Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 5

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 5

–**–**–

سبحان اب تک لاؤنج میں بیٹھا تھا. اسکا فون بجنے لگا. فون ان لاک کیا تو معلوم ہوا کہ زینب کی کال آ رہی تھی.
اس نے فورًا سے فون اٹھا کر کان سے لگایا.
“اسلام علیکم..”
وعلیکم اسلام..” زینب نے جواب دیا.
“ہوں کیا بات ہے؟”
“یار کب سے بریرہ کو فون کر رہی ہوں اٹھا ہی نہیں رہی..تم ذرا جا کر بتا دو اسے کہ میں آؤنگی آج”
“تم اپنی امی کو فون کر کے کہو کہ وہ کہہ دیں..” سبحان بریرہ کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا.
“کیا تھا لیکن وہ بھی بزی ہیں…تم کر دو نہ میرا کام”
“اچھا” اس نے کہتے ہی فون کاٹ دیا. وہ آہستہ قدموں سے بریرہ کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا. دل کی دھڑکن آسمانوں کو چھو رہی تھی. وہ اس لڑکی سے سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا. وہ دروازے کے پاس کھڑا دروازے کو کھٹکھٹانے ہی لگا کہ دروازہ کھل گیا. سامنے وہ بڑا سا بیگ لئے کھڑی تھی. ایک سیکنڈ کے لئے انکی نظریں ملیں لیکن فورًا ہی بریرہ کہیں اور دیکھنے لگی.
“ہٹو میرے راستے سے” اسکی آواز میں غصہ تھا.
“تم کہاں جا رہی ہو…؟”
“جہنم میں… چلنا ہے؟”
“دیکھو زینب کا فون آیا وہ کہہ رہی تھی کہ تم اسکا فون نہیں اٹھا رہی… اس نے پیغام دیا ہے کہ وہ آج آئے گی” اس نے اسکا غصہ نظر انداز کرتے ہوئے بولا.
“ہاں تو میں کیا کروں”
“تو اسکے لئے رک جاؤ”
“تم کون ہوتے ہو میرے پہ حکم چلانے والے.. “
“میں حکم نہیں…” اس کی بات بریرہ نے کاٹ دی
“حکم… ہاں تم حکم نہیں چلاتے.. تم لڑکیوں کے دل کے ساتھ کھیلتے ہو.. کل میں تھی.. آج جویریہ.. پرسوں کوئی اور ہو گی.” سبحان اسی بات کی وجہ سے اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا. اس نے اسکی بولتی بند کر دی تھی.
“تم کیوں نہیں چلے جاتے یہاں سے.. مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا” وہ اب تک اسے سنا رہی تھی. وہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہا. وہ کچھ کہے بغیر الٹے پاؤں وہاں سے چلا گیا. اسکے جاتے ہی بریرہ کا کچھ غصہ ٹھنڈا ہوا. اس نے پاکٹ سے فون نکالا. زینب کی کتنی ہی کالز آئی ہوئی تھیں. اس نے فورًا زینب کو کال ملائی.
“ہیلو..”
“بریرہ میں کب سے تمہں کال ملا رہی تھی.. تم کہاں تھی..”
“کچن میں تھی.. کیا ہوا؟”
“میں آؤں گی تم سے ملنے آج..”
“لیکن میں تو بس نکلنے والی ہوں”
“ایسا مت کرو مجھ سے مل کر چلی جانا کل”
“اچھا..اوکے” اس نے دل پہ پتھر رکھ کے بولا اور فون کاٹ دیا. وہ بیڈ پہ جا کر لیٹی..
“زینب کی خاطر آخری بار اسکا سامنا تو کر سکتی ہوں پھر وہ کہاں ہو گا میں کہاں..” اس نے دل ہی دل میں سوچا.
*****************
دن کے ساڑھے تین بج چکے تھے اور وہ کمرے میں بیٹھا بریرہ کی تلخ باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا.
“حکم… ہاں تم حکم نہیں چلاتے.. تم لڑکیوں کے دل کے ساتھ کھیلتے ہو.. کل میں تھی.. آج جویریہ.. پرسوں کوئی اور ہو گی” یہ بات اسکے دل میں بہت بری طرح سے چبھی تھی. وہ ایسا نہیں چاہتا تھا.
“تم کیوں نہیں چلے جاتے یہاں سے.. مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا” کانوں میں بریرہ کی آواز گونجی.
“ہاں میں چلا جاؤنگا.. زینب سے ملتے ہی اپنی شکل گم کر دونگا” اس نے دل میں سوچا. اتنے میں اسے دروازے کے کھلنے کی آواز آئی. سامنے دیکھا تو زینب کھڑی تھی.
“زینب…تم کب آئی؟”
“ابھی کچھ دیر پہلے.. تم نیچے آؤ سب ویٹ کر رہے ہیں”
“سب؟” وہ چونکا
“ہاں..مما..بابا..بریرہ.. فواد کی کزنز جویریہ, فاطمہ اور مشل..وہ سب چائے کی ٹیبل پہ بیٹھے ہیں”
“اچھا” جویریہ کا نام سن کر اسکے چہرے پہ اداسی چھا گئی.
“کیا ہوا ہے سبحان..؟” زینب نے اسکی اداسی کو نوٹس کیا.
“کچھ بھی تو نہیں…” وہ مرجھایا ہوا تھا.
“تم بریرہ سے محبت کرنے لگے ہو نہ” سبحان نے حیرانگی سے زینب کو دیکھا. زینب کی آنکھوں میں فکر تھی.
“میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا”
“ہم..آؤ چلیں” وہ اسے ڈسڑب نہیں کرنا چاہتی تھی. وہ دونوں چائے کی ٹیبل پر گئے.
****************
وہ چائے پیتے وقت بھی جویریہ کو دیکھ رہی تھی. جویریہ بار بار سبحان کو ہی دیکھے جا رہی تھی. بریرہ کو کوفت ہو رہی تھی. اس نے نظریں ہٹا کر سبحان کی طرف کیں. وہ چپ چاپ نظریں جھکائے بیٹھا تھا. آج وہ جویریہ کے ساتھ فری بھی نہیں ہو رہا تھا. اسے کس وقت سے چپ لگی ہوئی تھی. سبحان نے نظریں اوپر اٹھائیں بریرہ اسے ہی غصے دے دیکھ رہی تھی. اسکی نظروں سے اسے الجھن ہوئی.
“میں چینی لے کر آتا ہوں. چائے پھیکی لگ رہی ہے..” اس نے بریرہ کی نظروں سے بچنے کی ترقیب سوچی اور کچن میں بھاگ گیا.
“میں لاؤنج میں جا کر بیٹھتی ہوں..میری چائے فنش” جویریہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دی..
سبحان کچن کے شیلف کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا کہ چھوٹے چھوٹے بالوں والی لڑکی اندر آئی.
“جویریہ تم”
“ہاں” وہ ٹھیک اسکے سامنے کھڑی ہوئی.
“تم یہاں کیا کر رہی ہو…” اسے اسکے وجود سے کوفت ہوئی.
“شش” اس نے انگلی سبحان کے لبوں پہ رکھی.
“تم آج اتنے سٹریس کیوں ہو” اس نے اپنے دونوں ہاتھ سبحان کے گال پہ رکھے.
“یہ تم کیا…” سبحان کہنے ہی والا تھا کہ بریرہ عین اسی وقت کچن میں آئی. اسے سکینہ بیگم نے کپ لینے بھیجا تھا. لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر وہ کپ اٹھانا بھول گئی. اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا. وہ کچھ کہے بغیر الٹے پاؤں وہاں سے بھاگی.
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
‏ تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
“بریرہ…….” سبحان چلایا. اس نے جلدی سے جویریہ کو پیچھے کیا اور بریرہ کے پیچھے بھاگا.
“بریرہ… رک جاؤ” لیکن بریرہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. وہ کوٹھی سے باہر چلی گئی. سبحان نے آ کر اسے روکا اور اپنے سامنے کھڑا کیا. شام کا وقت تھا. اندھیرا ہونے میں کچھ ہی دیر رہتی تھی.
“کیا ہے… ” وہ غصے میں اونچا چلائی.
“تم جو سمجھ رہی ہو….” اس نے صفائی دینی چاہی
“میں جو سمجھ رہی ہوں وہی تھا… تم دونوں اسی مقصد کے لئے کچن گئے تھے..” وہ کوئی بات سننے کے موڈ میں نہ تھی.
“ہاں اگر تھا بھی تو تم کیوں غصہ ہو رہی ہو” وہ بھی آگ بگولا ہو گیا.
“بیکاز (because) ڈیم اٹ آئی لو یو” بریرہ کے ساتھ ساتھ سبحان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے لیکن سبحان نے خود پہ کنٹرول کیا.
“تم کیوں آئے میری زندگی میں… سب آ کر چلے جاتے ہیں… تم بھی دفعہ ہو جاؤ.. میں نے باقیوں کی طرح تمہیں بھی کھو دیا….” وہ آنکھوں میں آنسو لئے اس سے گلہ کر رہی تھی.
“کیوں آئے میری زندگی میں کیوں آئے…” وہ رو رو کر چلا رہی تھی.
“شادی والے دن پوچھا تھا نہ میں کیوں رو رہی ہوں.. کیوں جھوٹی فکر کی میری..”
“ایسے چھوڑنا ہی تھا تو زندگی میں کیوں آئے… میری زندگی میں پہلے ہی بہت دکھ تھے… سننا چاہتے ہو…” وہ چپ چاپ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا.
“سن ہی لو.. تمہیں اس بات کا تو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنی بری طرح سے توڑا ہے تم نے مجھے… میں کئی بار جڑ کر واپس ٹوٹی ہوں…” اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں. سبحان خاموش کھڑا کچھ بول نہیں پا رہا تھا. وہ اس لڑکی کو ہینڈل نہیں کر پا رہا تھا. بریرہ اسے اپنی درد بھری کہانی سنانے لگی..
*فلیش بیک*
“میں چھوٹی سی تھی جب میرے ماں باپ کا انتقال ہو گیا. صرف پانچ سال کی ہی تو تھی میں. سردیوں کی بات ہے میرا بھائی اس وقت ہاسٹل میں پڑھ رہا تھا. وہ آرمی میں جانا چاہتا تھا.. اسی مقصد کے لئے وہ تگ و دو کر رہا تھا. گھر میں ہم تین ہی لوگ تھے میں..میری مما اور بابا. اس رات کو کسی آواز کی وجہ سے میری آنکھ کھلی. باہر سے کافی شور آ رہا تھا. میں ننھے ننھے پاؤں لے کے آگے بڑھی. کمرے کا دروازہ کھولا تو میرے اوسان ہی خطا ہو گئے.. دو آدمی سر پہ کالا رومال پہنے کھڑے تھے.. انکے سامنے میرے ماں باپ زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے. یہ منظر دیکھ کر میری ہلکی سی چیخ نکل گئی. وہ دونوں پیچھے مڑے پر میں نے انکے دیکھنے سے پہلے ہی خود کو صندوق میں بند کر دیا. پھر گولیوں اور میرے ماں باپ کی چیخوں کی آواز آئی.. میں ہلکی آواز میں روتی رہی. دو بندوں کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی
“چلو کام ہو گیا ہے”
“لیکن وہ بچی کدھر ہے؟”
“اُسے ڈھونڈنے کا وقت نہیں.. جلدی کرو نکلتے ہیں” تیز قدموں کی آواز آئی اور پھر مکمل سناٹا چھا گیا تھا.. انکے جاتے ہی میں نے صندوق کھولا سامنے دیکھا میری ماں باپ کی لاش زمین پہ پڑی تھی.. میں فورًا سے انکے پاس گئ. انکے بےجان جسم کو چھوہا لیکن وہ جا چکے تھے…” بریرہ یاد کرتے کرتے اور زیادہ رونے لگی. سبحان اسے روک نہ پایا وہ پھر سے بولنے لگی.
“میں ادھر ہی بیٹھ کر روئے جا رہی تھی کہ دروازے کی آواز آئی.. مجھے لگا وہ پھر سے آگئے.. میں چھپنے ہی لگی کہ سامنے دیکھا میرا بھائی تھا. اسے دیکھتے ہی میں اسکے گلے جا لگی. اسکی آنکھوں میں بھی وہی تڑپ تھی جو میری آنکھوں میں تھی.. لیکن اس نے مجھے سنھبال لیا. پھولوں کی طرح رکھا.. مجھے پڑھایا لکھایا. مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا. اپنی محنت اور بھائی کی تگ و دو سے میرا میڈیکل کالج میں اڈمشن ہو گیا. میں ہاسٹل میں ہوتی تھی اور بھائی ڈیوٹی پہ.. ہم نے اپنے گھر کو تالا لگا دیا تھا. ایک بار میں نے میرے بھائی کو فون پہ بات کرتے سنا. وہ کسی کو بتا رہے تھے کہ ہمارے ماں باپ کا قتل ہمارے سگے چچا اور تائے نے کیا. میں نے بھائی سے اس بارے میں پوچھا. اس نے ساری بات بتائی کہ مما اور بابا کی فیملی شادی کے لئے راضی نہ تھی. ان دونوں نے بھاگ کے شادی کر لی. مما کی فیملی نے مما سے رشتہ توڑ دیا لیکن انکی لائف میں دخل نہ دی بابا کی فیملی آئے دن تنگ کرتی تھی. اور انہوں نے بدلے کی آگ میں دونوں کو قتل کر دیا ہم دونوں کا بھی نہیں سوچا… کیا پیار کرنا اتنا بڑا جرم ہے..؟” بریرہ نے سوال کیا لیکن جواب سننے کے بجائے آگے کی کہانی سنائی…
“ہمیں انصاف بھی نہ ملا کیونکہ بابا کی فیملی کافی سٹرانگ تھی.. لیکن سب ٹھیک ہو گیا تھا.. ہم دونوں سنھبل گئے تھے. زینب بھی میڈیکل کالج میں میری دوست بنی.. سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن میری سالگرہ والے دن مجھے فون آیا کہ بھائی شہید ہو گیا. میں پھر سے جڑ کر ٹوٹی لیکن اس وقت زینب ایک اچھی دوست کی طرح میرے ساتھ تھی. پھر اسکے بعد ذیشان آیا.. وہ میرے ساتھ ہی پڑھتا تھا.. اس نے مجھے جینا سکھایا. بہت زیادہ ہنساتا تھا.. میں پھر سے سیٹ ہونی والی تھی کہ مجھے پتہ لگا وہ تین چار اور لڑکیوں سے افیر چلا رہا ہے.. اسے صرف اپنا مطلب تھا.
ادا مطلب نگاہ مطلب زبان مطلب بیان مطلب
بتا مطلب کہاں جاؤں؟ جہاں جاؤں وہاں مطلب
میں پھر بھی اسے معاف کر دیا لیکن وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا.. اس وقت مجھے لگا میں بہت منحوس ہوں.. خودکسی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی نہ کر سکی.. پھر تم آئے زندگی میں….” بریرہ نے سبحان کی آنکھوں میں دیکھا.
“پر تم بھی تو جا رہے ہو چھوڑ کر مجھے.. سب چلے جاتے ہیں…” بریرہ روتے روتے طنزیہ ہنسی. سبحان نے آگے ہو کر اسے سہارا دینا چاہا لیکن وہ پیچھے ہوگئی.
“ڈونٹ ٹچ می تم کل کیوں جا رہے ہو آج جاؤ… او ہاں میں تو بھول گئی تمہیں اپنی محبوبہ سے ملنا تھا نہ..” سبحان کو لگا جیسے بریرہ نے گرم لوہا اس کے سینے میں گھسا دیا.
“اگر مجھ سے محبت کر لیتے.. مجھ پر مر مٹ جاتے تو تمہارا کیا جاتا تھا سبحان” وہ ٹھیک اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی. سبحان مزید برداشت نہ کر پایا.
“محبت اگر مر مٹنے کا نام ہے تو پھر ’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘” وہ غصے سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا.
محفل میں تیری ہم نہ رہیں جو غم تو نہیں ہے
قصے ہمارے نزدکیوں کہ کم تو نہیں ہیں
بریرہ روتے روتے زمیں پر بیٹھ گئی. آسمان پہ اندھیرا چھا رہا تھا. اسکی محبت اسکے سامنے وہاں سے جا رہی تھی. وہ اسے روک بھی نہیں سکتی تھی نہ ہی روکنا چاہتی تھی. ایک لفظ محبت تھا ایک لفظ جدائی تھا ایک وہ لے گیا ایک اسے دے گیا. اسکی ہلکی بھوری آنکھوں میں آنسوؤں کے سوا کچھ نہ تھا. وہ بےبس تھی وہ بہت زیادہ بے بس تھی.
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
_____________
وہ ابھی تک کوٹھی سے باہر زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی. ماں باپ نے بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ دیا تھا اور بڑا بھائی جوانی میں چلا گیا. دو محبوب ملے وہ بھی بے وفا نکلے. بریرہ کی زندگی میں جو بھی آتا تھا چلا جاتا تھا. وہ خود کو بدقسمت سمجھنے لگی. آنکھوں سے آنسو اسی طرح رواں دواں تھے.
“میں ہی منحوس ہوں….” وہ چیخ چیخ کر روئی.
“اے میرے رب مجھے اتنا بدقسمت کیوں بنایا میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا.” وہ اپنے پروردگار سے گلہ کرنے لگی.
“میری قسمت میں اتنا درد.. اتنا غم کیوں..؟” وہ خود کو کوسنے لگی. زینب بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی.
“بریرہ…بریرہ..” وہ اسکے پاس آ کر نیچے بیٹھی. بریرہ نے کوئی جواب نہ دیا. وہ بنا آواز نکالے رو رہی تھی.
“بریرہ تم نے سبحان کو کیا کہا ہے.. وہ چلا گیا ہے…” وہ فکرمند تھی.
“تم ابھی بھی سبحان کا سوچ رہی ہو؟” اسے حیرت ہوئی. وہ اسکی پکی دوست تھی کہ سبحان کی.
“بریرہ… کیا ہوا ہے… سبحان نے کیا کیا…؟”
“مت لو اسکا نام میرے سامنے.. دھوکے باز ہے وہ”
“دھوکے باز اور سبحان… ” وہ شاکڈ تھی
“ہاں وہ جویریہ کے ساتھ انوالو تھا…اور میں اس سے محبت کرتی تھی” بریرہ کی آنکھوں میں غصہ تھا.
“بری رہ…….” زینب کی آواز میں لڑکھڑاہٹ آئی.
“پتہ کیا زینب… بات معیوب بھی ہے اور بہت خوب بھی ہے میرا محبوب کسی اور کا محبوب بھی ہے” وہ روتے روتے طنزیہ ہنسی.
“بریرہ” زینب نے اسے سہارا دیا.
“چھوڑ دو مجھے.. مجھے سزا ملنی چاہیئے.. میں نے کیوں اس چیپ تھرڈ کلاس انسان سے محبت کی..”
“بریرہ بس کر دو اتنے گندے لفظ اسکے لئے مت بولو” تھرڈ کلاس لفظ سبحان کے لئے زینب کو پسند نہیں آیا.
“تم اب بھی اسے سپورٹ کر رہی ہو…اس کو جو لڑکیوں کے دلوں کے ساتھ کھیلتا ہے…. ہر کسی کو اپنی طرف راغب کرتا ہے…. حد ہے….” وہ حیران ہوئی.
“سبحان ایسا نہیں ہے.. وہ میرا دوست ہے میں جانتی ہوں اسکو…بہت اچھے سے”
“ہاں شاید شادی سے پہلے تم بھی اسکے ساتھ افیر میں تھی…” بریرہ غصے میں الٹا بول گئی
“بریرہ……….بس کر دو کیا اول فول بکے جا رہی ہو” زینب کو یہ بات ناگوار گزری. اس کے جردار پہ بریرہ نے انگلی اٹھا دی تھی.
“رہنے دو..” بریرہ طنزیہ ہنسی..
“میں یہ بتانا تو نہیں چاہتی تھی.. پر تم نے مجبور کر دیا ہے..” زینب کا پارہ اہپر چھڑ گیا.
“کیا…”
“بڑا دعوی کرتی ہو سبحان سے محبت کا.. کبھی اسکی انکھیں دیکھیں ہیں.. کتنی محبت ہے تمہارے لئے..” وہ اب تک غصے میں تھی
“میری لئے… غلط ہو سب لڑکیوں کے لئے..” بریرہ نے ایک اور طز مارا
“وہ اس نے ایسا تمہارے سامنے دکھایا تھا….وہ جان پوچھ کر جویریہ کے ساتھ فری ہوا تا کہ تم اس سے دور چلی جاؤ تا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہ ہو” زینب نے پول کھول دی
“کیا کہہ رہی ہو یہ تم…” وہ حیران ہوئی
“جو بھی کہہ رہی ہوں سچ ہے…. اسے کینسر ہے… وہ آخری سٹیج میں اسں بیماری سے لڑ رہا ہے…”بریرہ کی بولتی بند ہوگئی. اسے لگا زمیں پھٹ گئی اور وہ اس کے اندر جا دھنسی..
“بریرہ وہ صرف تمہارے ہی قریب ہوا کیوں کہ وہ تم سے محبت کرنے لگا تھا مگر اسکی بیماری نے اسے اقرار کرنے سے روکے رکھا .. وہ کب اس دنیا سے چلا جائے گا پتہ نہیں..” بریرہ کو اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا. “تم جھوٹ بول رہی ہو”
“نہیں میں کیوں جھوٹ بولوں…وہ تو میرے سے بھی فاصلے پہ رہتا تھا.. اور تم کہہ رہی ہو میرا افیر تھا اسکے ساتھ…. سچی محبت تو وہ تم سے کرتا تھا ورنہ چاہتا تو اقرار کر کے تمہیں لے جاتا لیکن اسے یہ فکر تھی کہ اس کے بعد تم کیا کرو گی..وہ کچھ دن کا مہمان تھا بس..” بریرہ کو اپنی بات پہ شرم آئی. آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے
“اس نے مجھے یہ بات تمہیں بتانے سے منع کیا لیکن تمہارے الزام نے میرا منہ کھلوا دیا… وہ بیچارہ اتنا سوچتا رہا اور تم نے اسکے ساتھ ایسا کیا.. وہ غلط تھا تمہیں پہلے ہی بتا دینا چاہیئے تھا ورنہ تم اس کے لئے اتنے گندے لفظ نہ استعمال کرتی…” بریرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا. ٹھنڈ میں بھی اسے پسینے آ رہے تھے. اس نے بہت بڑی غلطی کر دی تھی. اسے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی اسکا دل پھٹ جائے گا…
“محبت اگر مر مٹنے کا نام ہے تو پھر ’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘” سبحان کا چہرہ اسکے سامنے آیا.
“’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘…’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘” اس نے بار بار دہرایا.. وہ پھوٹ پھوٹ کر رونی لگی.. آنکھوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے کسی نے پانی کا نل کھول دیا ہو.
“زینب تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا.. کیوں مجھے دھوکے میں رکھا… بتا دیتی تو میں اسے بھیجتی ہی نہ.. سینے سے گلے لگا لیتی.. کبھی خود سے جدا نہ کرتی..” وہ گلہ کرتے ہوئے رو رہی تھی. زینب نے آگے ہو کر بریرہ کو گلے لگایا. بریرہ اسکے ساتھ چپک گئی جیسے بچہ ماں کے ساتھ چپکتا ہے..
“زینب میں تو ایسی لڑکی ہوں کہ ہنس بھی لوں تو مجھے ہنسی کا کفارہ اپنی آنسوؤں سے دینا پڑتا ہے..” اس نے سر اٹھا کر زینب کی آنکھوں میں دیکھا. اس بار بریرہ کے ساتھ ساتھ زینب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے. زینب نے بریرہ کے آنسو صاف کئے…
“چلو بس.. سب ٹھیک ہو جائے گا.. آؤ اندر چلتے ہیں..” زینب اسے سہارا دے کر اندر لے گئی.
*****************
زینب بریرہ کے پاس لیٹی اسکا سر سہلا رہی تھی. بہت مشکل سے بہلا پھسلا کر اس نے بریرہ کو سلایا تھا… وہ ان دونوں کےلئے اداس تھی. اسکے دونوں کلوز فرینڈز عجیب کشمکش میں مبتلا تھے. ایک جینا نہیں چاہتا تھا اور ایک جینے کے لئے زندگی کا محتاج تھا.. اسے سبحان یاد آ رہا تھا. وہ بہت تکلیف میں یہاں سے گیا تھا… اسے وہ سب یاد آنے لگا.
*فلیش بیک*
سبحان تیزی سے بھاگتا ہوا آیا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگا. زینب اسی وقت اسکے پیھے آئی تھی.
“سبحان کیا ہوا ہے…”
“کچھ نہیں میں جا رہا ہوں” اس کی آنکھوں میں ویرانی تھی.. وہ شخص جو کینسر کے بعد بھی ہنسی خوشی رہتا تھا.. آج محبت نہ ملنے کے باعث مرجھا گیا تھا.
“کیا ہوا ہے….اس وقت؟” اسکے پوچھتے ہی سبحان نے ساری کہانی سنا ڈالی.
“مجھے لگ ہی رہا تھا… کہ تم جویریہ کے ساتھ بریرہ کو دکھانے کے لئے فری ہوئے…”
“ہم… اب سنو بریرہ کے پاس جاؤ اسے کچھ نہیں بتانا میری بیماری کا… یاد ہے تم نے مہینہ پہلے وعدہ کیا تھا کہ یہ راز تمہارے اور میرے درمیان رہے گا..”
“ہاں..” اس وقت تو اس نے حامی بھر دی تھی پر وہ اسکا وعدہ توڑ چکی تھی صرف بریرہ کے الزام کی بدولت.. وہ کیا کرتی اسے بریرہ کے الزامات برداشت نہیں ہو رہے تھے. اسے سبحان کی اگلی بات یاد آئی
“ہاں گڈ.. اسکے سامنے بہانا کرنا کہ تمہیں جویریہ والی بات کا بھی نہیں علم..پھر بہلا کر اسے اندر لے آنا.. میں جا رہا ہوں” اس نے کندھوں پہ بیگ لگاتے ہوئے بولا.
“اچھا پر کہا جاؤ گے”
“گھر” وہ کہتا ہوا چلا گیا. زینب سوچ رہی تھی کہ اس نے شروعات تو سبحان نے جیسے بتایا ویسے ہی کی تھی لیکن آگے گڑبڑ ہو گئی تھی. شدید غصے میں وہ وعدے توڑ بیٹھی. معلوم نہیں سبحان اسکے بارے میں کیا سوچے گا پر شاید اللہ کو یہی منظور تھی. کبھی نہ کبھی تو بریرہ کے سامنے یہ اصلیت فاش ہوتی اس نے خود کو تسلی دی..
****************
گھنٹی کی آواز آئی اور مسرت نے جا کر دروازہ کھولا. اپنے بیٹے کو سامنے دیکھ کر انکا دل چیر اٹھا. وہ کمزور لگ رہا تھا. آنکھوں کے گرد ہلکے پڑے ہوئے تھے. آنکھوں میں شدید کرب تھا. سفر کے باعث چہرے پہ تھکاوٹ تھی. بیماری کے باعث نکاہت بھی تھی.
“امی….” کتنے وقت سے وہ مضبوط بنا ہوا تھا لیکن ماں کے گلے لگتے ہی اس کی مضبوطی دم توڑ گئی.. ایک ماں ہی تو تھی جسکے سامنے وہ اپنی کمزوری ظاہر کر سکتا تھا ورنہ باقیوں کے سامنے تو وہ بہت ہمت والا تھا.
“سبحان بیٹا کیا ہوا ہے تم اتنی رات کو کیوں آئے ہو؟” وہ فکر مند تھیں. وہ جواب نہ دے پایا. کانوں میں بریرہ کے لگائے گئے الزامات گونج رہے تھے
.
“درد کو مسکرانا کر سہنا کیا سیکھ لیا امی اب سب سمجھتے ہیں مجھے تکلیف نہیں ہوتی؟” جو دل میں آیا اس نے بول ڈالا. اس نے جو کچھ آج سہا تھا. جو کچھ اس پہ بیتی تھی وہ ماں کو دیکھتے ہی خود کو کنٹرول نہ کر سکا. وہ مضبوط ہو ہو کر تھک چکا تھا…
“بیٹا کیا ہوا ہے” مسرت کا اکلوتا بیٹا ٹوٹا ہوا بول رہا تھا.
“امی..مجھے محبت ہو گئی ہے.. اور میری محبت کا کوئی انجام ہی نہیں.. زندگی کے اس آخری موڑ پہ میں محبت نہیں گناہ کر بیٹھا ہوں جسکی سزا مجھے ہر رات کاٹنی پڑے گی..” وہ بھیگی پلکوں سے ماں کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا. مسرت کی آنکھیں بھر آئیں.
“امی میں اس بیماری کو بھی ہنسی خوشی برداشت کرتا رہا.. ایک شکایت نہ کی.. لیکن آج ممجھے یہ بیماری بہت بری لگ رہی یے.. میں جینا چاہتا ہوں.. مجھے بریرہ کے ساتھ آگے کی زندگی بتانی ہے…” وہ رونے لگا.
“بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا…” سبحان کی امی نے اسے جھوٹا دلاسہ دیا.
“نہیں امی کچھ ٹھیک نہ ہو گا.. میری محبت رائیگاں چلی گئی” وہ اور زیادہ رونے لگا.. ماں نے اسے گلے لگایا.
“بس بیٹا.. بس..” دونوں کی آنکھیں اشک بار تھیں… کچھ دیر بعد مسرت سبحان کو سہارا دے کر کمرے تک لے گئیں.
“امی فکر نہ کریں.. ٹھیک ہو جاؤں گا..” اسے اپنی ماں کے لئے برا لگا. وہ اسکے لئے بہت پریشان ہو گئی تھیں.
“ہاں انشااللہ” ماں کی آنکھوں میں اب تک آنسو تھے.
“میں آتا ہوں فریش ہو کر..” وہ کہتے ہی واش روم چلا گیا. ماں اسکے بستر پہ بیٹھی انتظار کرنے لگی.
وہ بیسن پہ ہاتھ رکھے آئینے میں دیکھ رہا تھا. آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے لیکن اس نے خود کو اپنی ماں کے لئے مضبوط کرنا تھا.
“بس بہت ہو گیا رونا دھونا سبحان…اب نہیں…” لیکن مضبوط ہونا آسان تو نہیں تھا اسے بار بار وہ سب یاد آنے لگتا تھا. اسکی آنکھوں سے پھر ایک آنسو ٹپک کر اس کے ہاتھ پہ گرا اس نے جلدی میں نیچے اپنے ہاتھ کو دیکھا پھر فورًا اوپر ہوا. آنکھوں میں پانی لئے اسے گھورتا ہی رہا وہ آئینے میں کھڑا شخص پریشان بہت تھا.
میرے دل کا درد کس نے دیکھا ہے
مجھے بس خدا نے تڑپتے دیکھا ہے
ہم تنہائی میں بیٹھ کر روتے ہیں
لوگوں نے محفلوں میں…!
مجھے ہنستے ہوئے دیکھا ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: