Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 3

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 3

–**–**–

بریرہ سٹیج کے ہاس کھڑی دولہے سے لئے ہوئے پیسوں کو گن رہی تھی. یہ رسم اس نے صرف زینب کی خوشی کے لئے کی تھی. پیسے گن کر وہ سکینہ بیگم کو دینے جانے لگی تو کسی نے اسکا راستہ روکا.
“او ہیلو بیوٹی فل” بریرہ نے آنکھ اٹھا کر اپر دیکھا. سامنے کھڑا شخص دولہے کے دوستوں میں سے ایک تھا.
“جی کوئی کام ہے آپ کو؟” بریرہ نے سخت لہجے میں پوچھا
“نہیں بس پہچان کروانا چاہتا ہو…آئی ایم تیمور” اس نے ہاتھ آگے بڑھایا.
“جی بہتر..” بریرہ نے ہاتھ ملایا.
“آپ کا نام؟” دور کھڑے سبحان کی نظر ان دونوں پہ پڑی. وہ فورًا سے ان دونوں کے پاس آیا
“آپ نے اپنا نام نہیں بتایا؟”
“بریرہ.. اور میں سبحان ہوں” سبحان نے آتے ہی جواب دیا. بریرہ نے اسکی طرف دیکھا. پتہ نہیں یہ کہاں سے آگیا تھا.
“او..اچھا” تیمور کے چہرے کا رنگ بدلا.
“میں آتی ہو آپ دونوں باتیں کریں” بریرہ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“جی آپ کو کوئی کام ہے” سبحان نے پوچھا.
“نہیں نہیں..” وہ کہتا ہوا وہاں سے گیا. اسکی غرض صرف بریرہ سے تھی اور سبحان کا مقصد اسی لڑکی کی حفاظت تھا کیونکہ وہ تیمور کی غلیظ نظروں کو دیکھ چکا تھا. وہ چاہتا تھا بریرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے. فنکشن کے ہر لمحے سبحان نے تیمور پہ نظر رکھی. وہ ڈھیٹ پورے فنکشن میں بریرہ کو ہی تاڑتا رہا لیکن پاس جانے کی جرأت نہ کی. شاید وہ کسی موقعے کی تلاش میں تھا. اتنے میں رخصتی کا وقت آیا. سکینہ بیگم کی لاڈلی رخصت ہونے والی تھی. زینب کے ساتھ ساتھ اسکے ماں باپ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں. ڈی جے نے موقع کی مناسبت سے گانا لگایا
“انگلی پکڑ کے تو نے چلنا سکھایا تھا نہ دہلیز اونچی ہے یہ پار کرا دے” بریرہ جسکی پہلے ہی دوست کی رخصتی پہ آنکھیں نم تھیں گانا سن کر اسکی آنکھیں اور ہی نم ہو گئیں. اسکو اپنے بابا کی یاد آئی. انہوں نے اسے چلنا سکھایا تھا لیکن اب وہ اسکی کسی مصیبت میں کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے. وہ اس جہاں سے جا چکے تھے.
“بابا میں میں تیری ملکہ ٹکڑا ہوں تیرے دل کا ایک بار پھر سے دہلیز پار کرا دے” باپ کے غم میں وہ اور ہی نڈھال ہو گئی. اسکی آنکھوں سے آنسو آنے لگے. وہ سب کی نظروں سے بچ کر دور کسی کونے میں جا کر رونے لگی. باپ کے ساتھ بتایا ہوا وہ وقت اسے یاد آنے لگا. وہ یادیں اسکے ذہن میں چھبنے لگیں. پتہ نہیں کیوں اسے بار بار ٹھوکر لگتی تھی اور وہ پھر سے اپنے ماضی کو یاد کرنے پہ مجبور ہو جاتی تھی. وہ تنہا بیٹھی خود کو تسلیاں دینے لگی.
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
_____________
بریرہ باپ کے غم میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی. بارات ہال سے جا چکی تھی. وہ اکیلی ہال میں بیٹھی رو رہی تھی.
تیمور اسی وقت ہال کے اندر کچھ لینے کے لئے آیا. اسے کسی لڑکی کی سسکیوں کی آواز آئی. اس نے ہال میں نظر گھمائی. کونے میں بیٹھی بریرہ اسے روتے ہوئے نظر آئی. اسکا شیطانی دماغ چلنے لگا. ایک تو ہال میں کوئی نہیں تھا اور بارات والے بھی بس نکلنے والے تھے. موقع اچھا تھا اور وہ موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لئے آگے بڑھا.
“بریرہ آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں؟” اسکی غلیظ نظریں ابھی بھی بریرہ پہ تھیں..
“وہ.. کچھ نہیں” بریرہ اسکو دیکھ کر تھورا سا سہمی
“آپ تو رو بھی رہی ہیں… ” اس نے اسکے چہرے کو چھوہا. بریرہ پیچھے ہوئی.
“کیا ہوا.. میں ڈرانا نہیں چاہتا تھا..” وہ اسے اپنے اعتماد میں لینا چاہتا تھا تا کہ وہ اسے اپنے گھر تک لے جا سکے اور اپنی غرض پوری کرے.
“آپ یہاں سے چلے جائیں”
“کیسے جاؤں آپ کو ہی دھونڈتا ڈھونڈتا یہاں آیا ہوں”
“مطلب؟” بریرہ کی آنکھیں بڑی ہوئیں.
“بارات والے سب جا چکے ہیں میں آپ کو لینے آیا ہوں… آپکی دوست نے کہا کہ آپ کو ڈراپ کر دوں” اس نے جھوٹ بولا.
“نہیں ایسا نہیں ہو سکتا زینب مجھے کبھی کسی انجان کے ساتھ چھوڑ کر نہیں جائے گی.. آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے” وہ کافی دھوکے کھا چکی تھی اسلئے وہ اب عقل سے کام لیتی تھی.
“ہم انجان تو نہیں ہیں..” اسکی نظریں بریرہ پر ہی تھیں. ایسا لگ رہا تھا وہ اسے کھا جائے گا. تیمور کی نظریں اس قدر غلیظ تھیں کہ ان سے ہی اسکے ناپاک ارادوں کا پتہ لگ رہا تھا. وہ ڈھیٹوں کی طرح اسے تاڑ رہا تھا. بریرہ نے بھی اسکی نظروں پہ غور کیا اور اگلے ہی لمہے اسے دھکا دیا
“ہٹو میرے راستے سے…” وہ جانے لگی کے اس غلیظ شخص نے اسکا ہاتھ پکڑا
“اتنی جلدی تو نہیں جانے دونگا”
“میرا ہاتھ چھوڑو.. ” بریرہ غصے سے چلائی.
” صبر..چھوڑ دیتا ہوں” وہ اسکے کافی قریب ہوا. بریرہ نے دوسرے ہاتھ سے اسکو تھپڑ رسید کیا. تھپڑ پڑتے ہی وہ اور ہی آگ بگولا ہو گیا.
“غلط کر دیا بریرہ… اب اپنا ہال دیکھو” اس نے بریرہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے قریب کیا اور اپنے کندھے پہ اٹھایا.
“چھوڑ دو مجھے” وہ غصے میں تھی اور آنکھوں سے آنسو بھی آرہے تھے. پتہ نہیں اب اسکا کیا ہو گا. اس نے ہاتھوں کے ذریعے خود کو چھڑوانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوئی. کیونکہ اس میں تیمور جیسی طاقت نہیں تھی. وہ کمینہ شخص اسکو ہال کے پچھلے دروازے سے کسی اور ہی گلی میں لے گیا. اس نے بریرہ کو اتارا. بریرہ عین اسی وقت وہاں سے بھاگی لیکن دیوار سے ٹکرا گئی. اندھیرے میں اسے دیوار دکھی ہی نہیں. اسکے تینوں اطراف دیوار تھی. بھاگنے کا راستہ ایک ہی طرف سے تھا لیکن وہاں تیمور کھڑا تھا. وہ بھاگ نہیں سکتی تھی. وہ چیخی گڑگڑائی
“خدا کا واسطہ میرے قریب نہیں آنا” لیکن تیمور پہ کوئی اثر نہ ہوا وہ اسی کی طرف بڑھ رہا تھا.
*********************
سبحان گاڑی کے پاس کھڑا زینب سے باتیں کر رہا تھا. وہ تھوڑی دیر میں رخصت ہونی والی تھی. باتوں کے دوران بھی زینب کی نظر چاروں طرف گھوم رہی تھی.
“سبحان دیکھو تو ذرا بریرہ کدھر ہے… میں اسکے لئے رکی ہوئی ہوں”
“معلوم نہیں.. نظر تو نہیں آرہی” سبحان نے اِدھر اُدھر دیکھا.
” کب سے نہیں دیکھا اسے میں نے” زینب کو فکر ہوئی. یہ بات سن کر سبحان بھی پریشان ہو گیا. اس نے دوبارہ ہر کسی پہ نظر دوڑائی. بریرہ سچ میں وہاں موجود نہیں تھی.
“ایک کام کرو تم جاؤ.. میں اسے ڈھونڈتا ہوں”
“نہیں میں اُسے ملے بغیر نہیں جاؤں گی”
“زینب… بارات پہلے ہی کافی لیٹ ہو گئی ہے… تم جاؤ میں تمہاری کال پر بات کروا دوں گا اس سے”
“نہیں نہ” وہ ضد کرنے لگی.
“اچھا میں اسے تم سے ملوانے لے آؤں گا ” سبحان نے سوچ کر بولا
“ٹھیک ہے نہ زینب.. رات کے یارہ بج چکے ہمیں جانا چاہئے اب” ساتھ بیٹھے دولہے نے زینب سے کہا.
“اچھا.. لیکن سبحان اسکا خیال رکھنا اور جب مل جائے تو کال کر دینا مجھے”
“اوکے فکر نہیں کرو.. بھروسہ رکھو مجھ پر”
“بھروسہ ہے تم پر” سبحان جواباً مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا. آگے بڑھا تو اسے دولہے کے دوستوں کی ٹولی نظر آئی لیکن اس میں تیمور نہیں تھا. سبحان کا سر ہی چکرا گیا. وہ پورے فنکشن میں اسکی حفاظت کرتا رہا لیکن آخر میں کیسے چوک گیا. وہ اس کمینے شخص کی نظروں سے ہی اسکے اندر کی غلاظت کو پہچان گیا تھا پھر کیوں اس نے بریرہ کو اکیلا چھوڑ دیا. وہ ہمت کر کے آگے بڑھا تا کہ دولہے کے دوستوں سے پوچھے کہ تیمور کدھر ہے. شاید وہ انکے ساتھ ہی ہو. اس نے وہاں پہنچتے ہی سوال کیا.
“تیمور کدھر ہے؟” باتوں میں مصروف وہ سب پیچھے سبحان کی طرف مڑے.
“وہ تو ابھی تھوڑی دیر پہلے اندر گیا تھا لیکن اب تک واپس نہیں آیا” سبحان کو لگا اسکے پاؤں سے زمین ہی سرک گئی. بریرہ بھی کتنے وقت سے غائب تھی. وہ کچھ کہے بغیر ہال کے اندر بھاگا. لیکن ہال میں کوئی نہیں تھا. وہ اور ہی پریشان ہو گیا.
“اللہ کرے بریرہ ٹھیک ہو”
“اے میرے رب بریرہ کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو” اس نے دل ہی دل میں دعا کی. دور سے چمکتی ہوئی چیز اسے نظر آئی. وہ اسکے پاس گیا. لال رنگ کی بندی زمین پہ پڑی ہوئی تھی. سبحان نے بندی کو فورًا اٹھایا اور بریرہ کا چہرہ اسکے آنکھوں کے سامنے آیا. یہ لال رنگ کی بندی وہ کیسے بھول سکتا تھا. وہ آج کتنی پیاری لگ رہی تھی اس میں. یہ اسکے ماتھے پہ ہی اچھی لگتی تھی ایسے نیچے گری ہوئی نہیں. “اللہ کرے وہ ٹھیک ہو” اسکے لبوں سے پھر سے دعا نکلی. بِندی کو پا کر اسکا شک بھی یقین میں بدل گیا. تیمور ہی اسے کہیں لے کر گیا تھا. لیکن کہاں؟ سوچتے سوچتے اس نے اوپر دیکھا. سامنے ایک دروازہ نظر آیا.
“شٹ میں اس پیچھے والے دروازہ کو کیسے بھول گیا” وہ جلدی سے اس دروازے سے باہر نکلا. باہر اندھیرا ہی اندھیرا تھا. اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا. اس نے موبائل کی لائٹ لگائی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا. بریرہ کا نام ونشان نہیں نظر آرہا تھا. وہ نا امید ہو گیا. اسے لگا اس نے بریرہ کو کھو دیا. عین اسی وقت اسکے کانوں میں آواز آئی
“خدا کا واسطہ ہے میرے قریب نہیں آنا” یہ تو بریرہ کی آواز تھی جو قریب سے ہی آرہی تھی. سبحان نے اپنا ہوش سنھبالا اور آگے بڑھا. اسے بریرہ کو بچانا تھا.
****************
تیمور بریرہ کے سامنے کھڑا تھا. وہ اسے گھور رہا تھا. بریرہ سہمی ہوئی تھی. ساتھ ہی اسکے لبوں پہ ایک ہی التجا تھی. “مجھے چھوڑ دو” لیکن اس سنگ دل انسان نے اسکی ایک نہ سنی. اس نے جھٹ سے بریرہ کا دوپٹہ کھینچا اور بریرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا. نہ جانے اسکا کیا ہو گا. وہ پہلی ہی بہت سی تکلیفیں برداشت کر چکی تھی. اب اسکے سر پہ ایک اور مصیبت کھڑی تھی. اسکے آنکھوں میں آنسو آرہے تھے. کاش وہ لڑکا ہوتی اپنی حفاظت تو کر سکتی. وہ اس کمینے شخص کے سامنے بے بس تھی. ڈوپٹہ اتار کر وہ جونہی اسکے قریب آیا بریرہ کو لگا اس کا سانس ہی نکل جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا کسی نے اس کمینے شخص کو آگے بڑھنے سے روک لیا.
“اب اس سے آگے نہیں بڑھنا تیمور” سبحان نے تیمور کو دھکا دے کر بریرہ سے پیچھے کیا. بریرہ نے آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا. سبحان میں اسکو ایک مسیحا نظر آیا. وہ صحیح وقت پہ اسکی عزت بچانے آیا تھا.
“ہٹ جاؤ میرے راستے سے تم” تیمور نے پوری قوت لگا کر سبحان کو دھکا دیا. وہ جا کر دیوار کے ساتھ لگا.
“دیکھو میں لڑنا…” اسکے جملے سے پہلے ہی تیمور نے اسے مکہ دے مارا. سبحان کو غصہ آیا. اس کے اندر کا شیر جاگا. اس نے تیمور کو کالر سے پکڑا اور ایک ساتھ تین چار مکے مارے. اس کے فوراً بعد سبحان نے اسے لات ماری اور یہ جملہ کہا.
“دوسری عورتوں کی زندگیاں خراب کر کے خود کے لئے پاک بیویاں تلاش کرتے ہو.. کمال کرتے ہو..” تیمور مار کھا کھا کر دیوار کے ساتھ لگا. سبحان اسکے پاس آیا اور پھر سے اسکا کالر پکڑ کر اپنے قریب کیا.
“مرد ہو تم…تمہاری ہستی کا اتنا تو رعب ہو کہ پاس سے گزرے کوئی عورت تو وہ بے خوف ہو…سمجھے” سبحان نے تیمور کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر سے ایک جملہ کہا
“آئندہ بریرہ تو کیا میں تمہیں کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کرتے نہ دیکھوں…” اس نے تیمور کا کالر چھوڑا اور پیچھے ہوا. اسکی نظر بریرہ کے ڈوپٹے پہ پڑی جو لڑائی کے دوران تیمور کے ہاتھ سے پھسل گیا تھا. اس نے دوپٹہ اٹھایا اور بریرہ کی طرف گیا. وہ ڈری ہوئی تھی. ساتھ خوش بھی تھی. اسکی عزت بچ گئی تھی. اللہ نے صحیح وقت پہ سبحان کو بھیجا تھا. سبحان نے اسے دوپٹہ پکڑایا لیکن وہ تو کہیں خیالوں میں گم تھی اس لئے اس نے خود آگے ہو کر اسے سر پہ دوپٹہ کروایا.
“چلیں بریرہ؟”
“جی” وہ اس وقت اتنا ہی کہہ سکتی تھی.
وہ آہستہ آہستہ چلتے ہال میں آگئے. بریرہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھا وہ کیسے سبحان کا شکریہ ادا کرے. اس نے ہمت کر کے سبحان کو اپنی طرف راغب کیا.
“سبحان”
“بولو” سبحان اسکی طرف مڑا. بریرہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا. اسے اپنا مسیحا نظر آیا. اس عظیم شخص نے اسکی عزت بچا کر اس کا لڑکوں کے متعلق نقطہ نظر ہی بدل دیا تھا. ذیشان اور تیمور کو دیکھ کر وہ سمجھتی تھی کہ لڑکوں کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے مگر سبحان بھی ایک لڑکا تھا. وہ ان جیسا ہر گز نہیں تھا. اس کی آنکھوں سے اس کے دل کی صفائی جھلکتی تھی. جو غرض اس نے تیمور اور ذیشان کی آنکھوں میں دیکھی تھی سبحان کی آنکھیں اس سے بالکل پاک تھیں. آج اس نے جانا تھا دنیا میں اچھے برے انسان سب ہوتے ہیں ایسے ہی نہیں کہتے کہ “پانچھوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں” اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہی بریرہ کی بولتی بند ہوئی لیکن آنکھوں سے آنسو برسنے لگے. وہ اسے شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن لبوں پر الفاظ ہی نہیں آ رہے تھے. وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھی. سبحان نے اس پہ بہت بڑا احسان کیا تھا جو وہ کبھی نہیں بھولے گی
“بریرہ تم رو رہی….” اس کے کہنے سے پہلے ہی اس روتی لڑکی نے اسے گلے لگا لیا. سبحان حیران ہوا لیکن اسے جھڑکا نہیں. اسے اس وقت سہارے کی ضرورت تھی.
“سبحان تھینک یو سو مچ” وہ آنکھوں میں دیکھ کر نہیں بول پا رہی تھی اسلئے اس نے کندھے پہ سر رکھے بولا تھا.
“کوئی بات نہیں بریرہ”
“تم نہیں جانتے تم نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے”
“احسان نہیں کیا… ایک لڑکی کی عزت بچانا میرا فرض تھا” اس نے بریرہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا. بریرہ جواباً کچھ نہ بول پائی. وہ اس وقت اس سے نظریں بھی نہیں ملا پا رہی تھی. بریرہ کو عجیب لگ رہا تھا پتہ نہیں وہ کیوں اسکے گلے لگ گئی تھی.
بریرہ زینب پریشان تھی تمہارے لئے.. میں اسے کال کرتا ہوں تم بات کر لو اس سے” بریرہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر سبحان کو لگا کہ دوست سے بات کرے گی تو ٹھیک ہو جائے گی.
“او.کے” وہ ابھی بھی نیچے دیکھ رہی تھی
سبحان نے زینب کو فون ملایا. تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد اس نے بریرہ کو فون تھما دیا.
“ہیلو..” بریرہ نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کال اٹینڈ کی
“کیسی ہو بریرہ”
“میں ٹھیک..تم؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں.. میری طرف آ جاؤ”
“نہیں زینب میں بہت تھکی ہوئی ہوں” اسکی آواز میں کپکپاہٹ تھی جو زینب سمجھ چکی تھی.
“چلو کوئی بات نہیں ویسے بھی ولیمے پہ ملاقات ہو جائے گی.. خیال رکھنا اپنا…ذرا سبحان کو فون دو”
“او کے” اس نے کہتے ہی سبحان کو فون پکڑایا.
“سبحان اس کا خیال رکھنا… پلیز” زینب بریرہ کے لئے پریشان تھی.
“بے فکر رہو… رکھوں گا” زینب نے جواب سن کر فون کاٹ دیا تھا. وہ بریرہ کے لئے اداس تھی. سبحان کے کہنے پہ اس نے بریرہ سے کوئی سوال بھی نہیں کیا کہ وہ کہاں تھی. وہ سمجھ دار تھی اسے معلوم تھا کہ اگر سبحان نے منع کر دیا تھا پوچھنے سے تو کوئی معمولی بات نہیں بڑی بات تھی.بریرہ کی زندگی میں پہلے کچھ ٹھیک نہیں تھا. وہ اس سے اس بات کا تذکرہ کر کے اور ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی. اس وقت تو بالکل بھی نہیں.
“بریرہ گھر چلیں” کال بند ہوتے ہی وہ بریرہ سے مخاطب ہوا.
“آپ مجھے میرے ہاسٹل لے جائیں گے”
“ہاسٹل اس وقت” وہ حیران ہوا.
“پلیز میں کچھ وقت وہاں گزارنا چاہتی ہوں” اس نے سبحان سے التجا کی.
“اچھا ٹھیک ہے” سبحان اسکی آنکھوں سے ہی قائل ہو گیا.
فورًا ہی وہ دونوں بریرہ کے ہاسٹل کے لئے نکل گئے .بریرہ گاڑی میں بیٹھی اسے ساتھ ساتھ رستہ بتا رہی تھی وہ خاموش بیٹھا گاڑی چلانے میں مصروف تھا. یہ وہی گاڑی تھی جس پہ وہ مہندی والی رات ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا. گاڑی آہستہ آواز میں سنسان سڑک پر چل رہی تھی
*****************
بریرہ اپنے صندوق کے پاس بیٹھی تھی. ہاتھوں میں ایک بے جان تصویر پکڑی ہوئی تھی. آدھے گھنٹے سے وہ اسی تصویر کو گھورے جا رہی تھی. سبحان اسکے پاس ہی کھڑا اسے نوٹ کر رہا تھا. بریرہ نے ایک لمحہ بھی اس تصویر سے نظریں نہیں ہٹائیں. سبحان نے آگے ہو کر اس تصویر کو دیکھنا چاہا. تصویر میں چار لوگ کھڑے تھے. ساڑھی میں ملبوس ایک پروقار خاتون. انکے کندھوں پہ ایک رعب دار شخص نے ہاتھ رکھا ہوا تھا. پاس ایک لمبا سا اٹھارہ انیس برس کا نوجوان کھڑا تھا جسکے ہاتھ میں چھوٹی سی بچی اٹھائی ہوئی تھی. دو پونیوں میں وہ بالکل گڑیا کی طرح لگ رہی تھی. بریرہ اب تک ایسے ہی چھوٹی گڑیا کی طرح دیکھتی تھی. وہ بچپن والی معصومیت اب تک چہرے پہ واضح تھی. اسکے ساتھ ساتھ اسکی شکل بالکل ماں پہ تھی. سبحان کو افسوس ہوا. بریرہ اپنی فیملی کی وجہ سے اس قدر بجھی بجھی رہتی تھی. پر نہ جانے اسکی فیملی کے ساتھ کیا ہوا تھا. سبحان سوچنے پہ مجبور ہو گیا. لیکن اس وقت وہ بریرہ سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی اسکی آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کو دیکھ چکا تھا.
میری قسمت میں گر غم اتنا تھا
تو دل بھی یا رب کئی دیئے ہوتے
——————————————–
وہ ہاتھوں میں تصویر پکڑے اسے کب سے تک رہی تھی. ایک آنسو اسکی آنکھ سے نکل کر اپنی ماں کے لال ڈوپٹے پہ گرا. کس قدر بے بس تھی وہ آج اسے صحیح معنوں میں پتہ لگا تھا. وہ چاہ کر بھی اپنی فیملی کو مل نہیں سکتی تھی نہ انہیں چلتا پھرتا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ سکتی تھی. ماں باپ کے پیار کے ساتھ ساتھ وہ بھائی کے پیار سے بھی محروم تھی. باری باری کر کے سب اس سے جدا ہو گئے تھے. پھر ذیشان اسکی زندگی میں آیا تھا. لیکن وہ بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا. بریرہ کو اس وقت سہارے کی ضرورت تھی. اس نے ایک نظر اوپر اٹھا کر دیکھا. سامنے کھڑا لڑکا پریشان لگ رہا تھا. اسکی آنکھوں میں افسردگی چھائی ہوئی تھی. بریرہ جو اس وقت سے اسی حال میں بیٹھی اسے سبحان کی موجودگی کا احساس نہ ہوا لیکن اب جا کر وہ ہوش میں آئی تو خبر ہوئی کہ وہ کس وقت سے بریرہ کے لئے پریشان تھا. اسے افسوس ہوا. وہ اپنے ساتھ ساتھ کسی اور کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی.
“سبحان” بریرہ کے بلانے پہ وہ چونکا
“ہم”
“اب گھر چلتے ہیں”
“اوکے” وہ کہتا ہوا باہر چلا گیا. وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا. بریرہ نے ایک آخری نظر تصویر پہ ڈالی. اس کے فورًا بعد اس نے اسے اسی صندوق میں بند کر دیا اور ہاسٹل کے کمرے سے نکلی. کون جانے کہ وہ صندوق اب کتنے سالوں بعد کھلے گا. وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی تیز رفتار سے آگے بڑھنے لگی.
*****************
بریرہ سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسکا ذہن کہیں اور ہی اٹکا ہوا تھا. وہ ایک ایک پل اسکی نظروں کے سامنے سے گزر رہا تھا جو اس نے سبحان کے ساتھ گزارا تھا. وہ جونہی آنکھیں بند کرتی تھی سبحان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگتا تھا. وہ سارے سین اسکی آنکھوں کے سامنے تیزی سے گزر رہے تھے. وہ راستے میں بھی اور اب تک اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی.
“اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے…سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے” لبوں پہ مسکرہٹ لئے سبحان کا بولتا ہوا چہرہ بریرہ کو یاد آیا. وہ مسکرائی. اسے اسکا یہ ڈائیلاگ اچھا لگنے لگا.
“اگر آپ برا نہ مانیں تو میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟” سبحان پھر سے اسکے سامنے آیا. اسکی آنکھوں کی سچائی بریرہ نے محسوس کی.
“کہا نہ چائے نہیں پیتا”. بریرہ کا منہ بنا. “پتہ نہیں اس نے مجھ پہ غصہ کیوں کیا تھا” اس نے خیالوں میں ہی سوچا.
“اب اس سے آگے نہیں بڑھنا تیمور” اسکی دلیری بہادری.. بریرہ اُسی کے بارے میں سوچ رہی تھی. باری باری سب اسکی نظروں سے گزر رہا تھا.
“دوسری عورتوں کی زندگیاں خراب کر کے خود کے لئے پاک بیویاں تلاش کرتے ہو.. کمال کرتے ہو..”
“مرد ہو تم…تمہاری ہستی کا اتنا تو رعب ہو کہ پاس سے گزرے کوئی عورت تو وہ بے خوف ہو…سمجھے” بریرہ کو اس نے جتنی بہادری سے بچایا تھا. اسے وہ سب یاد آرہا. اسکی حواسوں پہ سبحان ہی سوار تھا. اگلے ہی لمحے وہ سین اسکے ذہن میں ایا. سر پہ گلاب برس رہے تھے. وہ کانوں میں میٹھی اریجیت سنگھ (Arijit Singh) کی آواز “یہ لال عشق..یہ ملال عشق” بریرہ کے گال سرخ ہو گئے. وہ پھر سے ان نیلی آنکھوں میں ڈوب گئ
آپ سمندر کی بات کرتے ہو
لوگ آنکھوں میں ڈوب جاتے ہیں
اسکی نیلی آنکھوں میں آج ہی بریرہ کے لئے پریشانی تھی. پتہ نہیں سبحان کے دل میں کیا چل رہا تھا بریرہ نے سوچا. اسی لمحے بریرہ کو وہ گلے لگنے والی بات یاد آئی. وہ مسکرائی. اسے اپنی حرکت پہ پیار آیا. اس نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھے. وہ شرما رہی تھی. سوچتے سوچتے رات گزر گئی تھی. شکر سے کوئی تو آ گیا تھا جسکی وجہ سے بریرہ اب مسکرانے لگی تھی.
*******************
سبحان پینٹ کوٹ پہنے آئینے کے سامنے اپنا جائزہ لے رہا تھا. ولیمہ دن کا تھا اور وہ تیار ہو چکا تھا. اتنے میں سکینہ بیگم اسکے کمرے کے پاس سے گزریں. سبحان پہ انکی نظر پڑی.
“سبحان بیٹا؟”
“جی”
“ذرا بریرہ کو کمرے سے بلا لاؤ”
“اوکے میں بلا لاتا ہوں”
“ٹھیک ہے…ہم لوگ تم دونوں کا گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں” سبحان نے سر کو جنبش دی اور بریرہ کے کمرے تک بڑھنے لگا.
******************
بریرہ آئینے کے سامنے کھڑی راڈ سے اپنے بال رول کر رہی تھی. آج اسکا موڈ بےحد اچھا تھا. وہ صبح سے کمرے میں ہی گھوم پھر رہی تھی. بار بار لبوں پہ مسکراہٹ آ جاتی تھی. گنگنانے کا دل کرتا تھا. اس بدلاؤ کی وجہ صرف اور صرف سبحان تھا. اسکی نظر خود پہ پڑی. ہلکے ہرے رنگ کی میکسی اور ساتھ سافٹ سافٹ میک اپ اسے آج وہ خود بھی حسین لگ رہی تھی. اس نے شیشے میں دیکھ کر گلابی لپسٹک لگائی اور ساتھ گنگنانے لگی
“میری راہیں تیری تک ہیں.. تجھ پہ ہی تو میرا حق ہے” اس نے آئینے میں دیکھ کر مسکارہ لگایا.
“عشق میرا تو بیشک ہے.. تجھ پہ ہی تو میرا حق ہے” بریرہ مزے سے گا رہی تھی
“ساتھ چھوڑوں گا نہ.. نہ تیرے پیچھے آؤں گا” مردانہ آواز سن کر وہ چونکی. وہ ایک دم پیچھے مڑی. سبحان گاتا ہوا کمرے کے اندر آ رہا تھا.
“چھین لونگا یا خدا سے منانگ لاؤں گا” اس کی آواز بھی بےحد خوبصورت تھی
“تیرے نال تقدیراں لکھواؤں گا” وہ گاتا ہوا بریرہ کے بالکل پاس آ گیا.
“میں تیرا بن جاؤنگا” اس نے بریرہ کی آنکھوں میں ڈال کر بولا. بریرہ اس سے نظریں نہ ملا پائی. وہ نیچے دیکھنے لگی. وہ شرما رہی تھی.
“یہ میرا فیوریٹ گانا ہے.. ” سبحان کی آواز سن کر اس نے اوپر دیکھا.
“ویسے تمہاری آواز بہت پیاری ہے” بریرہ تعریف سن کر بھی چپ رہی اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا. سبحان نے اسکی خاموشی محسوس کی.
“اچھا چلو… سب بلا رہے ہیں… اگر تیار ہو گئی ہو تو آ جاؤ” اس نے جواباً سر ہلایا. سبحان اسکا جواب سمجھ گیا اور آگے جانے لگا. بریرہ بھی اسکے پیچھے پیچھے آنے لگی.
****************
ولیمے کا فنکشن کافی شاندار تھا. بریرہ زینب کے پاس ہی بیٹھی اس سے گپیں لگا رہی تھی. زینب خوش تھی کیونکہ بریرہ اسے کافی سیٹ لگ رہی تھی.
“کیسی ہو زینب… بتاؤ منہ دکھائی میں کیا ملا” بریرہ اس سے مخاطب ہوئی.
“منہ دکھائی میں نیکلس دیا تمہارے جیجو نے”
“آئے ہائے” بریرہ نے کہنی مار کر اسے تنگ کیا اور وہ شرمانے لگی. بریرہ کا انداز بالکل الگ تھا.
“ہٹو تنگ نہ کرو… سبحان” زینب نے پاس گزرتے سبحان کو بلا کر بات گول کی. سبحان کا نام سن کر بریرہ کی بولتی بند ہو گئی.
“ہاں بولو” وہ سٹیج پہ آیا.
“کل تم دونوں میرے سسرال آنا”
“کیوں؟” سبحان نے پوچھا.
“کیوں کیا.. ناشتہ لے کر آنا میرے لئے… میں تم دونوں کو اپنا کمرہ دکھاؤں گی”
“اچھا ٹھیک ہے..” سبحان مسکرا کر بولا.
“ٹھیک ہے نہ بریرہ؟” زینب اسکی طرف مڑی.
“ہم..” اس نے سر ہلایا. زینب نے اسکی خاموشی نوٹ کی. پہلے تو وہ اتنا بول رہی تھی سبحان کے آتے ہی اسے چپ لگ گئی تھی. باقی کا فنکشن اچھے سے گیا. بریرہ زینب کے پاس پی بیٹھی رہی. زینب نے اسں سے کل کے واقعے کا ذکر ہی نہ کیا. وہ اسکا موڈ نہیں خراب کرنا چاہتی تھی. وہ کتنے وقت کے بعد اس طرح کھلی تھی. پورے فنکشن میں بریرہ زینب کے ساتھ گپیں لگاتی رہی لیکن نظریں اسکی سبحان پہ تھیں جو ہال میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا. زینب نے کئی بار نوٹس کیا لیکن سمجھ نہ پائی وہ کسے دیکھ رہی تھی. تیمور بھی آج بریرہ سے دور دور تھا. وہ بریرہ کے پاس بھی نہ بھٹکا. وہ سبحان کی بات اچھے سے سمجھ گیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: