Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 6

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – قسط نمبر 6

–**–**–

بریرہ نیند سے چونک کر اٹھی. ساتھ زینب لیٹی ہوئی گہری نیند میں سو رہی تھی. اس کا ہاتھ اب تک بریرہ کے سر پہ تھا. یہ وہ دوست تھی جس نے ہر مصیبت میں اسکا ساتھ دیا تھا. وہ اسکی زندگی میں ایک ہیرے کی مانند تھی. پھر اسے سبحان کا خیال آیا. نہ جانے وہ کیسا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ پھر اسے وہ الزامات یاد آنے لگے جو اس نے اس مظلوم پہ لگائے تھے….
“کتنا چیپ انسان ہے یہ میرے سامنے کسی اور لڑکی سے عشق لڑاتا ہے اور ساتھ ساتھ مجھے بھی تاڑتا ہے…” نہ جانے وہ اسکی آنکھوں کی سچائی کیوں نہ دیکھ پائی.
“حکم… ہاں تم حکم نہیں چلاتے.. تم لڑکیوں کے دل کے ساتھ کھیلتے ہو.. کل میں تھی.. آج جویریہ.. پرسوں کوئی اور ہو گی.” نہ جانے وہ کیوں بولتی چلی گئی. سبحان نے تو اس سے محبت کے دعوے بھی نہ کئے تھے پھر اس نے کیوں اس پہ الزام لگایا. وہ اسے ذیشان کی طرح چھوڑ کے تو نہیں گیا تھا.
“ڈونٹ ٹچ می تم کل کیوں جا رہے ہو آج جاؤ… او ہاں میں تو بھول گئی تمہیں اپنی محبوبہ سے ملنا تھا نہ” اس نے اسے کتنی دفعہ تکلیف پہنچائی تھی وہ بھی اس صورت میں جب وہ اس سے محبت کرتا تھا…
“چیپ تھرڈ کلاس” بریرہ کو وہ لفظ یاد آیا جو اس نے سبحان کے لئے استعمال کیا تھا. اسے اپنے کئے پہ پچھتاوا ہو رہا تھا. سبحان کی یاد نے اسے رونے پہ مجبور کیا. اسے تب محسوس ہوا کہ وہ کس قدر نہ شکری تھی. اس نے ہمیشہ خود کو کوسا. ہمیشہ خود کو منحوس کہا لیکن سبحان اتنی بری بیماری سے گزرتا ہوا بھی خوش تھا. بریرہ کو وہ مہندی.. بارات پہ مسکراتا ہوا سبحان یاد آیا. وہ کس اذیت سے گزر رہا تھا لیکن پھر بھی اس نے کسی کو بھنک نہ لگنے دی. بریرہ ہر وقت سب کے سامنے روتی رہتی تھی. اس کو تو شکر کرنا چاہیئے کہ اسکے پاس صحت جیسی نعمت تھی. اسے اس بات کا بھی شکر کرنا چاہئیے تھا کہ اللہ نے اسے ہر موڑ پہ سنھبالا تھا.زینب کے روپ میں بھی تو اسے اتنی بہترین دوست ملی تھی. اسے اسکا بھی شکر ادا کرنا چاہئیے تھا. اس نے ٹھان لی کہ وہ اب ناشکری نہیں کرے گی. سبحان اسے پھر یاد آنے لگا.. پتہ نہیں وہ کہاں ہو گا. کیسا ہو گا.. کیا کر رہا ہو گا. ٹھیک بھی ہو گا کے نہیں.
“سبحان..” لبوں پہ نام آتے ہی اس کی آنکھوں سے دو چار آنسو نکلے. وہ مکمل سبحان کی یاد میں کھو گئی.
کہنے کو ساتھ اپنے ایک دنیا چلتی ہے
پر چھپکے اس دل میں تنہائی پلتی ہے
بس یاد ساتھ ہے تیری یاد ساتھ ہے
________________
سبحان اپنے بستر پر لیٹا درد سے کراہ رہا تھا. سر میں شدید درد تھا اور صبح سے خون کی الٹیاں ہورہی تھیں. اسکی صحت دن بدن خراب ہو رہی تھی. پہلے وہ خوش خوش رہتا تھا تب قدرِ بہتر تھا لیکن اب اسے محبت کا غم لگ گیا تھا. اسے ہر موڑ پہ بریرہ کی یاد ستاتی تھی. بیماری بھی تیزی سے پھیل رہی تھی. اس میں طاقت نہیں رہی تھی. نہ جانے وہ کیوں زینب کی شادی پہ گیا؟ نہ ہی جاتا کم از کم بریرہ سے ملاقات تو نہ ہوتی. وہ بیڈ کے سہارے سے اوپر اٹھا. پاس ٹیبل پہ پڑا جگ اٹھایا. پانی ڈالنے ہی لگا کہ برہرہ کا ہنستا ہوا چہرہ اسکے سامنے آ گیا. اسے وہ وقت یاد آنے لگا جب بریرہ کو اس سے نئی نئی محبت ہوئی تھی. اسکی آنکھوں میں درد کے بجائے رونک جگمگائی تھی. لبوں پہ مسکراہٹ چھائی تھی لیکن پل میں سبحان نے اسکا دل توڑ دیا تھا صرف اور صرف اس بیماری کی وجہ سے. سبحان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر جگ کے پانی میں گرے.
“یہ بیماری… مجھ سے دور کیوں نہیں ہو جاتی…” لبوں پہ شکوہ آیا.
“اے میرے رب مجھے ٹھیک کر دے… میں پھر سب ٹھیک کر دونگا…” وہ آہستہ آواز میں بولا لیکن پھر بھی دل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا. ایک درد بھری چھیک اسکے لبوں سے نکلی جس نے ارد گرد ہر چیز کو ہلا ڈالا. چیخ سن کر فوراً مسرت کمرے میں آئیں..
“کیا ہوا ہے میری جان…” وہ بلکل سبحان کے پاس آئیں.
“امی مجھے بہت درد ہو رہا ہے…” اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا. آنکھوں میں ویرانی راج کر رہی تھی.
“امی… میں چلا جاؤں گا… امی مجھے جینا ہے… مجھے بچا لیں…. میں مرنا نہیں چاہتا..” وہ وقفے وقفے سے بولے جا رہا تھا..
“بیٹا کیا ہو گیا ہے…” مسرت نے اسے گلے لگایا. انکی پلکیں بھی بھیگ گئیں.
“امی… مجھے بچا لیں…… امی مجھے کہیں دور لے جائیں….” وہ ماں سے چپک گیا جیسے ڈر کے بچا ماں سے چپک جاتا ہے…
“امی… آپ کچھ بولتی کیوں نہیں ہیں؟.. میں بچ جاؤں گا نہ؟” وہ اونچی آواز میں بولے جا رہا تھا.
“امی جھوٹی تسلی ہی دے دیں…”
“بیٹا کیا ہو گیا ہے سنھبالو خود کو…” انہوں نے اپنے بیٹے کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا. وہ بالکل خاموش ہو گیا. وہ اندر اندر سے ٹوٹ چکا تھا. مسرت بیٹے کے دکھ کو سمجھ سکتی تھیں. انہوں نے اسے گلے لگائی رکھا. اسے اس وقت سہارے کی بے حد ضرورت تھی. جس بڑھاپے میں انہیں بیٹے کی خوشیاں دیکھنی چاہئے تھیں وہ اسی میں اپنے بیٹے کو تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھیں. وہ بری طرح سے ٹوٹ رہا تھا اور وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھیں.
تیرے عشق نے ساتھیا
میرا حال کیا کر دیا
***********************
بریرہ چپ چاپ زینب کے کمرے میں بیٹھی تھی. اسے سبحان سے جدائی برداشت نہ ہو رہی تھی. اسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا. کسی چیز میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی. اسے ناشکری کرنا چھوڑ دیا تھا لیکن وہ پریشان ضرور تھی اس ہر پل سبحان کی فکر کھائی جا رہی تھی. وہ کتنے بار زینب سے پوچھ چکی تھی سبحان کا لیکن زینب ہر بار ٹال دیتی تھی. وہ ایک اور راز فاش نہیں کرنا چاہتی تھی. زینب کچھ دیر بعد کمرے میں آئی. اس نے ایک نگاہ بریرہ پہ ڈالی جو اب تک وہیں بیٹھی تھی جہاں زینب اسے چھوڑ کر گئی تھی. وہ اسکے پاس آ کر بیٹھی اور شادی کی تصویروں کا البم اسکے سامنے رکھا تا کہ وہ بریرہ کا دھیان بٹا سکے. وہ اس ایک ایک پکچر دکھا رہی تھی لیکن بریرہ پکچر دیکھتے ہوئے بھی کہیں اور گم تھی. پھر البم میں سبحان کی پکچر آئی زینب نے فورُا آگے کرنے کی کوشش کی لیکن بریرہ نے تصویر پہ ہاتھ رکھ دیا.
“سبحان؟”
“تم کہاں ہو؟” وہ تصویر سے باتیں کرنے لگی
“مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟” آنکھوں سے آنسو آنے لگے
“میں اتنی بری تو نہیں تھی..” زینب بریرہ کو ہی دیکھ رہی تھی. اسے لگا البم لا کر اس نے غلطی کر دی
“تم ٹھیک تو ہو نہ؟”
“جواب کیوں نہیں دیتے….” آنسوؤں کے بہنے کی رفتار تیز ہوگئی…
“زینب دیکھو یہ مجھے جواب نہیں دے رہا” وہ زینب کی طرف متوجہ ہوئی.
“بریرہ…” زینب نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بریرہ نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا.
“مجھے بتا دو وہ کہاں پہ ہے….” وہ چیخ کر بولی.
“بریرہ سنھبالو خود کو…”
“تم مجھے بتاتی کیوں نہیں ہو کہ وہ کہاں ہے؟…” بریرہ ایک بات پہ آڑ گئی. زینب نے اسے گلے لگانا چاہا لیکن وہ پیچھے ہو گئی. سامنے پڑا البم اس نے خود سے دور کر دیا. وہ روئی چیخی چلائی.. “سبحان…سبحان”
تیرے سنگ دو پل کو ہنسنا جو چاہا تو
رلا کہ گیا عشق تیرا
*************************
بریرہ سفید کپڑے پہنے آہستہ قدموں سے سامنے کی طرف بڑھ رہی تھی. آنکھوں میں نمی تھی. عین اسی وقت ہوا کا جھونکا آیا اور ایک پل میں سامنے پڑی چادر کو اڑا لے گیا. چادر کے نیچے کا منظر دیکھ کر بریرہ ایک اور قدم بھی نہ اٹھا پائی. وہ سبحان کا پرنور چہرہ نیلا پڑ چکا تھا..ہونٹ پٹھے ہوئے تھے. اسکی نیلی آنکھیں بند تھیں. بیماری کی وجہ سے چہرے پہ کمزوری چھائی ہوئی تھی لیکن اب تک وہ مسکراہٹ جو اکثر اسکے چہرے پہ ہوتی تھی جگمگا رہی تھی. اس کے پاس ایک بوڑھی خاتون بیٹھی روئے جا رہی تھیں.
“سبحان…” بریرہ کے لبوں نے حرکت کی.
“سبحان….” وہ چلائی.
“تم کچھ بولتے کیوں نہیں ہو…..” لیکن سبحان کی طرف سے مکمل خاموشی تھی
“تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے…” وہ روتے زمین پہ بیٹھی
“سبحان……” ایک چیخ اسکے لبوں سے نکلی اور وہ چونک کر بستر پر بیٹھ گئی.
“سبحان…..” اسکا بھیانک خواب ٹوٹ چکا تھا لیکن اسکے ذہن میں سبحان کا خیال چھوڑ گیا تھا.
“سبحان…. تم ٹھیک تو ہو نہ…” آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے. تھوڑی دیر میں بریرہ کا تکیہ گیلا ہو گیا. اسکی محبت دن بدن سبحان کے لئے بڑھتی جا رہی تھی. اسے اپنے فکر کم اور سبحان کی فکر زیادہ ہونے لگی تھی. اپنے پرواہ کئے بغیر وہ سبحان کی صحت یابی کی دعائیں کیا کرتی تھی. اسے محبت نہیں سبحان سے عشق ہو گیا تھا. جس تکلیف میں سبحان تھا اس سے کئی زیادہ تکلیف میں بریرہ تھی. اس کے لئے محبت کا م تو “موت” تھا ہی عشق کا ع بھی “عزاب” بن گیا تھا. اسے کسی طرح اپنی محبت کو بچانا تھا. اسے سبحان کی بے حد ضرورت تھی. اس نے جھٹ سے زینب کو فون ملایا. بغیر سلام دعا کئے اس نے سوال کیا.
“زینب پلیز بتا دو… سبحان کا”
“بریرہ کیا ہے؟ اسی بات پہ لڑ کر تم ہاسٹل چلی گئی اور اب پھر وہی رٹ”
“تم سمجھ نہیں رہی میں اسکے بغیر مر جاؤنگی..” اسکی آواز رندھ گئی.
“کیا کہہ رہی ہو…”
“میری آخری مدد کر دو… میں ایک بار اسے دیکھنا چاہتی ہوں…” وہ رونے لگی.
“اچھا اچھا کیا ہو گیا ہے؟”
“میں نے جو اسکے ساتھ کیا میں اسکی معافی مانگنا چاہتی ہوں… اگر وہ ایسے ہی اس دنیا سے چلا گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاؤنگی..” وہ روتے ہوئے بولی. زینب جواب نہ دے پائی. وہ سوچوں میں ڈوب گئی. وہ پہلے ہی بریرہ کو بتا کر غلطی کر چکی تھی اور اب اسے اسکے پاس کیسے بھیج سکتی تھی. لیکن بریرہ بھی اس کے سامنے کس وقت سے گڑگڑا رہی تھی. ایک دوست کی مان کر وہ دوسرے کا دل تو نہیں دکھا سکتی تھی.
“زینب کچھ تو بولو…”
“وہ اپنے گھر ہے…” زینب آہستہ آواز میں بولی.
“میں تمہیں گھر کا پتہ ٹیکسٹ کر دیتی ہوں…”
“ہم…” بریرہ نے جواب دیتے ہی فون کاٹ دیا. زینب کا ٹیکسٹ آتے ہی اس نے ضرروی ساز و سامان رکھا. وہ لاہور کے لئے روانہ ہونے کے لئے تیار تھی. ایک نئی امید اسکے دل میں تھی. “سبحان کو کچھ نہیں ہو گا” وہ کہتے ساتھ کمرے سے نکل گئی.
********************
ڈاکٹر سبحان کے پاس بیٹھی اسکا چیک اپ کر رہی تھیں.
“سبحان تم صحیح سے کھاتے پیتے نہیں ہو نہ؟”
“کھاتا ہوں نہ…. ڈاکٹر”
“بالکل نہیں… اگر ایسا ہی رہا تو تم کینسر کا علاج برداشت نہیں کر پاؤ گے اس کے لئے تمہیں طاقت کی ضرورت ہے…”
“کیا کروں دل ہی نہیں کرتا”
“مسرت آنٹی..” ڈاکٹر نے سبحان کی ماں کو بلایا جو ابھی ہی وہاں سے ڈاکٹر توُبہ کے لئے چائے بنانے گئیں تھیں.
“جی..جی ڈاکٹر” مسرت ڈاکٹر کے پاس آئیں.
“اسکو کھانے کے ساتھ چٹنی دیا کریں… چٹنی کھائے گا تو اسکا دل کھلے گا…”
“ہاں کیوں نہیں میں ضرور بنا دیا کروں گی”
“ہاں جی اسکے کھانے پینے کا سختی سے خیال رکھیں… مشروم سوپ دیں.. وہ کینسر کے لئے فائدے مند ہے.. یہ جب تک کھائے گا پیے گا نہیں کیموتھیراپی ہم نہیں کر سکتے… کینسر کا علاج آپ کو تو پتا ہے سخت ہوتا ہے… اسے طاقت کی ضرورت ہے…”
“جی… میں خیال رکھوں گی”
“بہتر اب میں چلتی ہوں…”
“لیکن چائے”
“وہ میں پھر کبھی پی لونگی.. ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے” وہ مسرت سے مل کر گھر سے چلی گئیں.
“سبحان دیکھا وہ کہہ رہی تھیں کہ تم کچھ کھاتے نہیں ہو” وہ بیٹے کی طرف متوجہ ہوئیں
“امی یہ دنیاوی باتیں ہیں… اگر میری قسمت میں زندگی ہوئی تو ضرور ملے گی”
“اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں.. خدا بھی انکی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں..”
“اچھا نہ امی…” سبحان کا منہ بنا.
“میں تمہارے لئے مشروم سوپ بنا کر لاتی ہوں… “
“رہنے دیں ویسے بھی مشروم مہنگے ہیں..”
“تمہاری زندگی سے زیادہ نہیں…” وہ کہتے ہوئے چلی گئیں.
سبحان سوچوں میں گم ہو گیا. ماں کتنی پیاری چیز ہوتی ہے. اپنے بچوں کا ہر دم خیال رکھتی ہے. انہیں پیار کرتی ہے.. اسے بریرہ کا خیال آیا. اس کا کیا قصور تھا کہ وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں ماں کی فکر اور پیار سے محروم رہی. جو وہ دکھی دکھی رہتی تھی اسکے پیچھے کی وجوہات بھی بڑی تھیں. سبحان نے صرف ایک باپ کھویا تھا اور اسے اب تک ان کی یاد آتی تھی لیکن بریرہ ماں باپ… بھائی.. سب کچھ کھو چکی تھی.
*****************
زینب بریرہ کے جاتے ہی اپنے سسرال آ گئی تھی. وہ اپنے کمرے میں بیٹھی بریرہ کا ہی سوچ رہی تھی. نہ جانے بریرہ کے دل میں کیا چل رہا تھا. نہ جانے وہ وہاں جا کر کیا کرے گی. زینب کو برا لگا اس نے سبحان کا وعدہ توڑ دیا تھا..جو تقریباً اس نے زینب سے ایک مہینہ پہلے کیا تھا اور کچھ دن پہلے ہی سبحان نے اس وعدے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی.
*ایک مہینہ پہلے*
وہ دونوں سنٹارس کے فوڈ ایریا میں بیٹھے ہوئے تھے
“تم اب تک اپنے دولہے سے میسجنگ پہ بات کر رہی ہو؟” سبحان نے فون میں گم زینب سے پوچھا
“ہاں یار لو میرج کرنا آسان کام تو نہیں..” وہ ہنسی تھی.
“اف تم اور تمہاری لو میرج…” سبحان چڑا.
“تمہیں ہو گا نہ پیار تو پتہ لگے گا”
“ہو ہی نہ جائے کہیں..” وہ نارمل انداز میں بولا.
“ہاہاہا”
“نام کیا ہے تمہارے والے کا”
“فواد”
“صحیح ہے بھائی سب کے سین ہیں ایک ہم ہی مسکین ہیں” وہ ہنسا.
“سبحان….” اس نے جونہی سبحان کی طرف نظریں کیں.. اسکی نظر سبحان کی ناک پہ پڑی.
“سبحان..” وہ شاکڈ تھی.
“کیا ہوا ہے”
“تمہارے ناک سے خون بہہ رہا ہے..” سبحان کا رنگ بدلا.
“صبر میں آتا ہوں..” وہ کہتے ہی باٹھ روم بھاگ گیا. زینب فکرمند تھی. کچھ دیر بعد وہ آیا تو زینب نے پوجھ لیا.
“کیا ہوا ہے..خیریت؟”
“نہیں نہیں کچھ نہیں آرڈر اب تک نہیں آیا؟” اس نے بات گول کی.
“نہیں.. سبحان ڈاکٹر کو چلیں؟..”
“نہیں تو کیا ہو گیا ہے”
“یہ نارمل تو نہیں ہے چلے جاتے ہیں..کہیں کچھ”
“بڑا مسئلہ نہ ہو؟” سبحان نے زینب کی بات مکمل کی اور زینب نے سر ہلایا.
“بڑا مسئلہ ہے… لیکن اگر میں نے تمہیں بتایا تو وعدہ کرو کسی کو نہیں بتاؤ گی”
“وعدہ” وہ حیران تھی
“مجھے کینسر ہے..لاسٹ سٹیج” زہنب اس سے آگے کچھ نہ بول پائی اور سبحان بھی خاموش ہو گیا.
یہ واقع کمرے میں بیٹھے بیٹھے زینب کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا.
“سبحان آئی ایم سوری.. میں نے وعدہ خلافی کر دی” وہ دل ہی دل میں التجا کرنے لگی..
******************
بریرہ ویگن میں بیٹھی سبحان کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی. کب سے وہ اس انتظار میں تھی کہ کب جا کر یہ ویگن رکے گی اور وہ سبحان کے گھر پہنچے گی. اسے بس سبحان تک رسائی حاصل کرنی تھی اور اسے کچھ نہیں چاہئیے تھا. سبحان کی ایک ایک یاد اسکے ذہن میں تھی. وہ اسکا ایک ایک لفظ بریرہ کو یاد آ رہا تھا.
“اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے.. سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے” یہاں سے سفر شروع ہوا تھا اور “محبت اگر مر مٹنے کا نام ہے تو پھر ’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘” پہ آکر ختم ہو گیا. پھر بریرہ کو اسکی سریلی آواز سنائی دی
“ساتھ چھوڑوں گا نہ.. نہ تیرے پیچھے آؤں گا”
“چھین لونگا یا خدا سے مانگ لاؤں گا”
“تیرے نال تقدیراں لکھواؤں گا”
“میں تیرا بن جاؤنگا” اسکی آواز میں بہت مٹھاس تھی. وہ سوچوں میں گم تھی کہ گاڑی رکی. اس نے فورًا بیگ اٹھایا اور ٹیکسی پکڑ کر سبحان کے گھر کا رخ کیا.
********************
مسرت بیٹے کے پاس بیٹھی اسے سوپ پلا رہی تھیں. بیٹے کی تکلیف دیکھ کر انکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. وہ بے حد مشکل سے اوپر اٹھا تھا. سوپ بھی پیتے وقت کتنی بار اسکے منہ سے درد بھری چیخ نکلی تھی. بیٹے کا درد ان سے برداشت نہ ہو رہا تھا. انکی آنکھیں بھیگنے لگیں. سبحان انکی آنکھوں میں آتے پانی کو دیکھ کر انکے اندر کا درد سمجھ گیا. اس نے ماں کا ہاتھ پکڑا اور انکی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بتانا چاہا کہ وہ فکر نہ کریں
او مائی میری کیا فکر تجھے
کیوں آنکھ سے دریا بہتا ہے
تو کہتی تھی تیرا چاند ہوں میں
اور چاند ہمیشہ رہتا ہے
لیکن وہ ماں تھیں انہیں فکر تو ہونی تھی. ایک ہی بیٹا تھا اور وہ بھی اس حال میں تھا. اسی دوران دروازے کی گھنٹی بجی.
“میں دیکھ کر آتی ہوں..” مسرت نے اپنے آنکھیں صاف کیں. سبحان کے سر ہلاتے ہی وہ دروازہ کھولنے گئیں. انہوں نے دروازہ کھولا. سامنے ایک نہایت خوبصورت چوبیس پچیس سال کی لڑکی کھڑی تھی. اسکی آنکھیں ہلکی بھوری تھیں اور وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مسرت کو ہی تک رہی تھی.
“آنٹی سبحان سے ملنا چاہتی ہوں…میرا نام بریرہ ہے”
————————————-
“آنٹی سبحان سے ملنا چاہتی ہوں… میرا نام بریرہ ہے” مسرت کو اپنے کانوں پہ یقین ہی نہ آیا.. نہ جانے وہ لڑکی کون تھی اور یہاں کیوں آئی تھی…
“کون ہو تم؟” وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں.
“آپکو سبحان نے نہیں بتایا؟..” وہ حیران ہوئی. مسرت نے اپنے ذہن پہ زور ڈالا..
“کہیں تم وہ تو نہیں ہو جس سے سبحان کو محبت ہوئی ہے” وہ خاموشی سے نیچے دیکھنے لگی.. اس کی خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی..”ہاں میں ہی وہی ہوں”
“اگر ایسا ہے تو میں تمہیں اندر نہیں آنے دونگی” مسرت نے ان دونوں کی درمیان کی خاموشی کو توڑا…
“کیوں آنٹی…”
“سبحان کی طبیت پہلے ہی خراب ہے میں کیسے
تمہیں اس سے ملنے دوں؟”
“کیسا ہے وہ..؟” سبحان کا نام سن کر اسکی آنکھیں بھر آئیں..
“بس ٹھیک ہے….”
“آنٹی مجھے پلیز اس سے ملنے دیں.. میں بہت دور سے صرف اور صرف اس سے ملنے آئی ہوں…” اسکی آنکھوں کی نمی صاف ظاہر ہو تھی.. مسرت کا دل پگھل گیا.
“اچھا اندر آؤ..” بریرہ نے گھر میں قدم رکھا.. گھر چھوٹا سا تھا مگر صاف ستھرا. مر کے دو کمرے ہوں گے وہاں..
“کہاں ہے سبحان؟”
“کمرے میں اپنے…” مسرت نے اشارہ کیا….
*****************
سبحان بستر پہ بیٹھا اپنی خیالی دنیا بنا رہا تھا… بریرہ کے بارے میں سوچتا پھر اسے اپنی بیماری کی یاد آتی.. اسکی بیماری اسکے کندھوں پہ بوجھ بن کر رہ گئی تھی.. اسی کمبخت کی وجہ سے وہ اپنی محبت حاصل نہیں کر پایا تھا.. ماں کی آواز کانوں میں پڑتے ہی اسکے خیاوں کا سلسلہ ٹوٹا…
“سبحان تم سے ملنے کوئی آیا یے…”
“کون ام.” اس لڑکی کو اندر آتے دیکھ کر سبحان کی بولتی بند ہو گئی… ارد گرد سناٹا چھا گیا.. سبحان اس سے نظریں ہٹا ہی نہ پایا… وہ خوابوں والی بریرہ اپنی بھوری آنکھوں سے اس پہ ہی نظریں جمائے ہوئی تھی.. دونوں کی آنکھوں میں نمی تھی.. دل زور زور سے دھڑک رہا تھا.. جو چاہئیے تھا وہ ٹھیک سامنے تھا لیکن چاہ کے بھی حاصل نہ کر سکتے تھے.. یہ بےبسی.. یہ دکھ درد آخر کیوں؟
جتنی تھی خوشیاں سب کھو چکی ہیں
بس ایک غم ہے کہ جاتا نہیں..
سمجھا کہ دیکھا بہلا کے دیکھا
دل ہے کہ چین اسکو آتا نہیں
آنسو ہیں کہ ہیں انگارے..
آگ ہے اب آنکھوں سے بہنا
کبھی علودہ نہ کہنا
“بریرہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” وہ خود کو سنھبال کر بولا..
“سبحان میں اتنی بری تھی کیا؟” وہ رو کر بولی تھی..
“کس نے کہہ دیا” اس کے لحجے میں تلخی تھی. بیماری نے اسے کڑوہ بنا دیا تھا..
“تم نے مجھے اپنی بیماری کا کیوں نہیں بتایا؟” سبحان کو لگا اسکے پیروں سے زمین سرک گئی..
“زینب تمہیں تو میں بعد میں دیکھوں گا” اس نے دل میں سوچا….
“کیوں کہ میں اپنی تکلیف تمہیں نہیں دینا چاہتا تھا”
“ہاں جو چھوڑ کر تکلیف دی وہ تکلیف نہیں تھی.. اس سے بہتر تھا بتا دیتے… کم از کم مجھے یقین تو ہوتا کہ تم صرف میرے ہو”
“جو ہو گیا اب ہو گیا…تم جاؤ یہاں سے”
“میں نہیں جاؤں گی میں تمہاری دیکھ بھال کرنا چاہتی ہوں”
“بریرہ بچوں جیسی باتیں مت کرو…یہ بیماری میرے لئے مشکل مت بناؤ”
“میں نے کیا کیا…”
“تم میرے سامنے رہو گی تو مجھے مرنے…” اسکی بات مکمل کرنے سے پہلے بریرہ نے اسکے لبوں پہ ہاٹھ رکھ دیا…
“تمہیں کچھ نہیں ہو گا” وہ جوابآً طنزاً مسکرایا..
“یہ صرف دلاسے ہیں.. جاؤ شادی کر لو… اچھے سے زندگی گزارو”
“ایسا کیسے کہہ سکتے ہو تم… میں تمہارے ساتھ مر جاؤنگی لیکن شادی نہیں کرونگی…” اس بار سبحان صحیح معنوں میں پریشان ہو گیا… وہ بریرہ کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا…
“کیا بات ہے بریرہ.. زبان سنبھال کر بات کیا کرو”
“پھر مجھے یہاں رہ کر تمہاری خدمت کرنے دو”
“نہیں رہ سکتی… ہم شریف لوگ ہیں محلے والے سو باتیں کریں گے کہ جوان لڑکی رہ رہی ہے یہاں..” وہ کچھ سوچ کر بولا.. شاید بریرہ اب مان جائے…
“ایسا ہے تو….” اس نے تھوڑا سوچا..
“تم میرے سے نکاح کر لو…بیوی بنا لو اپنی..” سبحان کو اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا.. بریرہ سچ مچ پاگل ہو چکی تھی..
“تمہارا دماغ خراب ہے…؟ ادھر میں آخری سانسیں لے رہا ہو اور تم سے نکاح کر لوں؟”
“میرے بات بالکل جائز ہے.. ایسے میں ٹھیک طریقے سے تمہاری دیکھ بھال بھی کر سکوں گی..” بریرہ کچھ سننے کے لئے تیار نہ تھی..
“پاگل ہو تم… بھول جاؤ مجھے…”
“سو بار دل سے یہ کہا کہ بھول جاؤں تمہیں لیکن ہر بار یہ جواب آیا کہ تم دل سے نہیں کہتی…” سبحان نے آنکھ اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا جو بےحد شفاف تھا.. بریرہ کی بات سبحان کے دل کو لگی تھی…
“اچھا تم رہ جاؤ یہاں…”
“لیکن نکاح؟” سبحان نے سوال کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا.. اس طرح کتنے ہی دن گزر گئے. سبحان بریرہ کے وجود سے خوش تھا.. اسکا وجود اسکی بیماری پر بھی مثبت اثرات مرتب کر رہا تھا لیکن سبحان یہ چیز نوٹس نہیں کر پایا تھا لیکن اسکی ماں یہ بدلاؤ نوٹس کر چکی تھیں.. انجا بیٹا پہلے کی طرح مرجھایا ہوا نہیں لگتا تھا..
******************
زینب کچن میں تھی جب اسکے فون پہ بیل آئی تھی.. زینب نے فورُا سے فون اٹھایا…
“سبحان کییسے ہو؟”
میں ٹھیک…تم؟” اس کی آواز پر اعتماد تھی..
“ٹھیک… کیوں فون کیا ہے؟”
“تم بہتر جانتی ہو زینب…”
“سبحان وہ الزام لگائے جا رہی تھی.. مجھے بتانا پڑتا…”
“میرے پہ ہی لگا رہی تھی نہ لگانے دیتی..وعدہ کیوں توڑا؟”
“اس نے مجھ پہ بھی لگایا… برداشت نہ ہوا توڑنا پڑا “
“اچھا یہاں کا اڈریس کیوں دیا؟”
“میں دوست کے سامنے بےبس ہوگئی تھی..” وہ شرمندہ ہوئی.
اچھا اب شرمندہ نہ ہو..ایک اچھا کام کرو..”
“کیا میں سب کروں گی” وہ تیزی سے بولی
“تو پھر بریرہ کو فون کر کے اسلام آباد بلواؤ.. وہ میری نہیں سن رہی.. تمہاری سن لے گی..” وہ اسے ابھی بھی بھیجنے پہ اڑا ہوا تھا.. اسے لگتا تھا کہ بریرہ کو اپنی زندگی گزارنی چاہئے لیکن اب اسے کون بتائے کہ اسکی زندگی ہی سبحان تھا..
“کوشش کرتی ہوں.. تھوڑی دیر بعد کرتی ہوں کال..”
“کوشش نہیں یقین دلاؤ کہ وہ یہاں سے چلی جائے گی..”
“اچھا… ہے کدھر وہ..”
“باہر بیٹھی ہے کمرے میں. میں اسے یہاں سے بھیج نہ پایا… میرے میں اتنی ہمت نہیں ہے….”
“اچھا میں کوشش کرتی ہوں….” اسکے جواب دیتے ہی سبحان نے فون کاٹ دیا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: