی ہو.. ایسے ہی رہا کرو” سکینہ بیگم نے اسکے کپڑوں پہ غور کیا.
“یہ سب آپ کی بیٹی کے کام ہیں”
“ہاہاہا.. اچھا ہے… چلو آؤ اب گھر چلتے ہیں…” بریرہ کچھ کہے بغیر انکے پیچھے پیچھے چل دی. زینب کے گھر میں رہنا اسکے لئے بالکل نیا تجربہ ثابت ہونے والا تھا. وہ بیشک اسکی چہیتی دوست تھی لیکن پھر بھی وہ کبھی اسکے گھر میں نہیں رہی تھی. وہ پہلی دفعہ وہاں جا کر رہنے والی تھی. اب تو زینب کی شادی کا بھی موقع تھا اور اسکی ماں نے بھی خواہش کر دی تھی تو وہ ٹال بھی نہیں سکتی تھی. اسلئے وہ چپ چاپ انکے پیچھے پیچھے چل دی. سکینہ بیگم اور بریرہ کالی گاڑی میں بیٹھے اور گھر کے لئے روانہ ہوئے.
_____________
وہ گہری سوچ میں پڑا اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا. اسکی نظروں میں وہ سین بار بار گھوم رہا تھا. وہ لڑکی اسکے ذہن پہ چھائی ہوئی تھی. اسکے ساتھ ٹکرانا پھر پھولوں کا برسنا اور اسی وقت وہ گانا بجنا. کیا قدرت اسے کوئی اشارہ دے رہی تھی یا یہ سب اچانک ہو گیا تھا. جو بھی تھا اس سین کے بعد سے وہ کافی حیران اور پریشان تھا اور اسی وجہ سے وہ فنکشن سے جلدی واپس آ گیا تھا. اس نے کتنے ہی گھنٹے ایسے لیٹے لیٹے گزار دیئے تھے.
“میں اب اسکے قریب نہیں جاؤں گا… اسکو خود سے دور رکھنے کی کوشش کروں گا” اس نے دل ہی دل میں خود سے بولا تھا. اُسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا. سوچتے سوچتے اسکے کانوں میں گھنٹی بجی. شاید دروازے پر کوئی تھا. وہ گھر میں اکیلا تھا کیونکہ نوکر چاکر سب شادی پر تھے اسی لئے اس نے ہی جا کر دروازہ کھولا.
“آنٹی آپ”
“سبحان تم شادی سے جلدی کیوں آگئے؟”
“وہ بس سر میں درد ہو رہا تھا” بولتے بولتے اسکی نظر پیچھے اُس بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی پہ پڑی. وہ چادر میں لپٹی ہوئی تھی. چادر میں وہ تو اور ہی حسین لگ رہی تھی.
“زیادہ تو نہیں ہے درد؟” سکینہ بیگم پوچھتے ہی اندر آئیں.
“نہیں نہیں آنٹی” اسکی نظروں کا رُخ بریرہ کی طرف تھا جو سکینہ بیگم کے پیچھے پیچھے اندر آئی.
“ٹھہرو تمہیں چائے بنا دیتی ہوں..”
“نہیں نہیں آنٹی اسکی ضرورت….” اسکے کہنے سے پہلے کسی نے اسکی بات کاٹی.
“آنٹی آپ جا کر لیٹیں.. میں بنا دیتی ہوں انہیں چائے” بریرہ نے سکینہ بیگم کی طرف رُخ کر کے بولا اور سبحان اُسے دیکھتا رہ گیا.
“تم کیوں بناؤ گی بیٹا”
“ابھی آپ نے مجھے بیٹی کہا تھا اور بیٹی ماں کو کام نہیں کرنے دیتی” سکینہ بیگم کی لبوں پہ مسکراہٹ آئی. سبحان کی بولتی بند تھی. وہ اسکے بولنے کا انداز سبحان کو اچھا لگ رہا تھا. وہ کچھ چاہ کر بھی نہیں بول پایا تھا.
“ہاہاہا بہت چلاک ہو.. چلو بنا دو اسے چائے.. میں جا کر سوتی ہوں..”
“جی بہتر” سکینہ بیگم جواب سن کر وہاں سے چلی گئیں.
بریرہ سبحان کی طرف مڑی. وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا سبحان نے فوراً نظریں ہٹائیں.
“آپ لاؤنج میں بیٹھیں میں آپکی چائے لاتی ہوں”
“میں چائے نہیں پیتا”
“تو پھر؟” بریرہ کی آنکھیں بڑی ہوئیں.
“تو پھر آپ آرام کریں.. تھکی ہوئی ہونگی”
“نہیں نہیں.. میں بنا دیتی ہوں”
“کہا نہ چائے نہیں پیتا” اس نے ایک بار پھر ٹالا. سبحان اس سے دور رہنے والی بات پر عمل کر رہا تھا. دل بار بار کہہ رہا تھا.. “بول دے سبحان کہ بنا دو چائے..” پر دماغ بار بار آڑے آرہا تھا. “نہیں سبحان تمہیں اس سے دور رہنا ہے” سبحان دل اور دماغ کی کشمکش میں ہمیشہ کی طرح دماغ کی سن بیٹھا تھا اور دل بیچارہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتا تھا. بزرگوں کا بھی تو یہی قول تھا “دل کی نہیں دماغ کی سنو” پر کس کو یہ معلوم کہ دل پہ پتھر رکھ کر دماغ کی سننا کس قدر مشکل ہے.
“اچھا” بریرہ نے روکھا سا جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی. اسکے جانے کہ بعد سبحان کو پچھتاوا ہوا
“کاش وہ دل کی ہی سن لیتا”
*****************
“شٹ اپ میں ایک لفظ نہیں سنو گا.. کہا نہ جا رہا ہوں.. نہیں رہ سکتہ تمہارے ساتھ” اس نے غصے میں سامنے کھڑی لڑکی کو دھکا دیا اور وہ دیوار کے ساتھ جا کر لگی. وہ ظالم انسان اس لڑکی کو روتا اور تڑپتا ہوا دیکھ کر بھی وہاں سے چلا گیا. اس لڑکی نے اسے بہت روکا لیکن اسکی سب کوششیں بےفائدہ ثابت ہوئیں کیونکہ جانے والے مڑ کر نہیں دیکھا کرتے. وہ دیوار کے ساتھ لگی سر پکڑ کر رو رہی تھی. وہ مکمل ٹوٹ چکی تھی.
“اس نے مجھے سچا پیار ہی نہیں کیا تھا”
“وہ دھوکے باز تھا”
“میں بیوقوف بنتی رہی اس نے میرا استعمال کیا” بہت سے خیال اسکے ذہن میں آ کر اسے اور ہی زخمی کر رہے تھے. وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی. اِسی دوران اسکے کانوں میں کہیں سے گانے کی آواز آئی تھی.
“دل امید توڑا ہے کسی نے” گانے کی شاعری اسی کے دل کا حال سنا رہی تھی. یہ کب سے کہیں بج رہا تھا لیکن جب دل کرچی کرچی ہو کر ٹوٹا تب جا کر اس نے شاعری پر غور کیا. گانے کے اندر کے چھپے درد سے وہ صحیح معنوں میں واقف ہوئی. اب سمجھ آئی کہ یہ گانے کیسے دل کا حال بیان کرتے ہیں. “دل امید توڑا ہے کسی نے” اتنی سی سطر میں کتنی بڑی بات کر دی گئی تھی. پہلے تو وہ صرف وقت گزاری کے لئے ایسے گانے سن لیتی تھی پر اب جا کر وہ ان کو سمجھ پائی تھی.
“دل امید توڑا ہے کسی نے… دل امید توڑا ہے کسی نے” وہ سر پہ ہاتھ رکھے بار بار لائن کو دہرا کر خود کو کوس رہی تھی. اگلے ہی لمحے دوسری لائن اسکے کانوں میں پڑی
“سہارا دے کہ چھوڑا ہے کسی نے” وہ اور ہی ٹوٹ گئی. اس ظالم نے اسے سہارا دے کر ہی چھوڑا تھا. عادت ڈال کر پھر ایک لاوارث کی طرح چھوڑ دیا تھا. بالکل ایک ٹشو کی طرح استعمال کیا تھا. وہ تو وقت گزاری کر کے دفع ہو گیا لیکن اب اس کا کیا ہو گا. وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی. اس نے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھ لیا.
“بند کر دو گانے کو… بند کر دو اسے” وہ چیخی تھی پر گانے کی آواز اب تک آ رہی تھی.
“نہ منزل ہے نہ منزل کا نشان ہے” آنسوؤں کا ریلا اسکی آنکھوں میں تھا. بلکل سچی بات گانے میں بیان کی گئی تھی کیونکہ اسکی منزل وہ شخص ہی تھا جو اب جا چکا تھا.. وہ چلائی”کیوں ہوا ایسا”. اس ظالم کے بغیر زندگی بے معنی ہو گئی تھی. نہ منزل تھی کوئی نہ ہی کوئی نشان تھا.
“کہاں پہ لا کر چھوڑا ہے کسی نے” اگلی لائن نے اسے اور زیادہ توڑ دیا. اس کمینے انسان نے اسے بہت بُری جگہ پہ لا کر چھوڑا تھا “پیار کی انتہا عشق پر”
“..نہیں عشق تو دھوکا ہے”
“عشق فریب ہے.. وہ کئی لوگوں کو ڈوبا دیتا ہے…”
“عشق نے ہی تمہیں تمہاری اوقات دکھا دی ہے… تم تو کہیں منہ دکھانے کے لائق ہی نہیں رہی….”
“عشق تو وہ سبز باغ ہے جس کا ہر پھل زہریلا ہے بریرہ…” وہ خود کو دل ہی دل میں سنانے لگی. وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے سر پکڑ کر نیچے بیٹھی. آنسو ابھی بھی اسکی آنکھوں سے رواں دواں تھے.
رابطہ ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی
جو ملنا ہی نہیں تو وفائیں کیسی
کسی سے عشق کر کے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی تھی. یہ پہلی سزا تھی جو اسے اپنے کئے پہ ملی تھی. ورنہ باقی سزائیں تو اسے بغیر کسی غلطی پر ملی تھیں.
“کیوں کیا اس نے پیار؟” ایک درد بھری چیخ اس کے منہ سے نکلی اور بریرہ کا خواب ٹوٹا. وہ پسینے سے شرابور پلنگ پر بیٹھی. دو سال گزر چکے تھے اور اب بھی یہ یاد اسے پریشان کر رہی تھی. رات کو سونے نہیں دیتی تھی. ذیشان تو کب کا اسے چھوڑ گیا تھا. وہ کیوں بار بار اسکی یاد میں کڑھتی تھی. کیا وہ سچی میں عشق کر بیٹھی تھی یا اپنے کئے کا پچھتاوا تھا. یہ بات اسے آج تک سمجھ نہیں آئی تھی. رات کے چار بجے تھے اور اس یاد نے اسکی نیند اڑا دی تھی. وہ پلنگ پہ بیٹھی اپنے زندگی کی محرمیوں کا سوچنے لگی.
*******************
زینب بھاگتی ہوئی کچن میں آئی
“شکر ہے تم مل گئے…” اس نے کچن میں آتے ساتھ سبحان کو دیکھ کر بولا جو سامنے کھڑا اپنے لئے کافی بنا رہا تھا.
“کیا ہوا ہے..؟ خیریت”
“یار مجھے پارلر چھوڑ دو”
“اتنی جلدی…؟”
“کیا جلدی.. بارہ بج چکے ہیں.. ٹائم لگے گا وہاں”
“اچھا اوکے میں یہ کافی پی کر چھوڑ آتا ہوں” اس نے کافی کپ میں ڈالتے ہوئے بولا.
“اوکے میں ریڈی ہو کر آتی ہوں” سبحان نے جواباً سر کو جنبش دی.
کچھ دیر بعد زینب تیار ہو کر سبحان کے کمرے میں آئی. کمرہ کھلا ہوا تھا اور وہ سامنے بیٹھا جوتے پہن رہا تھا.
“سبحان چلیں…؟”
“ہاں چلو..” وہ کھڑآ ہوا. زینب کے کمرے سے نکلتے ہی اس نے سوال کیا.
“تمہاری دوست نہیں جائے گی؟” بریرہ کی کمی اسے محسوس ہوئی.
“نہیں اس نے رات کو ہی کہہ دیا تھا کہ وہ گھر میں ہی تیار ہو گی”
“اچھا اور ملازم وغیرہ سب کدھر؟”
“وہ مما کے ساتھ کام کروا رہے ہیں تب ہی تو تمہیں لے جانے کو کہا… واپسی میں ڈرائیور کر لے گا پک”
“ٹھیک ہے” وہ جواب دے کر گاڑی میں بیٹھا. زینب کے بیٹھتے ہی سبحان نے گاڑی چلائی اور وہ دونوں پارلر کے لئے نکلے.
*********************
وہ اپنے صندوق کے پاس بیٹھی اپنی چیزیں نکال رہی تھی. کئی سالوں بعد اس نے یہ صندوق کھولا تھا. اس صندوق کے ساتھ بہت سی تلخ یادیں جڑی تھیں. اس نے صندوق میں پڑی چیزوں کو اِدھر اُدھر کیا. وہ کچھ ڈھونڈ رہی تھی. ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسکی نظر ایک لال رنگ کے ڈوپٹے پہ پڑی. اس نے ڈوپٹے سمیت لال رنگ کا سوٹ نکالا. وہ لال رنگ کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں سے گولڈن بھی تھا. یہ اسکی ماں کی شادی کا جوڑا تھا. انہوں نے اسے صرف ایک بار پہنا تھا کیونکہ بعد میں پہننا نصیب میں ہی نہیں تھا. بریرہ اس جوڑے کو ہی ڈھونڈ رہی تھی کیونکہ اس نے سوچا ہوا تھا کہ بارات کے موقع پر وہ اپنی ماں کا شادی کا جوڑا پہنے. ایک تو یہ جوڑا اسکے دل کے بےحد قریب تھا. دوسرا یہ کہ اس نے زینب سے رات کو ہی یہ کہہ دیا تھا کہ وہ پارلر نہیں جائے گی اور اپنی مرضی سے اچھا سا تیار ہو کر آئے گی. زینب کی آج رخصتی تھی اور بریرہ نے اسکی خوشی کے لئے اچھا سا تیار ہونا تھا. اسی مقصد کے لئے وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں یہی جوڑا لینے آئی تھی. اس نے جوڑے کو ناک سے لگایا. اس میں اب تک وہ خوشبو آرہی تھی جو اکثر اسکی ماں سے آیا کرتی تھی. اسکی آنکھیں بھیگ گئیں. ماں کا پرنور چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے تھا. اسے آج تک وہ دن بھی یاد تھا جب اس نے اپنے ننھے ننھے ہاتوں سے اپنی ماں کے بےجان چہرے کو چھوہا تھا. اسکی دونوں ہٹھیلیاں ماں کے رخسار پہ تھیں. ساتھ اسکی آنکھوں سے آنسو برس رہے تھے. ننھے ننھے ہاتھ کانپ رہے تھے. لبوں پہ ایک ہی لفظ تھا “مما…مما” لیکن اسکی مما اس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں. انکا بے جان جسم اپنی چھوٹی سی بیٹی کو سہارا دینے کے قابل نہیں تھا. انکے چہرے پہ تب بھی نور ہی نور تھا. وہ نور اب بھی بریرہ کو خیالوں میں دکھ رہا تھا. وہ ماں کا چہرہ اور وہ چہرے کا نور. اگلے ہی لمحے اس نے ذہن میں آتے خیالوں کو فوراً سےجھٹکا. اس نے وہ جوڑا اٹھایا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی. اس نے ڈوپٹے کو سر پہ ڈالا اور خود کو آئینے میں دیکھا. ڈوپٹہ اس پر کافی جچ رہا تھا.
“دیکھو تو سہی کتنی پیاری لگ رہی ہو… ایسے ہی رہا کرو” سکینہ بیگم کی تعریف اسکے ذہن میں آئی. وہ آج بھی پیاری لگ رہی تھی. سکینہ بیگم نے کتنی اپنائیت کے ساتھ اسے بیٹی بلایا تھا. اسکے لبوں پہ مسکراہٹ آئی پر اگلے ہی لمحے اداسی چہرے پہ چھا گئی. کاش اسکی ماں زندہ ہوتیں. کاش وہ بھی اسکی تعریف کرتیں. سکینہ بیگم نے بیٹی بنایا تو تھا لیکن وہ ماں کی جگہ تو نہیں لے سکتی تھیں. ماں تو ایک ہی ہوتی اور وہ چلی جائے تو اسکی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے. بریرہ کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا. وہ لال رنگ کا ڈوپٹہ ابھی بھی اسکے سر پہ تھا. وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے عکس میں اپنی ماں کی شکل کو تلاش کرنے لگی.
ماں بچوں کی جان ہوتی ہے
وہ ہوتے ہیں قسمت والے
جنکی ماں ہوتی ہے
**********************
زینب سٹیج پر بیٹھی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. بارات کے دن وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی. اچھا خاصا روپ چڑھا تھا اس پر. بارات کے آنے میں ابھی دیر تھی. بریرہ اور سبحان دونوں اِدھر اُدھر کاموں میں مصروف تھے. وہ نکاح پڑھوانے والے مولوی کے پاس بیٹھا انکی آؤبھگت کر رہا تھا. اسکی نظر دور کھڑی لڑکی پہ پڑی جو رسموں کے لئے دودھ اور مٹھائی ٹرے پہ سجا رہی تھی. سبحان نے پہلی بار اس فنکشن پر اسے غور سے دیکھا. اسکے بال لمبے اور سلکی تھے. کھلے بالوں میں وہ کافی پیاری لگ رہی تھی. سر پہ لگی لال بندی بھی کمال لگ رہی تھی. لال رنگ کا لمبا فراک جس پہ جگہ جگہ گولڈن رنگ کا کام ہوا تھا وہ اس پر کافی جچ رہا تھا. ڈوپٹے کو بھی عمدہ طریقے سے کندھوں پہ ڈالا ہوا تھا. ہلکا سا میک اپ کئے وہ کافی حسین لگ رہی تھی. وہ تیار ہوتے ہوئے بھی سادہ لگ رہی تھی. یہ چیز سبحان کی نظروں کو اور ہی بھا رہی تھی. اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا کہ وہ اس سے نظریں ہٹائے.
عجیب سی شے تھی جو اسے اس کی طرف کھنچتی تھی.
لیکن پھر بھی اس نے اپنی نظریں ہٹائیں اور مولوی کی طرف متوجہ ہوا. دور کھڑی لڑکی ٹرے سجا کر فارغ ہوئی تو اِدھر اُدھر دیکھنے لگی. اسکی نظر سبحان پہ پڑی جو مولوی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا. اسے کل والی بات یاد آئی
“کہا نہ چائے نہیں پیتا” کتنا عجیب برتاؤ کیا تھا اس نے. پتہ نہیں کیا ہوا تھا اسکو. بریرہ کو وقتی طور پر اس پر غصہ آیا تھا لیکن بعد میں وہ نارمل ہو گئی تھی کیونکہ وہ کون ہوتی تھی اس پر غصہ کرنے والی.
“بریرہ آجاؤ.. بارات آنے والی ہے” سکینہ بیگم کی آواز سے اسکے خیالوں کا تسلسل وہیں ٹوٹا. اس نے فورًا جواب دیا “اوکے” لیکن سکینہ بیگم اسکے جواب سننے سے پہلے ہی جا چکی تھیں. دولہا اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ ہال کے اندر آ رہا تھا. بریرہ فورًا انکے طرف گئی اور دلہے پہ پھول برسانے لگی. سبحان بھی وہیں کھڑا دلہے پہ پھول پھینک رہا تھا. پھینکتے پھینکتے سبحان کی نظر دولہے کے پیچھے ایک لڑکے پہ پڑی جو کسی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا. سبحان نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا. اسکی نظریں بریرہ پہ تھیں. سبحان کو کوفت ہوئی کیونکہ وہ بہت گندی نظروں سے بریرہ کو دیکھ رہا تھا. لیکن بریرہ اس سب سے انجان پھول پھینکنے میں مصروف تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 11

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: