Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 4

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 4

–**–**–

فنکشن ختم ہو چکا تھا اور اب سب گھر میں تھے. سبحان اپنے بیڈ پہ لیٹا فنکشن میں ہوئی ایک ایک چیز کو یاد کر رہا تھا. اسے بریرہ کا انداز بہت عجیب لگا تھا. اس نے کتنی بار بریرہ کی نظریں خود پہ محسوس کی تھیں. پھر وہ گانے والی بات اسے یاد آئی. سبحان کے آتے ہی بریرہ کی بولتی بند ہوئی تھی. لیکن اس کی آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی تھیں. سبحان کو ڈر لگا. “کہیں بریرہ اس سے پیار تو نہیں کرنے لگی تھی؟”
“میں بھی پاگل ہوں…میں نے پتہ نہیں کیوں وہ گانا گا دیا.. پتہ نہیں وہ دل میں کیا کیا سوچ رہی ہو گی”
“میں نے ہمیشہ اپنے دوستوں سے ایک سپیس رکھی لیکن بریرہ سے وہ سپیس کیوں نہیں قائم ہو رہی؟” وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا.
“بریرہ میری دوست بھی تو نہیں.. پتہ نہیں وہ کیا لگتی ہے میری..”
“کیوں کھیچا چلا جاتا ہوں اسکی طرف”
“مجھے فاصلہ رکھنا چاہیئے اس سے.. میں ان چیزوں میں نہیں پڑ سکتا”
“زینب بھی میری بہترین دوست ہے لیکن میں نے اس سے بھی فاصلہ رکھا.. نہ جابے بریرہ سے کیوں نہیں رکھ پا ریا ہوں” وہ گہری سوچ میں مبتلا تھا. پھر اسے زینب کی بات یاد آئی.
“اب کل زینب نے بلایا ہے.. بریرہ کو بھی ساتھ لے جانا ہے.. زینب کو ٹھکرا بھی نہیں سکتا…کیا کروں؟”
“ہاں میں بریرہ کو نظر انداز کروں گا… سمجھدار ہے سمجھ جائے گی کہ میں پیار نہیں کرتا اس سے” اس نے بریرہ سے دور رہنے کی ترقیب سوچی.
“پر کیا میں واقعی نہیں کرتا؟” اس نے خود سے سوال کیا. لیکن جواب اسکے پاس نہیں تھا…
*********************
وہ جیولری اور کپڑے وغیرہ بدل کر بیڈ پہ بیٹھی. اس نے سوچا تھوڑا سا آرام کر لوں. وہ کافی تھک گئی تھی. سونے کے لئے آنکھیں بند کیں مگر نیند کی دیوی اس پہ مہربان نہ ہوئی. بریرہ نے اپنا موبائل اٹھا لیا. وہ اپنی پلےلسٹ میں گئی. پلےلسٹ پہ نظریں دوڑا کر اسے صدمہ ہوا. ذیشان کے جانے کے بعد سے اسکی پلے لسٹ سید (sad) سونگز سے بھری پڑی تھی. اس نے فورُا سے پہلے ڈیلیٹ کا بٹن دبا کر ساری کی ساری پلےلسٹ کلیر کر دی. کانوں میں ایک ہی گانے کی آواز تھی. اس نے نیٹ لگا کر یوٹیوب پہ وہی گانا چلایا.
“میری راہیں تیرے تک ہیں.. تجھ پے ہی تو میرا حق ہے”
گانے کی شروعات پہ ہی وہ مسکرائی. ایک نئی یاد جڑ گئی تھی اس گانے کے ساتھ..
“میں تیرا بن جاؤں گا” یہ لائن کانوں میں پڑتے ہی بریرہ کو سبحان کی مسکراتی صورت نظر آئی. اسے اب بھی لگ رہا تھا کہ وہی اس کے لئے گانا گا رہا تھا.
“میں تیرا بن جاؤنگا..” بریرہ نے ہلکی آواز میں گانے کی لائن کو دہرایا.
“وہ میرا بن جائے گا” بریرہ کے ذہن میں خیال آیا. اس نے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پہ رکھے. گال شرم کی وجہ سے سرخ پڑ گئے تھے. ایک نرم گوشہ سبحان کے لئے اس کے دل میں بننے لگا تھا. وہ اسے اچھا لگنے لگا تھا. ایک بار پھر سے اسے محبت ہو رہی تھی یا شاید پہلی بار ہی ہو رہی تھی.کیونکہ یہ احساس اسے ذیشان کے وقت کبھی نہ ہوا تھا. وہ سوچتے سوچتے گہری نیند سو گئی.
_____________
سبحان اپنے کمرے میں بیٹھا موبائل فون استعمال کر رہا تھا. اس نے اپنی ماں کو کال ملائی.
“اسلام علیکم امی”
“وعلیکم اسلام.. آج کیسی میری یاد آگئی؟” ماں کی آواز سن کر سبحان کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے. اسے اپنی ماں سے بےحد لگاؤ تھا.
“بس آگئی”
“بیٹا کیا ہوا ہے” وہ ماں تھیں. وہ اپنے بیٹے کی آواز سے ہی جان گئیں کہ وہ ڈسڑب تھا.
“کچھ نہیں بس آپ کی یاد آرہی ہے..”
“تو کب آ رہے ہو؟” انہوں نے اسکا دھیان بٹانا چاہا.
“جلد آؤں گا.. جلد…” اس نے کہتے ہی فون کاٹ دیا. آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے. سبحان کو ماں کی یاد کے ساتھ ساتھ کوئی اور چیز بھی ستا رہی تھی شاید بریرہ اور اسکی محبت.. نہ جانے وہ اس سے کیوں محبت کر بیٹھی تھی.
******************
بریرہ ایک جھٹکے سے اوپر اٹھی. اسکی نیند دسٹرب ہوئی. شام کا وقت تھا اور اسے چائے کی شدیر طلب ہوئی. وہ کمرے سے باہر نکلی. سامنے ٹیبل پر اسے زینب کے والدین نظر آئے. وہ لوگ چائے کے لئے ہی بیٹھے ہوئے تھے. بریرہ آگے بڑھی اور سلام کیا. دونوں کا جواب سن کر وہ سکینہ بیگم کی پاس والی کرسی پہ بیٹھ گئی. ذہن پہ اب تک سبحان ہی سوار تھا. اس نے کپ میں چائے انڈیلی اور ساتھ سبحان کے خیالوں میں ڈوب گئی.
“نہ جانے میں سبحان کا کیوں سوچنے لگی ہوں؟” سوچوں میں گم ہوتی ہی چائے کی پیالی کو منہ سے لگایا.
“جب وہ قریب آتا ہے تو میری بولتی بند ہو جاتی ہے.. جب دور ہوتا ہے تو اسی کے خیال میں گم رہتی ہوں” اس نے چائے کا گھونٹ لیا.
وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے
وہ دور جائے تو ساری گفتگو اسی سے ملے
“پورے فنکشن میں اسے میں پاگلوں کی طرح گھورتی رہی” اس نے ایک اور گھونٹ لیا.
“کہیں مجھے اس سے پیار…” بریرہ کو قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی. اس نے ایک آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا. خیالوں والا بندہ ابھی اسی وقت اسکے سامنے سے گزر کر زینب کے بابا کے ساتھ جا کر بیٹھا.
“سچ کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے.. میں اسی کا سوچ رہی تھی اور وہ سامنے آ گیا” بریرہ گھونٹ لیتے لیتے ہلکا سا مسکرائی. اس نے پھر سے ایک آنکھ اٹھا کر سبحان کو دیکھا. اسکی آنکھیں سرخ تھیں. ولیمے کی تھکاوٹ کا اثر لگ رہا تھا. اس نے کام بھی تو بہت کیا تھا. بریرہ نے سوچا
“بریرہ…” سکینہ بیگم کی آواز سن کر وہ چونکی اور سبحان سے نظریں ہٹائیں
“ج..جی” اسکی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی لیکن کسی نے نوٹس نہیں کی.
“تم جاؤ گی نہ زینب کی طرف؟”
“ہاں جی صبح”
“ہم.. کچھ گفٹ ہیں وہ زینب کو دے دینا میری طرف سے”
“اوکے”
“چائے ختم کر کے آؤ میں تمہیں دکھا دیتی ہوں..” وہ کہتی ہوئیں وہاں سے چل دیں.
“جی.. جی ٹھیک..” بریرہ نے جلدی جلدی چائے ختم کی اور انکے پیچھے بھاگی.
*****************
رات کا ایک بج گیا تھا لیکن بریرہ کو نیند نہیں آ رہی تھی. وہ دن میں اتنا سو گئی تھی تو اب کہاں نیند آنی تھی. وہ خود سے ہی باتیں کرنے لگی.
“اگر محبت ہو گئی ہے مجھے.. تو میری اسکے سامنے بولتی کیوں بند ہو جاتی ہے.. “
“ذیشان کے وقت تو مجھے ایسا احساس ہی نہ ہوا.. میں اس سے محبت بھی کرتی تھی کہ نہیں..؟” وہ خود سے ہی سوال جواب کر رہی تھی.
“ذیشان” اسکی آنکھوں میں غصہ اترا
“.. دفعہ کرو اسے.. اس نے اگر میرے بارے میں نہیں سوچا تو میں اسکے بارے میں کیوں سوچوں…” وہ خود کو سمجھانے لگی.
“مجھے جلدازجلد سبحان کو اپنے دل کی بات کہہ دینی چاہیئے. جب خود سے کوشش نہیں کروں گی تو کچھ نہیں ہو گا..”
“مجھے شرمانے کے بجائے اسے دوستی کرنی چاہیئے” اگلے ہی لمحے وہ اس سے بات کرنے کی ترقیبیں سوچنے لگی.
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ اس سے مخاطب ہونے کی پریکٹس کر رہی تھی. سبحان اسے اپنا اپنا لگنے لگا تھا. وہ اسے جلدازجلد اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتی تھی. اسے جینے کی وجہ مل گئی تھی.
***************
صبح سویرے اٹھ کر وہ کچن میں آیا. ملازمہ نے ناشتہ تیار کر دیا تھا. وہ ناشتے کے برتنوں کو ترتیب سے رکھنے لگا. بریرہ نے بھی اسی وقت کچن میں قدم رکھا لیکن سبحان کو دیکھتے ہی وہ واپس پلٹی. دل زور زور سے دھڑک رہا تھا.
“بریرہ حوصلہ رکھو… تم جتنی مشکلات سہہ چکی ہو..اسکے سامنے یہ چھوٹا سا کام ہے…. ” وہ تیز قدموں سے لبوں پہ مسکراہٹ لئے سبحان کی طرف بڑھی.
“گڈ مارنگ سبحان”
“دیکھا مشکل کام نہیں تھا” اس نے دل میں ہی سوچا
“گڈ مارنگ” اس نے بنا پیچھے مڑے جواب دیا. وہ اسے نظر انداز کر رہا تھا لیکن بریرہ سمجھ نہ پائی تھی.
“کب جانا ہے؟”
“ہوں..ابھی..”
“پھر میں ریڈی ہوں…چلیں..” وہ کھلکھلا کر بولی.
“اچھا آؤ” وہ نظر انداز کرتا ہوا آگے چلا گیا. بریرہ کو اس بار عجیب لگا لیکن پھر بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی. گفٹ اسکے ہاتھ میں تھے اور ناشتہ سبحان بے اٹھایا ہوا تھا. اس نے جاتے ہی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور ناشتہ وغیرہ رکھا. پھر وہ بریرہ کا انتظار کرنے لگا. بریرہ نے آتے ہی گفٹ بھی وہیں رکھ دیئے. سبحان کچھ کہے بغیر آگے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا. بریرہ بھی خاموش فرنٹ سیٹ پہ آ کر بیٹھی. اس کے بیٹھتے ہی گاڑی چلا دی گئی. گاڑی میں مکمل خاموشی تھی. بریرہ چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ پا رہی تھی. اسے سبحان کا موڈ خراب لگ رہا تھا. سبحان بھی سامنے کے شیشے سے بریرہ کو ہی نوٹس کر رہا تھا. وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے ہی دیکھتی تھی. سبحان اسے نظر انداز کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا. اب بس اس کے دل سے محبت کو نکالنا تھا.
****************
زینب اپنے گھر میں بیٹھی بریرہ اور سبحان کا ہی انتظار کر رہی تھی. جواد (زینب کا شوہر) کی کچھ کزنز بھی انہیں کے گھر ٹھہری ہوئیں تھی. وہ انہیں کے ساتھ بیٹھی گپیں لگا رہی تھی. اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی. زینب نے فورًا سے دروازہ کھولا. سامنے وہی دونوں تھے.
“شکر ہے تم دونوں تو پہنچے..” زینب نے ملازمہ کو بلا کر ان سے سامان وغیرہ لیا.
“آؤ دونوں” وہ دونوں اندر آئے.
“زینب تمہارا گھر کتنا بڑا ہے… ” سبحان زینب کے ساتھ بالکل نارمل تھا. بریرہ اس بات پہ چڑی نہ جانے اس بریرہ سے کیا ناراضگی تھی.
“ہاں نہ… ” اسے جواب دے کر وہ بریرہ کی طرف مڑی.
“بریرہ کیسی ہو”
“ٹھیک.. ” اسکی آواز میں غصہ تھا. وہ سبحان کو ہی دیکھ رہی تھی جو گھر کا کونا کونا دیکھنے میں مصروف تھا. زینب نے بریرہ کی نظروں کا تعاقب کیا. اسے کچھ کچھ بات سمجھ آنے لگی لیکن اس نے نظر انداز کیا.
“اچھا تم دونوں آؤ .جواد کی کزنز سے ملواتی ہوں” وہ ان دونوں کو لاؤنج میں لے گئی.
“او ہیلو گرلز..” سبحان جاتے ساتھ ہی ان جینز میں ملبوس لڑکیوں سے مخاطب ہوا. بریرہ کو غصہ آیا. وہ بلاوجہ ان سے بات کیوں کر رہا تھا.
“ہائے” تینوں نے جواب دیا.
“ایک کام کرو تم سب بیٹھو میں ناشتہ لگوا کر تم سب کو بلواتی ہوں..” زینب کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی.
“میں تم لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں یہاں”
“ہاں ہاں آ جاؤ” سبحان کے کہنے پہ چھوٹے چھوٹے بالوں والی لڑکی نے جواب دیا.
“تمہارا نام کیا ہے؟” وہ اسی لڑکی سے مخاطب ہوا.
“جویریہ”
“ہائے کتنا پیارا نام ہے”
بریرہ بھی وہیں بیٹھی انہیں دونوں کو دیکھ رہی تھی. اس کی آنکھوں میں جیلسی کا عنصر نمایاں تھا. سبحان بلاوجہ اس لڑکی کے ساتھ فری ہو رہا تھا جس کی وجہ سے بریرہ تپ رہی تھی. شاید اسکی فطرت ہی ایسی تھی وہ پہلے لڑکیوں کے ساتھ فری ہوتا تھا اور پھر نظر انداز کر دیتا تھا. لڑکوں کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے. وہ پھر سے لڑکوں کے بارے میں الٹا سوچنے لگی. جس شخص نے اسکا ُلڑکوں کے بارے میں نظریہ بدلا تھا. اسی نے واپس وہی نظریہ پلٹ دیا تھا. بریرہ کو خود پہ افسوس ہو رہا تھا. وہ جب بھی خوشیوں کے قریب آتی تھی اداسیاں اسے پیچھے سے جکڑ لیتی تھیں.
“آ جاؤ سب ناشتہ لگ گیا ہے.” زینب کی آواز سے بریرہ کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا.
“اوکے” سبحان جو جویریہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اس نے جواب دیا. سب اٹھ کر ٹیبل پر آئے. بریرہ سبحان کو ہی نوٹس کر رہی تھی. وہ ناشتے کی ٹیبل پر بھی جویریہ کی کرسی کے ساتھ بیٹھا. وہ دونوں ابھی بھی گپیں لگا رہے تھے اور بریرہ کو کوفت ہو رہی تھی. اسے صحیح معنوں میں تکلیف ہو رہی تھی.
“اوئے آج ہم سب میکڈونلڈ (Macdonald) چلیں” سبحان سب سے مخاطب ہوا.
“ہاں اچھا آئیڈیا ہے..” جواد بولا.
“جویریہ تم چلو گی..” سبحان نے جویریہ سے پوچھا.
“ہاں ہاں کیوں نہیں..” وہ مسکرا کر بولی. بریرہ اور زیادہ تپنے لگی.
“بریرہ تم چلو گی…” بریرہ کے ساتھ بیٹھی زینب نے اس سے پوچھا.
“ہاں چلوں گی. ” اس نے غصے میں اونچا سا بولا تاکہ سبحان تک آواز پہنچ پائے. سبحان نے سن کر ان سنا کر دیا.
وہ جویریہ سے ہی گپیں لگاتا رہا.
**************
وہ سب میکڈونلڈ میں بیٹھے اپنے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے. سبحان جویریہ سے باتوں میں مصروف تھا. زینب بھی اپنے شوہر کو کمپنی دے رہی تھی. بریرہ اکیلی بیٹھی سبحان کو ہی دیکھ رہی تھی. فواد کی باقی دو کزنز کسی وجہ سے انکے ساتھ نہیں آ پائیں تھیں. جویریہ کو بھی سبحان اصرار کر کے اپنے ساتھ لے آیا تھا.
“سبحان تم کب تک یہاں ہو…؟” زینب سبحان سے مخاطب ہوئی.
“پرسوں لاہور کے لئے نکل جاؤں گا..” بریرہ نے سبحان کی طرف دیکھا.
“بریرہ تم تو یہی ہو نہ؟” زینب بریرہ کی طرف مڑی.
“نہیں میں بھی چلی جاؤں گی.. میرا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں” اس کی آواز میں بے رخی تھی. سبحان نے عین اسی وقت اسکی آنکھوں میں دیکھا. وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی. بریرہ کی آنکھوں میں پھر سے ویرانی چھا گئی تھی. آباد ہو کر وہ پھر سے برباد ہوئی تھی.
“کیا مطلب…” زینب نے پوچھا
“میرا مطلب.. تم تو ہو نہیں.. پھر کیوں رکوں؟”
“ارے یار تین چار دن رک جاؤ”
“دیکھوں گی..” اسکے جواب دیتے ہی انکے برگر آگئے اور سب کھانے میں مصروف ہو گئے. کھاتے کھاتے سبحان سے جویریہ کے ہاتھ پہ کیچپ گر گئی.
“اوپز سوری..” سبحان نے ایک دم ٹشو نکال کر جویریہ کا ہاتھ صاف کیا.
“کوئی بات نہیں.” اس نے جواب دیا. بریرہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی. سبحان نے جونہی جویریہ کا ہاتھ پکڑا وہ تپ کر آگ کا گولا بن گئی. اسکا دل کر رہا تھا وہ وہاں سے اٹھ جائے لیکن وہ مجبور تھی. وہ سب کے درمیان بیٹھی ایسا نہیں کر سکتی تھی. وہ غصے میں تھی لیکن خود کو کنٹرول میں رکھا ہوا تھا. اتنے میں وہ کھانے سے فارغ ہوئے
“بریرہ چلیں.” سبحان نے بریرہ کی طرف دیکھا.
“ہم…” وہ بغیر اوپر دیکھے بولی. بریرہ اور سبحان سب سے ملے اور پھر گھر کو جانے لگے.
*************
بریرہ گھر میں آتے ہی اپنے کمرے میں بھاگ گئی. اس نے سبحان سے ایک بات نہ کی. سبحان وہیں کھڑا اسے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا. اس نے بریرہ کی ہلکی بھوری آنکھوں میں خود کے لئے بےرخی دیکھی تھی. وہ سمجھ تو گیا تھا کہ بریرہ کو اس سے محبت ہی ہوئی تھی اور آج اس نے ہی اسکی محبت کا گلا گھونٹ دیا تھا. وہ جو ایک دن اسکی وجہ سے خوش ہوئی تھی آج اسی کی بدولت اسکا حال ایسا تھا. وہ ٹوٹ کر بھکر چکی تھی. بریرہ نے کمرے میں آتے ہی رونا شروع کر دیا.
“کیوں کیا سبحان میرے ساتھ ایسا..”
“کیوں تم نے مجھے نظر انداز کیا… کیوں جویریہ کے ساتھ اتنا فری ہوئے” وہ پاگلوں کی طرح رو رہی تھی. وہ ایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی. اسکا دل پھر کرچی کرچی ہوا تھا.
تم نے فقط سنا ہے
ہم پر بیتی ہے
محبت خون پیتی ہے
*****************
وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی. آنکھوں سے آنسو آ رہے تھے. سرمے کی وجہ سے آنکھیں رو رو کے کالی ہو گئیں تھیں. اس نے اپنی گود سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا. سامنے پنکھے کے نیچے ایک کرسی پڑی تھی. بریرہ کی زندگی بے معنی تھی. کیوں نہ وہ خود کو پھانسی لگا لے. نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسوری. شیطان اسکے دل میں عجیب عجیب وسوسے ڈال رہا تھا. اس نے جلدی میں اپنے گلے سے وہ کالے رنگ کا ڈوپٹہ نکالا اور کرسی کی طرف بڑھنے لگی. آنسو اب تک رواں دواں تھے. وہ کرسی پہ چڑھی اور پنکھے پہ دوپٹہ لٹکایا. وہ خود کو ٹانکنے ہی لگی کہ دور کھڑی اسکو اپنی ماں کی پرچھائی دکھی.
“نہ بریرہ بیٹا خودکشی حرام ہے..”
“اللہ تمہیں صبر دے گا.. یہ حرکت ہر گز نہیں کرنا” بریرہ روتی آنکھوں سے ماں کی پرچھائی کو ہی دیکھ رہی تھی.
“مما..” بریرہ نے پرچھائی کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ پرچھائی وہاں سے غائب ہو گئی. بریرہ نے اپنے سامنے اس کالے ڈوپٹے کو لٹکا ہوا دیکھا. اسکی آنکھوں میں خوف اتر آیا. دل اسے بار بار گواہی دے رہا تھا کہ یہ قدم مت اٹھانا. اگر اٹھا لیا تو پچھتاؤ گی. اس کا ایمان شیطان پر حاوی ہو گیا تھا. وہ کرسی سے نیچے اتری. خودکشی کا پلان اس نے ترک کر دیا. وہ نیچے آتے ہی سجدے میں بیٹھ کر رونے لگی..
“اے رب مجھے سکون عطا کر… یہ وسوسے دور کر دے” وہ سکون کی طلب کر رہی تھی. وہ روئے جا رہی تھی.
“خودکشی ہی حلال کردیجیئے زندگی تو حرام ہو گئ ہے” وہ اونچی آواز میں گلہ کر رہی تھی. آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں. وہ جینا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ مر بھی نہیں سکتی تھی. وہ سجدے سے اوپر اٹھی.
“اپنی کہانے کیسے کہیں گے.. اپنی کہانی..” وہ بار بار یہ لائن دہرانے لگی. ساتھ وہ اپنا ہاتھ زور زور سے فرش پہ مار رہی تھی. اسکے ہاتھ سے خون بہنے لگا تھا لیکن اسے کوئی درد محسوس نہیں ہوا تھا. جب اندر کے زخم گہرے ہوں تو باہر کے زخموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا…
بریرہ چونک کر اٹھی. وہ روتے روتے کب سو گئی خبر نہ ہوئی لیکن وہ اس یاد کی بدولت اب جاگ گئی تھی. اس یاد نے اسے اندر تک توڑ دیا تھا. اسکی بدترین یادوں میں سے ایک یاد یہ بھی تھی. ذیشان کے جاتے ہی اس نے خودکشی کا سوچا تھا اور آج سبحان کی بے رخی پہ پھر سے اسے یہ یاد یاد آ گئی تھی. وہ کتنے وقت سے اس سے دور بھاگ رہی تھی پر آج اس نے دوبارہ سے اسی یاد کا سامنا کیا تھا. اُس وقت اسے جتنا درد ہوا تھا اس سے کئی زیادہ درد اسے آج ہوا تھا. وہ آج سمجھ گئی تھی کہ ذیشان سے عشق تو کیا اسے محبت بھی نہیں ہوئی تھی. وہ صرف اسکی عادت تھا اور عادت چھوٹتے وقت تکلیف تو ہوتی ہے. لیکن سبحان تو اسکی محبت تھا اور محبت کے چھوٹنے کا درد عادت سے بھی دو گنا زیادہ ہوتا ہے. بریرہ مسلسل روئے جارہی تھی. “کیوں کیا تم نے ایسا” وہ چلائی. تکیہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا. آنکھیں لال پڑ گئیں تھیں لیکن پھر بھی رونا بند نہیں ہوا تھا.
جو کہتے ہیں یک طرفہ محبت آسان ہوتی ہے
کر کے دیکھو یہ ہر زخم کا باپ ہوتی ہے
______________
سبحان لاؤنج میں بیٹھا ٹی-وی دیکھ رہا تھا. دن کے دو بج چکے تھے بریرہ اسے نہ ناشتے کی ٹیبل پہ نظر آئی نہ ہی کہیں اور. ٹی-وی چل رہا تھا اور وہ بریرہ کے ہی خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا. عجیب عجیب سے وسوسے اسکے دل میں آ رہے تھے.
“بریرہ اب تک کمرے میں کیا کر رہی ہے؟”
“آئی نو وہ میرے سے نفرت کرنے لگی ہے لیکن خود کو اذیت تو نہیں دے گی؟..”
“صبح سے نہیں آئی کہیں اس نے اپنے ساتھ کچھ…” اسکے کہنے کی ہی دیر تھی کہ پاس سے بریرہ کے کمرے کے دروازے کی آواز آئی. باہر نکلتے ساتھ ہی اس نے سامنے دیکھا. سبحان صوفے پہ بیٹھا اسے ہی تاڑ رہا تھا. بریرہ کی آنکھیں ویران تھیں اور یہ سب سبحان کی بدولت ہوا تھا. سبحان کو لگا کہ گویا اسکی بھوری آنکھیں اس سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ
“کون کہتا ہے تیری یاد سے بے خبر ہوں میں..میری آنکھوں سے پوچھ میری رات کیسی گزری ہے”
اسے تب جا کر احساس ہوا کہ وہ کتنا ظالم ہے. اس نے اس معصوم کی دلکش آنکھوں کا بھی لحاظ نہ کیا. وہ سامنے کھڑی لڑکی اسے غصے سے تاڑ رہی تھی. بریرہ کو اسکی نگاہوں سے کوفت ہو رہی تھی.
“کتنا چیپ انسان ہے یہ میرے سامنے کسی اور لڑکی سے عشق لڑاتا ہے اور ساتھ ساتھ مجھے بھی تاڑتا ہے…” وہ سوچتے ہوئے وہاں سے چل دی. سبحان نے اسکی آنکھوں میں آتا غصہ بھی دیکھ لیا. وہ غصہ اسکے باطن مہں لگنے والی آگ کی تصویرکشی کر رہا تھا. وہ سبحان سے صحیح معنوں میں نفرت کرنے لگی تھی.
***************
کچن میں کھڑی وہ چھری سے بریڈ پہ جیم (jam) لگا رہی تھی. اسے عجیب عجیب سے خیال آ رہے تھے.
“سارے مرد ایک ہی حیسے ہوتے ہیں.. انہیں صرف اپنی غرض سے مطلب ہے”
“کیوں سبحان نے میری عزت بچا کر میرے دل میں محبت کا دیا جلایا پھر اسے بےدردی سے بجھا بھی دیا.. لیکن لگایا ہی کیوں تھا….”
“مرد ذات ایک ہی جیسی ہوتی ہے… وہ کسی کی سگی نہیں ہو سکتی…”
“لیکن میرا بھائی… وہ تو ایسا نہیں تھا… بھائی… بلال محمد”
نام لبوں پہ آتے ہی بریرہ کی آنکھوں سے تین چار آنسو گرے. وہ کیا کر رہی تھی بھول گئی. ایک اور دردناک واقعہ اس کی نظر کے سامنے گھوم گیا.
تلواروں پہ سر وار دئیے
انگاروں میں جسم جلایا ہے
تب جا کہ کہیں ہم نے سر پہ
یہ قیصری رنگ سجایا ہے
بریرہ کی آج سالگرہ تھی اور وہ اپنے شیر جیسے بھائی کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ ہاسٹل آ کر اسکے ساتھ مل کر کیک کاٹیں گے لیکن تیار ہونے سے پہلے ہی اسے ایک کال آئی اور اسکا دل ہی جیسے پھٹ گیا.
“ہیلو… بلال احمد بارڈر پر شہید ہو گئے ہیں..” بریرہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہی. اس کے ہاتھ سے فون پھسل گیا. جلدی میں وہ ہاسٹل سے باہر بھاگی.. وہ رو رہی تھی.. اسے بس بارڈر تک پہنچنا تھا….
چاروں طرف سناٹا تھا. بریرہ کے ارد گرد سوٹ میں ملبوس کتنے ہی فوجی کھڑے تھے. وہ سب اس بہادر سپاہی کو سلوٹ کر رہے تھے جس نے کتنے ہی سال اس ملک کی خدمت میں لگا دئیے تھے. بلال احمد کےلبوں پر شہید ہوتے وقت بھی ایک مسکراہٹ تھی. ایک فخر تھا..
او وطناں وے میرے وطناں وے
تیرا میرا پیار نرالا تھا
قربان ہوا تیری عصمت پہ
میں کتنا نصیبوں والا تھا
لیکن وہ اپنی چھوٹی بہن کو اس ظالم دنیا میں چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے تھے. بریرہ انکا بے جان جسم لئے وہیں بارڈر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی. فوج نے ایک عظیم سپاہی کھویا تھا اور بریرہ نے ایک عظیم بھائی. وہ اب کیسے سنھبلے گی؟ اسکا دنیا میں انکے سوا کوئی نہ تھا.
اِس یاد نے بریرہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب نکال دیا. وہ خود پہ قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی. اس نے خود کے لئے مضبوط ہونا تھا. ایک مضبوط پروقار خاتون بننا تھا جو پھر سے نہ ٹوٹے. اس نے آنسوؤں پہ قابو کیا اور ہاتھ میں پکڑی چھری کو ٹیبل پہ رکھا. دوسرے ہاتھ سے بریڈ کھانے لگی. عین اسی وقت سکینہ بیگم کچن میں آئیں.
“خالدہ…” وہ اونچی آواز میں ملازمہ کو بلا رہی تھیں.
“بیٹا خالدہ کہاں ہے؟” انہیں خالدہ تو نظر نہ آئی لیکن بریرہ نظر آ گئی.
“پتہ نہیں” بریرہ نے مختصر جواب دیا.
“اچھا وہ جب آئے تو… ” ان کے کہنے کی دیر تھی کہ خالدہ کچن کے دروازے سے اندر آئی. سکینہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی اس کی طرف رخ کیا.
“خالدہ.. بریانی بنا دینا.. زینب اور فواد کی کچھ کزنز گھر آرہی ہیں..” بریرہ ساتھ کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی. کزنز سے اسے جویریہ یاد آئی اسکا پھر سے خون کھول اٹھا.
“جی بی بی..” خالدہ کے جواب دینے پہ سکینہ بیگم وہاں سے چلی گئیں. بریرہ انکے جاتے ہی کچن سے نکل کر اپنے روم میں آگئی. وہ آ کر پیکنگ کرنے لگی
“میں جلد از جلد یہاں سے چلی جاؤنگی.. مجھے نہیں رہنا ادھر”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: